سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب مَا جَاءَ فِي الرَّجْمِ عَلَى الثَّيِّبِ
باب: شادی شدہ کو رجم (سنگسار) کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1433
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , وَغَيْرُ وَاحِدٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , سَمِعَهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ , وَشِبْلٍ , أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَتَاهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ , فَقَامَ إِلَيْهِ أَحَدُهُمَا , وَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَمَا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ , فَقَالَ خَصْمُهُ وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ , وَائْذَنْ لِي فَأَتَكَلَّمَ , إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا , فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ , فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ , فَفَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ , ثُمَّ لَقِيتُ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ , فَزَعَمُوا أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ , وَتَغْرِيبَ عَامٍ , وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ , الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ , وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ , وَتَغْرِيبُ عَامٍ , وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا , فَإِنِ اعْتَرَفَتْ , فَارْجُمْهَا " , فَغَدَا عَلَيْهَا , فَاعْتَرَفَتْ , فَرَجَمَهَا. حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ , حَدَّثَنَا مَعْنٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , بِإِسْنَادِهِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ بِمَعْنَاهُ , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ أَبِي بَكْرَةَ , وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَبِي سَعِيدٍ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ , وَهَزَّالٍ , وَبُرَيْدَةَ , وَسَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ , وَأَبِي بَرْزَةَ , وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , وأبي هريرة , وأبي سعيد , وابن عباس , وجابر بن سمرة , وهزال , وبريدة , وسلمة بن المحبق , وأبي برزة , وعمران بن حصين. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَهَكَذَا رَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , وَمَعْمَرٌ , وَغَيْرُ وَاحِدٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَرَوَوْا بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا زَنَتِ الْأَمَةُ فَاجْلِدُوهَا , فَإِنْ زَنَتْ فِي الرَّابِعَةِ فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ " , وَرَوَى سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ , وَشِبْلٍ , قَالُوا: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا رَوَى ابْنُ عُيَيْنَةَ الْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ , وَشِبْلٍ , وَحَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ , وَهِمَ فِيهِ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , أَدْخَلَ حَدِيثًا فِي حَدِيثٍ , وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ , وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ , وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا زَنَتِ الْأَمَةُ فَاجْلِدُوهَا " , وَالزُّهْرِيُّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ شِبْلِ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ الْأَوْسِيِّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا زَنَتِ الْأَمَةُ " , وَهَذَا الصَّحِيحُ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ , وَشِبْلُ بْنُ خَالِدٍ , لَمْ يُدْرِكِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِنَّمَا رَوَى شِبْلٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ الْأَوْسِيِّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا الصَّحِيحُ , وَحَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ , وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: شِبْلُ بْنُ حَامِدٍ , وَهُوَ خَطَأٌ إِنَّمَا هُوَ: شِبْلُ بْنُ خَالِدٍ وَيُقَالُ أَيْضًا: شِبْلُ بْنُ خُلَيْدٍ.
ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، اسی دوران آپ کے پاس جھگڑتے ہوئے دو آدمی آئے، ان میں سے ایک کھڑا ہوا اور بولا: اللہ کے رسول! میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں! آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے موافق فیصلہ کیجئے (یہ سن کر) مدعی علیہ نے کہا اور وہ اس سے زیادہ سمجھدار تھا، ہاں، اللہ کے رسول! ہمارے درمیان آپ کتاب اللہ کے موافق فیصلہ کیجئے، اور مجھے مدعا بیان کرنے کی اجازت دیجئیے، (چنانچہ اس نے بیان کیا) میرا لڑکا اس کے پاس مزدور تھا، چنانچہ وہ اس کی بیوی کے ساتھ زنا کر بیٹھا ۱؎، لوگوں (یعنی بعض علماء) نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم واجب ہے، لہٰذا میں نے اس کی طرف سے سو بکری اور ایک خادم فدیہ میں دے دی، پھر میری ملاقات کچھ اہل علم سے ہوئی تو ان لوگوں نے کہا: میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی واجب ہے ۲؎، اور اس کی بیوی پر رجم واجب ہے ۳؎، (یہ سن کر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے موافق ہی فیصلہ کروں گا، سو بکری اور خادم تمہیں واپس مل جائیں گے، (اور) تمہارے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کے لیے اسے شہر بدر کیا جائے گا، انیس! ۴؎ تم اس کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ زنا کا اعتراف کر لے تو اسے رجم کر دو“، چنانچہ انیس اس کے گھر گئے، اس نے اقبال جرم کر لیا، لہٰذا انہوں نے اسے رجم کر دیا ۵؎۔ اس سند سے ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی سے، اسی جیسی اسی معنی کی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے۔ اس سند سے بھی مالک کی سابقہ حدیث جیسی اسی معنی کی حدیث روایت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوہریرہ اور زید بن خالد کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اسی طرح مالک بن انس، معمر اور کئی لوگوں نے بطریق: «الزهري، عن عبيد الله بن عتبة، عن أبي هريرة و زيد بن خالد، عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے،
۳- کچھ اور لوگوں نے بھی اسی سند سے ۶؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اس میں ہے کہ ”جب لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی مرتبہ زنا کرے تو اسے بیچ دو، خواہ قیمت میں گندھے ہوئے بالوں کی رسی ہی کیوں نہ ملے“،
۴- اور سفیان بن عیینہ زہری سے، زہری عبیداللہ سے، عبیداللہ ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں، ان لوگوں نے کہا: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے،
۵- ابن عیینہ نے اسی طرح دونوں حدیثوں کو ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم سے روایت کیا ہے، ابن عیینہ کی حدیث میں سفیان بن عیینہ سے وہم ہوا ہے، انہوں نے ایک حدیث کو دوسری حدیث کے ساتھ خلط ملط کر دیا ہے، صحیح وہ حدیث ہے جسے محمد بن ولید زبیدی، یونس بن عبید اور زہری کے بھتیجے نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے ابوہریرہ اور زید بن خالد سے اور ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”جب لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ“،
۶- اور زہری نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے شبل بن خالد سے، شبل نے عبداللہ بن مالک اوسی سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: ”جب لونڈی زنا کرے“،
۷- اہل حدیث کے نزدیک (شبل کی روایت بواسطہ عبداللہ بن مالک) یہی صحیح ہے، کیونکہ شبل بن خالد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا ہے، بلکہ شبل، عبداللہ بن مالک اوسی سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، یہی صحیح ہے اور ابن عیینہ کی حدیث غیر محفوظ ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی روایت میں ”شبل بن حامد“ کہا ہے، یہ غلط ہے، صحیح ”شبل بن خالد“ ہے اور انہیں ”شبل بن خلید“ بھی کہا جاتا ہے،
۸- اس باب میں ابوبکرہ، عبادہ بن صامت، ابوہریرہ، ابوسعید، ابن عباس، جابر بن سمرہ، ہزال، بریدہ، سلمہ بن محبق، ابوبرزہ اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1433]
۱- ابوہریرہ اور زید بن خالد کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اسی طرح مالک بن انس، معمر اور کئی لوگوں نے بطریق: «الزهري، عن عبيد الله بن عتبة، عن أبي هريرة و زيد بن خالد، عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے،
۳- کچھ اور لوگوں نے بھی اسی سند سے ۶؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اس میں ہے کہ ”جب لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی مرتبہ زنا کرے تو اسے بیچ دو، خواہ قیمت میں گندھے ہوئے بالوں کی رسی ہی کیوں نہ ملے“،
۴- اور سفیان بن عیینہ زہری سے، زہری عبیداللہ سے، عبیداللہ ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں، ان لوگوں نے کہا: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے،
۵- ابن عیینہ نے اسی طرح دونوں حدیثوں کو ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم سے روایت کیا ہے، ابن عیینہ کی حدیث میں سفیان بن عیینہ سے وہم ہوا ہے، انہوں نے ایک حدیث کو دوسری حدیث کے ساتھ خلط ملط کر دیا ہے، صحیح وہ حدیث ہے جسے محمد بن ولید زبیدی، یونس بن عبید اور زہری کے بھتیجے نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے ابوہریرہ اور زید بن خالد سے اور ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”جب لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ“،
۶- اور زہری نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے شبل بن خالد سے، شبل نے عبداللہ بن مالک اوسی سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: ”جب لونڈی زنا کرے“،
۷- اہل حدیث کے نزدیک (شبل کی روایت بواسطہ عبداللہ بن مالک) یہی صحیح ہے، کیونکہ شبل بن خالد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا ہے، بلکہ شبل، عبداللہ بن مالک اوسی سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، یہی صحیح ہے اور ابن عیینہ کی حدیث غیر محفوظ ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی روایت میں ”شبل بن حامد“ کہا ہے، یہ غلط ہے، صحیح ”شبل بن خالد“ ہے اور انہیں ”شبل بن خلید“ بھی کہا جاتا ہے،
۸- اس باب میں ابوبکرہ، عبادہ بن صامت، ابوہریرہ، ابوسعید، ابن عباس، جابر بن سمرہ، ہزال، بریدہ، سلمہ بن محبق، ابوبرزہ اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1433]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوکالة 13 (2314)، والصلح 5 (2655)، والشروط 9 (2724)، والأیمان والنذور 3 (6633)، والحدود 30 (6827)، و 34 (6835)، و46 (6860)، والأحکام 43 (7193)، وخبر الآحاد 1 (7258)، صحیح مسلم/الحدود5 (1697)، سنن ابی داود/ الحدود 25 (4445)، سنن النسائی/آداب القضاة 22 (5412)، سنن ابن ماجہ/الحدود 7 (2549)، (تحفة الأشراف: 3755، و 4814، 14106)، وط/الحدود 1 (6)، و مسند احمد (4/115، 116)، سنن الدارمی/الحدود 12 (2363) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس لڑکے کا کام صرف اپنے مالک کے کاموں اور اس کی ضرورتوں کو پورا کرنا ہی نہیں تھا بلکہ وہ مالک کی اجازت سے اس کی بیوی کے کاموں میں بھی معاون تھا، چنانچہ اس کے ساتھ جو یہ حادثہ پیش آیا اس کا سبب یہی تھا۔ اس لیے تنہائی میں عورت کے پاس غیر محرم مرد کا دخول منع ہے۔ ۲؎: کیونکہ یہ غیر شادی شدہ ہے۔ ۳؎: کیونکہ یہ شادی شدہ ہے۔ ۴؎: یہ انیس بن ضحاک اسلمی ہیں۔ ۵؎: عورت چونکہ شادی شدہ تھی اس لیے اسے پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا گیا، اور لڑکا شادی شدہ نہیں تھا اس لیے اس کے لیے ایک سال کی جلا وطنی اور سو کوڑوں کی سزا متعین کی گئی۔ ۶؎؎: یعنی شبل کا ذکر کئے بغیر ابوہریرہ اور زید بن خالد کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2549)
حدیث نمبر: 1434
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذُوا عَنِّي فَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا , الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ , ثُمَّ الرَّجْمُ , وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ , وَنَفْيُ سَنَةٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ , عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ , وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ , وَغَيْرُهُمْ قَالُوا: الثَّيِّبُ تُجْلَدُ وَتُرْجَمُ , وَإِلَى هَذَا ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ قَوْلُ: إِسْحَاق , وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ , أَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَغَيْرُهُمَا , الثَّيِّبُ إِنَّمَا عَلَيْهِ الرَّجْمُ , وَلَا يُجْلَدُ , وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلُ هَذَا فِي غَيْرِ حَدِيثٍ فِي قِصَّةِ مَاعِزٍ وَغَيْرِهِ , أَنَّهُ أَمَرَ بِالرَّجْمِ , وَلَمْ يَأْمُرْ أَنْ يُجْلَدَ قَبْلَ أَنْ يُرْجَمَ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَابْنِ الْمُبَارَكِ , وَالشَّافِعِيِّ , وَأَحْمَدَ.
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(دین خاص طور پر زنا کے احکام) مجھ سے سیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ۱؎ راہ نکال دی ہے: شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ ملوث ہو تو سو کوڑوں اور رجم کی سزا ہے، اور کنوارا کنواری کے ساتھ زنا کا مرتکب ہو تو سو کوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اہل علم صحابہ کا اسی پر عمل ہے، ان میں علی بن ابی طالب، ابی بن کعب اور عبداللہ بن مسعود وغیرہ رضی الله عنہم شامل ہیں، یہ لوگ کہتے ہیں: شادی شدہ زانی کو کوڑے لگائے جائیں گے اور رجم کیا جائے گا، بعض اہل علم کا یہی مسلک ہے، اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے،
۳- جب کہ صحابہ میں سے بعض اہل علم جن میں ابوبکر اور عمر وغیرہ رضی الله عنہما شامل ہیں، کہتے ہیں: شادی شدہ زنا کار پر صرف رجم واجب ہے، اسے کوڑے نہیں لگائے جائیں گے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح دوسری حدیث میں ماعز وغیرہ کے قصہ کے سلسلے میں آئی ہے کہ آپ نے صرف رجم کا حکم دیا، رجم سے پہلے کوڑے لگانے کا حکم نہیں دیا، بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی اور احمد کا یہی قول ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1434]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اہل علم صحابہ کا اسی پر عمل ہے، ان میں علی بن ابی طالب، ابی بن کعب اور عبداللہ بن مسعود وغیرہ رضی الله عنہم شامل ہیں، یہ لوگ کہتے ہیں: شادی شدہ زانی کو کوڑے لگائے جائیں گے اور رجم کیا جائے گا، بعض اہل علم کا یہی مسلک ہے، اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے،
۳- جب کہ صحابہ میں سے بعض اہل علم جن میں ابوبکر اور عمر وغیرہ رضی الله عنہما شامل ہیں، کہتے ہیں: شادی شدہ زنا کار پر صرف رجم واجب ہے، اسے کوڑے نہیں لگائے جائیں گے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح دوسری حدیث میں ماعز وغیرہ کے قصہ کے سلسلے میں آئی ہے کہ آپ نے صرف رجم کا حکم دیا، رجم سے پہلے کوڑے لگانے کا حکم نہیں دیا، بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی اور احمد کا یہی قول ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1434]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 3 (1690)، سنن ابی داود/ الحدود 23 (4415)، سنن ابن ماجہ/الحدود 7 (2550)، (تحفة الأشراف: 5083)، و مسند احمد (3/475)، سنن الدارمی/الحدود 19 (2372) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جنہیں زنا کے جرم میں گھروں میں قید رکھنے کا حکم دیا گیا تھا اور اللہ کے حکم کا انتظار کرنے کے لیے کہا گیا تھا، اللہ نے ایسے لوگوں کے لیے راہ نکال دی ہے، اس سے اشارہ اس آیت کی طرف ہے «واللاتي يأتين الفاحشة من نسآئكم فاستشهدوا عليهن أربعة منكم فإن شهدوا فأمسكوهن في البيوت حتى يتوفاهن الموت أو يجعل الله لهن سبيلا» ”یعنی تمہاری عورتوں میں سے جو بےحیائی کا کام کریں ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو، اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو، یہاں تک کی موت ان کی عمریں پوری کر دے، یا اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی اور راستہ نکالے“ (النساء: ۱۵)، یہ ابتدائے اسلام میں بدکار عورتوں کی وہ عارضی سزا ہے جب زنا کی سزا متعین نہیں ہوئی تھی۔ ۲؎: جمہور علماء اور ائمہ اربعہ کا یہی قول ہے کہ کوڑے کی سزا اور رجم دونوں اکٹھا نہیں ہو سکتے، کیونکہ قتل کے ساتھ اگر کئی حدود ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو صرف قتل کافی ہو گا اور باقی حدود ساقط ہو جائیں گی «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2550)
9. باب تَرَبُّصِ الرَّجْمِ بِالْحُبْلَى حَتَّى تَضَعَ
باب: بچہ جننے کے بعد حاملہ کو رجم کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1435
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلِّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ اعْتَرَفَتْ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالزِّنَا , فَقَالَتْ: إِنِّي حُبْلَى فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا , فَقَالَ: " أَحْسِنْ إِلَيْهَا , فَإِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا , فَأَخْبِرْنِي ". فَفَعَلَ , فَأَمَرَ بِهَا فَشُدَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا , ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا , فَرُجِمَتْ , ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا , فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , رَجَمْتَهَا ثُمَّ تُصَلِّي عَلَيْهَا , فَقَالَ: " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ , وَهَلْ وَجَدْتَ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زنا کا اقرار کیا، اور عرض کیا: میں حاملہ ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو طلب کیا اور فرمایا: اس کے ساتھ حسن سلوک کرو اور جب بچہ جنے تو مجھے خبر کرو، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا، اور پھر آپ نے حکم دیا، چنانچہ اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے ۱؎ پھر آپ نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ اسے رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اسے رجم کیا ہے، پھر اس کی نماز پڑھ رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر یہ مدینہ کے ستر آدمیوں کے درمیان تقسیم کر دی جائے تو سب کو شامل ہو جائے گی ۲؎، عمر! اس سے اچھی کوئی چیز تمہاری نظر میں ہے کہ اس نے اللہ کے لیے اپنی جان قربان کر دی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1435]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1435]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 5 (1696)، سنن ابی داود/ الحدود 25 (4440)، سنن النسائی/الجنائز 64 (1959)، سنن ابن ماجہ/الحدود 9 (2555)، (تحفة الأشراف: 10881)، و مسند احمد (4/420، 435، 437، 440)، سنن الدارمی/الحدود 18 (2371) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ عورتوں پر حد جاری کرتے وقت ان کے جسم کی ستر پوشی کا خیال رکھنا چاہیئے۔ ۲؎: مسلمانوں کے دیگر اموات کی طرح جس پر حد جاری ہو اس پر بھی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، کیونکہ حد کا نفاذ صاحب حد کے لیے باعث کفارہ ہے، اس پر جملہ مسلمانوں کا اتفاق ہے، یہی وجہ ہے کہ مذکورہ حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ سے اس تائبہ کے توبہ کی کیا اہمیت ہے اسے واضح کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2555)
10. باب مَا جَاءَ فِي رَجْمِ أَهْلِ الْكِتَابِ
باب: اہل کتاب کو رجم کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1436
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ , حَدَّثَنَا مَعْنٌ , حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ , وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو رجم کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اور یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- حدیث میں ایک قصہ کا بھی ذکر ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1436]
۱- اور یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- حدیث میں ایک قصہ کا بھی ذکر ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1436]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 60 (1329)، والمناقب 26 (3635)، والحدود 24 (6819)، صحیح مسلم/الحدود 6 (1699)، سنن ابی داود/ الحدود26 (4446)، سنن ابن ماجہ/الحدود 10 (2556)، (تحفة الأشراف: 8324)، وط/الحدود 1 (1)، سنن الدارمی/الحدود 15 (2348) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: امام ترمذی نے جس قصہ کی طرف اشارہ کیا ہے وہ یہ ہے: یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسے مرد اور عورت کو لائے جن سے زنا کا صدور ہوا تھا، اللہ کے رسول نے ان لوگوں سے پوچھا: اس کے متعلق توراۃ میں کیا حکم ہے؟ کیونکہ ہمارے یہاں اس کی سزا رجم ہے، ان لوگوں نے کہا: کوڑے کی سزا ہے، یا چہرے پر کالا پوت کر عوام میں رسوا کیا جانا ہے، عبداللہ بن سلام نے کہا: تم کذب بیانی سے کام لے رہے ہو، اس میں بھی رجم کا حکم ہے، چنانچہ توراۃ طلب کی گئی، اسے پڑھا جانے لگا تو پڑھنے والے نے آیت رجم کو چھپا کر اس سے ما قبل اور بعد کی آیات پڑھیں، پھر عبداللہ بن سلام کے کہنے پر اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو آیت رجم موجود تھی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کا حکم دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1476)
حدیث نمبر: 1437
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ , " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , وَالْبَرَاءِ , وَجَابِرٍ , وَابْنِ أَبِي أَوْفَى , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ , وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ , قَالُوا: إِذَا اخْتَصَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ , وَتَرَافَعُوا إِلَى حُكَّامِ الْمُسْلِمِينَ , حَكَمُوا بَيْنَهُمْ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَبِأَحْكَامِ الْمُسْلِمِينَ , وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا يُقَامُ عَلَيْهِمُ الْحَدُّ فِي الزِّنَا , وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو رجم کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے،
۲- اس باب میں ابن عمر، براء، جابر، ابن ابی اوفی، عبداللہ بن حارث بن جزء اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں: جب اہل کتاب آپس میں جھگڑیں اور مسلم حکمرانوں کے پاس اپنا مقدمہ پیش کریں تو ان پر لازم ہے کہ وہ کتاب و سنت اور مسلمانوں کے احکام کے مطابق فیصلہ کریں، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے،
۴- بعض لوگ کہتے ہیں: اہل کتاب پر زنا کی حد نہ قائم کی جائے، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1437]
۱- جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے،
۲- اس باب میں ابن عمر، براء، جابر، ابن ابی اوفی، عبداللہ بن حارث بن جزء اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں: جب اہل کتاب آپس میں جھگڑیں اور مسلم حکمرانوں کے پاس اپنا مقدمہ پیش کریں تو ان پر لازم ہے کہ وہ کتاب و سنت اور مسلمانوں کے احکام کے مطابق فیصلہ کریں، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے،
۴- بعض لوگ کہتے ہیں: اہل کتاب پر زنا کی حد نہ قائم کی جائے، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الحدود 10 (2557)، (تحفة الأشراف: 2175) (صحیح) (سند میں ”شریک القاضی“ حافظے کے کمزور ہیں، لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ یہ قول اس باب کی احادیث کے مطابق ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح بما قبله (1436)
11. باب مَا جَاءَ فِي النَّفْىِ
باب: (زانی کو) شہر بدر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1438
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَيَحْيَى بْنُ أَكْثَمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ , وَغَرَّبَ " , وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ: ضَرَبَ وَغَرَّبَ , وَأَنَّ عُمَرَ: ضَرَبَ وَغَرَّبَ. قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ , وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ. رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ , فَرَفَعُوهُ , وَرَوَى بَعْضُهُمْ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ , هَذَا الْحَدِيثَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ أَبَا بَكْرٍ: ضَرَبَ وَغَرَّبَ , وَأَنَّ عُمَرَ: ضَرَبَ وَغَرَّبَ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ. وَهَكَذَا رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ رِوَايَةِ ابْنِ إِدْرِيسَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ نَحْوَ هَذَا , وَهَكَذَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ أَبَا بَكْرٍ: ضَرَبَ وَغَرَّبَ , وَأَنَّ عُمَرَ: ضَرَبَ وَغَرَّبَ , وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَدْ صَحَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّفْيُ , رَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ , وَزَيْدُ بْنُ خَالِدٍ , وعبادة بن الصامت , وغيرهم , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعَلِيٌّ , وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ , وَأَبُو ذَرٍّ , وَغَيْرُهُمْ , وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ , وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ , وَالشَّافِعِيِّ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاق.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کو) کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا ابوبکر رضی الله عنہ نے بھی کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا، اور عمر رضی الله عنہ نے بھی کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث غریب ہے،
۲- اسے کئی لوگوں نے عبداللہ بن ادریس سے روایت کیا ہے، اور ان لوگوں نے اسے مرفوع کیا ہے، (جب کہ) بعض لوگوں نے اس حدیث کو بطریق: «عن عبد الله بن إدريس هذا الحديث عن عبيد الله عن نافع عن ابن عمر» (موقوفاً) روایت کیا ہے کہ ابوبکر رضی الله عنہ نے (غیر شادی شدہ زانی کو) کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا، عمر رضی الله عنہ نے کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا،
۳- اس باب میں ابوہریرہ، زید بن خالد اور عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ہم سے اسے ابوسعید اشج نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا، نیز اسی طرح یہ حدیث عبداللہ بن ادریس کے علاوہ کئی ایک نے عبیداللہ بن عمر سے روایت کی ہے، اسی طرح اسے محمد بن اسحاق نے نافع سے، نافع نے ابن عمر رضی الله عنہما سے (موقوفاً) روایت کیا ہے کہ ابوبکر رضی الله عنہ نے کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا، اور عمر رضی الله عنہ نے کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا، لیکن اس میں ان لوگوں نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے،
۱- حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی شہر بدر کرنے کی روایت صحیح ہے،
۲- اسے ابوہریرہ، زید بن خالد اور عبادہ بن صامت وغیرہ رضی الله عنہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے،
۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے بعض اہل علم کا عمل اسی پر ہے، ان لوگوں میں ابوبکر، عمر، علی، ابی بن کعب، عبداللہ بن مسعود اور ابوذر وغیرہم رضی الله عنہم شامل ہیں، اسی طرح یہ حدیث کئی تابعین فقہاء سے مروی ہے، سفیان ثوری مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1438]
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث غریب ہے،
۲- اسے کئی لوگوں نے عبداللہ بن ادریس سے روایت کیا ہے، اور ان لوگوں نے اسے مرفوع کیا ہے، (جب کہ) بعض لوگوں نے اس حدیث کو بطریق: «عن عبد الله بن إدريس هذا الحديث عن عبيد الله عن نافع عن ابن عمر» (موقوفاً) روایت کیا ہے کہ ابوبکر رضی الله عنہ نے (غیر شادی شدہ زانی کو) کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا، عمر رضی الله عنہ نے کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا،
۳- اس باب میں ابوہریرہ، زید بن خالد اور عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ہم سے اسے ابوسعید اشج نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا، نیز اسی طرح یہ حدیث عبداللہ بن ادریس کے علاوہ کئی ایک نے عبیداللہ بن عمر سے روایت کی ہے، اسی طرح اسے محمد بن اسحاق نے نافع سے، نافع نے ابن عمر رضی الله عنہما سے (موقوفاً) روایت کیا ہے کہ ابوبکر رضی الله عنہ نے کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا، اور عمر رضی الله عنہ نے کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا، لیکن اس میں ان لوگوں نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے،
۱- حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی شہر بدر کرنے کی روایت صحیح ہے،
۲- اسے ابوہریرہ، زید بن خالد اور عبادہ بن صامت وغیرہ رضی الله عنہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے،
۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے بعض اہل علم کا عمل اسی پر ہے، ان لوگوں میں ابوبکر، عمر، علی، ابی بن کعب، عبداللہ بن مسعود اور ابوذر وغیرہم رضی الله عنہم شامل ہیں، اسی طرح یہ حدیث کئی تابعین فقہاء سے مروی ہے، سفیان ثوری مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبریٰ)، (تحفة الأشراف: 7924) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (2344)
12. باب مَا جَاءَ أَنَّ الْحُدُودَ كَفَّارَةٌ لأَهْلِهَا
باب: حدود کا نفاذ سزا یافتہ کے گناہوں کا کفارہ ہے۔
حدیث نمبر: 1439
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ، فَقَالَ: " تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا , وَلَا تَسْرِقُوا , وَلَا تَزْنُوا " , قَرَأَ عَلَيْهِمُ الْآيَةَ، فَمَنْ وَفَّى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ عَلَيْهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ فَهُوَ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ. قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَلِيٍّ , وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وقَالَ الشَّافِعِيُّ: لَمْ أَسْمَعْ فِي هَذَا الْبَابِ أَنَّ الْحُدُودَ تَكُونُ كَفَّارَةً لِأَهْلِهَا شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ , قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَأُحِبُّ لِمَنْ أَصَابَ ذَنْبًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ , أَنْ يَسْتُرَ عَلَى نَفْسِهِ , وَيَتُوبَ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ , وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ , وَعُمَرَ , أَنَّهُمَا أَمَرَا رَجُلًا أَنْ يَسْتُرَ عَلَى نَفْسِهِ.
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مجلس میں موجود تھے، آپ نے فرمایا: ”ہم سے اس بات پر بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ شرک نہ کرو گے، چوری نہ کرو گے اور زنا نہ کرو گے، پھر آپ نے ان کے سامنے آیت پڑھی ۱؎ اور فرمایا: جو اس اقرار کو پورا کرے گا اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور جو ان میں سے کسی گناہ کا مرتکب ہوا پھر اس پر حد قائم ہو گئی تو یہ اس کے لیے کفارہ ہو جائے گا ۲؎، اور جس نے کوئی گناہ کیا اور اللہ نے اس پر پردہ ڈال دیا تو وہ اللہ کے اختیار میں ہے، چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اسے بخش دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- عبادہ بن صامت کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- امام شافعی کہتے ہیں: میں نے اس باب میں اس حدیث سے اچھی کوئی چیز نہیں سنی کہ حدود اصحاب حدود کے لیے کفارہ ہیں،
۳- شافعی کہتے ہیں: میں چاہتا ہوں کہ جب کوئی گناہ کرے اور اللہ اس پر پردہ ڈال دے تو وہ خود اپنے اوپر پردہ ڈال لے اور اپنے اس گناہ کی ایسی توبہ کرے کہ اسے اور اس کے رب کے سوا کسی کو اس کا علم نہ ہو،
۴- ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما سے اسی طرح مروی ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ اپنے اوپر پردہ ڈال لے،
۵- اس باب میں علی، جریر بن عبداللہ اور خزیمہ بن ثابت رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1439]
۱- عبادہ بن صامت کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- امام شافعی کہتے ہیں: میں نے اس باب میں اس حدیث سے اچھی کوئی چیز نہیں سنی کہ حدود اصحاب حدود کے لیے کفارہ ہیں،
۳- شافعی کہتے ہیں: میں چاہتا ہوں کہ جب کوئی گناہ کرے اور اللہ اس پر پردہ ڈال دے تو وہ خود اپنے اوپر پردہ ڈال لے اور اپنے اس گناہ کی ایسی توبہ کرے کہ اسے اور اس کے رب کے سوا کسی کو اس کا علم نہ ہو،
۴- ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما سے اسی طرح مروی ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ اپنے اوپر پردہ ڈال لے،
۵- اس باب میں علی، جریر بن عبداللہ اور خزیمہ بن ثابت رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 11 (18)، ومناقب الأنصار 43 (3892)، وتفسیر الممتحنة 3 (4894)، والحدود 8 (6784)، و14 (6801)، والدیات 2 (6873)، والأحکام 49 (7213)، والتوحید 31 (7468)، صحیح مسلم/الحدود 10 (1709)، سنن النسائی/البیعة 9 (4166)، و17 (4183)، و38 (4215)، والإیمان 14 (5005)، (تحفة الأشراف: 5094)، و مسند احمد (5/314، 321، 333) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ آیت کس سورۃ کی تھی؟ اس سلسلہ میں بصراحت کسی صحابی سے کچھ بھی ثابت نہیں ہے، کیونکہ شرک باللہ، چوری اور زنانہ کرنے کی صورت میں پورا پورا اجر ملنے کا ذکر قرآن کریم کی متعدد سورتوں میں ہے اور یہ کہنا کہ فلاں سورۃ کی فلاں آیت ہی مقصود ہے تو اس کے ثبوت کے لیے کسی صحابی سے اس کی تصریح ضروری ہے۔ اکثر علماء نے اس آیت سے مراد سورۃ الممتحنہ کی آیت رقم ۱۲ مراد لیا ہے، جو یہ ہے «يا أيها النبي إذا جائك المؤمنات يبايعنك» إلى آخره. ۲؎: اس حدیث میں جو یہ عموم پایا جا رہا ہے کہ جوان میں سے کسی گناہ کا مرتکب ہو پھر اس پر حد قائم ہو تو یہ حد اس کے لیے کفارہ ہے تو یہ عموم آیت کریمہ: «إن الله لا يغفر أن يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء» (النساء: ۱۱۶) سے خاص ہے، لہٰذا ارتداد کی بنا پر اگر کسی کا قتل ہوا تو یہ قتل اس کے لیے باعث کفارہ نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (2334)
13. باب مَا جَاءَ فِي إِقَامَةِ الْحَدِّ عَلَى الإِمَاءِ
باب: لونڈیوں پر حد جاری کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1440
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَجْلِدْهَا ثَلَاثًا بِكِتَابِ اللَّهِ , فَإِنْ عَادَتْ فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعَرٍ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَلِيٍّ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ , وَشِبْلٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ الْأَوْسِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَغَيْرِهِمْ رَأَوْا أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ الْحَدَّ عَلَى مَمْلُوكِهِ دُونَ السُّلْطَانِ , وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , قَالَ بَعْضُهُمْ: يُرْفَعُ إِلَى السُّلْطَانِ , وَلَا يُقِيمُ الْحَدَّ هُوَ بِنَفْسِهِ , وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو اللہ کی کتاب کے (حکم کے) مطابق تین بار اسے کوڑے لگاؤ ۱؎ اگر وہ پھر بھی (یعنی چوتھی بار) زنا کرے تو اسے فروخت کر دو، چاہے قیمت میں بال کی رسی ہی ملے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- ان سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے،
۳- اس باب میں علی، ابوہریرہ، زید بن خالد رضی الله عنہم سے اور شبل سے بواسطہ عبداللہ بن مالک اوسی بھی احادیث آئی ہیں،
۴- صحابہ میں سے بعض اہل علم اور کچھ دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ سلطان (حاکم) کے بجائے آدمی اپنے مملوک (غلام) پر خود حد نافذ کرے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے،
۵- بعض لوگ کہتے ہیں: سلطان (حاکم) کے پاس مقدمہ پیش کیا جائے گا، کوئی آدمی بذات خود حد نافذ نہیں کرے گا، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1440]
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- ان سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے،
۳- اس باب میں علی، ابوہریرہ، زید بن خالد رضی الله عنہم سے اور شبل سے بواسطہ عبداللہ بن مالک اوسی بھی احادیث آئی ہیں،
۴- صحابہ میں سے بعض اہل علم اور کچھ دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ سلطان (حاکم) کے بجائے آدمی اپنے مملوک (غلام) پر خود حد نافذ کرے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے،
۵- بعض لوگ کہتے ہیں: سلطان (حاکم) کے پاس مقدمہ پیش کیا جائے گا، کوئی آدمی بذات خود حد نافذ نہیں کرے گا، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1440]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبریٰ) (تحفة الأشراف: 12497) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی زنا کی حرکت اس سے اگر تین بار سرزد ہوئی ہے تو ہر مرتبہ اسے کوڑے کی سزا ملے گی، اور چوتھی مرتبہ اسے شہر بدر کر دیا جائے گا۔ ۲؎: کیونکہ باب کی حدیث کا مفہوم یہی ہے، مالک کے پاس اپنی لونڈی یا غلام کی بدکاری سے متعلق اگر معتبر شہادت موجود ہو تو مالک بذات خود حد قائم کر سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2565)
حدیث نمبر: 1441
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ , عَنْ السُّدِّيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ , عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: خَطَبَ عَلِيٌّ , فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ , أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى أَرِقَّائِكُمْ مَنْ أَحْصَنَ مِنْهُمْ , وَمَنْ لَمْ يُحْصِنْ , وَإِنَّ أَمَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَنَتْ , فَأَمَرَنِي أَنْ أَجْلِدَهَا , فَأَتَيْتُهَا فَإِذَا هِيَ حَدِيثَةُ عَهْدٍ بِنِفَاسٍ , فَخَشِيتُ إِنْ أَنَا جَلَدْتُهَا أَنْ أَقْتُلَهَا , أَوْ قَالَ: تَمُوتَ , فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ: " أَحْسَنْتَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالسُّدِّيُّ اسْمُهُ: إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ مِنَ التَّابِعِينَ , قَدْ سَمِعَ مِنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , وَرَأَى حُسَيْنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ نے خطبہ کے دوران کہا: لوگو! اپنے غلاموں اور لونڈیوں پر حد قائم کرو، جس کی شادی ہوئی ہو اس پر بھی اور جس کی شادی نہ ہوئی ہو اس پر بھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کیا، چنانچہ آپ نے مجھے کوڑے لگانے کا حکم دیا، میں اس کے پاس آیا تو (دیکھا) اس کو کچھ ہی دن پہلے نفاس کا خون آیا تھا ۱؎ لہٰذا مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے اسے کوڑے لگائے تو کہیں میں اسے قتل نہ کر بیٹھوں، یا انہوں نے کہا: کہیں وہ مر نہ جائے ۲؎، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے اسے بیان کیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1441]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1441]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 7 (1705)، (تحفة الأشراف: 10170) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کچھ ہی دن قبل اس سے ولادت ہوئی تھی۔ ۲؎: یہ شک راوی کی طرف سے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (7 / 360)
14. باب مَا جَاءَ فِي حَدِّ السَّكْرَانِ
باب: شرابی کی حد کا بیان۔
حدیث نمبر: 1442
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ مِسْعَرٍ , عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ , عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ الْحَدَّ بِنَعْلَيْنِ أَرْبَعِينَ ". قَالَ مِسْعَرٌ: أَظُنُّهُ فِي الْخَمْرِ , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَلِيٍّ , وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَالسَّائِبِ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَعُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ , وَأَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيُّ اسْمُهُ: بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو , وَيُقَالُ: بَكْرُ بْنُ قَيْسٍ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حد قائم کرتے ہوئے چالیس جوتیوں کی سزا دی، مسعر راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے شراب کی حد میں (آپ نے چالیس جوتیوں کی سزا دی)۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوسعید رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے،
۲- اس باب میں علی، عبدالرحمٰن بن ازہر، ابوہریرہ، سائب، ابن عباس اور عقبہ بن حارث رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1442]
۱- ابوسعید رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے،
۲- اس باب میں علی، عبدالرحمٰن بن ازہر، ابوہریرہ، سائب، ابن عباس اور عقبہ بن حارث رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1442]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبریٰ) (تحفة الأشراف: 3975) (ضعیف الإسناد) (سند میں زید العمی سخت ضعیف راوی ہے، لیکن دیگر احادیث صحیحہ سے شرابی کو جوتے سے مارنا ثابت ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:(1442) إسناده ضعيف
زيد العمي :ضعيف (د 4119)
زيد العمي :ضعيف (د 4119)