سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. بَابُ: الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ
باب: دوران اقامت (حضر میں) جمع بین الصلاتین کا بیان۔
حدیث نمبر: 604
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:" صَلَّيْتُ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (ظہر و عصر کی) آٹھ رکعتیں، اور (مغرب و عشاء کی) سات رکعتیں ملا کر پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 604]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آٹھ اور سات رکعتیں اکٹھی پڑھی ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 604]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 590 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
48. بَابُ: الْجَمْعِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِعَرَفَةَ
باب: عرفہ میں ظہر و عصر جمع کر کے پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 605
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، قال: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قال: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قال: سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ، فَنَزَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ فَرُحِلَتْ لَهُ، حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى بَطْنِ الْوَادِي خَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ ثُمَّ" أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (حج میں منی سے مزدلفہ) چلے یہاں تک کہ آپ عرفہ آئے تو دیکھا کہ نمرہ ۱؎ میں آپ کے لیے خیمہ لگا دیا گیا ہے، آپ نے وہاں قیام کیا، یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا آپ نے قصواء نامی اونٹنی ۲؎ لانے کا حکم دیا، تو آپ کے لیے اس پر کجاوہ کسا گیا، جب آپ وادی میں پہنچے تو لوگوں کو خطبہ دیا، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر اقامت کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، اور ان دونوں کے بیچ کوئی اور نماز نہیں پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 605]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے حتیٰ کہ عرفہ پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خیمہ وادیٔ نمرہ میں لگا ہوا پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اترے حتیٰ کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی قصواء پر پالان کسا گیا حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی کے پیٹ میں پہنچ گئے تو لوگوں کو خطبہ دیا، پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی، پھر اقامت کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی اور ان دونوں کے درمیان کچھ نہیں پڑھا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 605]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2629)، سنن الدارمی/المناسک 34 (1892)، ویأتي عند المؤلف برقم: (656) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عرفات میں ایک جگہ کا نام ہے، جو عرفات کے مغربی کنارے پر ہے، آج کل یہاں ایک مسجد بنی ہوئی ہے جس کا آدھا حصہ عرفات کے اندر ہے، اور آدھا مغربی حصہ عرفات کے حدود سے باہر ہے۔ ۲؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا نام قصواء تھا، قصواء کے معنی ”کن کٹی“ کے ہیں لیکن آپ کی اونٹنی کن کٹی نہیں تھی یہ اس کا لقب تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
49. بَابُ: الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمُزْدَلِفَةِ
باب: مزدلفہ میں مغرب و عشاء کو جمع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 606
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ" صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر مزدلفہ میں مغرب اور عشاء جمع کر کے پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 606]
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر مزدلفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نمازیں ملا کر پڑھیں۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 606]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 96 (1674)، المغازي 76 (4414)، صحیح مسلم/الحج 47 (1287)، سنن ابن ماجہ/المناسک 60 (3020)، (تحفة الأشراف: 3465)، موطا امام مالک/الحج 65 (198)، مسند احمد 5/418، 419، 420، 421، سنن الدارمی/الصلاة 182 (1557)، المناسک 52 (1925)، ویأتی عند المؤلف برقم: 3029 مختصراً (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 607
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قال: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ حَيْثُ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ،" فَلَمَّا أَتَى جَمْعًا جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ"، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ مِثْلَ هَذَا".
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ جب ابن عمر رضی اللہ عنہم عرفات سے چلے تو میں ان کے ساتھ تھا، جب وہ مزدلفہ آئے تو مغرب و عشاء ایک ساتھ پڑھی، اور جب فارغ ہوئے تو کہنے لگے: اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح نماز پڑھی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 607]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا جب وہ عرفات سے واپس لوٹے اور جب وہ مزدلفہ آئے تو انہوں نے مغرب اور عشاء کو جمع کیا۔ جب فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقام پر ایسے ہی کیا تھا، یعنی یہ دو نمازیں اکٹھی پڑھی تھیں۔“” [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 607]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 482 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 608
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب و عشاء (جمع کر کے) پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 608]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مزدلفہ میں مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھیں۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 608]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 47 (703)، سنن ابی داود/المناسک 65 (1926)، موطا امام مالک/الحج 65 (196)، مسند احمد 2/56، (تحفة الأشراف: 6914) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 609
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال:" مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ صَلَاتَيْنِ إِلَّا بِجَمْعٍ وَصَلَّى الصُّبْحَ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ وَقْتِهَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مزدلفہ کے علاوہ کسی جگہ جمع بین الصلاتین کرتے نہیں دیکھا ۱؎، آپ نے اس روز فجر (اس کے عام) وقت سے ۲؎ پہلے پڑھ لی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 609]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی دو نمازیں جمع کر کے پڑھتے نہیں دیکھا مگر مزدلفہ میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن صبح کی نماز (اپنے معمول کے) وقت سے پہلے پڑھی۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 609]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 99 (1682)، صحیح مسلم/الحج 48 (1289)، سنن ابی داود/المناسک 65 (1934)، (تحفة الأشراف: 9384)، مسند احمد 1/384، 426، 434، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 3013، 3030، 3041 مختصراً (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عبداللہ بن مسعود کا نہ دیکھنا جمع بین الصلاتین کی نفی کو مستلزم نہیں، خصوصاً جب عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر اور اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے جمع بین الصلاتین کی صحیح روایات منقول ہیں۔ ۲؎: یعنی فجر طلوع ہوتے ہی پڑھ لی جب کہ عام حالات میں طلوع فجر کے بعد کچھ انتظار کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
50. بَابُ: كَيْفَ الْجَمْعُ
باب: جمع بین الصلاتین کیسے کی جائے؟
حدیث نمبر: 610
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ مِنْ عَرَفَةَ، فَلَمَّا أَتَى الشِّعْبَ نَزَلَ فَبَالَ وَلَمْ يَقُلْ أَهْرَاقَ الْمَاءَ، قَالَ: فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنْ إِدَاوَةٍ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، فَقُلْتُ لَهُ: الصَّلَاةَ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ أَمَامَكَ" فَلَمَّا أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ صَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ نَزَعُوا رِحَالَهُمْ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ".
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ میں سواری پر پیچھے بٹھا لیا تھا) تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھاٹی پر آئے تو اترے، اور پیشاب کیا، (انہوں نے لفظ «بَالَ» کہا «أهراق الماء» نہیں کہا ۱؎) تو میں نے برتن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی ڈالا، آپ نے ہلکا پھلکا وضو کیا، میں نے آپ سے عرض کیا: نماز پڑھ لیجئیے، تو آپ نے فرمایا: نماز تمہارے آگے ہے، جب آپ مزدلفہ پہنچے تو مغرب پڑھی، پھر لوگوں نے اپنی سواریوں سے کجاوے اتارے، پھر آپ نے عشاء پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 610]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات سے واپسی پر انہیں اپنے پیچھے اونٹ پر بٹھایا ہوا تھا، کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم (عرفات اور مزدلفہ کے درمیان آنے والی) گھاٹی پر پہنچے تو آپ اترے اور پیشاب فرمایا۔ پھر میں نے لوٹے سے پانی ڈالا اور آپ نے ہلکا سا وضو فرمایا۔ میں نے آپ سے گزارش کی: ”نماز پڑھ لیجیے۔“ آپ نے فرمایا: ”نماز آگے ہوگی۔“ جب مزدلفہ تشریف لائے تو مغرب کی نماز پڑھائی، پھر صحابہ رضی اللہ عنہم نے سواریوں سے پالان وغیرہ اتارے، پھر آپ نے عشاء کی نماز پڑھائی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 610]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 97)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 35 (181)، الحج 95 (1672)، صحیح مسلم/الحج 47 (1280)، سنن ابی داود/المناسک 64 (1925)، مسند احمد 5/200، 202، 208، 210 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ان دونوں لفظوں کے معنی ہیں ”پیشاب کیا“۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
51. بَابُ: فَضْلِ الصَّلاَةِ لِمَوَاقِيتِهَا
باب: وقت پر نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 611
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ، قال: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا صَاحِبُ وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ، هَذِهِ الدَّارِ قال: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى؟ قَالَ:" الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا، وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وقت پر نماز پڑھنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 611]
حضرت ابوعمرو شیبانی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”ہمیں اس گھر کے مالک نے بیان فرمایا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وقت پر نماز پڑھنا، والدین سے حسن سلوک کرنا اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا۔“” [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 611]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 5 (527)، الجھاد 1 (2782)، الأدب 1 (5970)، التوحید 48 (7534)، صحیح مسلم/الإیمان 36 (85)، سنن الترمذی/الصلاة 13 (173)، البر والصلة 2 (1898)، (تحفة الأشراف: 9232)، مسند احمد 1/409، 439، 442، 451، سنن الدارمی/الصلاة 24 (1261) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مختلف احادیث میں مختلف اعمال کو افضل الاعمال (زیادہ بہتر) کہا گیا ہے، اس کی توجیہ بعض لوگوں نے اس طرح کی ہے کہ ان میں «مِن» پوشیدہ ہے یعنی من افضل الاعمال یعنی یہ کام زیادہ فضیلت والے عملوں میں سے ہے یا ان کی فضیلت میں مختلف اقوال، اوقات یا جگہوں کا اعتبار ملحوظ ہے، مثلاً کسی وقت اول وقت نماز پڑھنا افضل ہے، اور کسی وقت جہاد یا حج مبرور افضل ہے، یا مخاطب کے اعتبار سے اعمال کی افضیلت بتائی گئی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 612
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ، سَمِعَهُ مِنْ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قال: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ:" إِقَامُ الصَّلَاةِ لِوَقْتِهَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اور اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 612]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وقت پر نماز قائم کرنا، والدین سے حسن سلوک کرنا اور اللہ عزوجل کے راستے میں جہاد کرنا۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 612]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 611 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 613
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، وَعَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَسْجِدِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاة فَجُعِلُوا يُنْتَظَرُونَهُ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أُوتِرُ، قَال: وَسُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ: هَلْ بَعْدَ الْأَذَانِ وِتْرٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَبَعْدَ الْإِقَامَةِ، وَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ" نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى". وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى.
محمد بن منتشر سے روایت ہے کہ وہ عمرو بن شرحبیل کی مسجد میں تھے کہ نماز کی اقامت کہی گئی، تو لوگ ان کا انتظار کرنے لگے (جب وہ آئے تو) انہوں نے کہا: میں وتر پڑھنے لگا تھا، (اس لیے تاخیر ہوئی) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے لوگوں نے پوچھا: کیا (فجر کی) اذان کے بعد وتر ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، اور اقامت کے بعد بھی، اور انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ سورج نکل آیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ۱؎ اس حدیث کے الفاظ یحییٰ بن حکیم کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 613]
حضرت محمد بن منتشر بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت عمرو بن شرحبیل کی مسجد میں تھے کہ جماعت کے لیے اقامت کہی گئی۔ پھر لوگ ان کا انتظار کرنے لگے۔ (وہ آئے تو) انھوں نے فرمایا: ”میں وتر پڑھ رہا تھا۔“ انھوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: ”کیا اذانِ فجر کے بعد وتر پڑھ سکتے ہیں؟“ انھوں نے فرمایا: ”ہاں، بلکہ اقامت کے بعد بھی،“ پھر انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ بیان فرمایا کہ ”ایک دن آپ نمازِ فجر سے سوئے رہے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو گیا، پھر آپ نے نماز ادا فرمائی۔“ یہ لفظ یحییٰ کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9481)، وأعادہ برقم: 1686 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ تھا کہ وقت گزر جانے سے نماز ساقط نہیں ہوتی بلکہ اس کی قضاء کرنی پڑتی ہے، جو لوگ کہتے ہیں کہ قضاء فرائض کے ساتھ خاص ہے وہ اس حدیث سے وتر کے واجب ہونے پر دلیل پکڑتے ہیں، لیکن اس روایت میں فرائض کے ساتھ قضاء کی تخصیص کی کوئی دلیل نہیں، سنتوں کی قضاء بھی ثابت ہے جیسا کہ صحیحین میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد إن كان محمد بن المنتشر سمع ابن مسعود وقصة النوم صحيحة
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح