السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
225. (بَابُ عُقُوبَةِ مَانِعِي الزَّكَاةِ)
(زکاۃ نہ دینے والوں کا انجام)
حدیث نمبر: 375
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ، وَعَبْدُ الْمَلِكَ بْنُ أَعْيَنَ، سَمِعَا أَبَا وَائِلٍ، يُخْبِرُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا مِنْ رَجُلٍ لا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلا جُعِلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ حَتَّى يُطَوَّقَ بِهِ عَلَى عُنُقِهِ"، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سورة آل عمران آية 180.
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو آدمی اپنے مال کی زکاۃ نہیں دیتا اللہ تعالیٰ اس پر بروز قیامت گنجا سانپ مقرر کرے گا وہ بھاگے گا سانپ اس کے پیچھے دوڑے گا حتی کہ اس کی گردن میں سانپ کا طوق ڈالے گا“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت پڑھی: ”بروز قیامت اُن کی کنجوسی ان کے گلے کا طوق بنے گی۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في صدقة الفطر/حدیث: 375]
تخریج الحدیث: «سنن ترمذی، التفسیر، باب ومن سورۃ آل عمران، رقم: 3012 وقال حسن صحیح وقال الالبانی، صحیح، سنن نسائی، الزکاۃ، باب التغلیظ فی حبس الزکاۃ، رقم: 2441»
226. (بَابُ التَّسْبِيحِ عِنْدَ الرَّعْدِ)
(بجلی کی کڑک پر تسبیح)
حدیث نمبر: 376
عَنْ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ طَاوُسٍ: مَا كَانَ أَبُوكَ يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ؟ قَالَ: كَانَ يَقُولُ:" سُبْحَانَ مَنْ سَبَّحَتْ لَهُ".
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے طاؤس رحمہ اللہ کے بیٹے سے پوچھا تیرے بابا بجلی کی کڑک سن کر کیا کہتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہتے تھے ”(اے کڑک) جس کی تو نے تسبیح بیان کی وہ (واقعی) پاک ذات ہے۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في صدقة الفطر/حدیث: 376]
تخریج الحدیث: «الادب المفرد البخاری رقم: 722 ہذا مقطوع وسندہ صحیح»
227. (بَابُ الدُّعَاءِ الْمَسْنُونِ عِنْدَ رُكُوبِ الدَّابَّةِ)
(سواری پر سوار ہونے کی مسنون دعا)
حدیث نمبر: 377
عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ: مَا كَانَ أَبُوكَ يَقُولُ إِذَا رَكِبَ الدَّابَّةَ؟ قَالَ: كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا مِنْ رِزْقِكَ وَمِنْ عَطَائِكَ فَلَكَ الْحَمْدُ رَبَّنَا عَلَى نِعْمَتِكَ سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ".
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے طاؤس رحمہ اللہ کے بیٹے سے پوچھا جب آپ کے والد صاحب سواری پر سوار ہوتے تو کیا کہتے تھے تو کہنے لگے کہ وہ کہتے تھے: ”اے اللہ! یہ تیرا دیا ہوا رزق اور تیری عطا ہے اے رب! تیری نعمت پر تیری ہی تعریف ہے، (پاک ہے وہ ذات جس نے یہ ہمارے لیے مسخر کر دی حالانکہ ہمیں اسے قابو کرنے کی طاقت نہیں تھی۔) [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في صدقة الفطر/حدیث: 377]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم، الحج، باب ما یقول اذا رکب الی سفر الحج ...... الخ، رقم: 1342 عن ابن عمر»
228. (بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الْإِحْسَانِ إِلَى كُلِّ أَحَدٍ)
(ہر ایک سے نیکی کرنے کی ترغیب)
حدیث نمبر: 378
عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ الْكَلْبِيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" افْعَلُوا الْمَعْرُوفَ إِلَى مَنْ هُوَ أَهْلُهُ وَإِلَى مَنْ لَيْسَ بِأَهْلِهِ فَإِنْ أَصَبْتُمْ أَهْلَهُ فَقَدْ أَصَبْتُمْ أَهْلَهُ وَإِنْ لَمْ تُصِيبُوا أَهْلَهُ فَأَنْتُمْ أَهْلُهُ".
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نیکی کا اہل ہے یا اہل نہیں ہے تم اس کے ساتھ نیکی ہی کرو، اگر تم نے اہل آدمی سے نیکی کی تو درست پہنچ گئے اور اگر نا اہل سے نیکی کی تو تم تو نیکی کی اہلیت رکھتے ہونا۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في صدقة الفطر/حدیث: 378]
تخریج الحدیث: «السلسلۃ الضعیفۃ للالبانی رقم: 2521، ضعیف الجامع، رقم: 1052»
229. (بَابُ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَجِيءِ مَلَكِ الْمَوْتِ)
(وفاتِ نبوی اور ملک الموت کی آمد)
حدیث نمبر: 379
عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رِجَالا مِنْ قُرَيْشٍ دَخَلُوا عَلَى أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ فَقَالَ: أَلا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: بَلَى فَحَدَّثَنَا عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَرْسَلَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْكَ تَكْرِيمًا لَكَ وَتَشْرِيفًا لَكَ وَخَاصَّةً لَكَ أَسْأَلُكَ عَمَّا هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْكَ يَقُولُ: كَيْفَ تَجِدُكَ، قَالَ:" أَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَغْمُومًا وَأَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَكْرُوبًا" ثُمَّ جَاءَهُ الْيَوْمَ التَّالِي فَقَالَ ذَلِكَ لَهُ، فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا رَدَّ أَوَّلَ يَوْمٍ، ثُمَّ جَاءَهُ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ لَهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وَرَدَّ عَلَيْهِ كَمَا رَدَّ وَجَاءَ مَعَهُ مَلَكٌ يُقَالُ لَهُ: إِسْمَاعِيلُ، عَلَى مِائَةِ أَلْفِ مَلَكٍ، كُلُّ مَلَكٍ مِنْهُمْ عَلَى مِائَةِ أَلْفِ مَلَكٍ، فَاسْتَأْذَنَ فَسَأَلَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ: هَذَا مَلَكُ الْمَوْتِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ مَا اسْتَأْذَنَ عَلَى آدَمِيٍّ قَبْلَكَ وَلا يَسْتَأْذِنُ عَلَى آدَمِيٍّ بَعْدَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْذَنْ لَهُ" فَأَذِنَ لَهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ، فَإِنْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَقْبِضَ رُوحَكَ قَبَضْتُهُ، وَإِنْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَتْرُكَهُ تَرَكْتُهُ، قَالَ:" أَوَتَفْعَلُ يَا مَلَكُ الْمَوْتِ؟" قَالَ: نَعَمْ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأُمِرْتُ أَنْ أُطِيعَكَ، قَالَ: فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ فَقَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اشْتَاقَ إِلَى لِقَائِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَلَكِ الْمَوْتِ:" امْضِ لِمَا أُمِرْتَ بِهِ"، فَقَبَضَ رُوحَهُ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَتِ التَّعْزِيَةُ سَمِعُوا صَوْتًا مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ: سَلامٌ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ إِنَّ فِيَ اللَّهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ وَخَلَفًا مِنْ كُلِّ هَالِكٍ وَدَرَكًا مِنْ كُلِّ مَا فَاتَ فَبِاللَّهِ فَثِقُوا وَإِيَّاهُ فَارْجُوا فَإِنَّمَا الْمُصَابُ مَنْ حُرِمَ الثَّوَابَ. فَقَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلامُ: تَدْرُونَ مَنْ هَذَا؟ هَذَا الْخَضِرُ عَلَيْهِ السَّلامُ.
جعفر بن محمد اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ قریشی اُن کے والد علی بن حسین کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کچھ بیان نہ کروں قریشیوں نے کہا کیوں نہیں ضرور ہمیں ابو القاسم سے بیان کریں تو فرمایا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے تو اُن کے پاس جبریل علیہ السلام آئے کہنے لگے ”اے محمد! مجھے اللہ تعالیٰ نے آپ کی حوصلہ افزائی اور عزت بخشنے کے لیے بھیجا ہے جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے کہ آپ سے پوچھوں حالانکہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ علم ہے اللہ تعالیٰ پوچھ رہے ہیں آپ کی طبیعت کیسی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جبرائیل علیہ السلام حالت غمزدہ اور تکلیف ہے (بیماری اور زہر کے اثر کی وجہ سے جو خیبر میں یہودن نے دیا تھا)۔“ پھر دوسرے دن جبریل علیہ السلام آئے پھر حال پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی جواب دیا پھر تیسرے دن آئے تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی جواب دیا اس دن جبریل علیہ السلام کے ہمراہ ایک اسماعیل نامی فرشتہ بھی آیا جو ایک لاکھ فرشتہ ساتھ لایا ان میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک لاکھ فرشتہ تھا اس نے بھی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نے بھی حال احوال پوچھا پھر جبریل علیہ السلام کہنے لگے یہ ملک الموت بھی آگئے ہیں آپ سے روح قبض کرنے کے بارے میں اجازت طلب کر رہے ہیں حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی سے کبھی اجازت طلب نہیں کی اور نہ آپ کے بعد کسی آدمی سے اجازت طلب کریں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت دی اُس نے بھی سلام کیا پھر فرمایا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے کہ اگر اجازت ہوئی تو روح قبض کر لینا اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہو چھوڑ دو تو چھوڑ آنا“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے موت کے فرشتے کیا تو میری بات سنے گا؟“ فرشتے نے کہا: ”ہاں مجھے یہی حکم ہے کہ آپ کی اطاعت کروں“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کی طرف دیکھا جبریل علیہ السلام کہنے لگے ”اللہ تعالیٰ آپ کی ملاقات کے مشتاق ہیں“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک الموت سے فرمایا: ”حکم کی پابندی کرو۔ میری روح قبض کرو“ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تعزیت کی آواز صحابہ نے گھر کے کونے سے سنی کہ ”اے اہل بیت! تم پر سلامتی ہو اللہ کی رحمت، برکت ہو، اللہ کے لیے لواحقین سے تعزیت ہے اللہ جانے والے کا حلیف بنائے ہر کمی کو پورا کرے، اللہ پر بھروسہ رکھو اس پر امید رکھو مصیبت پر صبر کرنے سے اجر ملتا ہے۔“ تو سیدنا علی نے فرمایا: ”جانتے ہو یہ کون تعزیت کر رہا ہے یہ خضر علیہ السلام ہیں۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في صدقة الفطر/حدیث: 379]
تخریج الحدیث: «البداية والنهايه لابن كثير: 242/5، وقال بهذا الحديث مرسل و في اسناده ضعف بحال القاسم العمری، فانه ضعفه غیر واحد من الائمة السلسلة الضعيفة للالباني: 5384 وقال فيه القاسم بن عبدالله بن عمر ضعيف كذبه الامام احمد.»
230. (بَابُ حُكْمِ انْتِقَاضِ الْوُضُوءِ فِي الصَّلَاةِ)
(دورانِ نماز وضو ٹوٹنے کا حکم)
حدیث نمبر: 380
عَنْ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حَدِيثِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ،" كَانَ يُفْتِي الرَّجُلَ إِذَا رَعَفَ فِي صَلاتِهِ أَوْ ذَرَعَهُ قَيْءٌ أَوْ وَجَدَ مَذْيًا أَنْ يَنْصَرِفَ ثُمَّ يَرْجِعَ فَيَبْنِيَ عَلَى مَا بَقِيَ مِنْ صَلاتِهِ". قَالَ سَالِمٌ: وَكَانَ مِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ يَقُولُ: يَبْتَدِئُ صَلاتَهُ.
سالم بن عبد اللہ کہتے ہیں سیدنا عبد اللہ بن عمر فتویٰ دیتے تھے کہ ”نماز میں قے آ جائے یا مذی نکل جائے تو آدمی واپس پلٹ جائے وضو کر کے آئے نماز جہاں سے چھوڑی تھی وہاں سے شروع کر لے۔“ سالم کہتے ہیں کہ مسور بن محزمہ کہتے ہیں: ”آدمی نئے سرے سے نماز پڑھے گا۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في صدقة الفطر/حدیث: 380]
تخریج الحدیث: «مؤطا امام مالك، الطهارة، باب ماجاء في الرعاف، رقم: 46، مصنف عبدالرزاق: 145/1، رقم: 553، مصنف ابن ابي شيبة: 138/1، سنن الكبرى للبيهقي: 141/1 قال ابن حجر سنده صحیح، فتح البارى: 282/1.»
231. (بَابُ أَهَمِّـيَّةِ التَّخْفِيفِ فِي الصَّلَاةِ بِالْجَمَاعَةِ)
(باجماعت نماز میں تخفیف کی اہمیت)
حدیث نمبر: 381
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ سَرْجِسٍ، قَالَ: عُدْنَا أَبَا وَاقِدٍ الْبَدْرِيَّ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَخَفَّ النَّاسِ صَلاةً عَلَى النَّاسِ وَأَطْوَلَ النَّاسِ صَلاةً لِنَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
نافع بن سرجس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم ابو واقد بدری کی عیادت کے لیے گئے اسی بیماری میں جس میں وہ وفات پا گئے تھے تو میں نے اُن کو فرماتے ہوئے سنا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام لوگوں کو ہلکی نماز پڑھاتے تھے اور خود اکیلے بہت لمبی نماز پڑھتے تھے۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في صدقة الفطر/حدیث: 381]
تخریج الحدیث: «مسند احمد: 240/36، رقم: 21908 وقال الارنوؤط: صحيح لغيره وهذا اسناد حسن.»
232. (بَابُ النَّهْيِ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ)
(عصر کے بعد نماز کی ممانعت)
حدیث نمبر: 382
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ، أَنَّ طَاوُسًا، أخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَنَهَاهُ عَنْهُمَا، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا أَدَعُهُمَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمُ الآيَةَ".
امام طاوس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے منع کیا میں نے کہا کیا میں یہ چھوڑ دوں؟ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کسی مومن مرد اور نہ ہی کسی مومنہ عورت کے لیے یہ جائز ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ آجائے وہ اپنا اختیار استعمال کریں۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في صدقة الفطر/حدیث: 382]
تخریج الحدیث: «السنن الكبرى للبيهقي: 453/2، سنن دارمی، المقدمة، باب يتقى من تفسير حديث النبي رقم: 448، سنن نسائی، المواقيت باب النهي عن الصلاة بعد العصر، رقم: 569، عن ابن عباس مرفوعاً وقال الالباني: صحيح.»
233. (بَابُ صَلَاةِ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَحَقِيقَتِهَا)
(سورج گرہن کی نماز اور حقیقت)
حدیث نمبر: 383
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ، فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي حَتَّى انْجَلَتْ فَلَمَّا انْجَلَتْ، قَالَ:" إِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لا يَكْسِفَانِ إِلا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنَ الْعُظَمَاءِ وَلَيْسَ كَذَلِكَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا".
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عہد نبوی میں سورج گرہن لگ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبراہٹ سے چادر گھسیٹتے ہوئے آئے گرہن صاف ہونے تک نماز جاری رکھی، جب مطلع صاف ہو گیا فرمایا: ”لوگوں کا خیال ہے کہ سورج و چاند کا گرہن کسی بڑے کی موت کے باعث ہوتا ہے۔ (وہ بھی اظہار غم کرتے ہیں) حالانکہ ایسا بالکل نہیں شمس و قمر کو گرہن کسی کی موت و زندگی سے نہیں لگتا (یہ اللہ کی نشانیاں ہیں) جب گرہن دیکھو نماز پڑھو۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في صدقة الفطر/حدیث: 383]
تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجه اقامة الصلاة، باب ماجاء في صلاة الكسوف، رقم: 1262 وقال الالبانی: منكر بزياده فاذا تجلى ...... الخ سنن نسائی: الكسوف، باب نوع آخر، رقم: 1485 وقال الالباني ضعيف.»
234. (بَابُ الذَّبْحِ وَالصَّدَقَةِ ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللّٰهِ)
(اللہ کی رضا کے لیے ذبح و صدقہ)
حدیث نمبر: 384
وَسَمِعْتُ عَبْدَ الْوَهَّابِ بْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي رَجَبَ فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَهْرٍ كَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا". قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ:" وَبَرُّوا اللَّهَ" أَوْ" أَوْثِرُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ" الشَّكُّ مِنَ الْمُزَنِيِّ.
سیدنا نبیشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم رجب (کے پہلے دس دنوں) میں جانور ذبح کرتے ہیں اس کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (رجب کے ساتھ کیوں خاص کیا ہوا ہے) ”اللہ تعالیٰ (کی رضا) کے لیے ذبح کرو جو بھی مہینہ ہو، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نیکی کرو کھانا کھلاؤ۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في صدقة الفطر/حدیث: 384]
تخریج الحدیث: «سنن ابی داؤد، الاضاحی، باب فى العتيرة، رقم: 2830، سنن نسائی، الفرع والعتيرة باب تفسير العتيرة، رقم: 3830 وقال الالباني: صحيح، سنن ابن ماجه، الذبائح، باب الفرعة والعتيرة رقم: 3167.»