سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ: النَّذْرِ فِيمَا لاَ يُرَادُ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ
باب: ایسی چیز کی نذر ماننا جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا مندی مقصود نہ ہو۔
حدیث نمبر: 3842
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ , أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ يَقُودُهُ إِنْسَانٌ بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ , فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ , ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ , وَأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ , أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ , وَإِنْسَانٌ قَدْ رَبَطَ يَدَهُ بِإِنْسَانٍ آخَرَ بِسَيْرٍ أَوْ خَيْطٍ أَوْ بِشَيْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ , فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ , ثُمَّ قَالَ:" قُدْهُ بِيَدِكَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو کعبے کا طواف کر رہا تھا، اور ایک آدمی اس کی ناک میں نکیل ڈال کر اسے کھینچ رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا پھر حکم دیا کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر لے جائے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس (آدمی) کے پاس سے گزرے، وہ کعبے کا طواف کر رہا تھا اور اس نے ایک آدمی کا ہاتھ ایک دوسرے آدمی سے تسمے سے یا دھاگے سے یا کسی اور چیز سے باندھ رکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے کاٹ ڈالا اور فرمایا: ”اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر لے جاؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3842]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو کعبہ کا طواف کر رہا تھا۔ اسے ایک اور انسان اس کی ناک میں نکیل ڈال کر کھینچ رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے اسے کاٹ دیا اور اسے حکم دیا کہ ”اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے چلا۔“ اس روایت میں یہ لفظ بھی آتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کے دوران میں ایک آدمی کے پاس سے گزرے جس نے اپنا ہاتھ کسی دوسرے آدمی کے ساتھ رسی یا دھاگے وغیرہ کے ساتھ باندھ رکھا تھا، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے اس رسی کو کاٹ دیا اور فرمایا: ”اسے ہاتھ پکڑ کر چلا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3842]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2923 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
31. بَابُ: النَّذْرِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ
باب: قبضے اور ملکیت سے باہر چیزوں کی نذر ماننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3843
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَيُّوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قِلَابَةَ , عَنْ عَمِّهِ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ , وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی نافرمانی میں نذر نہیں، اور نہ ہی کسی ایسی چیز میں ہے جس کا ابن آدم مالک نہ ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3843]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور انسان کی غیر مملوکہ چیز میں نذر ماننا غیر معتبر ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3843]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ال نذر 3 (1641)، سنن ابی داود/ال نذر 28 (3316)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 16(2124)، (تحفة الأشراف: 10884، 10888)، مسند احمد (4/429، 430، 432، 433، 434)، سنن الدارمی/النذور 3 (2382)، وأعادہ المؤلف برقم: 3882 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3844
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ , عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى مِلَّةِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ , وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ فِي الدُّنْيَا عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , وَلَيْسَ عَلَى رَجُلٍ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ".
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی دین اسلام کے سوا کسی دوسری ملت کی جھوٹی قسم کھائے گا تو وہ اسی طرح ہو گا جیسے اس نے کہا، اور جس نے اپنے آپ کو دنیا میں کسی چیز سے قتل کیا تو اسے قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا، اور آدمی پر اس چیز کی نذر نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3844]
حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دین اسلام کے علاوہ کسی اور دین کی قسم کھائے اور ہو بھی جھوٹا تو وہ اسی طرح ہوگا جس طرح اس نے (اپنے آپ کو) کہا، اور جو شخص دنیا میں کسی چیز سے خودکشی کرے، قیامت کے دن اسے اسی چیز کے ساتھ عذاب دیا جائے گا، اور کسی شخص کے لیے اس نذر کو پورا کرنا جائز نہیں جو اس نے اپنی غیر مملوکہ چیز کے بارے میں مانی ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3844]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3801 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
32. بَابُ: مَنْ نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ تَعَالَى
باب: بیت اللہ (کعبہ) پیدل جانے کی نذر ماننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3845
أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ , عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , قَالَ: نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ , فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاسْتَفْتَيْتُ لَهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" لِتَمْشِ , وَلْتَرْكَبْ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری بہن نے نذر مانی کہ وہ بیت اللہ پیدل جائے گی، اس نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مسئلہ پوچھوں، میں نے اس کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”وہ پیدل جائے اور سوار ہو کر (بھی) جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3845]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میری بہن نے بیت اللہ تک پیدل جانے کی نذر مانی، پھر اس نے مجھ سے کہا کہ میں اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کروں، چنانچہ میں نے اس کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”پیدل بھی چلے اور سوار بھی ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3845]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 27 (1866)، صحیح مسلم/ال نذر 4 (1644)، سنن ابی داود/الأیمان 23 (3299)، (تحفة الأشراف: 9957)، مسند احمد (4/147، 152، 201) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
33. بَابُ: إِذَا حَلَفَتِ الْمَرْأَةُ لِتَمْشِي حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ
باب: جب عورت قسم کھا لے کہ وہ پیدل اور ننگے سر جائے گی تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3846
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , وَقَالَ عَمْرٌو: إِنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زَحْرٍ أَخْبَرَهُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أُخْتٍ لَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُرْهَا فَلْتَخْتَمِرْ , وَلْتَرْكَبْ , وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ایک بہن کے بارے میں پوچھا جس نے نذر مانی تھی کہ وہ دوپٹہ اوڑھے بغیر پیدل (حج کرنے) جائے گی۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ وہ اوڑھنی اوڑھ کر اور سوار ہو کر جائے اور تین دن کے روزے رکھ لے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3846]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ایک بہن کے بارے میں پوچھا جس نے نذر مانی تھی کہ وہ ننگے پاؤں، ننگے سر اور پیدل جائے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کہو کہ سر ڈھانپے اور سوار ہو جائے اور تین دن کے روزے رکھ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3846]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأیمان 23 (3293)، سنن الترمذی/الأیمان 16 (1544)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 20 (2134)، مسند احمد 3/143، 4/ 145، 147، 149، 151)، سنن الدارمی/النذور والأیمان 2 (2379) (ضعیف) (اس کے راوی ’’عبید اللہ بن زحر‘‘ سخت ضعیف ہیں، لیکن اس میں ’’صرف روزہ والی بات‘‘ ضعیف ہے، باقی کے صحیح شواہد موجود ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3293) ترمذي (1544) ابن ماجه (2134) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 349
34. بَابُ: مَنْ نَذَرَ أَنْ يَصُومَ ثُمَّ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يَصُومَ
باب: آدمی روزہ رکھنے کی نذر مانے اور اس سے پہلے مر جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3847
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , عَنْ شُعْبَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ يُحَدِّثُ , عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: رَكِبَتِ امْرَأَةٌ الْبَحْرَ فَنَذَرَتْ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا , فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَصُومَ , فَأَتَتْ أُخْتُهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ ," فَأَمَرَهَا أَنْ تَصُومَ عَنْهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے سمندر کا سفر کیا اور نذر مانی کہ وہ ایک مہینہ روزے رکھے گی پھر وہ روزے رکھنے سے پہلے ہی مر گئی تو اس کی بہن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اسے حکم دیا کہ ”وہ اس کی طرف سے روزے رکھے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3847]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک عورت سمندری سفر پر گئی۔ اس نے نذر مانی کہ (صحیح سلامت واپسی کی صورت میں) وہ ایک ماہ کے روزے رکھے گی۔ لیکن وہ روزے رکھنے سے قبل ہی فوت ہوگئی۔ اس کی بہن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور یہ صورت حال آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: ”تو اس کی طرف سے روزے رکھ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3847]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5620)، مسند احمد (1/338) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
35. بَابُ: مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ نَذْرٌ
باب: آدمی مر جائے اور اس کے ذمہ کوئی نذر باقی ہو تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3848
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ , اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ , فَقَالَ:" اقْضِهِ عَنْهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور اسے پوری کرنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو چکا تھا تو آپ نے فرمایا: ”ان کی طرف سے تم اسے پوری کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3848]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جو ان کی والدہ کے ذمے تھی لیکن وہ اس کی ادائیگی سے پہلے فوت ہوگئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی طرف سے ادا کردو۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3848]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3689 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3849
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: اسْتَفْتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ , فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْضِهِ عَنْهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے بارے میں مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمے تھی اور وہ اسے پوری کرنے سے پہلے ہی انتقال کر گئی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ان کی طرف سے تم پوری کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3849]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جو ان کی والدہ کے ذمے تھی مگر وہ اس کی ادائیگی سے پہلے فوت ہو گئی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی طرف سے ادا کر دو۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3849]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3689 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3850
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ , وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ , عَنْ عَبْدَةَ , عَنْ هِشَامٍ وَهُوَ ابْنُ عُرْوَةَ , عَنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ فَلَمْ تَقْضِهِ , قَالَ:" اقْضِهِ عَنْهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ میری ماں مر گئیں، ان کے ذمے ایک نذر تھی جو انہوں نے پوری نہیں کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ان کی جانب سے تم پوری کر دو“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3850]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: میری والدہ فوت ہو گئی ہیں، ان کے ذمے ایک نذر تھی جسے وہ ادا نہیں کر سکی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کی طرف سے ادا کر دو۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3850]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3689 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
36. بَابُ: إِذَا نَذَرَ ثُمَّ أَسْلَمَ قَبْلَ أَنْ يَفِيَ
باب: آدمی نذر مانے اور اسے پوری کرنے سے پہلے اسلام قبول کر لے تو اس کی نذر کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3851
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ , أَنَّهُ كَانَ عَلَيْهِ لَيْلَةٌ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَعْتَكِفُهَا , فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ.
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جاہلیت میں ایک رات کی نذر مانی تھی کہ وہ اس میں اعتکاف کریں گے، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو ”آپ نے انہیں اعتکاف کرنے کا حکم دیا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3851]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے ذمے جاہلیت میں ایک رات اعتکاف بیٹھنے کی نذر تھی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے انہیں (ایک رات) اعتکاف بیٹھنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3851]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الاعتکاف 5 (2032)، 15 (2042)، 16(2043)، الأیمان 29 (6697)، صحیح مسلم/الأیمان 6 (1656)، سنن ابی داود/الصوم 80 (2474)، الأیمان32(3325)، سنن الترمذی/الأیمان 11 (1539)، سنن ابن ماجہ/الصیام 60 (1772)، الکفارات 18 (2129)، (تحفة الأشراف: 10550)، مسند احمد (1/687)، مسند احمد (1/37 و2/20، 82، 153)، سنن الدارمی/النذور والأیمان 1 (2378) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چونکہ یہ نذر ایک جائز چیز میں تھی اس لیے آپ نے اسے پوری کرنے کا حکم دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه