سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب مَا جَاءَ فِيمَنْ يَقُولُ لآخَرَ يَا مُخَنَّثُ
باب: دوسرے کو مخنث (ہجڑا) کہنے والے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1462
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: يَا يَهُودِيُّ , فَاضْرِبُوهُ عِشْرِينَ , وَإِذَا قَالَ: يَا مُخَنَّثُ , فَاضْرِبُوهُ عِشْرِينَ , وَمَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ , فَاقْتُلُوهُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ رَوَاهُ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ , وَقُرَّةُ بْنُ إِيَاسٍ الْمُزَنِيُّ , أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ , فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَصْحَابِنَا , قَالُوا: مَنْ أَتَى ذَاتَ مَحْرَمٍ وَهُوَ يَعْلَمُ فَعَلَيْهِ الْقَتْلُ , وقَالَ أَحْمَدُ: مَنْ تَزَوَّجَ أُمَّهُ قُتِلَ , وقَالَ إِسْحَاق: مَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ قُتِلَ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی دوسرے کو یہودی کہہ کر پکارے تو اسے بیس کوڑے لگاؤ، اور جب مخنث (ہجڑا) کہہ کر پکارے تو اسے بیس کوڑے لگاؤ، اور جو کسی محرم کے ساتھ زنا کرے اسے قتل کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں،
۲- ابراہیم بن اسماعیل بن علیہ حدیث کی روایت میں ضعیف ہیں،
۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کئی سندوں سے مروی ہے،
۴- براء بن عازب اور قرہ بن ایاس مزنی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا،
۵- ہمارے اصحاب (محدثین) کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں: جو جانتے ہوئے کسی محرم کے ساتھ زنا کرے تو اس پر قتل واجب ہے،
۶- (امام) احمد کہتے ہیں: جو اپنی ماں سے نکاح کرے گا اسے قتل کیا جائے گا،
۷- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: جو کسی محرم کے ساتھ زنا کرے اسے قتل کیا جائے گا۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1462]
۱- ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں،
۲- ابراہیم بن اسماعیل بن علیہ حدیث کی روایت میں ضعیف ہیں،
۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کئی سندوں سے مروی ہے،
۴- براء بن عازب اور قرہ بن ایاس مزنی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا،
۵- ہمارے اصحاب (محدثین) کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں: جو جانتے ہوئے کسی محرم کے ساتھ زنا کرے تو اس پر قتل واجب ہے،
۶- (امام) احمد کہتے ہیں: جو اپنی ماں سے نکاح کرے گا اسے قتل کیا جائے گا،
۷- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: جو کسی محرم کے ساتھ زنا کرے اسے قتل کیا جائے گا۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1462]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الحدود 15 (2568)، (تحفة الأشراف: 6075) (ضعیف) (سند میں ”ابراہیم بن اسماعیل“ ضعیف راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (3632 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (610) //
قال الشيخ زبير على زئي:(1462) إسناده ضعيف /جه 2564 ،2568
إبراھيم بن إسماعيل بن أبى حبيبة :ضعيف (تق: 146) وقال الھيثمي: وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 316/5) و داود بن حصين عن عكرمة : ضعيف (تقدم:145) وقال أبو بردة بن نيار: عم البراء رضى الله عنه : بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى رجل نكح امرأة أبيه فأمرني أن أضرب عنقه و آخذ ماله . رواه أبو داود (4457) وسنده صحيح
إبراھيم بن إسماعيل بن أبى حبيبة :ضعيف (تق: 146) وقال الھيثمي: وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 316/5) و داود بن حصين عن عكرمة : ضعيف (تقدم:145) وقال أبو بردة بن نيار: عم البراء رضى الله عنه : بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى رجل نكح امرأة أبيه فأمرني أن أضرب عنقه و آخذ ماله . رواه أبو داود (4457) وسنده صحيح
30. باب مَا جَاءَ فِي التَّعْزِيرِ
باب: تعزیر (تادیبی کاروائی) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1463
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبيبٍ , عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ , إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ , وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي التَّعْزِيرِ , وَأَحْسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي التَّعْزِيرِ , هَذَا الْحَدِيثُ , قَالَ: وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ بُكَيْرٍ , فَأَخْطَأَ فِيهِ , وَقَالَ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ خَطَأٌ , وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ , إِنَّمَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوبردہ بن نیار رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”دس سے زیادہ کسی کو کوڑے نہ لگائے جائیں ۱؎ سوائے اس کے کہ اللہ کی حدود میں سے کوئی حد جاری کرنا ہو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف بکیر بن اشج کی روایت سے جانتے ہیں۔
۲-تعزیر کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، تعزیر کے باب میں یہ حدیث سب سے اچھی ہے،
۳- اس حدیث کو ابن لہیعہ نے بکیر سے روایت کیا ہے، لیکن ان سے اس سند میں غلطی ہوئی ہے، انہوں نے سند اس طرح بیان کی ہے: «عن عبدالرحمٰن بن جابر بن عبد الله عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» حالانکہ یہ غلط ہے، صحیح لیث بن سعد کی حدیث ہے، اس کی سند اس طرح ہے: «عبدالرحمٰن بن جابر بن عبد الله عن أبي بردة بن نيار عن النبي صلى الله عليه وسلم» ۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1463]
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف بکیر بن اشج کی روایت سے جانتے ہیں۔
۲-تعزیر کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، تعزیر کے باب میں یہ حدیث سب سے اچھی ہے،
۳- اس حدیث کو ابن لہیعہ نے بکیر سے روایت کیا ہے، لیکن ان سے اس سند میں غلطی ہوئی ہے، انہوں نے سند اس طرح بیان کی ہے: «عن عبدالرحمٰن بن جابر بن عبد الله عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» حالانکہ یہ غلط ہے، صحیح لیث بن سعد کی حدیث ہے، اس کی سند اس طرح ہے: «عبدالرحمٰن بن جابر بن عبد الله عن أبي بردة بن نيار عن النبي صلى الله عليه وسلم» ۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1463]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحدود 42 (6848)، صحیح مسلم/الحدود 9 (1708)، سنن ابی داود/ الحدود 39 (4491)، سنن ابن ماجہ/الحدود 32 (2601)، (تحفة الأشراف: 11720)، و مسند احمد (3/466)، سنن الدارمی/الحدود 11 (2360) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے کا صحیح محل یہ ہے کہ یہ بال بچوں اور غلام و خادم کی تادیب سے متعلق ہے کہ آدمی اپنے زیر لوگوں کو ادب سکھائے تو دس کوڑے تک کی سزا دے، رہ گئی دوسری وہ خطائیں جن میں شریعت نے کوئی حد مقرر نہیں کی ہے جیسا کہ خائن، لٹیرے، ڈاکو اور اچکے پر خاص حد نہیں ہے تو یہ حاکم کی رائے پر منحصر ہے، اگر حاکم اس میں تعزیراً سزا دینا چاہے تو دس کوڑے سے زیادہ جتنا چاہے حتیٰ کہ قتل تک سزا دے سکتا ہے، رہ گئی زیر نظر حدیث تو اس میں اور یہ ایسے تادیبی امور ہیں جن کا تعلق معصیت سے نہیں ہے، مثلاً والد کا اپنی چھوٹی اولاد کو بطور تأدیب سزا دینا۔ ۲؎: ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث میں حدود سے مراد ایسے حقوق ہیں جن کا تعلق اوامر الٰہی اور منہیات الٰہی سے ہے، چنانچہ «ومن يتعد حدود الله فأولئك هم الظالمون» (البقرة: ۲۲۹) اسی طرح «تلك حدود الله فلا تقربوها» (البقرة: ۱۸۷) میں ”حدود“ کا یہی مفہوم ہے۔ اگر بات شریعت کے اوامر و نواہی کی ہو تو حاکم کو مناسب سزاؤں کے اختیار کی اجازت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2601)