سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ: تَعْظِيمِ الدَّمِ
باب: ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4011
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ:" نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا سورة النساء آية 93 الْآيَةُ كُلُّهَا بَعْدَ الْآيَةِ الَّتِي نَزَلَتْ فِي الْفُرْقَانِ بِسِتَّةِ أَشْهُرٍ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي الزِّنَادِ.
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فيها» یہ پوری آیت آخر تک، سورۃ الفرقان والی آیت کے چھ ماہ بعد نازل ہوئی ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: محمد بن عمرو نے اسے ابوالزناد سے نہیں سنا، (اس کی دلیل اگلی روایت ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4011]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ﴾ [سورة النساء: 93] ”جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے، اس کی سزا جہنم ہے، اس میں ہمیشہ رہے گا… الخ“ سورۂ فرقان والی آیت سے چھ ماہ بعد اتری ہے۔ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ محمد بن عمرو نے یہ روایت ابو الزناد سے نہیں سنی (اس طرح یہ سند منقطع ہو گئی)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4011]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الفتن 6 (4272)، (تحفة الأشراف: 3706)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4012، 4013) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4012
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدٍ فِي قَوْلِهِ: وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93 , قَالَ:" نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ بَعْدَ الَّتِي فِي تَبَارَكَ الْفُرْقَانِ بِثَمَانِيَةِ أَشْهُرٍ: وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَدْخَلَ أَبُو الزِّنَادِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ خَارِجَةَ مُجَالِدَ بْنَ عَوْفٍ.
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس آیت: «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» کے بارے میں کہا: یہ آیت سورۃ الفرقان کی اس آیت: «والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم اللہ إلا بالحق» کے آٹھ مہینہ بعد نازل ہوئی ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابوالزناد نے اپنے اور خارجہ کے درمیان میں مجالد بن عوف کو داخل کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4012]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ﴾ [سورة النساء: 93] ”جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر (ناحق) قتل کر دے، اس کی سزا جہنم ہے... الخ“ سورة الفرقان والی (آئندہ) آیت ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ﴾ [سورة الفرقان: 68] ”جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی جان کو ناحق قتل نہیں کرتے جسے اللہ نے حرام کیا ہے، مگر حق کے ساتھ... الخ“ سے آٹھ ماہ بعد نازل ہوئی ہے۔ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ (اگلی روایت میں) ابو الزناد نے اپنے اور خارجہ کے درمیان (انقطاع ختم کرنے کے لیے) مجالد بن عوف داخل کر دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4012]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (حسن صحیح) اور لفظ ’’ستة أشہر‘‘ زیادہ صحیح ہے»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح ولفظ بستة أشهر أصح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4013
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ:" نَزَلَتْ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا سورة النساء آية 93 أَشْفَقْنَا مِنْهَا، فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ: وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت: «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فيها» نازل ہوئی تو ہمیں خوف ہوا۔ پھر سورۃ الفرقان کی یہ آیت: «والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم اللہ إلا بالحق» نازل ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4013]
حضرت خارجہ بن زید بن ثابت اپنے والد محترم (حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) سے بیان فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری: ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا﴾ [سورة النساء: 93] ”جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہے، وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔“ تو ہم بہت ڈرے۔ پھر وہ آیت اتری جو سورۂ فرقان میں ہے: ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ﴾ [سورة الفرقان: 68] ”جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ کسی جان کو ناحق قتل کرتے ہیں جسے اللہ نے حرام کیا ہے، مگر حق کے ساتھ … الخ“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4013]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4011 (منکر) (اس روایت میں بات کو الٹ دیا ہے، فرقان کی آیت نساء کی آیت سے پہلے نازل ہوئی، جیسا کہ پچھلی روایات میں مذکور ہے اور نکارت کی وجہ ”مجالد“ ہیں جن کے نام ہی میں اختلاف ہے: مجالد بن عوف بن مجالد“؟ اور بقول منذری: عبدالرحمن بن اسحاق متکلم فیہ راوی ہیں، امام احمد فرماتے ہیں: یہ ابو الزناد سے منکر روایات کیا کرتے تھے، اور لطف کی بات یہ ہے کہ سنن ابوداود میں اس سند سے بھی یہ روایت ایسی ہے جیسی رقم 4011 ہیں گزری؟)»
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
3. بَابُ: ذِكْرِ الْكَبَائِرِ
باب: کبائر (کبیرہ گناہوں) کا بیان۔
حدیث نمبر: 4014
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، أَنَّ أَبَا رُهْمٍ السَّمَعِيَّ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ جَاءَ يَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ، كَانَ لَهُ الْجَنَّةُ"، فَسَأَلُوهُ عَنِ الْكَبَائِرِ؟ فَقَالَ:" الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُسْلِمَةِ، وَالْفِرَارُ يَوْمَ الزَّحْفِ".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا، نماز قائم کرتا ہے، زکاۃ دیتا ہے اور کبائر سے دور اور بچتا ہے۔ اس کے لیے جنت ہے“، لوگوں نے آپ سے کبائر کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شریک کرنا، کسی مسلمان جان کو (ناحق) قتل کرنا اور لڑائی کے دن میدان جنگ سے بھاگ جانا“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4014]
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ تعالیٰ کے پاس اس حال میں حاضر ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا رہا ہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا ہو، نماز پابندی کے ساتھ پڑھتا رہا ہو، زکوٰۃ (پوری کی پوری) دیتا رہا ہو اور کبیرہ گناہوں سے بچا رہا ہو، اس کے لیے جنت ہے۔“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھا (کہ وہ کون کون سے ہیں؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بطور مثال) ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا، مسلمان شخص کو قتل کرنا اور لڑائی کے دن بھاگ جانا۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4014]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3451)، مسند احمد (5/413، 414) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کبیرہ: ہر اس گناہ کو کہتے ہیں جس کے مرتکب کو جہنم کے عذاب اور سخت وعید کی دھمکی دی گئی ہو، ان میں سے بعض کا تذکرہ احادیث میں آیا ہے، اور جن کا تذکرہ لفظ کبیرہ کے ساتھ نہیں آیا ہے مگر مذکورہ سزا کے ساتھ آیا ہے، وہ بھی کبیرہ گناہوں میں سے ہیں۔ کبائر تین طرح کے ہیں: (۱) پہلی قسم اکبر الکبائر کی ہے جیسے اشراک باللہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ لائے ہیں اس کی تکذیب کرنا۔ (۲) اور دوسرے درجے کے کبائر حقوق العباد کے تعلق سے ہیں مثلاً کسی کو ناحق قتل کرنا، دوسرے کا مال غصب کرنا اور ہتک عزت کرنا وغیرہ۔ (۳) تیسرے درجے کے کبائر کا تعلق حقوق اللہ سے ہے، مثلاً زنا اور شراب نوشی وغیرہ۔ (جیسے حدیث رقم ۴۰۱۷) میں کبائر کی تعداد سات آئی ہے، لیکن متعدد احادیث میں ان سات کے علاوہ کثیر تعداد میں دیگر گناہوں کو بھی کبیرہ کہا گیا ہے۔ اس لیے وہاں حصر اور استقصاء مقصود نہیں ہے (دیکھئیے: فتح الباری کتاب الحدود، باب رمی المحصنات)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4015
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح، وَأَنْبَأَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكَبَائِرُ: الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَقَوْلُ الزُّورِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبائر یہ ہیں: اللہ کے ساتھ غیر کو شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، (ناحق) خون کرنا اور جھوٹ بولنا“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4015]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی شخص کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4015]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشہادات 10 (2653)، الأدب 6 (5977)، الدیات 2 (6871)، صحیح مسلم/الإیمان 38 (88)، سنن الترمذی/البیوع 3 (1207)، تفسیرالنساء (3018)، (تحفة الأشراف: 1077)، مسند احمد (3/131، 134) ویأتي عند المؤلف في القسامة 48 (برقم: 4871) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4016
أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا فِرَاسٌ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْكَبَائِرُ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبائر (بڑے گناہ) یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، (ناحق) خون کرنا اور جھوٹی قسم کھانا“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4016]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑے گناہ: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا، ناحق قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4016]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأیمان والنذور 16 (6675)، الدیات2(6870)، المرتدین1(6920)، سنن الترمذی/تفسیرسورة النساء (3021)، (تحفة الأشراف: 8835)، مسند احمد (2/201)، سنن الدارمی/الدیات 9 (2405)، ویأتي عند المؤلف في القسامة 48 (4872) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 4017
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَبُوهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا الْكَبَائِرُ؟ قَالَ:" هُنَّ سَبْعٌ: أَعْظَمُهُنَّ إِشْرَاكٌ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ بِغَيْرِ حَقٍّ، وَفِرَارٌ يَوْمَ الزَّحْفِ". مُخْتَصَرٌ.
صحابی رسول عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کبائر کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”وہ سات ہیں: ان میں سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ غیر کو شریک کرنا، ناحق کسی کو قتل کرنا اور دشمن سے مقابلے کے دن میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ جانا ہے“، یہ حدیث مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4017]
حضرت عبید بن عمر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے میرے والد محترم نے بیان فرمایا، اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی رضی اللہ عنہ تھے، کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بڑے بڑے گناہ کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سات ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ہے، (دیگر یہ ہیں:) کسی شخص کو ناحق قتل کرنا اور جنگ کے دن میدان سے بھاگ جانا وغیرہ۔“ یہ روایت مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4017]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الوصایا 10 (2875)، (تحفة الأشراف: 10895) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
4. بَابُ: ذِكْرِ أَعْظَمِ الذَّنْبِ وَاخْتِلاَفِ يَحْيَى وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى سُفْيَانَ فِي حَدِيثِ وَاصِلٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِيهِ
باب: سب سے بڑے گناہ کا بیان (واصل عن ابی وائل عن عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی سفیان سے روایت کرنے میں یحییٰ اور عبدالرحمٰن کے اختلاف کا ذکر)۔
حدیث نمبر: 4018
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ:" أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ". قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ". قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا گناہ بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ تم کسی کو اللہ کے برابر (ہم پلہ) ٹھہراؤ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے“، میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ تم اس ڈر سے اپنے بچے کو مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا“۔ میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا کہ ”تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4018]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تو اللہ تعالیٰ کا شریک بنائے، حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔“ میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تو اپنے بچے کو اس لیے قتل کر دے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گا۔“ میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4018]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیرسورة البقرة 3 (4477)، تفسیرالفرقان 2 (4761)، الأدب20(6001)، الحدود 20 (6811)، الدیات 1 (6861)، التوحید 40 (7520)، 46 (7532)، صحیح مسلم/الإیمان 37 (86)، سنن ابی داود/الطلاق 50 (2310)، سنن الترمذی/تفسیرسورة الفرقان (3182)، (تحفة الأشراف: 9480)، مسند احمد (1/434) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4019
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَاصِلٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ:" أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ". قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مِنْ أَجْلِ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ". قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ تم کسی کو اللہ کے برابر ٹھہراؤ حالانکہ اس نے تم کو پیدا کیا ہے“۔ میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ تم اپنے بچے کو اس وجہ سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا“۔ میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4019]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تو اللہ تعالیٰ کا شریک بنائے، حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔“ میں نے کہا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(پھر) یہ کہ تو اپنے بچے کو اس بنا پر قتل کر دے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گا۔“ میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(پھر) یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4019]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر الفرقان 2 (4761)، سنن الترمذی/تفسیر سورة الفرقان (3183)، (تحفة الأشراف: 9311)، مسند احمد (1/434، 462، 464) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 4020
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ:" الشِّرْكُ: أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا، وَأَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ، وَأَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ الْفَقْرِ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ". ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ سورة الفرقان آية 68. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ , وَالصَّوَابُ الَّذِي قَبْلَهُ، وَحَدِيثُ يَزِيدَ هَذَا خَطَأٌ , إِنَّمَا هُوَ وَاصِلٌ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شرک یعنی یہ کہ تم کسی کو اللہ کے برابر ٹھہراؤ، اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو، اور فقر و فاقہ کے ڈر سے کہ بچہ تمہارے ساتھ کھائے گا تم اپنے بچے کو قتل کر دو“، پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی «والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر» ”اور جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے ہیں“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اس حدیث کی سند میں غلطی ہے، اس سے پہلے والی سند صحیح ہے، یزید کی اس سند میں غلطی ہے (کہ واصل کی بجائے عاصم ہے) صحیح «واصل» ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4020]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شرک، کہ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک بنائے اور یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے بدکاری کرے۔ اور یہ کہ تو اپنے بچے کو فقر کے ڈر سے مار دے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گا۔“ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ﴾ [سورة الفرقان: 68] ”(اللہ کے بندے وہ ہیں) جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے … الخ۔“ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت (عاصم عن ابی وائل) غلط ہے جبکہ صحیح روایت اس سے پہلی (واصل عن ابی وائل) ہے۔ یزید کی یہ روایت (جس میں اس نے واصل کی بجائے عاصم کہا ہے) غلط ہے۔ اصل میں (عاصم نہیں بلکہ) واصل ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4020]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9279) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن