🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ: ذِكْرِ الأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْىِ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَاخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3958
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي شُجَاعٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ سَهْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: إِنِّي لَيَتِيمٌ فِي حَجْرِ جَدِّي رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَبَلَغْتُ رَجُلًا , وَحَجَجْتُ مَعَهُ , فَجَاءَ أَخِي عِمْرَانُ بْنُ سَهْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَقَالَ: يَا أَبَتَاهُ , إِنَّهُ قَدْ أَكْرَيْنَا أَرْضَنَا فُلَانَةَ بِمِائَتَيْ دِرْهَمٍ. فَقَالَ: يَا بُنَيَّ , دَعْ ذَاكَ , فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيَجْعَلُ لَكُمْ رِزْقًا غَيْرَهُ , إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ".
عیسیٰ بن سہل بن رافع بن خدیج کہتے ہیں کہ میں یتیم تھا اور اپنے دادا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی گود میں پرورش پا رہا تھا، میں جوان ہوا اور میں نے ان کے ساتھ حج کیا تو میرے بھائی عمران بن سہل بن رافع بن خدیج آئے اور کہا: اے ابا جان (دادا جان)! ہم نے اپنی زمین فلاں عورت کو دو سو درہم پر کرائے پردے دی ہے۔ انہوں نے کہا: میرے بیٹے! اسے چھوڑ دو، اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے علاوہ روزی دے گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے روک دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3958]
حضرت عیسیٰ بن سہل بن رافع بن خدیج رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں یتیم تھا اور اپنے دادا محترم حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے ہاں پرورش پا رہا تھا، میں بالغ ہوا تو ان کے ساتھ حج کو گیا، میرا بھائی عمران بن سہل آیا اور کہنے لگا: ابا جان! ہم نے اپنی فلاں زمین دو سو درہم کے عوض کرائے پر دے دی ہے، وہ کہنے لگے: بیٹا! اسے چھوڑ دو، اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی بجائے اور جگہ سے رزق عطا فرمائے گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3958]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع32(3401)، (تحفة الأشراف: 3569) (شاذ) (اس کے راوی ”عیسیٰ بن سہل“ لین الحدیث ہیں اور اس میں شاذ بات یہ ہے کہ اس میں مطلق کرایہ پر دینے سے ممانعت ہے، جب کہ خود رافع رضی الله عنہ کی اس روایت کے کئی طرق میں سونا چاندی پر کرایہ پر دینے کی اجازت مذکور ہے)»
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3401) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 350

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
0. بَابُ:
باب: (بٹائی کی دستاویز)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3959
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَا وَاللَّهِ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ، إِنَّمَا كَانَا رَجُلَيْنِ اقْتَتَلَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ كَانَ هَذَا شَأْنُكُمْ فَلَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ". فَسَمِعَ قَوْلَهُ:" لَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ".
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی مغفرت فرمائے۔ اللہ کی قسم! میں یہ حدیث ان سے زیادہ جانتا ہوں، دو آدمی جھگڑ پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارا یہ حال ہے تو تم کھیتوں کو کرائے پر مت دیا کرو، تو رافع نے آپ کا صرف یہ قول سن لیا کہ کھیتوں کو کرائے پر نہ دیا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3959]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو معاف فرمائے، اللہ کی قسم! اس حدیث (یعنی بٹائی سے متعلقہ حدیث) کو میں ان سے زیادہ جانتا ہوں۔ بات یہ تھی کہ دو آدمی (مالک زمین اور مزارع) جھگڑ پڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارا یہ حال ہے تو زمینیں کرائے پر مت دو۔ حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے صرف اتنی بات سنی کہ زمینیں کرائے پر مت دو۔ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ مزارعت کا معاملہ لکھنا اس شرط پر ہو کہ بیج اور دیگر اخراجات، زمین کے مالک کے ذمے ہوں اور مزارع کے لیے پیداوار کا چوتھا حصہ ہو۔ یہ وہ تحریر ہے جو فلاں بن فلاں نے فلاں بن فلاں بن فلاں کے لیے اپنی صحت اور اختیار کی حالت میں لکھی ہے۔ تو نے فلاں شہر میں فلاں جگہ واقع اپنی پوری زمین بٹائی کے طور پر میرے سپرد کردی ہے اور یہ زمین فلاں نام سے مشہور ہے اور اس کی یہ حدود اربعہ ہیں جنہوں نے اس کو گھیر رکھا ہے۔ اس کی ایک حد پوری کی پوری فلاں جگہ سے ملی ہوئی ہے۔ اسی طرح دوسری، تیسری اور چوتھی۔ تو نے اپنی وہ تمام زمین جس کی یہاں حدود بیان کردی گئی ہیں، تمام حقوق سمیت میرے سپرد کردی ہے جن میں اس کے پانی کی باری، نہر نالے اور رہٹ وغیرہ داخل ہیں۔ یہ خالی زمین ہے جس میں نہ کوئی درخت ہے اور نہ فصل۔ مکمل سال کے لیے جس کی ابتدا فلاں سال کے فلاں مہینے سے ہوگی اور اس کا اختتام فلاں سال کے فلاں ماہ کے گزرنے پر ہوگا۔ میں اس تمام زمین کو جس کا حدود اربعہ اور مقام و محل اس دستاویز میں بیان کردیا گیا ہے، اس مقررہ سال میں اول سے آخر تک کاشت کروں گا۔ جو کچھ بھی میں مناسب سمجھوں گا، اس میں گندم، جو، تل، چاول، روئی (کپاس)، چارہ، باقلا، چنے، لوبیا، مسور، ککڑیاں، تربوز، گاجریں، شلجم، مولی، پیاز، لہسن اور دیگر سبزیاں، پھول اور سردیوں، گرمیوں کے تمام غلے کاشت کروں گا۔ ان کے بیج وغیرہ کے اخراجات تیرے ذمے ہوں گے مجھ پر نہیں، خواہ یہ کام میں خود سرانجام دوں یا اپنے ساتھیوں، نوکروں سے کرواؤں۔ بیل اور کاشت کاری کے آلات مہیا کرنا میری ذمہ داری ہوگی۔ میں کاشت بھی کروں گا، زمین کو آباد بھی کروں گا اور ہر وہ کام کروں گا جس سے فصل کی پرورش اور اصلاح ہو۔ زمین میں ہل چلاؤں گا، گھاس پھوس صاف کروں گا اور کاشت شدہ رقبے میں جسے پانی لگانے کی ضرورت ہوگی، وہ بھی ڈالوں گا۔ پانی کے نالے، نالیاں کھودوں گا اور پھل توڑنے کے وقت پھل توڑوں گا۔ اور کٹائی کے وقت کٹائی کروں گا۔ پھر فصل کو اکٹھا کروں گا اور اس کی گہائی کروں گا اور صفائی و اڑائی کروں گا لیکن ان کاموں کے تمام اخراجات تیرے ذمے ہوں گے، میرے ذمے نہیں۔ میں یہ تمام کام بذات خود یا اپنے ساتھیوں کی مدد سے کروں گا۔ تیرے ذمے کچھ نہ ہوگا۔ اور پھر اس مقررہ مدت میں جو اس تحریر میں بیان کردی گئی ہے، اول سے آخر تک اللہ تعالیٰ جو پیداوار فرمائے گا، اس تمام میں سے تجھے تیری زمین، تیرے پانی، تیرے بیج اور دیگر اخراجات کرنے کی وجہ سے تین چوتھائی حصہ ملے گا اور مجھے اپنی کاشت کاری، کام کاج، اپنے ہاتھوں اور اپنے ساتھیوں کی مدد سے ان تمام انتظامات کے عوض ایک چوتھائی حصہ ملے گا۔ تو نے اپنی وہ تمام زمین جس کی حدود اس تحریر میں بیان کردی گئی ہیں، اس کے تمام حقوق و منافع سمیت میرے سپرد کردی ہے اور میں نے اس تمام زمین پر فلاں سال کے فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو قبضہ کرلیا ہے۔ اب یہ تمام زمین میرے قبضے میں ہے، البتہ میں اس کے کسی حصے کا بھی مالک نہیں۔ نہ میرا کوئی دعویٰ یا کوئی مطالبہ ہوگا سوائے کاشت کاری کے جو فلاں سال کے لیے اس دستاویز میں بیان کردیا گیا ہے۔ جب یہ سال پورا ہوجائے گا تو یہ تمام تجھے واپس کردی جائے گی۔ تیرے قبضے میں ہوگی اور تجھے حق ہوگا کہ یہ مدت ختم ہونے کے بعد مجھے اس زمین سے نکال دے اور اس زمین کو میرے قبضے سے یا ہر اس شخص کے قبضے سے جسے میری وجہ سے قبضہ حاصل ہوا ہو، نکال لے۔ فلاں (مالک زمین) اور فلاں (مزارع) ان تمام باتوں کا اقرار کرتے ہیں، نیز اس تحریر کے دو نسخے (ایک زمین کے مالک کے لیے دوسرا مزارع کے لیے) تیار کیے گئے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3959]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 31 (3390)، سنن ابن ماجہ/ الرہون 10(2461)، (تحفة الأشراف: 3730)، مسند احمد (5/182، 187) (ضعیف) (اس کے راوی ’’ابو عبیدة‘‘ لین الحدیث ہیں اور ’’الولید بن ابی الولید‘‘ ضعیف ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3959M
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: كِتَابَةُ مُزَارَعَةٍ عَلَى أَنَّ الْبَذْرَ وَالنَّفَقَةَ عَلَى صَاحِبِ الْأَرْضِ وَلِلْمُزَارِعِ رُبُعُ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهَا، هَذَا كِتَابٌ كَتَبَهُ فُلَانُ بْنُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ فِي صِحَّةٍ مِنْهُ، وَجَوَازِ أَمْرٍ لِفُلَانِ بْنِ فُلَانٍ إِنَّكَ دَفَعْتَ إِلَيَّ جَمِيعَ أَرْضِكَ الَّتِي بِمَوْضِعِ كَذَا فِي مَدِينَةِ كَذَا مُزَارَعَةً وَهِيَ الْأَرْضُ الَّتِي تُعْرَفُ بِكَذَا وَتَجْمَعُهَا حُدُودٌ أَرْبَعَةٌ يُحِيطُ بِهَا كُلِّهَا وَأَحَدُ تِلْكَ الْحُدُودِ بِأَسْرِهِ لَزِيقُ كَذَا، وَالثَّانِي وَالثَّالِثُ وَالرَّابِعُ دَفَعْتَ إِلَيَّ جَمِيعَ أَرْضِكَ هَذِهِ الْمَحْدُودَةِ فِي هَذَا الْكِتَابِ بِحُدُودِهَا الْمُحِيطَةِ بِهَا وَجَمِيعِ حُقُوقِهَا وَشِرْبِهَا وَأَنْهَارِهَا وَسَوَاقِيهَا أَرْضًا بَيْضَاءَ فَارِغَةً لَا شَيْءَ فِيهَا مِنْ غَرْسٍ، وَلَا زَرْعٍ سَنَةً تَامَّةً أَوَّلُهَا مُسْتَهَلَّ شَهْرِ كَذَا مِنْ سَنَةِ كَذَا وَآخِرُهَا انْسِلَاخُ شَهْرِ كَذَا مِنْ سَنَةِ كَذَا عَلَى أَنْ أَزْرَعَ جَمِيعَ هَذِهِ الْأَرْضِ الْمَحْدُودَةِ فِي هَذَا الْكِتَابِ الْمَوْصُوفُ مَوْضِعُهَا فِيهِ هَذِهِ السَّنَةَ الْمُؤَقَّتَةَ فِيهَا مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا كُلَّ مَا أَرَدْتُ وَبَدَا لِي أَنْ أَزْرَعَ فِيهَا مِنْ حِنْطَةٍ، وَشَعِيرٍ، وَسَمَاسِمَ، وَأُرْزٍ، وَأَقْطَانٍ، وَرِطَابٍ، وَبَاقِلَّا، وَحِمَّصٍ، وَلُوبْيَا، وَعَدَسٍ، وَمَقَاثِي، وَمَبَاطِيخَ، وَجَزَرٍ، وَشَلْجَمٍ، وَفُجْلٍ، وَبَصَلٍ، وَثُومٍ، وَبُقُولٍ، وَرَيَاحِينَ، وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ جَمِيعِ الْغَلَّاتِ شِتَاءً وَصَيْفًا بِبُزُورِكَ، وَبَذْرِكَ وَجَمِيعُهُ عَلَيْكَ دُونِي عَلَى أَنْ أَتَوَلَّى ذَلِكَ بِيَدِي وَبِمَنْ أَرَدْتُ مِنْ أَعْوَانِي وَأُجَرَائِي وَبَقَرِي وَأَدَوَاتِي وَإِلَى زِرَاعَةِ ذَلِكَ وَعِمَارَتِهِ وَالْعَمَلِ بِمَا فِيهِ نَمَاؤُهُ وَمَصْلَحَتُهُ وَكِرَابُ أَرْضِهِ وَتَنْقِيَةُ حَشِيشِهَا، وَسَقْيِ مَا يُحْتَاجُ إِلَى سَقْيِهِ مِمَّا زُرِعَ، وَتَسْمِيدِ مَا يُحْتَاجُ إِلَى تَسْمِيدِهِ، وَحَفْرِ سَوَاقِيهِ وَأَنْهَارِهِ وَاجْتِنَاءِ مَا يُجْتَنَى مِنْهُ وَالْقِيَامِ بِحَصَادِ مَا يُحْصَدُ مِنْهُ وَجَمْعِهِ وَدِيَاسَةِ مَا يُدَاسُ مِنْهُ وَتَذْرِيَتِهِ بِنَفَقَتِكَ عَلَى ذَلِكَ كُلِّهِ دُونِي وَأَعْمَلَ فِيهِ كُلِّهِ بِيَدِي وَأَعْوَانِي دُونَكَ عَلَى أَنَّ لَكَ مِنْ جَمِيعِ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ فِي هَذِهِ الْمُدَّةِ الْمَوْصُوفَةِ فِي هَذَا الْكِتَابِ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا فَلَكَ ثَلَاثَةُ أَرْبَاعِهِ بِحَظِّ أَرْضِكَ وَشِرْبِكَ وَبَذْرِكَ وَنَفَقَاتِكَ وَلِي الرُّبُعُ الْبَاقِي مِنْ جَمِيعِ ذَلِكَ بِزِرَاعَتِي وَعَمَلِي وَقِيَامِي عَلَى ذَلِكَ بِيَدِي وَأَعْوَانِي وَدَفَعْتَ إِلَيَّ جَمِيعَ أَرْضِكَ هَذِهِ الْمَحْدُودَةِ فِي هَذَا الْكِتَابِ بِجَمِيعِ حُقُوقِهَا وَمَرَافِقِهَا، وَقَبَضْتُ ذَلِكَ كُلَّهُ مِنْكَ يَوْمَ كَذَا مِنْ شَهْرِ كَذَا مِنْ سَنَةِ كَذَا فَصَارَ جَمِيعُ ذَلِكَ فِي يَدِي لَكَ لَا مِلْكَ لِي فِي شَيْءٍ مِنْهُ وَلَا دَعْوَى وَلَا طَلِبَةَ إِلَّا هَذِهِ الْمُزَارَعَةَ الْمَوْصُوفَةَ فِي هَذَا الْكِتَابِ فِي هَذِهِ السَّنَةِ الْمُسَمَّاةِ فِيهِ، فَإِذَا انْقَضَتْ فَذَلِكَ كُلُّهُ مَرْدُودٌ إِلَيْكَ وَإِلَى يَدِكَ وَلَكَ أَنْ تُخْرِجَنِي بَعْدَ انْقِضَائِهَا مِنْهَا وَتُخْرِجَهَا مِنْ يَدِي وَيَدِ كُلِّ مَنْ صَارَتْ لَهُ فِيهَا يَدٌ بِسَبَبِي أَقَرَّ فُلَانٌ وَفُلَانٌ، وَكُتِبَ هَذَا الْكِتَابُ نُسْخَتَيْنِ.
ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: بٹائی کے معاملات کو (اس طرح) لکھنا چاہیئے کہ بیج اور اس کا خرچ زمین کے مالک پر ہو گا اور کھیتی کرنے والے کے لیے کھیتی میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی پیداوار کا چوتھائی حصہ ہو گا ۱؎۔ یہ تحریر ہے جسے فلاں بن فلاں نے فلاں بن فلاں کے لیے لکھی ہے، صحت و تندرستی کی حالت میں لکھا اور اس حال میں جب اس کے احکام نافذ ہوتے ہیں۔ آپ نے اپنی ساری زمین جو فلاں مقام پر فلاں علاقے میں ہے مجھے بٹائی پر دی، اور یہ وہ زمین ہے جس کی پہچان یہ ہے: اس کی چوحدی یہ ہے کہ ان میں سے ایک فلاں مقام سے لگی ہوئی ہے، اسی طرح پھر دوسری، تیسری اور چوتھی حد بیان کرے۔ اس کتاب میں مذکور تمام حدود والی اپنی پوری زمین آپ نے مجھے دے دی۔ اور اس کے سارے حقوق، اس کا پانی، اس کی نہریں، اور نالیاں دے دیں، ایک ایسی زمین جو ہر چیز سے خالی ہے، نہ اس میں کھیتی ہے، نہ کوئی پودا، پورے ایک سال کے لیے جو فلاں سال، فلاں مہینے کی ابتداء سے شروع ہو گا، اور اس معاہدے کا اختتام فلاں سن کے فلاں مہینے کے خاتمے تک ہو گا۔ اس شرط پر کہ یہ پوری زمین جس کی حدیں اس معاہدہ میں بیان کی گئی ہیں اور جو فلاں مقام میں ہے اسے میں نے معینہ سال کے لیے شروع سے آخر تک کھیتی کے لیے لی، اور اس میں جب چاہوں اور جو چاہوں میں کھیتی کروں۔ گیہوں، جو، تل، چاول، روئی، کھجوریں، ساگ، چنا، لوبیا، مسور، کھیرا ککڑی، خربوزہ، گاجر، شلجم، مولی، پیاز، لہسن، یا ساگ یا بیل پھول وغیرہ، یعنی گرمی و سردی کے سارے غلے، اس طرح کہ بیج آپ کا ہو گا اور اس کی ساری محنت میری ہو گی، میرے ہاتھ کی یا اس کی جسے میں چاہوں اپنے دوستوں، مزدوروں اور بیل و ہل وغیرہ میں سے، میں اس میں کھیتی کروں گا، اسے آباد کروں گا اور ایسا کام کروں گا کہ اس سے نشو و نما ہو، وہ درست رہے، زمین میں ہل جوتوں گا، اس کی گھاس صاف کروں گا۔ اگی ہوئی کھیتی میں جسے پانی کی ضرورت ہو گی اس کی سینچائی کروں گا، اور جہاں کھاد کی ضرورت ہو گی کھاد ڈالوں گا، اس کی نالیاں اور نہریں کھودوں گا اور جو پھل توڑنا ضروری ہو گا اسے توڑوں گا۔ اور جس کھیتی کا کاٹنا ضروری ہو گا کاٹوں گا اور اکٹھا کروں گا اور جس فصل کی کٹائی ضروری ہو گی اسے کٹواؤں گا اور اس پر جو کچھ خرچ ہو گا وہ آپ کے ذمے ہو گا، نہ کہ میرے، اور یہ سب کام میں اپنے ہاتھ سے کروں گا یا اپنے مدد گاروں کے ذریعے نہ کہ آپ کی مدد سے، اس شرط پر کہ اس عہد نامے میں اس کے شروع سے لے کر آخر تک جو مدت ذکر کی گئی ہے اس پوری مدت میں جو اللہ تعالیٰ اس کھیت میں سے اگائے گا آپ کے لیے تین چوتھائی حصہ ہو گا، اس لیے کہ زمین آپ کی تھی، بیج آپ کا تھا اور خرچہ بھی آپ نے کیا تھا، اور میرے لیے اس پورے میں سے باقی چوتھائی حصہ ہو گا اس لیے کہ میں نے کھیتی کی، کام کیا اور اپنے ہاتھ سے اور اپنے کے مدد گاروں کے ہاتھ سے اسے سر کیا، اور آپ نے وہ پوری زمین جس کی حدود اس عہد نامے میں بیان کی گئی ہیں میرے حوالے کی، اس کے تمام حقوق اور لوازمات کے ساتھ اور میں نے یہ زمین آپ سے اپنے قبضے میں لی، فلاں سال کے فلاں ماہ کے فلاں دن سے۔ تو یہ پوری کی پوری میرے ہاتھ میں ہے جو آپ کی ہے، میری اس میں نہ کوئی ملکیت ہے اور نہ ہی کوئی دعویٰ اور نہ ہی کوئی مطالبہ، سوائے اس فصل اور پیداوار کے جو اس معینہ سال میں اس عہد نامے میں ذکر کی گئی ہے، اور جب مدت پوری ہو گی تو یہ پوری زمین آپ کو لوٹا دی جائے گی، وہ آپ کے ہاتھ میں ہو گی اور مدت گزرنے کے بعد آپ کو اختیار ہو گا کہ آپ مجھے اس میں سے نکال دیں اور اسے میرے ہاتھ سے نکال لیں اور ہر اس شخص کے ہاتھ سے جس کا میری وجہ سے اس میں کوئی دخل تھا۔ فلاں اور فلاں نے یہ طے کیا، اور عہد نامہ کی دو کاپیاں لکھی گئیں۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3959M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «t»
وضاحت: بیج اور دیگر سارے اخراجات زمین کے مالک کی طرف سے اٹھانے کی صورت میں پیداوار کا تین حصہ مالک کا ہو گا اور ایک حصہ کاشت کار کا، اور اگر بیج اور دیگر سارے اخراجات کاشتکار برداشت کرے تو مالک کو پیداوار کا آدھا ملے گا، جیسا کہ خیبر کے معاملے میں اللہ کے رسول صلی للہ علیہ وسلم نے کیا تھا (دیکھئے حدیث نمبر ۳۹۶۱۱) ایسا بالکل نہیں ہے کہ بہر حال بیج و اخراجات صرف مالک پر ہوں تب ہی بٹائی کا معاملہ جائز ہے۔ جیسا کہ بعض فقہاء کا کہنا ہے۔ مذکورہ حدیث سے ان کے قول کی تردید ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:

0. بَابُ: 3 - باب ذِكْرِ اخْتِلاَفِ الأَلْفَاظِ الْمَأْثُورَةِ فِي الْمُزَارَعَةِ
باب: مزارعت (بٹائی) کے سلسلے میں وارد مختلف الفاظ اور عبارتوں کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3960
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: كَانَ مُحَمَّدٌ , يَقُولُ:" الْأَرْضُ عِنْدِي مِثْلُ مَالِ الْمُضَارَبَةِ فَمَا صَلُحَ فِي مَالِ الْمُضَارَبَةِ صَلُحَ فِي الْأَرْضِ، وَمَا لَمْ يَصْلُحْ فِي مَالِ الْمُضَارَبَةِ لَمْ يَصْلُحْ فِي الْأَرْضِ"، قَالَ: وَكَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَدْفَعَ أَرْضَهُ إِلَى الْأَكَّارِ عَلَى أَنْ يَعْمَلَ فِيهَا بِنَفْسِهِ , وَوَلَدِهِ , وَأَعْوَانِهِ , وَبَقَرِهِ , وَلَا يُنْفِقَ شَيْئًا، وَتَكُونَ النَّفَقَةُ كُلُّهَا مِنْ رَبِّ الْأَرْضِ.
ابن عون کہتے ہیں کہ محمد (محمد بن سیرین) کہا کرتے تھے: میرے نزدیک زمین مضاربت کے مال کی طرح ہے، تو جو کچھ مضاربت کے مال میں درست ہے، وہ زمین میں بھی درست ہے، اور جو مضاربت کے مال میں درست نہیں، وہ زمین میں بھی درست نہیں، وہ اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ وہ اپنی زمین کاشتکار کے حوالے کر دیں اس شرط پر کہ وہ (کاشتکار) خود اپنے آپ، اس کے لڑکے، اس کے دوسرے معاونین اور گائے بیل اس میں کام کریں گے اور وہ اس میں کچھ بھی خرچ نہیں کرے گا بلکہ تمام مصارف زمین کے مالک کی طرف سے ہوں گے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3960]
حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ میرے نزدیک زمین مضاربت کے مال کی طرح ہے، جو کچھ مالِ مضاربت میں درست ہے، وہ زمین میں بھی درست ہے اور جو مالِ مضاربت میں درست نہیں، وہ زمین میں بھی درست نہیں، اور وہ اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ زمین مزارع کے سپرد کر دے اور وہ (مزارع) اس میں خود یا اپنی اولاد اور اپنے ساتھیوں اور اپنے بیلوں وغیرہ کے ساتھ کام کرے اور خرچ کچھ نہ کرے بلکہ اخراجات سب کے سب مالکِ زمین کی طرف سے ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3960]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19308) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: بٹائی کی یہ ایک جائز صورت ہے، واجب نہیں بلکہ یہ بھی جائز ہے کہ زمین کا مالک کچھ بھی خرچ نہ کرے، تمام اخراجات کاشتکار کرے اور آدھی پیداوار کا حقدار ہو جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3961
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ وَأَرْضَهَا عَلَى أَنْ يَعْمَلُوهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ , وَأَنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَطْرَ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہود کو خیبر کے باغات اور اس کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ اس میں اپنے خرچ پر کام کریں گے اور اس کی پیداوار کا آدھا حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3961]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں کو خیبر کی کھجوریں (درخت) اور زمین اس شرط پر سپرد کر دی تھیں کہ وہ اپنے مال سے ان درختوں اور زمین میں کام کریں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کل پیداوار کا نصف (بطور مالک زمین) ملے گا۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3961]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 1 (1551)، سنن ابی داود/البیوع 35(3408)، (تحفة الأشراف: 8424)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحرث 8 (2328) (في سیاق أطول من ذلک) 9 (2329)، سنن الترمذی/الأحکام 41 (1383)، سنن ابن ماجہ/الرہون 14 (2468)، مسند احمد (2/17، 22، 37)، سنن الدارمی/البیوع 71 (2656) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3962
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَفَعَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ , وَأَرْضَهَا عَلَى أَنْ يَعْمَلُوهَا بِأَمْوَالِهِمْ , وَأَنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَطْرَ ثَمَرَتِهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود خیبر کو خیبر کے باغات اور اس کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ اپنے خرچ پر اس میں کام کریں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کے پھل کا آدھا ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3962]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں کو خیبر کی زمین اور کھجوروں کے درخت اس شرط پر دیے تھے کہ وہ اپنے مالوں کے ساتھ ان میں کام کریں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (بحیثیت مالک ہونے کے) اس زمین کا نصف پھل ملے گا۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3962]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3963
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ:" كَانَتِ الْمَزَارِعُ تُكْرَى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَلَى أَنَّ لِرَبِّ الْأَرْضِ مَا عَلَى رَبِيعِ السَّاقِي مِنَ الزَّرْعِ , وَطَائِفَةً مِنَ التِّبْنِ , لَا أَدْرِي كَمْ هُوَ".
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھیت بٹائی پر دیے جاتے تھے اس شرط پر کہ زمین کے مالک کے لیے وہ پیداوار ہو گی جو نالیوں اور نہروں کی کیاریوں پر ہو اور کچھ گھاس جس کی مقدار مجھے معلوم نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3963]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں زمینیں کرائے پر دی جاتی تھیں، اس شرط پر کہ پانی کے نالوں کے قریب اگنے والی فصل اور کچھ معین توڑی، نہ معلوم وہ کتنی ہوتی تھی، مالکِ زمین کو ملے گی (اور باقی مزارع کو)۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3963]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8425) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3964
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ:" كَانَ عَمَّايَ يَزْرَعَانِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ , وَأَبِي شَرِيكَهُمَا وَعَلْقَمَةُ , وَالْأَسْوَدُ يَعْلَمَانِ فَلَا يُغَيِّرَانِ".
عبدالرحمٰن بن اسود کہتے ہیں کہ میرے دو چچا تہائی اور چوتھائی پر کھیتی کرتے تھے اور میرے والد ان کے شریک ہوتے تھے۔ علقمہ اور اسود کو یہ بات معلوم تھی مگر وہ کچھ نہ کہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3964]
حضرت عبدالرحمن بن اسود رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میرے دو چچا تہائی یا چوتھائی حصے کے عوض کاشت کیا کرتے تھے اور میرے والد بھی ان کے ساتھ شریک ہوتے تھے اور حضرت علقمہ اور حضرت اسود رحمہما اللہ اس بات کو جانتے تھے لیکن روکتے نہیں تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3964]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18953) (ضعیف الإسناد) (قاضی شریک ضعیف الحفظ اور ابواسحاق مختلط راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو إسحاق وشريك القاضي عنعنا. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 350

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3965
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" إِنَّ خَيْرَ مَا أَنْتُمْ صَانِعُونَ أَنْ يُؤَاجِرَ أَحَدُكُمْ أَرْضَهُ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو کچھ تم کرتے ہو اس میں سب سے بہتر یہ ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی اپنی زمین سونے، چاندی کے بدلے کرائے پردے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3965]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بہترین طریق کار یہ ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی (زائد) زمین سونے چاندی (رقم) کے عوض ٹھیکے پر دے دے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3965]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5549) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3966
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ:" أَنَّهُمَا كَانَا لَا يَرَيَانِ بَأْسًا بِاسْتِئْجَارِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ".
ابراہیم نخعی اور سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ وہ دونوں خالی زمین کو کرائے پر اٹھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3966]
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ اور حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ خالی زمین کو کرائے (بٹائی یا ٹھیکے) پر دینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3966]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18430، 18687) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں