🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ السَّلَمِ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ:
باب: ماپ مقرر کر کے سلم کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2239
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَالنَّاسُ يُسْلِفُونَ فِي الثَّمَرِ الْعَامَ وَالْعَامَيْنِ، أَوْ قَالَ: عَامَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، شَكَّ إِسْمَاعِيلُ، فَقَالَ:" مَنْ سَلَّفَ فِي تَمْرٍ، فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ".
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو اسماعیل بن علیہ نے خبر دی، انہیں ابن ابی نجیح نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن کثیر نے، انہیں ابومنہال نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو (مدینہ کے) لوگ پھلوں میں ایک سال یا دو سال کے لیے بیع سلم کرتے تھے۔ یا انہوں نے یہ کہا کہ دو سال اور تین سال (کے لیے کرتے تھے) شک اسماعیل کو ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص بھی کھجور میں بیع سلم کرے، اسے مقررہ پیمانے یا مقررہ وزن کے ساتھ کرنی چاہئیے۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2239]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو (مدینہ کے) لوگ پھلوں میں سال یا دو سال کے لیے بیع سلم کرتے تھے، یا انہوں نے فرمایا کہ دو سال یا تین سال کے لیے بیع سلم کرتے تھے، اسماعیل (ابن علیہ) کو شک ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی کھجوروں کے لیے پیشگی ادائیگی کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ معین ماپ اور معین وزن کی وضاحت کے ساتھ بیع سلم کرے۔ محمد نے بھی اسماعیل ابن علیہ کے طریق سے انہی الفاظ میں یہ روایت بیان کی ہے، یعنی معین ماپ اور مقرر وزن میں بیع سلم کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2239]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2240
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، بِهَذَا فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ.
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو اسماعیل نے خبر دی، ان سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا کہ بیع سلم مقررہ پیمانے اور مقررہ وزن میں ہونی چاہئیے۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: Q2240]

2. بَابُ السَّلَمِ فِي وَزْنٍ مَعْلُومٍ:
باب: بیع سلم مقررہ وزن کے ساتھ جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2240
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ بِالتَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ، فَقَالَ:" مَنْ أَسْلَفَ فِي شَيْءٍ، فَفِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ".
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، انہیں سفیان بن عیینہ نے خبر دی، انہیں ابن ابی نجیح نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن کثیر نے، انہیں ابومنہال نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ کھجور میں دو اور تین سال تک کے لیے بیع سلم کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت فرمائی کہ جسے کسی چیز کی بیع سلم کرنی ہے، اسے مقررہ وزن اور مقررہ مدت کے لیے ٹھہرا کر کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2240]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو وہاں کے باشندے دو تین سال کی میعاد پر کھجوروں کے متعلق پیشگی رقم ادا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی کسی چیز کے متعلق بیع سلم کرے تو معین ماپ، معین وزن اور معین میعاد ٹھہرا کر کرے۔ علی نے یہ روایت سفیان عن ابن ابی نجیح کے طریق سے بیان کی تو اس کے الفاظ اس طرح بیان کیے: معین ماپ اور معین میعاد ٹھہرا کر بیع سلم کرنی چاہیے۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2240]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2241
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، وَقَالَ: فَليُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ.
ہم سے علی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا۔ (اس روایت میں ہے کہ) آپ نے فرمایا بیع سلف مقررہ وزن میں مقررہ مدت تک کے لی کرنا چاہئے۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: Q2241]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2241
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے، ان سے عبداللہ بن کثیر نے، اور ان سے ابومنہال نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ) تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مقررہ وزن اور مقررہ مدت تک کے لیے (بیع سلم) ہونی چاہئے۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2241]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے پھر مذکورہ بالا حدیث یوں بیان فرمائی: معین ماپ، معین وزن اور معین مدت ٹھہرا کر بیع سلم کی جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2241]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2242
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، وحَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ أَوْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْمُجَالِدِ، قَالَ: اخْتَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، وَأَبُو بُرْدَةَ فِي السَّلَفِ، فَبَعَثُونِي إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" إِنَّا كُنَّا نُسْلِفُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ فِي الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ"، وَسَأَلْتُ ابْنَ أَبْزَى، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابن ابی مجالد نے (تیسری سند) اور ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے وکیع نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے محمد بن ابی مجالد نے۔ (دوسری سند) ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے محمد اور عبداللہ بن ابی مجالد نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن شداد بن الہاد اور ابوبردہ میں بیع سلم کے متعلق باہم اختلاف ہوا۔ تو ان حضرات نے مجھے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔ چنانچہ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے زمانوں میں گیہوں، جَو، منقی اور کھجور کی بیع سلم کرتے تھے۔ پھر میں نے ابن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2242]
حضرت عبداللہ بن ابومجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن شداد اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیع سلم کے متعلق اختلاف کیا تو لوگوں نے مجھے حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا۔ میں نے ان سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں گندم، جو، منقیٰ اور کھجور میں بیع سلم کرتے تھے۔ پھر میں نے ابن ابزی رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2242]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2243
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، وحَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ أَوْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْمُجَالِدِ، قَالَ: اخْتَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، وَأَبُو بُرْدَةَ فِي السَّلَفِ، فَبَعَثُونِي إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" إِنَّا كُنَّا نُسْلِفُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ فِي الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ"، وَسَأَلْتُ ابْنَ أَبْزَى، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابن ابی مجالد نے (تیسری سند) اور ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے وکیع نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے محمد بن ابی مجالد نے۔ (دوسری سند) ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے محمد اور عبداللہ بن ابی مجالد نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن شداد بن الہاد اور ابوبردہ میں بیع سلم کے متعلق باہم اختلاف ہوا۔ تو ان حضرات نے مجھے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔ چنانچہ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے زمانوں میں گیہوں، جَو، منقی اور کھجور کی بیع سلم کرتے تھے۔ پھر میں نے ابن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2243]
حضرت عبداللہ بن ابو مجاہد سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن شداد اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیع سلم کے متعلق اختلاف کیا تو لوگوں نے مجھے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا۔ میں نے ان سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں گندم، جو، منقیٰ اور کھجور میں بیع سلم کرتے تھے۔ پھر میں نے حضرت عبداللہ بن ابزی رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2243]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ السَّلَمِ إِلَى مَنْ لَيْسَ عِنْدَهُ أَصْلٌ:
باب: اس شخص سے سلم کرنا جس کے پاس اصل مال ہی موجود نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2244
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمُجَالِدِ، قَالَ: بَعَثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ، وَأَبُو بُرْدَةَ، إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَا: سَلْهُ، هَلْ كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْلِفُونَ فِي الْحِنْطَةِ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" كُنَّا نُسْلِفُ نَبِيطَ أَهْلِ الشَّأْمِ فِي الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالزَّيْتِ، فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ"، قُلْتُ: إِلَى مَنْ كَانَ أَصْلُهُ عِنْدَهُ، قَالَ: مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ، ثُمَّ بَعَثَانِي إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْلِفُونَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ نَسْأَلْهُمْ أَلَهُمْ حَرْثٌ أَمْ لَا. حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُجَالِدٍبِهَذَا، وَقَالَ: فَنُسْلِفُهُمْ فِي الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، وَقَالَ وَالزَّيْتِ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، وَقَالَ: فِي الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالزَّبِيبِ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابی مجالد نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن شداد اور ابوبردہ نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کے یہاں بھیجا اور ہدایت کی کہ ان سے پوچھو کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کے زمانے میں گیہوں کی بیع سلم کرتے تھے؟ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہم شام کے انباط (ایک کاشتکار قوم) کے ساتھ گیہوں، جوار، زیتون کی مقررہ وزن اور مقررہ مدت کے لیے سودا کیا کرتے تھے۔ میں نے پوچھا کیا صرف اسی شخص سے آپ لوگ یہ بیع کیا کرتے تھے جس کے پاس اصل مال موجود ہوتا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم اس کے متعلق پوچھتے ہی نہیں تھے۔ اس کے بعد ان دونوں حضرات نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کے خدمت میں بھیجا۔ میں نے ان سے بھی پوچھا۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کے عہد مبارک میں بیع سلم کیا کرتے تھے اور ہم یہ بھی نہیں پوچھتے تھے کہ ان کے کھیتی بھی ہے یا نہیں۔ ہم سے اسحاق بن شاہین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے، ان سے محمد بن ابی مجالد نے یہی حدیث۔ اس روایت میں یہ بیان کیا کہ ہم ان سے گیہوں اور جَو میں بیع سلم کیا کرتے تھے۔ اور عبداللہ بن ولید نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے شیبانی نے بیان کیا، اس میں انہوں نے زیتون کا بھی نام لیا ہے۔ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے جریر نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے، اور اس میں بیان کیا کہ گیہوں، جَو اور منقی میں (بیع سلم کیا کرتے تھے)۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2244]
محمد بن ابومجالد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے عبداللہ بن شداد رحمہ اللہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس یہ دریافت کرنے کے لیے بھیجا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گندم میں بیع سلم کیا کرتے تھے؟ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں! ہم شام کے کاشتکاروں سے گندم، جو اور روغن میں ایک معین ماپ اور معین مدت ٹھہرا کر بیع سلم کیا کرتے تھے۔ میں نے دریافت کیا: کیا تم اس شخص سے یہ سودا کرتے تھے جس کے پاس اصل مال ہوتا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: ہم ان سے یہ نہیں پوچھتے تھے۔ پھر انہوں نے مجھے عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، میں نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بیع سلم کیا کرتے تھے اور ہم ان سے یہ نہیں پوچھتے تھے کہ ان کے پاس کھیتی ہے یا نہیں؟ محمد بن ابومجالد رحمہ اللہ کی ایک روایت کے یہ الفاظ ہیں: ہم گندم اور جو میں بیع سلم کیا کرتے تھے اور سفیان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ شیبانی رحمہ اللہ نے اس میں لفظ روغن کا اضافہ کیا ہے اور جریر رحمہ اللہ نے شیبانی رحمہ اللہ سے جو حدیث بیان کی ہے اس میں گندم، جو اور منقیٰ کے الفاظ ہیں، یعنی ان اشیاء میں بیع سلم کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2244]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2245
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمُجَالِدِ، قَالَ: بَعَثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ، وَأَبُو بُرْدَةَ، إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَا: سَلْهُ، هَلْ كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْلِفُونَ فِي الْحِنْطَةِ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" كُنَّا نُسْلِفُ نَبِيطَ أَهْلِ الشَّأْمِ فِي الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالزَّيْتِ، فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ"، قُلْتُ: إِلَى مَنْ كَانَ أَصْلُهُ عِنْدَهُ، قَالَ: مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ، ثُمَّ بَعَثَانِي إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْلِفُونَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ نَسْأَلْهُمْ أَلَهُمْ حَرْثٌ أَمْ لَا. حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُجَالِدٍبِهَذَا، وَقَالَ: فَنُسْلِفُهُمْ فِي الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، وَقَالَ وَالزَّيْتِ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، وَقَالَ: فِي الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالزَّبِيبِ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابی مجالد نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن شداد اور ابوبردہ نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کے یہاں بھیجا اور ہدایت کی کہ ان سے پوچھو کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کے زمانے میں گیہوں کی بیع سلم کرتے تھے؟ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہم شام کے انباط (ایک کاشتکار قوم) کے ساتھ گیہوں، جوار، زیتون کی مقررہ وزن اور مقررہ مدت کے لیے سودا کیا کرتے تھے۔ میں نے پوچھا کیا صرف اسی شخص سے آپ لوگ یہ بیع کیا کرتے تھے جس کے پاس اصل مال موجود ہوتا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم اس کے متعلق پوچھتے ہی نہیں تھے۔ اس کے بعد ان دونوں حضرات نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کے خدمت میں بھیجا۔ میں نے ان سے بھی پوچھا۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کے عہد مبارک میں بیع سلم کیا کرتے تھے اور ہم یہ بھی نہیں پوچھتے تھے کہ ان کے کھیتی بھی ہے یا نہیں۔ ہم سے اسحاق بن شاہین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے، ان سے محمد بن ابی مجالد نے یہی حدیث۔ اس روایت میں یہ بیان کیا کہ ہم ان سے گیہوں اور جَو میں بیع سلم کیا کرتے تھے۔ اور عبداللہ بن ولید نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے شیبانی نے بیان کیا، اس میں انہوں نے زیتون کا بھی نام لیا ہے۔ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے جریر نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے، اور اس میں بیان کیا کہ گیہوں، جَو اور منقی میں (بیع سلم کیا کرتے تھے)۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2245]
محمد بن ابومجالد سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے عبداللہ بن شداد اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس یہ دریافت کرنے کے لیے بھیجا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گندم میں بیعِ سلم کیا کرتے تھے؟ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں! ہم شام کے کاشتکاروں سے گندم، جو اور روغن میں ایک معین ماپ اور معین مدت ٹھہرا کر بیعِ سلم کیا کرتے تھے۔ میں نے دریافت کیا: آیا تم اس شخص سے یہ سودا کرتے تھے جس کے پاس اصل مال ہوتا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: ہم ان سے یہ نہیں پوچھتے تھے۔ پھر انہوں نے مجھے حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، میں نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بیعِ سلم کیا کرتے تھے، اور ہم ان سے یہ نہیں پوچھتے تھے کہ ان کے پاس کھیتی ہے یا نہیں؟ محمد بن ابومجالد کی ایک روایت کے یہ الفاظ ہیں: ہم گندم اور جو میں بیعِ سلم کیا کرتے تھے اور سفیان سے روایت ہے کہ شیبانی نے اس میں لفظ روغن کا اضافہ کیا ہے اور جریر نے شیبانی سے جو حدیث بیان کی ہے اس میں گندم، جو اور منقیٰ کے الفاظ ہیں، یعنی ان اشیاء میں بیعِ سلم کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2245]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2246
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيَّ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ، حَتَّى يُوكَلَ مِنْهُ، وَحَتَّى يُوزَنَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَأَيُّ شَيْءٍ يُوزَنُ، قَالَ رَجُلٌ: إِلَى جَانِبِهِ حَتَّى يُحْرَزَ، وَقَالَ مُعَاذٌ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو، قَالَ أَبُو الْبَخْتَرِيِّ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہیں عمرو نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوالبختری طائی سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کھجور کے درخت میں بیع سلم کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ درخت پر پھل کو بیچنے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک کے لیے منع فرمایا تھا جب تک وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائے یا اس کا وزن نہ کیا جا سکے۔ ایک شخص نے پوچھا کہ کیا چیز وزن کی جائے گی۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قریب ہی بیٹھے ہوئے ایک شخص نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ اندازہ کرنے کے قابل ہو جائے اور معاذ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے کہ ابوالبختری نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا تھا۔ پھر یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2246]
ابو بختری طائی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ جو کھجوریں درخت پر لگی ہوئی ہوں ان کے متعلق بیعِ سلم کرنا کیسا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگی کھجور کی بیع سے منع فرمایا ہے جب تک وہ کھانے کے قابل اور وزن کے لائق نہ ہو جائے۔ ایک شخص نے پوچھا: کس چیز کا وزن کیا جائے؟ تو ایک شخص، جو ان کے پاس بیٹھا تھا، بولا: یعنی اندازہ کرنے کے لائق ہو جائے۔ ابو بختری نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت بایں الفاظ بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جیسی بیع سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2246]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں