سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ: إِرْسَالِ الرَّجُلِ إِلَى زَوْجَتِهِ بِالطَّلاَقِ
باب: شوہر دوسرے سے بیوی کو طلاق بھیج دے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 3448
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ تَمِيمٍ مَوْلَى فَاطِمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ , نَحْوَهُ.
مجاہد فاطمہ (فاطمہ بنت قیس) کے غلام تمیم سے اور وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے طرح جیسی کہ اوپر روایت گزری ہے روایت کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3448]
تمیم مولیٰ فاطمہ نے بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اسی قسم کی روایت بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3448]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18020)، مسند احمد (6/411) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
16. بَابُ: تَأْوِيلِ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ}
باب: آیت کریمہ: ”اے نبی جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا اسے آپ کیوں حرام ٹھہراتے ہیں“ کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3449
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي جَعَلْتُ امْرَأَتِي عَلَيَّ حَرَامًا، قَالَ: كَذَبْتَ لَيْسَتْ عَلَيْكَ بِحَرَامٍ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ سورة التحريم آية 1، عَلَيْكَ أَغْلَظُ الْكَفَّارَةِ، عِتْقُ رَقَبَةٍ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا: میں نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے، تو انہوں نے اس سے کہا: تم غلط کہتے ہو وہ تم پر حرام نہیں ہے، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» (اور کہا) تم پر سخت ترین کفارہ ایک غلام آزاد کرنا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3449]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: میں نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے۔ آپ نے فرمایا: تو نے جھوٹ کہا ہے، وہ تجھ پر حرام نہیں، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ [سورة التحريم: 1] ”اے نبی! آپ اس چیز کو کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کی ہے؟“ ہاں، تجھ پر سخت ترین کفارہ ہو گا، یعنی ایک غلام آزاد کرنا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3449]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5511) (ضعیف الإسناد و ہو فی المتفق علیہ مختصردون قولہ: ’’وعلیک أغلظ…‘‘ (أی بلفظ ’’إذاحرم الرجل امرأتہ فہی یمین یکفرہا‘‘ انظرخ الطلاق، وم فیہ3)»
وضاحت: ۱؎: سخت ترین کفارہ کا ذکر اس لیے کیا تاکہ لوگ ایسے عمل سے باز رہیں ورنہ ظاہر قرآن سے کفارہ یمین کا ثبوت ملتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد وهو في ق مختصر دون قوله عليك أغلط
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
17. بَابُ: تَأْوِيلِ هَذِهِ الآيَةِ عَلَى وَجْهٍ آخَرَ
باب: اس آیت کی ایک دوسرے انداز سے تفسیر۔
حدیث نمبر: 3450
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا، فَتَوَاصَيْتُ وَحَفْصَةُ أَيَّتُنَا، مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ، فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَيْهِمَا، فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ، وَقَالَ: لَنْ أَعُودَ لَهُ، فَنَزَلَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ سورة التحريم آية 1 , إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ سورة التحريم آية 4, لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا سورة التحريم آية 3"، لِقَوْلِهِ: بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا , كُلُّهُ فِي حَدِيثِ عَطَاءٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پی کر آتے تو ہم نے اور حفصہ نے آپس میں صلاح و مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ (کیا بات ہے) مجھے آپ کے منہ سے مغافیر ۱؎ کی بو آتی ہے، آپ ہم میں سے ایک کے پاس آئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بات کہی۔ آپ نے کہا: ”میں نے تو کچھ کھایا پیا نہیں بس زینب کے پاس صرف شہد پیا ہے (اور جب تم ایسا کہہ رہی ہو کہ اس سے مغافیر کی بو آتی ہے) تو آئندہ نہ پیوں گا“۔ چنانچہ عائشہ اور حفصہ کی وجہ سے یہ آیت: «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ”اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں“ (التحریم: ۱) اور «إن تتوبا إلى اللہ» ”(اے نبی کی دونوں بیویو!) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو (تو بہت بہتر ہے)“۔ (التحریم: ۴) نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول: میں نے تو شہد پیا ہے کی وجہ سے یہ آیت: «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» ”اور یاد کر جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیدہ بات کہی“ (التحریم: ۳) نازل ہوئی ہے، اور یہ ساری تفصیل عطا کی حدیث میں موجود ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3450]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ محترمہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس (زیادہ دیر) ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے۔ میں نے اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما نے آپس میں منصوبہ بنایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے جس کے ہاں بھی تشریف لائیں وہ آپ سے کہے کہ ”میں آپ سے «الْمَغَافِيرِ» (مغافیر) کی بو پاتی ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کے پاس تشریف لائے تو اس نے آپ سے وہی بات کہہ دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تو زینب کے ہاں سے شہد پیا ہے، دوبارہ نہیں پیوں گا۔“ پھر یہ آیت اتری: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ [سورة التحريم: 1] ”اے نبی! آپ اس چیز کو کیوں حرام کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے؟“ (آگے آنے والے الفاظ) ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ﴾ [سورة التحريم: 4] میں حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما کی طرف اشارہ ہے اور ﴿وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا﴾ [سورة التحريم: 3] میں بات سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: ”میں نے شہد پیا ہے (دوبارہ نہیں پیوں گا)۔“ یہ ساری تفصیل عطاء کی حدیث میں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3450]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3410 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مغفر ایک قسم کی گوند ہے جو بعض درختوں سے نکلتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
18. بَابُ: الْحَقِي بِأَهْلِكِ
باب: شوہر بیوی سے کہے ”جاؤ اپنے گھر والوں میں رہو“ اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3451
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَكِّيِّ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ , يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَقَالَ فِيهِ: إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ , يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَسَاقَ قِصَّتَهُ، وَقَالَ: إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي فَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ، فَقُلْتُ أُطَلِّقُهَا أَمْ مَاذَا؟ قَالَ: لَا، بَلِ اعْتَزِلْهَا، فَلَا تَقْرَبْهَا، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَهْلِكِ، فَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي هَذَا الْأَمْرِ".
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو اپنا اس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے جب وہ غزوہ تبوک کے لیے نکلنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے۔ اسی بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ فرمایا:) … ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3451]
حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے (اپنے والد محترم) حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو اپنی آپ بیتی بیان کرتے سنا، جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے۔ انہوں نے پورا واقعہ بیان فرمایا۔ پھر فرمایا: اس دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد میرے پاس آیا اور کہنے لگا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجھے حکم دے رہے ہیں کہ ”اپنی بیوی سے الگ ہو جا۔“ میں نے کہا: اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ وہ کہنے لگا: نہیں، صرف اس سے علیحدہ رہ، تو اپنے گھر چلی جا اور ان کے پاس رہ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس بارے میں کوئی فیصلہ فرمائے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3451]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11145) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بعد والی حدیث میں اس کی تفصیل آ رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3452
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَكِّيِّ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ , يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَقَالَ فِيهِ: إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ , يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَسَاقَ قِصَّتَهُ، وَقَالَ: إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي فَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ، فَقُلْتُ أُطَلِّقُهَا أَمْ مَاذَا؟ قَالَ: لَا، بَلِ اعْتَزِلْهَا، فَلَا تَقْرَبْهَا، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَهْلِكِ، فَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي هَذَا الْأَمْرِ".
عبداللہ بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو اپنا اس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے جب وہ غزوہ تبوک کے لیے نکلنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے۔ مذکورہ قصہ بیان کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد آ کر کہتا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنی بیوی سے الگ تھلگ رہیں، میں نے کہا: کیا میں اسے طلاق دے دوں؟ یا اس کا کچھ اور مطلب ہے، اس (قاصد) نے کہا، طلاق نہیں، بس تم اس کے قریب نہ جاؤ (اس سے جدا رہو)، میں نے اپنی بیوی سے کہا: تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ ۱؎ اور جب تک اس معاملہ میں اللہ کا کوئی فیصلہ نہ آ جائے وہیں رہو۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3452]
حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے (اپنے والد محترم) حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو اپنی آپ بیتی بیان کرتے سنا، جب وہ غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے۔ انہوں نے پورا واقعہ بیان فرمایا، پھر فرمایا: اس دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد میرے پاس آیا اور کہنے لگا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجھے حکم دے رہے ہیں کہ ”اپنی بیوی سے الگ ہوجا۔“ میں نے کہا: اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ وہ کہنے لگا: نہیں، صرف اس سے علیحدہ رہ، تو اپنے گھر چلی جا اور ان کے پاس رہ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس بارے میں کوئی فیصلہ فرمائے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3452]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11145) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: گویا «الحقی بأھلک» سے طلاق اس وقت واقع ہو گی جب اسے طلاق کی نیت سے کہا جائے۔
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3453
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَبَلَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ إِسْحَاق بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ يُحَدِّثُ , قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِلَى صَاحِبَيَّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْتَزِلُوا نِسَاءَكُمْ، فَقُلْتُ لِلرَّسُولِ: أُطَلِّقُ امْرَأَتِي أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ؟ قَالَ:" لَا، بَلْ تَعْتَزِلُهَا، فَلَا تَقْرَبْهَا، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَهْلِكِ، فَكُونِي فِيهِمْ فَلَحِقَتْ بِهِمْ".
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے (اور وہ ان تینوں میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول ہوئی ہے ۱؎، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور میرے دونوں ساتھیوں ۲؎ کے پاس (ایک شخص کو) بھیجا (اس نے کہا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی بیویوں سے الگ رہو، میں نے قاصد سے کہا: میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: نہیں، طلاق نہ دو بلکہ اس سے الگ تھلگ رہو، اس کے قریب نہ جاؤ۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور انہیں کے ساتھ رہو، تو وہ ان کے پاس جا کر رہنے لگی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3453]
حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے اپنے والد محترم حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو بیان فرماتے سنا، اور میرے والد ان تین اشخاص میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول ہوئی تھی۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور میرے دوسرے دو ساتھیوں کو پیغام بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ ”اپنی عورتوں سے جدا رہو۔“ میں نے قاصد سے کہا: میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ صرف اس سے الگ رہ، اس کے قریب نہ جانا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: تو اپنے میکے چلی جا اور ان کے پاس رہ، چنانچہ وہ میکے چلی گئی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3453]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوصایا 16 (2757)، الجہاد 103 (2957)، 198 (3088)، المناقب 23 (3556)، المغازي 3 (3951)، تفسیر سورة البراء ة 14 (4673)، 17 (4677)، 18 (4676)، 19 (4678)، الاستئذان21 (6255)، الأیمان والنذور 24 (6690)، الأحکام 53 (2725)، صحیح مسلم/المسافرین 12 (2769)، سنن ابی داود/الطلاق 11 (2202)، الجہاد 173 (2773)، 178 (2781)، الأیمان والنذور 29 (3317)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر التوبة (3101)، (تحفة الأشراف: 11131)، مسند احمد (3/456، 457، 459)، سنن الدارمی/الصلاة 184 (1561) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کیا ہے۔ ۲؎: مرارہ بن ربیع العمری، ھلال بن امیہ الواقفی رضی الله عنہما۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3454
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبًا يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَقَالَ فِيهِ: إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي، وَيَقُولُ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ، فَقُلْتُ: أُطَلِّقُهَا، أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ؟ قَالَ: بَلِ اعْتَزِلْهَا، وَلَا تَقْرَبْهَا، وَأَرْسَلَ إِلَى صَاحِبَيَّ بِمِثْلِ ذَلِكَ، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَهْلِكِ، وَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي هَذَا الْأَمْرِ"، خَالَفَهُمْ مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ.
عبداللہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے کعب رضی اللہ عنہ کو اپنا اس وقت کا قصہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے جب وہ غزوہ تبوک میں جاتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے اور شریک نہ ہوئے تھے۔ اس واقعہ کے ذکر کرنے کے دوران انہوں نے بتایا کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی بیوی کو چھوڑ دو، میں نے (اس سے) کہا: میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: (طلاق نہ دو) بلکہ اس سے الگ رہو اس کے قریب نہ جاؤ۔ میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) ایسا ہی پیغام دے کر بھیجا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور ان لوگوں کے ساتھ رہو اور اس وقت تک رہو جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس معاملے میں اپنا فیصلہ نہ سنا دے۔ معقل بن عبیداللہ نے ان سب کے خلاف ذکر کیا ہے (تفصیل آگے حدیث میں آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3454]
حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت کعب رضی اللہ عنہ کو اپنی آپ بیتی بیان فرماتے سنا، جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جانے سے رہ گئے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ اس دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد میرے پاس آیا اور کہنے لگا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجھے اپنی عورت سے الگ رہنے کا حکم ارشاد فرما رہے ہیں۔“ میں نے کہا: اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: ”بلکہ اس سے جدا رہ، قریب نہ جا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے دو ساتھیوں کی طرف بھی یہی پیغام بھیجا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: تو اپنے میکے چلی جا اور ان کے پاس رہ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ ہمارے بارے میں کوئی فیصلہ فرما دے۔ معقل بن عبید اللہ نے ان کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3454]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3253 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3455
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي كَعْبًا يُحَدِّثُ , قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى صَاحِبَيَّ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْتَزِلُوا نِسَاءَكُمْ، فَقُلْتُ لِلرَّسُولِ: أُطَلِّقُ امْرَأَتِي، أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ؟ قَالَ: لَا، بَلْ تَعْتَزِلُهَا، وَلَا تَقْرَبْهَا، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَهْلِكِ، فَكُونِي فِيهِمْ، حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَحِقَتْ بِهِمْ"، خَالَفَهُ مَعْمَرٌ.
عبیداللہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کعب رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور میرے دونوں (پیچھے رہ جانے والے) ساتھیوں کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کو حکم دیتے ہیں کہ تم لوگ اپنی بیویوں سے جدا ہو جاؤ، میں نے پیغام لانے والے سے کہا: میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: نہیں، طلاق نہ دو، بلکہ اس سے الگ رہو، اس کے قریب نہ جاؤ، (یہ سن کر) میں نے اپنی بیوی سے کہا: تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور جب تک اللہ عزوجل فیصلہ نہ کر دے انہیں لوگوں میں رہو، تو بیوی انہیں لوگوں کے پاس جا کر رہنے لگی۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں) معمر نے معقل کے خلاف ذکر کیا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3455]
حضرت عبیداللہ بن کعب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد محترم حضرت کعب رضی اللہ عنہ کو بیان فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور میرے دو ساتھیوں کو پیغام بھیجا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو اپنی بیویوں سے الگ رہنے کا حکم دیتے ہیں۔“ میں نے قاصد سے کہا: میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: طلاق نہیں بلکہ تو اس سے (وقتی طور) پر الگ رہ اور اس کے قریب نہ جانا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: اپنے میکے چلی جا اور ان میں رہ حتیٰ کہ اللہ عز وجل کوئی فیصلہ فرمائے۔ چنانچہ وہ اپنے میکے چلی گئی۔ معمر نے (معقل کی) مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3455]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3453 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اشارہ اس میں اس بات کی طرف ہے کہ معقل اور معمر دونوں امام زہری کے شاگرد ہیں۔ معقل نے اس روایت میں «لاتقربھا» کے بعد «فقلت لامرأتی الحقی باھلک ……» ذکر کیا ہے۔ لیکن معمر نے اپنی روایت میں جو اب آ رہی ہے اور ان کے استاد زہری ہی کے واسطہ سے آ رہی ہے «لاتقربھا» کے بعد «فقلت لامرأتی الحقی باھلک …» کا ذکر نہیں کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3456
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ فِي حَدِيثِهِ: إِذَا رَسُولٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَتَانِي، فَقَالَ: اعْتَزِلِ امْرَأَتَكَ، فَقُلْتُ: أُطَلِّقُهَا؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ لَا تَقْرَبْهَا"، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ، الْحَقِي بِأَهْلِكِ.
عبدالرحمٰن بن کعب اپنے والد کعب بن مالک رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے واقعے کے ذکر میں بتایا: اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قاصد میرے پاس آیا اور کہا تم اپنی بیوی سے جدا ہو جاؤ، میں نے اس سے کہا: میں اسے طلاق دے دوں، اس نے کہا نہیں، طلاق نہ دو، لیکن اس کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اس حدیث میں انہوں نے «الحقی باھلک» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3456]
حضرت عبدالرحمن بن کعب بن مالک اپنے والد محترم (حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ اس دوران میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد میرے پاس آیا اور کہنے لگا: ”اپنی عورت سے علیحدہ رہ۔“ میں نے کہا: ”کیا اسے طلاق دے دوں؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔ لیکن اس کے قریب نہ جانا۔“ اس روایت میں راوی نے «الْحَقِي بِأَهْلِكِ» ”اپنے میکے چلی جا“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3456]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11154) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
19. بَابُ: طَلاَقِ الْعَبْدِ
باب: غلام کے طلاق دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3457
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ، أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ أَخْبَرَهُ , قَالَ:" كُنْتُ أَنَا وَامْرَأَتِي مَمْلُوكَيْنِ، فَطَلَّقْتُهَا تَطْلِيقَتَيْنِ، ثُمَّ أُعْتِقْنَا جَمِيعًا، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنْ رَاجَعْتَهَا كَانَتْ عِنْدَكَ عَلَى وَاحِدَةٍ، قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، خَالَفَهُ مَعْمَرٌ.
ابوالحسن مولیٰ بنی نوفل کہتے ہیں کہ میں اور میری بیوی دونوں غلام تھے، میں نے اسے دو طلاقیں دے دی، پھر ہم دونوں اکٹھے ہی آزاد کر دیے گئے۔ میں نے ابن عباس سے مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے کہا: اگر تم اس سے رجوع کر لو تو وہ تمہارے پاس رہے گی اور تمہیں ایک طلاق کا حق حاصل رہے گا، یہی فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ معمر نے اس کے خلاف ذکر کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3457]
بنو نوفل کے مولیٰ حضرت ابو حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اور میری بیوی دونوں غلام تھے۔ میں نے اسے دو طلاقیں دے دی تھیں، پھر ہم دونوں آزاد کر دیے گئے۔ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”اگر تو اس سے رجوع کر لے تو وہ تیرے پاس لوٹ سکتی ہے اور ایک طلاق باقی ہو گی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فیصلہ فرمایا ہے۔ معمر نے (علی بن مبارک کی) مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3457]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 6 (2187)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 32 (2082)، (تحفة الأشراف: 6561)، مسند احمد (1/229) (ضعیف) (اس کے راوی ”عمر بن معتب“ ضعیف ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2187) ابن ماجه (2082) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 347