سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ: تَشْبِيهِ قَضَاءِ الْحَجِّ بِقَضَاءِ الدَّيْنِ
باب: حج کی ادائیگی کو قرض کی ادائیگی سے تشبیہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2640
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ النَّسَائِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ , عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! میرے والد انتقال کر گئے اور انہوں نے حج نہیں کیا، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”کیا خیال ہے اگر تمہارے والد پر کچھ قرض ہوتا تو تم ادا کرتے؟“ اس نے کہا: ہاں (میں ادا کرتا) تو آپ نے فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ کا قرض ادا کئے جانے کا زیادہ مستحق ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2640]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد حج کیے بغیر فوت ہو گئے ہیں، تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بتاؤ اگر تمہارے والد پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اللہ کا قرض ادائیگی کا زیادہ حق دار ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2640]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6041) (ضعیف الإسناد شاذ) (اس کے راوی ’’محکم‘‘ کو وہم ہو جایا کرتا تھا، اسی لیے انہوں نے پوچھنے والے کو مرد اور جس کے بارے میں پوچھا گیا اس کو عورت بنا دیا ہے)»
وضاحت: ۱؎: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی روایت میں صحیح بات یہ ہے کہ مسئلہ پوچھنے والی عورت تھی، اور اپنے باپ کے بارے میں پوچھا تھا جو زندہ مگر کمزور تھا، اور اس واقعہ کے وقت یا تو دونوں بھائی (عبداللہ اور فضل) موجود تھے یا فضل نے یہ واقعہ عبداللہ بن عباس سے بیان کیا، روایت کی صحت میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ابن عباس رضی الله عنہما کی روایت کے سوا دیگر صحابہ کی روایتوں میں دیگر واقعات بھی اسی طرح کے سوال و جواب کے ممکن ہیں، پوچھنے والے مرد و عورت بھی ہو سکتے ہیں، اور جن کے بارے میں پوچھا گیا وہ بھی مرد و عورت ہو سکتے ہیں، اور یہ کوئی ایسی بات نہیں، جس کو بنیاد بنا کر حدیث کی حجیت کے سلسلے میں شکوک و شبہات پیدا کئے جائیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2641
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْحَجُّ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَثْبُتُ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَإِنْ شَدَدْتُهُ خَشِيتُ أَنْ يَمُوتَ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ، أَكَانَ مُجْزِئًا؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَحُجَّ عَنْ أَبِيكَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میرے باپ کو (فریضہ) حج نے اس حال میں پایا کہ وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں اپنی سواری پر ٹک نہیں سکتے، اگر میں انہیں سواری پر بٹھا کر باندھ دوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں مر نہ جائیں۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اگر ان پر قرض ہوتا تو اسے ادا کرتے، تو وہ کافی ہو جاتا“؟ اس نے کہا: ہاں (کافی ہو جاتا) آپ نے فرمایا: ”پھر اپنے باپ کی طرف سے حج کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2641]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میرے باپ پر حج فرض ہے مگر وہ انتہائی بوڑھے ہیں، سواری پر نہیں بیٹھ سکتے اور اگر میں انہیں (پالان پر) باندھ دوں تو خطرہ ہے کہ وہ مر جائیں گے، تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بتاؤ اگر اس پر قرض ہوتا اور تم ادا کرتے تو کیا اسے کفایت کرتا؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اپنے باپ کی طرف سے حج بھی کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2641]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلنسائي، (تحفة الأشراف: 5657)، انظر حدیث رقم: 2635 (شاذ أومنکر) (اس کے راوی ’’ہشیم“ کثیر التدلیس ہیں، سائل کا عورت ہونا ہی محفوظ بات ہے)»
قال الشيخ الألباني: شاذ أو منكر بذكر الرجل والمحفوظ أن السائل امرأة
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
12. بَابُ: حَجِّ الْمَرْأَةِ عَنِ الرَّجُلِ
باب: مرد کی طرف سے عورت کے حج کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2642
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ وَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ" أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ" وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر تھے، تو قبیلہ خثعم کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مسئلہ پوچھنے آئی، تو فضل اسے دیکھنے لگے، اور وہ فضل کو دیکھنے لگی، اور آپ فضل کا چہرہ دوسری طرف پھیرنے لگے، تو اس عورت نے پوچھا: اللہ کے رسول! اپنے بندوں پر اللہ کے عائد کردہ فریضہ حج نے میرے باپ کو اس حال میں پایا: انتہائی بوڑھے ہو چکے ہیں، سواری پر ٹک نہیں سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں کر لو“، یہ واقعہ حجۃ الوداع کا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2642]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (میرے بھائی) فضل بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹنی ہی پر سوار تھے کہ خثعم قبیلے کی ایک عورت آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھنے لگی۔ فضل اسے دیکھنے لگے اور وہ انہیں دیکھنے لگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کا چہرہ دوسری طرف پھیر دیا۔ وہ عورت کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کے فریضہ حج نے، جو اس نے اپنے بندوں پر عائد کیا ہے، میرے والد کو بہت بڑھاپے کی حالت میں پایا ہے، وہ سواری پر بیٹھ بھی نہیں سکتے، تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ (ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) یہ حجۃ الوداع کی بات ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2642]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2635 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2643
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ" أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَوِي عَلَى الرَّاحِلَةِ فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ" , فَأَخَذَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ يَلْتَفِتُ إِلَيْهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً حَسْنَاءَ، وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَضْلَ، فَحَوَّلَ وَجْهَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسئلہ پوچھنے آئی اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے، اس عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اپنے بندوں پر عائد کردہ اللہ کے فریضہ حج نے میرے والد کو اس حال میں پایا کہ وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں وہ سواری پر سیدھے نہیں رہ سکتے، تو کیا اگر میں ان کی طرف سے حج کروں تو ان کی طرف سے پورا ہو جائے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہو جائے گا“، تو فضل بن عباس رضی اللہ عنہما اسے مڑ کر دیکھنے لگے، وہ ایک خوبصورت عورت تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل بن عباس کو پکڑ کر ان کا چہرہ دوسری جانب پھیر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2643]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ حجۃ الوداع میں خثعم قبیلے کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سواری پر بیٹھے تھے۔ وہ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں پر فریضہ حج نے میرے والد کو بہت بڑھاپے کی حالت میں پایا ہے، وہ سواری پر بیٹھ بھی نہیں سکتے۔ اگر میں ان کی طرف سے حج کروں تو کیا ان کی طرف سے کفایت ہو جائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ اس عورت کو دیکھنے لگے (کیونکہ) وہ خوش شکل تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ پکڑ کر دوسری طرف پھیر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2643]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2635 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
13. بَابُ: حَجِّ الرَّجُلِ عَنِ الْمَرْأَةِ
باب: عورت کی طرف سے مرد کے حج کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2644
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ، وَإِنْ حَمَلْتُهَا لَمْ تَسْتَمْسِكْ، وَإِنْ رَبَطْتُهَا خَشِيتُ أَنْ أَقْتُلَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ؟" قَالَ: نَعَمْ , قَالَ:" فَحُجَّ عَنْ أُمِّكَ".
فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے تو آپ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں بہت بوڑھی ہو چکی ہیں، اگر میں انہیں سواری پر چڑھا دوں تو وہ بیٹھی نہیں رہ سکتیں، اور اگر میں انہیں (سواری پر بٹھا کر) باندھ دوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں ان کی جان نہ لے بیٹھوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا خیال ہے اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے؟“ اس نے کہا: جی ہاں (میں ادا کرتا) آپ نے فرمایا: ”تو تم اپنی ماں کی جانب سے حج کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2644]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ حجۃ الوداع میں خثعم قبیلے کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سواری پر بیٹھے تھے۔ وہ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں پر فریضہ حج نے میرے والد کو بہت بڑھاپے کی حالت میں پایا ہے۔ وہ سواری پر بیٹھ بھی نہیں سکتے۔ اگر میں ان کی طرف سے حج کروں تو کیا ان کی طرف سے کفایت ہو جائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ فضل بن عباس رضی اللہ عنہ اس عورت کو دیکھنے لگے (کیونکہ) وہ خوش شکل تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ پکڑ کر دوسری طرف پھیر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2644]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11044)، مسند احمد (1/212)، ویأعند المؤلف برقم: 5396، 5397 (شاذ) (سائل کا عورت ہونا ہی محفوظ بات ہے)»
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
14. بَابُ: مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يَحُجَّ عَنِ الرَّجُلِ، أَكْبَرُ وَلَدِهِ
باب: مستحب یہ ہے کہ باپ کی طرف سے بڑا بیٹا حج کرے۔
حدیث نمبر: 2645
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يُوسُفَ، عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِرَجُلٍ:" أَنْتَ أَكْبَرُ وَلَدِ أَبِيكَ فَحُجَّ عَنْهُ".
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”تم اپنے باپ کا بڑے بیٹے ہو تو تم ان کی طرف سے حج کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2645]
حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: ”تو اپنے والد کا سب سے بڑا بیٹا ہے، لہٰذا تو اس کی طرف سے حج کر۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2645]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3639 (ضعیف) (اس کے راوی ”یوسف“ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (2639) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 342
15. بَابُ: الْحَجِّ بِالصَّغِيرِ
باب: چھوٹے بچے کو حج کرانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2646
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً رَفَعَتْ صَبِيًّا لَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ" أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اٹھایا اور پوچھا: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں (اس کا بھی حج ہے) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2646]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنا بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہاتھوں پر بلند کیا اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور ثواب تجھے ملے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2646]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج72 (1336)، (تحفة الأشراف: 6360)، مسند احمد (1/343) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ چھوٹے بچے کو حج کرانا جائز ہے اس کا اجر ماں باپ کو ملے گا لیکن کوئی بچہ بالغ ہونے کے بعد صاحب استطاعت ہو جائے تو اس کے لیے دوبارہ فریضہ حج کی ادائیگی ضروری ہو گی بچپن کا کیا ہوا حج کافی نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2647
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَفَعَتِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا لَهَا مِنْ هَوْدَجٍ، فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ" أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو ہودج سے اوپر اٹھایا اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں (اس کا بھی حج ہے) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2647]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنا بچہ ہودج سے اٹھایا اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھا کر آپ سے) کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اور ثواب تجھے ملے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2647]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2646 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2648
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَفَعَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيًّا، فَقَالَتْ:" أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے ایک بچے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اٹھایا اور پوچھنے لگی: کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں (اس کا بھی حج ہے) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2648]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک بچہ اٹھایا اور کہنے لگی: کیا اس کا بھی حج ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور ثواب تیرے لیے ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2648]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 72 (1336)، سنن ابی داود/الحج 8 (1736)، (تحفة الأشراف: 6336)، موطا امام مالک/الحج 81 (244)، مسند احمد (1/244، 288، 344) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2649
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ. ح وحَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: صَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ لَقِيَ قَوْمًا، فَقَالَ:" مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: الْمُسْلِمُونَ، قَالُوا: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: فَأَخْرَجَتِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا مِنَ الْمِحَفَّةِ فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جب روحاء پہنچے تو کچھ لوگوں سے ملے تو آپ نے پوچھا: ”تم کون لوگ ہو؟“ ان لوگوں نے کہا: ہم مسلمان ہیں، پھر ان لوگوں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: ”آپ اللہ کے رسول ہیں“، یہ سن کر ایک عورت نے کجاوے سے ایک بچے کو نکالا، اور پوچھنے لگی: کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں اور ثواب تمہیں ملے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2649]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (حج سے) واپس (مدینہ منورہ کو) تشریف لا رہے تھے۔ جب مقام روحاء پر پہنچے تو کچھ لوگوں سے ملے۔ آپ نے فرمایا: ”تم کون ہو؟“ انھوں نے عرض کیا: ہم مسلمان ہیں، پھر وہ کہنے لگے: آپ کون ہو؟ حاضرین نے بتایا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں۔ تو ان کی ایک عورت نے ڈولی سے ایک بچہ اٹھایا اور کہنے لگی: کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔ اور ثواب تیرے لیے ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2649]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2646 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مکہ کے راستے میں مدینہ سے ۳۶ میل (۷۵ کلومیٹر) کی دوری پر ایک مقام کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن