سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. بَابُ: كَفَّارَةِ النَّذْرِ
باب: نذر کے کفارہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3872
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ , عَنْ أَبِي عَمْرٍو وَهُوَ الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهَا كَفَّارَةُ يَمِينٍ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت (گناہ کے کام) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3872]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت کی نذر معتبر نہیں اور اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3872]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح) (سابقہ روایت سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3873
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ مُحَمَّدٍ الْحَنْظَلِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَيْرِ ضَعِيفٌ لَا يَقُومُ بِمِثْلِهِ حُجَّةٌ , وَقَدِ اخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: محمد بن زبیر ضعیف ہیں، ان جیسے سے حجت قائم نہیں ہوتی اور اس حدیث کے سلسلے میں ان کے متعلق اختلاف کیا گیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3873]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غصے میں آکر مانی ہوئی نذر معتبر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کے کفارے کی طرح ہے۔“ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (راوئ حدیث) محمد بن زبیر ضعیف ہے، ایسا شخص حجت نہیں ہوتا، ویسے بھی اس حدیث میں اس پر اختلاف کیا گیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3873]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3871 (ضعیف) (اس کے راوی ’’محمد بن زبیر‘‘ ضعیف الحدیث ہیں، اور اس حدیث کے مضمون کا کوئی شاہد موجود نہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، محمد بن الزبير: متروك (تقريب: 5885) ولم أجد لحديثه شاهدًا قويًا. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 349
حدیث نمبر: 3874
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى , قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عِمْرَانَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ".
عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3874]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غصے کی حالت میں نذر معتبر نہیں اور اس کا کفارہ کفارۂ قسم ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3874]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3871 (ضعیف) (دیکھئے پچھلی حدیث پر کلام)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، محمد بن الزبير: متروك (تقريب: 5885) ولم أجد لحديثه شاهدًا قويًا. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 349
حدیث نمبر: 3875
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عِمْرَانَ , قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ". وَقِيلَ: إِنَّ الزُّبَيْرَ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ.
عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے“۔ کہا گیا ہے کہ (محمد کے والد) زبیر نے اس حدیث کو عمران بن حصین سے نہیں سنا۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3875]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غصے کی حالت میں نذر درست نہیں، البتہ اس کا کفارہ قسم والا ہے۔“ کہا گیا ہے کہ زبیر نے یہ حدیث حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3875]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3871 (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: اس کی دلیل اگلی روایت ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، محمد بن الزبير: متروك (تقريب: 5885) ولم أجد لحديثه شاهدًا قويًا. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 349
حدیث نمبر: 3876
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَاق , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ , قَالَ: صَحِبْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" النَّذْرُ نَذْرَانِ: فَمَا كَانَ مِنْ نَذْرٍ فِي طَاعَةِ اللَّهِ فَذَلِكَ لِلَّهِ وَفِيهِ الْوَفَاءُ , وَمَا كَانَ مِنْ نَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَذَلِكَ لِلشَّيْطَانِ وَلَا وَفَاءَ فِيهِ , وَيُكَفِّرُهُ مَا يُكَفِّرُ الْيَمِينَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”نذر کی دو قسمیں ہیں: جو نذر اللہ کی اطاعت کی ہو تو وہ اللہ کے لیے ہے اور اسے پورا کرنا ہے اور جو نذر اللہ کی معصیت کی ہو تو وہ شیطان کی ہے اور اسے پورا نہیں کرنا ہے اور اس کا کفارہ وہی ہو گا جو قسم کا ہوتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3876]
اہل بصرہ میں سے ایک شخص سے روایت ہے، اس نے کہا: میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس رہا۔ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”نذر دو طرح کی ہوتی ہے: جو نذر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے بارے میں ہو، وہ تو اللہ کے لیے معتبر ہوگی اور اسے پورا کرنا چاہیے اور جو نذر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے بارے میں ہو، وہ شیطانی کام ہے۔ اسے پورا نہیں کیا جائے گا، البتہ اس کا کفارہ قسم کے کفارے کی طرح ہوگا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3876]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10891) (صحیح) (شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں بھی محمد اور ان کے باپ زبیر ضعیف ہیں، نیز ایک راوی مبہم بھی ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، محمد بن الزبير: متروك (تقريب: 5885) ولم أجد لحديثه شاهدًا قويًا. ابن الجارود فى المنتقي (935) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 349
حدیث نمبر: 3877
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي , أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ , عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ نَذْرًا , لَا يَشْهَدُ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدِ قَوْمِهِ؟ فَقَالَ عِمْرَانُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ".
زبیر حنظلی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے بیان کیا کہ اس نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا، جس نے یہ نذر مانی کہ وہ اپنے قبیلے کی مسجد میں نماز میں حاضر نہیں ہو گا، تو عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”غضب کی کوئی نذر نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3877]
ایک آدمی نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جس نے نذر مان لی تھی کہ میں اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھنے نہیں جاؤں گا۔ حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”غصے کی حالت میں نذر معتبر نہیں، البتہ اس کا کفارہ قسم ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3877]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، محمد بن الزبير: متروك (تقريب: 5885) ولم أجد لحديثه شاهدًا قويًا. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 349
حدیث نمبر: 3878
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَلَا غَضَبٍ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت کی کوئی نذر نہیں، اور نہ ہی غضب میں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3878]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غصے اور نافرمانی کی نذر معتبر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کے کفارے جیسا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3878]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10808)، مسند احمد (4/439، 443) (ضعیف) (لفظ ”غضب“ میں اس حدیث کا کوئی شاہد نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، محمد بن الزبير: متروك (تقريب: 5885) ولم أجد لحديثه شاهدًا قويًا. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 349
حدیث نمبر: 3879
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سُلَيْمٍ وَهُوَ عُبَيْدُ بْنُ يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ فِي الْمَعْصِيَةِ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ". خَالَفَهُ مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ فِي لَفْظِهِ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے“۔ منصور بن زاذان کی روایت کے الفاظ اس سے مختلف ہیں (ان کی روایت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3879]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نافرمانی والی نذر درست نہیں اور اس کا کفارہ قسم کے کفارے جیسا ہے۔“ الفاظِ حدیث میں منصور بن زاذان نے محمد بن زبیر کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3879]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3880
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ , قَالَ: أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ: قَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ , وَلَا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ". خَالَفَهُ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ فَرَوَاهُ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کی ایسی چیزوں میں نذر نہیں، جن کا اسے اختیار نہیں اور نہ ہی اللہ کی معصیت میں نذر ہے“۔ علی بن زید نے منصور کی مخالفت کی ہے اور اسے بسند حسن بصری عن عبدالرحمٰن بن سمرہ سے روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3880]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان اس چیز میں نذر نہیں مان سکتا جس کا وہ مالک نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مان سکتا ہے۔“ علی بن زید نے منصور بن زاذان کی مخالفت کی ہے، اس نے یہ روایت بواسطہ حسن، حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3880]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10811)، مسند احمد (4/429) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3881
أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جَدْعَانَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ , وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ضَعِيفٌ , وَهَذَا الْحَدِيثُ خَطَأٌ , وَالصَّوَابُ: عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ , وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت میں کوئی نذر نہیں اور نہ ہی کسی ایسی چیز میں کوئی نذر ہے جس کا آدمی کو اختیار نہیں“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: علی بن زید ضعیف ہیں اور اس حدیث میں غلطی ہوئی ہے اور صحیح عمران بن حصین رضی اللہ عنہما ہے اور دوسری سند سے یہ حدیث عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت کی گئی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3881]
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نافرمانی کی نذر معتبر نہیں اور نہ اس چیز کی جس کا وہ مالک نہیں۔“ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علی بن زید ضعیف راوی ہے اور (اس کی بیان کردہ) یہ حدیث خطا ہے، جبکہ درست (عبدالرحمن بن سمرہ کے بجائے) حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ہی ہیں، نیز حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے یہ روایت ایک اور سند سے بھی بیان کی گئی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3881]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9700) (صحیح) (اس کے راوی ’’علی بن زید بن جدعان‘‘ ضعیف ہیں، لیکن سابقہ سند سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح