سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي الصَّلاَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ
باب: عصر کے بعد نماز کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 574
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنْ عَلِيٍّ، قال:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ الشَّمْسُ بَيْضَاءَ نَقِيَّةً مُرْتَفِعَةً".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا الا یہ کہ سورج سفید، صاف اور بلند ہو۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 574]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے مگر یہ کہ سورج سفید، صاف اور بلند ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 574]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 299 (1274) مختصراً، (تحفة الأشراف: 10310)، مسند احمد 1/ 80، 81، 129، 141 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 575
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبِي، قال: قالت عَائِشَةُ:" مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّجْدَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعت کبھی بھی نہیں چھوڑیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 575]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاں عصر کے بعد دو رکعتیں کبھی نہیں چھوڑیں۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 575]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 33 (591)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 17311)، مسند احمد 6/50 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بہت سے علماء نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص قرار دیا ہے، کیونکہ ایک بار آپ سے ظہر کے بعد کی دونوں سنتیں فوت ہو گئی تھیں جن کی قضاء آپ نے عصر کے بعد کی تھی، پھر آپ نے اس کا التزام شروع کر دیا تھا، اور قضاء کا التزام قطعی طور پر آپ ہی کے لیے مخصوص ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 576
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، قال: قالت عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا" مَا دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا صَلَّاهُمَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد میرے پاس جب بھی آتے تو دونوں رکعتوں کو پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 576]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی عصر کی نماز کے بعد میرے ہاں تشریف لاتے تو یہ دو رکعتیں ضرور پڑھتے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 576]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15978) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 577
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قال: سَمِعْتُ مَسْرُوقًا، وَالْأَسْوَدَ، قَالَا: نَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا كَانَ عِنْدِي بَعْدَ الْعَصْرِ صَلَّاهُمَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کے بعد میرے پاس ہوتے تو ان دونوں رکعتوں کو پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 577]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”جب بھی عصر کی نماز کے بعد میرے پاس ہوتے تو یہ دو رکعتیں ضرور پڑھتے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 577]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 33 (593)، صحیح مسلم/المسافرین 54 (835)، سنن ابی داود/الصلاة 299 (1279)، (تحفة الأشراف: 16028، 17656)، مسند احمد 6/ 134، 176، سنن الدارمی/الصلاة 143 (1474) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 578
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت:" صَلَاتَانِ مَا تَرَكَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي سِرًّا وَلَا عَلَانِيَةً: رَكْعَتَانِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَرَكْعَتَانِ بَعْدَ الْعَصْرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں فجر کے پہلے کی دو رکعتوں اور عصر کے بعد کی دو رکعتوں کو چھپے اور کھلے کبھی نہیں چھوڑا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 578]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”دو نمازیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں کبھی نہیں چھوڑیں، خفیہ نہ علانیہ: فجر سے قبل دو رکعتیں اور عصر کے بعد دو رکعتیں۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 578]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 33 (592)، صحیح مسلم/المسافرین 54 (835)، (تحفة الأشراف: 16009)، مسند احمد 6/159 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 579
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنِ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَتْ:" إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّيهِمَا قَبْلَ الْعَصْرِ، ثُمَّ إِنَّهُ شُغِلَ عَنْهُمَا أَوْ نَسِيَهُمَا فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَثْبَتَهَا".
ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان دونوں رکعتوں کے متعلق سوال کیا جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد پڑھتے تھے، تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں عصر سے پہلے پڑھا کرتے تھے پھر آپ کسی کام میں مشغول ہو گئے یا بھول گئے تو انہیں عصر کے بعد ادا کیا، اور آپ جب کوئی نماز شروع کرتے تو اسے برقرار رکھتے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 579]
حضرت ابوسلمہ سے روایت ہے کہ انہوں (ابوسلمہ) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان دو رکعات کے بارے میں پوچھا جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد پڑھا کرتے تھے، تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ دو رکعتیں عصر سے پہلے پڑھا کرتے تھے، پھر ایک دن کسی مصروفیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دو رکعتیں رہ گئیں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد انہیں پڑھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز ایک دفعہ پڑھ لیتے تو اس پر پابندی فرماتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 579]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 54 (835)، (تحفة الأشراف: 17752)، مسند احمد 6/40، 61، 241، مسند احمد 6/184، 188 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 580
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قال: سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي بَيْتِهَا بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ مَرَّةً وَاحِدَةً، وَأَنَّهَا ذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" هُمَا رَكْعَتَانِ كُنْتُ أُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الظُّهْرِ فَشُغِلْتُ عَنْهُمَا حَتَّى صَلَّيْتُ الْعَصْرَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھی تو انہوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ دو رکعتیں ہیں جنہیں میں ظہر کے بعد پڑھتا تھا تو میں انہیں نہیں پڑھ سکا، یہاں تک کہ میں نے عصر پڑھ لی“، (تو میں نے اب عصر کے بعد پڑھی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 580]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں صرف ایک دفعہ عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ رکعتیں ہیں جو میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا ہوں، آج میں ان سے مصروف رہا حتیٰ کہ عصر کا وقت ہو گیا اور مجھے عصر پڑھنی پڑی۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 580]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18242)، مسند احمد 6/ 304، 310 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 581
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قالت:" شُغِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ، فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہم کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے والی دو رکعت نہیں پڑھ سکے، تو انہیں عصر کے بعد پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 581]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (ایک دن) عصر سے پہلے (ظہر کے بعد) کی دو رکعتوں سے مصروف رہے تو آپ نے انہیں عصر کے بعد ادا فرمایا۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 581]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18193)، مسند احمد 6/306 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
37. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي الصَّلاَةِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ
باب: سورج ڈوبنے سے پہلے نماز کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 582
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، قال: أَنْبَأَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، قال: سَأَلْتُ لَاحِقًا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، فَقَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يُصَلِّيهِمَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ: مَا هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ؟ فَاضْطَرَّ الْحَدِيثَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ، فَشُغِلَ عَنْهُمَا فَرَكَعَهُمَا حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، فَلَمْ أَرَهُ يُصَلِّيهِمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ".
عمران بن حدیر کہتے ہیں: میں نے لاحق (لاحق بن حمید ابومجلز) سے سورج ڈوبنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم یہ دو رکعتیں پڑھتے تھے، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پچھوا بھیجا کہ سورج ڈوبنے کے وقت کی یہ دونوں رکعتیں کیسی ہیں؟ تو انہوں نے بات ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھا دی، تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے دو رکعت پڑھتے تھے تو (ایک مرتبہ) آپ انہیں نہیں پڑھ سکے، تو انہیں سورج ڈوبنے کے وقت ۱؎ پڑھی، پھر میں نے آپ کو انہیں نہ تو پہلے پڑھتے دیکھا اور نہ بعد میں۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 582]
حضرت عمران بن حدیر رحمہ اللہ نے حضرت لاحق رحمہ اللہ سے غروبِ شمس سے قبل کی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ یہ دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں پیغام بھیجا کہ غروبِ آفتاب کے وقت یہ دو رکعتیں کیسی ہیں؟ بات حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دو رکعتیں عصر سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔ (ایک دن) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مصروفیت کی بنا پر نہ پڑھ سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غروبِ شمس کے وقت (عصر کے بعد) یہ دو رکعتیں پڑھ لیں۔ میں نے اس دن کے سوا کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دو رکعتیں پڑھتے نہیں دیکھا، اس سے پہلے نہ بعد۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 582]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18224)، مسند احمد 6/ 309، 311 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: ایسے وقت میں پڑھی جب سورج کے ڈوبنے کا وقت قریب آگ یا تھا، یہ مطلب نہیں کہ سورج ڈوبنے کے بعد پڑھی کیونکہ اس کے جواز میں کوئی اختلاف نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
38. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي الصَّلاَةِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ
باب: مغرب سے پہلے نماز کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 583
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُفَيْلٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عِيسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ قَامَ لِيَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، فَقُلْتُ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: انْظُرْ إِلَى هَذَا، أَيَّ صَلَاةٍ يُصَلِّي؟ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَرَآهُ، فَقَالَ:" هَذِهِ صَلَاةٌ كُنَّا نُصَلِّيهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوالخیر کہتے ہیں کہ ابوتمیم جیشانی مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو میں نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا: انہیں دیکھئیے! یہ کون سی نماز پڑھ رہے ہیں؟ تو وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور دیکھ کر بولے: یہ وہی نماز ہے جسے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پڑھا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 583]
ابوالخیر سے روایت ہے کہ ابوتمیم جیشانی مغرب (کی نماز) سے پہلے دو رکعتیں پڑھنے کے لیے اٹھے۔ میں نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”انہیں دیکھیے یہ کون سی نماز پڑھ رہے ہیں؟“ انہوں (عقبہ) نے ان کی طرف توجہ فرمائی تو انہیں (نماز پڑھتے) دیکھا تو انہوں نے فرمایا: ”ہم یہ نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں پڑھا کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 583]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التھجد 35 (1184) نحوہ، (تحفة الأشراف: 9961)، مسند احمد 4/ 155 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنا جائز ہی نہیں بلکہ مستحب ہے، صحیح بخاری (کے مذکورہ باب) میں عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ کی روایت میں تو «صلوا قبل المغرب» حکم کے صیغے کے ساتھ وارد ہے، یعنی مغرب سے پہلے (نفل) پڑھو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري