🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (648)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
391. (بَابُ فَرْضِيَّةِ الْإِحْسَانِ فِي كُلِّ شَيْءٍ)
(ہر چیز میں احسان کی فرضیت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 577
وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ احسان کرنا فرض کیا جب تم (حد و قصاص) میں کسی کو قتل کرو تو اچھے انداز سے قتل کرو اور جب جانور ذبح کرو تو اچھا انداز اپناؤ آدمی کو چاہیے اپنی چھری کی دھار تیز کرلے اور ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير/حدیث: 577]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم، الصید والذبائح، باب الامر باحسان الذبح والقتل، رقم: 1955.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
392. (بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَهِبَتِهِ)
(ولاء کی بیع اور ہبہ کی ممانعت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 578
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ.
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کی بیع اور اس کے ہبہ سے منع کیا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير/حدیث: 578]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، العتق باب بیع الولاء وھبتہ، رقم: 2535، صحیح مسلم، العتق، باب النہی عن بیع الولاء وھبتہ، رقم: 1506.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 579
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنَ عُمَرَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ".
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق ولاء کو فروخت کرنے اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير/حدیث: 579]
تخریج الحدیث: «سنن نسائی، البیوع، باب بیع الولاء رقم: 4658، وقال الالبانی: صحیح، مؤطا امام مالک، العتق، باب مصیر الولاء لمن اعتق، رقم: 20.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
393. (بَابُ الْوَلَاءِ لِمَنْ أَعْتَقَ)
(ولاء آزاد کرنے والے کا حق)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 580
عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْنِي بَرِيرَةُ فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ , عَدَدْتُهَا لَهُمْ وَيَكُونَ وَلاؤُكِ لِي فَعَلْتُ، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَقَالَتْ لَهُمْ ذَلِكَ، فَأَبَوْا عَلَيْهَا، فَجَاءَتْ مِنْ عِنْدِ أَهْلِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ عَرَضْتُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا عَلَيَّ إِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَهُمْ، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ، فَقَالَ:" خُذِيهَا وَاشْتَرِطِي فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، فَفَعَلَتْ عَائِشَةُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُهُ أَوْثَقُ وَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
سیدہ عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا سے روایت ہے میرے پاس سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں کہنے لگی میں نے اپنے مالکان سے اپنی آزادی کا سودا (9) اوقیہ چاندی کے عوض کیا ہے ہر سال ایک اوقیہ اداء کرنا ہے میری کچھ مدد کریں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر تیرے مالکان راضی ہوں تو میں (یک مشت) تیری رقم اداء کر دوں گی لیکن تیرا تعلق (ولاء) آزادی میرے لیے ہوگا۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے جا کر مالکان کو پیش کش کی ہے لیکن وہ نہ مانے تو بریرہ رضی اللہ عنہا واپس آئیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف فرما تھے کہنے لگی میں نے ان کو پیش کش کی ہے لیکن ان کی ضد ہے کہ ولاء ان ہی کے لیے ہوگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی تفصیل عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے خرید لو اور ولاء کی شرط رکھو تعلق ولاء اسی کا ہے جس نے آزاد کیا۔ پھر لوگوں میں خطبہ دیا اور فرمایا: اما بعد! لوگوں کو کیا ہو گیا ایسی شرط لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں، ہر وہ شرط جو کتاب اللہ کے مطابق نہیں وہ باطل ہے، اگرچہ سو شرط ہی کیوں نہ ہو اللہ کا فیصلہ برحق ہے اور اللہ کی شرط ہی مضبوط تر ہے ولاء تو اس کا ہوگا جو آزاد کرے گا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير/حدیث: 580]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، البیوع، باب اذا اشترط شروطا فی البیع لا تحل رقم 2168، صحیح مسلم، العتق باب انما الولاء لمن اعتق رقم: 1504.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 581
عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً فَتُعْتِقَهَا، فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے سیدہ عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے ارادہ کیا کہ لونڈی خرید کر آزاد کریں تو لونڈی کے مالکان نے کہا ہم اس شرط پر فروخت کریں گے کہ ولاء ہمارے لیے ہوگا اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے لونڈی خریدنے سے کوئی چیز نہ روکے ولاء اسی کا ہے جس نے آزاد کیا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير/حدیث: 581]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، البیوع، باب اذا اشترط شروطاً فی البیع لاتحل، رقم: 2169، صحیح مسلم، العتق باب انما الولاء لمن اعتق رقم: 1504.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 582
عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ تَسْتَعِينُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَصُبَّ لَهُمْ ثَمَنَكِ صَبَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ." فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لأَهْلِهَا فَقَالُوا: لا إِلا أَنْ يَكُونَ وَلاؤُكَ لَنَا قَالَ مَالِكٌ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: فَزَعَمَتْ عَمْرَةُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
سیدہ عمرہ بنت عبد الرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے بریرہ رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں مالی معاونت کے لیے آئی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر تیرے مالکان راضی ہوں تو میں یک مشت رقم اداء کر کے تجھے آزاد کر دوں، بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے مالکان کو یہ بات کہی انہوں نے کہا نہیں مگر یہ کہ تعلق ولاء ہمارے لیے ہوگا، عمرہ رحمہ اللہ کہتی ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس شرط کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے ان کی شرط نہ روکے لونڈی خرید کر آزاد کر دو بے شک تعلق ولاء اسی کا ہے جس نے آزاد کیا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير/حدیث: 582]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، المکاتب، باب بیع المکاتب اذا رضی، رقم: 2564.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 583
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِي بَرِيرَةَ فَأُعْتِقَهَا، فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ مَوَالِيهَا أَنْ أُعْتِقَهَا وَيَكُونُ الْوَلاءُ لَهُمْ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، ثُمَّ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، فَقَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَلَيْسَ لَهُ وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے میں نے ارادہ کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کر دوں، اس کے مالکان نے مجھ پر شرط لگائی کہ آزاد آپ کریں حق ولاء ہمارے لیے ہوگا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سے متعلق مسئلہ پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے خرید کر آزاد کر دو، تعلق ولاء اسی کو ملے گا جس نے آزاد کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا تو فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ایسی ایسی شروط لگاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے قانون میں موجود نہیں، اگر کسی نے قانون خداوندی کے برعکس شرط لگائی تو اسے کچھ نہیں ملے گا اگرچہ سو شروط ہی کیوں نہ ہوں۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير/حدیث: 583]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الصلاة، باب ذکر البیع والشراء علی المنبر فی المسجد، رقم: 456.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 584
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ تَسْتَعِينُ عَائِشَةَ، وَأَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَهَا: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَصُبَّ لَهُمْ ثَمَنَكِ صَبَّةً وَاحِدَةً فَعَلْتُ. قَالَ: فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لأَهْلِهَا، فَقَالُوا: لا إِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَنَا. قَالَ: فَزَعَمَتْ عَمْرَةُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا:" اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
سیدہ عمرہ بنت عبد الرحمن رحمہ اللہ کہتی ہیں بریرہ رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں مدد مانگنے آئی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر تیرے مالکان پسند کریں تو میں تیری قیمت یک مشت ادا کر دوں بریرہ رضی اللہ عنہا نے جا کر انہیں بتایا انہوں نے کہا ایسا نہیں کریں گے ہاں اگر تیرا ولاء ہمیں مل جائے تو پھر کر لیں گے، عمرہ رحمہ اللہ کا خیال ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کر دے ولاء اسی کا ہے جس نے آزاد کیا ہوتا ہے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير/حدیث: 584]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، المکاتب باب بیع المکاتب، رقم: 2564، صحیح مسلم، العتق، باب انما الولاء لمن اعتق، رقم: 1504.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
394. (بَابُ الْحِجَابِ مِنَ الْمُكَاتَبِ)
(مکاتب غلام سے پردہ کرنے کا حکم)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 585
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهُ كَانَ مَعَهَا وَأَنَّهَا سَأَلَتْهُ: كَمْ بَقِيَ عَلَيْكَ مِنْ كِتَابَتِكِ؟ فَذَكَرَ شَيْئًا قَدْ سَمَّاهُ فَأَمَرَتْهُ أَنْ يُعْطِيَهُ أَخَاهَا أَوِ ابْنَ أُخْتِهَا وَأَلْقَتِ الْحِجَابَ مِنْهُ وَقَالَتْ: عَلَيْكَ السَّلامُ وَذَكَرَتْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا كَانَ لإِحْدَاكُنَّ مُكَاتِبٌ وَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ". قَالَ سُفْيَانُ: وَسَمِعْتُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ وَثَبَّتَنِيهِ مَعْمَرٌ.
نبھان مولی ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھا تو انہوں نے پوچھا: تیری قیمت آزادی کتنی باقی ہے؟ نبھان رضی اللہ عنہ نے رقم بتائی تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ رقم میرے بھائی یا بھتیجے کو اداء کر دے اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس سے پردہ شروع کر دیا اور فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: جب تم میں سے کسی کے مکاتب غلام کے پاس اتنی رقم ہو کہ وہ زر کتابت اداء کر سکے تو اسے اس غلام سے پردہ کرنا چاہیے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير/حدیث: 585]
تخریج الحدیث: «سنن ابی داؤد العتق باب فی المکاتب یؤدی بعض کتائبہ الخ، رقم: 3928 وقال الالبانی: ضعیف، سنن ترمذی، البیوع، باب ماجاء فی المکاتب اذا کان عندہ ما یؤدی، رقم: 1261 وقال حسن صحیح.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
395. (بَابُ فَضْلِ عِتْقِ الرَّقَبَةِ)
(غلام آزاد کرنے کی فضیلت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 586
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ شُعْبَةَ الْكُوفِيِّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ فَدَعَا بَنِيهِ، فَقَالَ: يَا بَنِيَّ إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنَ النَّارِ".
شعبہ کوفی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں سیدنا ابو بردہ رحمہ اللہ بن ابوموسی کے ساتھ اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا تھا تو انہوں نے اپنے بیٹے کو بلایا اور فرمایا: اے بیٹے میں نے اپنے والد سے سنا کہتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے گردن آزاد کی تو اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک اعضاء کے بدلے آزاد کرنے والے کے ایک ایک اعضاء کو جہنم کی آگ سے آزاد فرمائے گا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير/حدیث: 586]
تخریج الحدیث: «مسند الحمیدی، رقم: 767 وفي الصحیحین من غیر ھذا الطریق، صحیح بخاری، رقم: 2517، صحیح مسلم، رقم: 1509.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں