صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ الْكَفَالَةِ فِي الْقَرْضِ وَالدُّيُونِ بِالأَبْدَانِ وَغَيْرِهَا:
باب: قرضوں وغیرہ کی حاضر ضمانت اور مالی ضمانت کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 2290
وَقَالَ أَبُو الزِّنَادِ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بَعَثَهُ مُصَدِّقًا، فَوَقَعَ رَجُلٌ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، فَأَخَذَ حَمْزَةُ مِنَ الرَّجُلِ كَفِيلًا، حَتَّى قَدِمَ عَلَى عُمَرَ، وَكَانَ عُمَرُ قَدْ جَلَدَهُ مِائَةَ جَلْدَةٍ فَصَدَّقَهُمْ وَعَذَرَهُ بِالْجَهَالَةِ، وَقَالَ جَرِيرٌ، وَالْأَشْعَثُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي الْمُرْتَدِّينَ: اسْتَتِبْهُمْ وَكَفِّلْهُمْ، فَتَابُوا وَكَفَلَهُمْ عَشَائِرُهُمْ، وَقَالَ حَمَّادٌ: إِذَا تَكَفَّلَ بِنَفْسٍ فَمَاتَ، فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ، وَقَالَ الْحَكَمُ: يَضْمَنُ.
اور ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے محمد بن حمزہ بن عمرو الاسلمی نے اور ان سے ان کے والد (حمزہ) نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے (اپنے عہد خلافت میں) انہیں زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ (جہاں وہ زکوٰۃ وصول کر رہے تھے وہاں کے) ایک شخص نے اپنی بیوی کی باندی سے ہمبستری کر لی۔ حمزہ نے اس کی ایک شخص سے پہلے ضمانت لی، یہاں تک کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو سو کوڑوں کی سزا دی تھی۔ اس آدمی نے جو جرم اس پر لگا تھا اس کو قبول کیا تھا لیکن جہالت کا عذر کیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو معذور رکھا تھا اور جریر اور اشعث نے عبداللہ بن مسعود سے مرتدوں کے بارے میں کہا کہ ان سے توبہ کرائیے اور ان کی ضمانت طلب کیجئے (کہ دوبارہ مرتد نہ ہوں گے) چنانچہ انہوں نے توبہ کر لی اور ضمانت خود انہیں کے قبیلہ والوں نے دے دی۔ حماد نے کہا جس کا حاضر ضامن ہو اگر وہ مر جائے تو ضامن پر کچھ تاوان نہ ہو گا۔ لیکن حکم نے کہا کہ ذمہ کا مال دینا پڑے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الكفالة/حدیث: 2290]
حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں زکوٰۃ کا تحصیل دار بنا کر بھیجا، وہاں ایک آدمی نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کر لیا تو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہما نے زانی مرد سے ضمانت لی اور خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، حالانکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے پہلے سو کوڑے مار چکے تھے، اس آدمی نے لوگوں کے الزام کی تصدیق کی اور جرم قبول کیا تھا لیکن جہالت کا عذر پیش کیا تھا۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ اور حضرت اشعث رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مرتدین کے متعلق کہا کہ ان سے توبہ کرائیں اور ضمانت لیں (کہ دوبارہ مرتد نہیں ہوں گے) چنانچہ انہوں نے توبہ کی اور ان کے کنبے والوں نے ان کی ضمانت دی۔ امام حماد رحمہ اللہ نے کہا جس شخص نے کسی شخص (کو حاضر کرنے) کی ضمانت اٹھائی ہو، اگر وہ مر جائے تو ضامن پر کچھ تاوان نہیں ہوگا جبکہ امام حکم رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ وہ ذمہ دار ہوگا۔ [صحيح البخاري/كتاب الكفالة/حدیث: 2290]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2291
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، سَأَلَ بَعْضَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يُسْلِفَهُ أَلْفَ دِينَارٍ، فَقَالَ: ائْتِنِي بِالشُّهَدَاءِ أُشْهِدُهُمْ، فَقَالَ: كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا، قَالَ: فَأْتِنِي بِالْكَفِيلِ، قَالَ: كَفَى بِاللَّهِ كَفِيلًا، قَالَ: صَدَقْتَ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى، فَخَرَجَ فِي الْبَحْرِ فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ الْتَمَسَ مَرْكَبًا يَرْكَبُهَا يَقْدَمُ عَلَيْهِ لِلْأَجَلِ الَّذِي أَجَّلَهُ، فَلَمْ يَجِدْ مَرْكَبًا فَأَخَذَ خَشَبَةً، فَنَقَرَهَا فَأَدْخَلَ فِيهَا أَلْفَ دِينَارٍ وَصَحِيفَةً مِنْهُ إِلَى صَاحِبِهِ، ثُمَّ زَجَّجَ مَوْضِعَهَا، ثُمَّ أَتَى بِهَا إِلَى الْبَحْرِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ تَسَلَّفْتُ فُلَانًا أَلْفَ دِينَارٍ فَسَأَلَنِي كَفِيلَا، فَقُلْتُ: كَفَى بِاللَّهِ كَفِيلًا، فَرَضِيَ بِكَ وَسَأَلَنِي شَهِيدًا، فَقُلْتُ: كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا فَرَضِيَ بِكَ، وَأَنِّي جَهَدْتُ أَنْ أَجِدَ مَرْكَبًا أَبْعَثُ إِلَيْهِ الَّذِي لَهُ فَلَمْ أَقْدِرْ، وَإِنِّي أَسْتَوْدِعُكَهَا فَرَمَى بِهَا فِي الْبَحْرِ، حَتَّى وَلَجَتْ فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَهُوَ فِي ذَلِكَ يَلْتَمِسُ مَرْكَبًا يَخْرُجُ إِلَى بَلَدِهِ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ أَسْلَفَهُ يَنْظُرُ، لَعَلَّ مَرْكَبًا قَدْ جَاءَ بِمَالِهِ، فَإِذَا بِالْخَشَبَةِ الَّتِي فِيهَا الْمَالُ فَأَخَذَهَا لِأَهْلِهِ حَطَبًا، فَلَمَّا نَشَرَهَا وَجَدَ الْمَالَ وَالصَّحِيفَةَ، ثُمَّ قَدِمَ الَّذِي كَانَ أَسْلَفَهُ فَأَتَى بِالْأَلْفِ دِينَارٍ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا زِلْتُ جَاهِدًا فِي طَلَبِ مَرْكَبٍ لِآتِيَكَ بِمَالِكَ، فَمَا وَجَدْتُ مَرْكَبًا قَبْلَ الَّذِي أَتَيْتُ فِيهِ، قَالَ: هَلْ كُنْتَ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: أُخْبِرُكَ أَنِّي لَمْ أَجِدْ مَرْكَبًا قَبْلَ الَّذِي جِئْتُ فِيهِ، قَالَ: فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَدَّى عَنْكَ الَّذِي بَعَثْتَ فِي الْخَشَبَةِ، فَانْصَرِفْ بِالْأَلْفِ الدِّينَارِ رَاشِدًا".
ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ لیث نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے بنی اسرائیل کے ایک دوسرے آدمی سے ایک ہزار دینار قرض مانگے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ایسے گواہ لا جن کی گواہی پر مجھے اعتبار ہو۔ قرض مانگنے والا بولا کہ گواہ تو بس اللہ ہی کافی ہے پھر انہوں نے کہا کہ اچھا کوئی ضامن لا۔ قرض مانگنے والا بولا کہ ضامن بھی اللہ ہی کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تو نے سچی بات کہی۔ چنانچہ اس نے ایک مقررہ مدت کے لیے اس کو قرض دے دیا۔ یہ صاحب قرض لے کر دریائی سفر پر روانہ ہوئے اور پھر اپنی ضرورت پوری کر کے کسی سواری (کشتی وغیرہ) کی تلاش کی تاکہ اس سے دریا پار کر کے اس مقررہ مدت تک قرض دینے والے کے پاس پہنچ سکے جو اس سے طے پائی تھی۔ (اور اس کا قرض ادا کر دے) لیکن کوئی سواری نہیں ملی۔ آخر ایک لکڑی لی اور اس میں سوراخ کیا۔ پھر ایک ہزار دینار اور ایک (اس مضمون کا) خط کہ اس کی طرف سے قرض دینے والے کی طرف (یہ دینار بھیجے جا رہے ہیں) اور اس کا منہ بند کر دیا۔ اور اسے دریا پر لے آئے، پھر کہا، اے اللہ! تو خوب جانتا ہے کہ میں نے فلاں شخص سے ایک ہزار دینار قرض لیے تھے۔ اس نے مجھ سے ضامن مانگا تو میں نے کہہ دیا تھا کہ میرا ضامن اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ بھی تجھ پر راضی ہوا۔ اس نے مجھ سے گواہ مانگا تو اس کا بھی جواب میں نے یہی دیا کہ اللہ پاک گواہ کافی ہے تو وہ مجھ پر راضی ہو گیا اور (تو جانتا ہے کہ) میں نے بہت کوشش کی کہ کوئی سواری ملے جس کے ذریعہ میں اس کا قرض اس تک (مدت مقررہ میں) پہنچا سکوں۔ لیکن مجھے اس میں کامیابی نہیں ہوئی۔ اس لیے اب میں اس کو تیرے ہی حوالے کرتا ہوں (کہ تو اس تک پہنچا دے) چنانچہ اس نے وہ لکڑی جس میں رقم تھی دریا میں بہا دی۔ اب وہ دریا میں تھی اور وہ صاحب (قرض دار) واپس ہو چکے تھے۔ اگرچہ فکر اب بھی یہی تھا کہ کس طرح کوئی جہاز ملے۔ جس کے ذریعہ وہ اپنے شہر میں جا سکیں۔ دوسری طرف وہ صاحب جنہوں نے قرض دیا تھا اسی تلاش میں (بندرگاہ) آئے کہ ممکن ہے کوئی جہاز ان کا مال لے کر آیا ہو۔ لیکن وہاں انہیں ایک لکڑی ملی۔ وہی جس میں مال تھا۔ انہوں نے لکڑی اپنے گھر میں ایندھن کے لیے لے لی۔ لیکن جب اسے چیرا تو اس میں سے دینار نکلے اور ایک خط بھی نکلا۔ (کچھ دنوں کے بعد جب وہ صاحب اپنے شہر آئے) تو قرض خواہ کے گھر آئے۔ اور (یہ خیال کر کے کہ شاید وہ لکڑی نہ مل سکی ہو دوبارہ) ایک ہزار دینا ان کی خدمت میں پیش کر دیئے۔ اور کہا کہ قسم اللہ کی! میں تو برابر اسی کوشش میں رہا کہ کوئی جہاز ملے تو تمہارے پاس تمہارا مال لے کر پہنچوں لیکن اس دن سے پہلے جب کہ میں یہاں پہنچنے کے لیے سوار ہوا۔ مجھے اپنی کوششوں میں کامیابی نہیں ہوئی۔ پھر انہوں نے پوچھا اچھا یہ تو بتاؤ کہ کوئی چیز کبھی تم نے میرے نام بھیجی تھی؟ مقروض نے جواب دیا بتا تو رہا ہوں آپ کو کہ کوئی جہاز مجھے اس جہاز سے پہلے نہیں ملا جس سے میں آج پہنچا ہوں۔ اس پر قرض خواہ نے کہا کہ پھر اللہ نے بھی آپ کا وہ قرضا ادا کر دیا۔ جسے آپ نے لکڑی میں بھیجا تھا۔ چنانچہ وہ صاحب اپنا ہزار دینار لے کر خوش خوش واپس لوٹ گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الكفالة/حدیث: 2291]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بنی اسرائیل کے ایک آدمی کا ذکر کیا جس نے بنی اسرائیل کے کسی دوسرے شخص سے ایک ہزار دینار قرض مانگا تو اس نے کہا کہ گواہوں کو لاؤ تاکہ یہ خطیر رقم ان کے سامنے دوں۔ قرض مانگنے والے نے کہا: اللہ کی شہادت کافی ہے۔ اس نے کہا: اچھا کوئی ضامن لاؤ تو قرض لینے والے نے کہا: اللہ کی ضمانت کافی ہے۔ اس نے کہا: تو نے سچی بات کہی ہے، چنانچہ اس نے ایک متعین مدت کے لیے ایک ہزار دینار بطور قرض اس کے حوالے کر دیے۔ پھر جس نے قرض لیا تھا اس نے سمندر کا سفر کیا اور اپنا کام پورا کر کے کوئی جہاز تلاش کرتا رہا جس پر سوار ہو کر متعین وقت پر قرض خواہ کے پاس پہنچ جائے لیکن کوئی جہاز نہ ملا۔ آخر اس نے ایک لکڑی لے کر اسے کھوکھلا کیا، پھر ایک ہزار دینار اور قرض خواہ کے نام ایک خط لکھ کر اس میں لکھ دیا۔ اس کے بعد لکڑی کو اوپر سے بند کر کے سمندر پر آیا اور کہنے لگا: یا اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے فلاں شخص سے ہزار دینار قرض لیے تھے، اس نے مجھ سے ضمانت مانگی تو میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی ضمانت کافی ہے، چنانچہ وہ تجھ سے راضی ہو گیا اور اس نے مجھ سے گواہ بھی مانگے تھے، تو میں نے کہا تھا: اللہ گواہ کافی ہے۔ وہ تیری گواہی پر بھی راضی ہو گیا تھا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ کوئی جہاز مل جائے تاکہ میں اس کا قرض وعدے کے مطابق ادا کر دوں لیکن کوئی جہاز نہ مل سکا۔ اب میں یہ مال تیرے سپرد کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے وہ لکڑی سمندر میں پھینک دی یہاں تک وہ سمندر میں ڈوب گئی اور وہ خود واپس چلا آیا اور اس مدت میں سواری تلاش کرتا رہا تاکہ اپنے شہر جائے۔ دوسری طرف وہ شخص جس نے قرض دیا تھا باہر نکلا تاکہ دیکھے شاید کوئی جہاز آئے اور اس کا مال لائے۔ اتنے میں اسے ایک لکڑی دکھائی دی، جس میں مال تھا۔ وہ اسے گھر میں جلانے کے لیے لے آیا۔ جب اسے پھاڑا تو اس میں اپنا مال اور خط پایا۔ پھر وہ شخص بھی آ پہنچا جس نے قرض لیا تھا اور ایک ہزار دینار پیش کر کے معذرت کرنے لگا کہ اللہ کی قسم! میں برابر جہاز کی تلاش میں رہا تاکہ تمہارا قرض ادا کر دوں مگر جس جہاز میں اب آیا ہوں، اس سے پہلے کوئی جہاز نہ پا سکا۔ قرض خواہ نے پوچھا: کیا تو نے اس سے پہلے میرے پاس کچھ بھیجا تھا؟ مقروض نے کہا: میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ میں جس جہاز میں آیا ہوں اس سے پہلے مجھے کوئی جہاز نہیں ملا۔ قرض خواہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تیری اس امانت کو مجھے پہنچا دیا جو تو نے لکڑی میں بھیجی تھی۔ چنانچہ اب تو ہزار دینار لے کر بخوشی واپس چلا جا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الكفالة/حدیث: 2291]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
2. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالَّذِينَ عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ نساء میں) یہ ارشاد کہ ”جن لوگوں سے تم نے قسم کھا کر عہد کیا ہے، ان کا حصہ ان کو ادا کرو“۔
حدیث نمبر: 2292
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِدْرِيسَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ سورة النساء آية 33، قَالَ وَرَثَةً: وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 33، قَالَ:" كَانَ الْمُهَاجِرُونَ لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَرِثُ الْمُهَاجِرُ الْأَنْصَارِيَّ، دُونَ ذَوِي رَحِمِهِ لِلْأُخُوَّةِ الَّتِي آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ، فَلَمَّا نَزَلَتْ: وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ سورة النساء آية 33، نَسَخَتْ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 33، إِلَّا النَّصْرَ، وَالرِّفَادَةَ، وَالنَّصِيحَةَ، وَقَدْ ذَهَبَ الْمِيرَاثُ وَيُوصِي لَهُ".
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ادریس نے، ان سے طلحہ بن مصرف نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کہ (قرآن مجید کی آیت «ولكل جعلنا موالي») کے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ( «موالي» کے معنی) ورثہ کے ہیں۔ اور «والذين عقدت أيمانكم» (کا قصہ یہ ہے کہ) مہاجرین جب مدینہ آئے تو مہاجر انصار کا ترکہ پاتے تھے اور انصاری کے ناتہ داروں کو کچھ نہ ملتا۔ اس بھائی پنے کی وجہ سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کی ہوئی تھی۔ پھر جب آیت «ولكل جعلنا موالي» ہوئی تو پہلی آیت «والذين عقدت أيمانكم» منسوخ ہو گئی۔ سوا امداد، تعاون اور خیر خواہی کے۔ البتہ میراث کا حکم (جو انصار و مہاجرین کے درمیان مواخاۃ کی وجہ سے تھا) وہ منسوخ ہو گیا اور وصیت جتنی چاہے کی جا سکتی ہے۔ (جیسی اور شخصوں کے لیے بھی ہو سکتی ہے تہائی ترکہ میں سے وصیت کی جا سکتی ہے جس کا نفاذ کیا جائے گا۔) [صحيح البخاري/كتاب الكفالة/حدیث: 2292]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ﴾ [سورة النساء: 33] ”اور ہم نے ہر ایک کے لیے موالی ٹھہرائے ہیں“ کے متعلق روایت ہے کہ «الْمَوَالِي» سے مراد وارث ہیں، اور ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 33] ”اور جن سے تم نے قسم اٹھا کر پیمان باندھا“ کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ مہاجرین جب مدینہ طیبہ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اور انصار میں بھائی چارہ کرا دیا، چنانچہ مہاجر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کرائے ہوئے اس مواخات کے سبب انصاری کا ترکہ پاتا اور اس کے رشتہ داروں کو کچھ نہ ملتا تھا، اور جب یہ آیت ﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ﴾ [سورة النساء: 33] نازل ہوئی تو اس سے مذکورہ اجازت ﴿فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ [سورة النساء: 33] ”اور جن لوگوں سے تم نے قسم اٹھا کر عہد و پیمان کیا انہیں ان کا حصہ دو“ منسوخ ہوگئی، پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اب ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 33] کی رو سے صرف مدد، معاونت اور خیر خواہی کی گنجائش باقی رہی اور وراثت میں حصہ پانے کا حق جاتا رہا، البتہ ان کے لیے وصیت کی جا سکتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الكفالة/حدیث: 2292]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2293
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَآخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں آئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بھائی چارہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ سے کرایا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الكفالة/حدیث: 2293]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اور حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ میں بھائی چارہ کرا دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الكفالة/حدیث: 2293]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2294
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبَلَغَكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ"، فَقَالَ: قَدْ حَالَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ، وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِي.
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، ان سے عاصم بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ کو یہ بات معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا، اسلام میں جاہلیت والے (غلط قسم کے) عہد و پیمان نہیں ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو خود انصار اور قریش کے درمیان میرے گھر میں عہد و پیمان کرایا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الكفالة/حدیث: 2294]
عاصم رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: کیا آپ کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں عقدِ حلف کی کوئی حیثیت نہیں ہے“؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور انصار میں عہد و پیمان میرے اپنے گھر میں کرایا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الكفالة/حدیث: 2294]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
3. بَابُ مَنْ تَكَفَّلَ عَنْ مَيِّتٍ دَيْنًا فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ:
باب: جو شخص کسی میت کے قرض کا ضامن بن جائے تو اس کے بعد اس سے رجوع نہیں کر سکتا۔
حدیث نمبر: Q2295
وَبِهِ قَالَ الْحَسَنُ.
اور حسن نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الكفالة/حدیث: Q2295]
حدیث نمبر: 2295
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: هَلْ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ؟ قَالُوا: لَا، فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ أُخْرَى، فَقَالَ: هَلْ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ"، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: عَلَيَّ دَيْنُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ.
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے، ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں نماز پڑھنے کے لیے کسی کا جنازہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا۔ کیا اس میت پر کسی کا قرض تھا؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھا دی۔ پھر ایک اور جنازہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، میت پر کسی کا قرض تھا؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں تھا۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ پھر اپنے ساتھی کی تم ہی نماز پڑھ لو۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ان کا قرض میں ادا کر دوں گا۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الكفالة/حدیث: 2295]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس پر نمازِ جنازہ پڑھیں۔ آپ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: نہیں۔ تو آپ نے اس پر نمازِ جنازہ پڑھی۔ پھر ایک اور جنازہ لایا گیا تو آپ نے اس پر نمازِ جنازہ پڑھی۔ پھر ایک اور جنازہ لایا گیا تو آپ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”تم اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔“ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس کا قرض اپنے ذمہ لیتا ہوں۔ تب آپ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الكفالة/حدیث: 2295]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2296
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ قَدْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ قَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، فَلَمْ يَجِئْ مَالُ الْبَحْرَيْنِ حَتَّى قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَمَرَ أَبُو بَكْرٍ فَنَادَى مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ أَوْ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِي: كَذَا وَكَذَا، فَحَثَى لِي حَثْيَةً فَعَدَدْتُهَا، فَإِذَا هِيَ خَمْسُ مِائَةٍ، وَقَالَ: خُذْ مِثْلَيْهَا".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن علی باقر سے سنا، اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بحرین سے (جزیہ کا) مال آیا تو میں تمہیں اس طرح دونوں لپ بھربھر کر دوں گا لیکن بحرین سے مال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک نہیں آیا پھر جب اس کے بعد وہاں سے مال آیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اعلان کرا دیا کہ جس سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی وعدہ ہو یا آپ پر کسی کا قرض ہو وہ ہمارے یہاں آ جائے۔ چنانچہ میں حاضر ہوا۔ اور میں نے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ وہ باتیں فرمائی تھیں۔ جسے سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک لپ بھر کر دیا۔ میں نے اسے شمار کیا تو وہ پانچ سو کی رقم تھی۔ پھر فرمایا کہ اس کے دو گنا اور لے لو۔ [صحيح البخاري/كتاب الكفالة/حدیث: 2296]
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھ سے) فرمایا: ”اگر بحرین کا خراج آیا تو میں تجھے اس طرح (دونوں لپ بھر کر) دوں گا۔“ لیکن بحرین کا خراج آنے سے پہلے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے۔ جب بحرین کا خراج آیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے منادی کرائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سے کوئی وعدہ کیا ہو یا اس کا آپ پر قرض ہو تو وہ ہمارے پاس آئے، چنانچہ میں آپ کے پاس گیا اور عرض کیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اتنا اتنا دینے کا وعدہ کیا تھا، تو انہوں نے مجھے لپ بھر روپے دیے۔ میں نے انہیں گنا تو وہ پانچ سو تھے۔ انہوں نے فرمایا: اس سے دوگنا (مزید) لے لو۔ [صحيح البخاري/كتاب الكفالة/حدیث: 2296]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
4. بَابُ جِوَارِ أَبِي بَكْرٍ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَقْدِهِ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کا (ایک مشرک کو) امان دینا اور اس کے ساتھ آپ کا عہد کرنا۔
حدیث نمبر: 2297
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ قَطُّ إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ"، وَقَالَ أَبُو صَالِحٍ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ:أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ قَطُّ إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ، وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، طَرَفَيِ النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً، فَلَمَّا ابْتُلِيَ الْمُسْلِمُونَ، خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرًا قِبَلَ الْحَبَشَةِ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ بَرْكَ الْغِمَادِ، لَقِيَهُ ابْنُ الدَّغِنَةِ وَهُوَ سَيِّدُ الْقَارَةِ، فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ يَا أَبَا بَكْرٍ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَخْرَجَنِي قَوْمِي، فَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسِيحَ فِي الْأَرْضِ فَأَعْبُدَ رَبِّي، قَالَ ابْنُ الدَّغِنَةِ: إِنَّ مِثْلَكَ لَا يَخْرُجُ وَلَا يُخْرَجُ، فَإِنَّكَ تَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ، وَأَنَا لَكَ جَارٌ فَارْجِعْ، فَاعْبُدْ رَبَّكَ بِبِلَادِكَ، فَارْتَحَلَ ابْنُ الدَّغِنَةِ، فَرَجَعَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فَطَافَ فِي أَشْرَافِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لَا يَخْرُجُ مِثْلُهُ وَلَا يُخْرَجُ، أَتُخْرِجُونَ رَجُلًا يُكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَيَصِلُ الرَّحِمَ، وَيَحْمِلُ الْكَلَّ، وَيَقْرِي الضَّيْفَ، وَيُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ، فَأَنْفَذَتْ قُرَيْشٌ جِوَارَ ابْنِ الدَّغِنَةِ، وَآمَنُوا أَبَا بَكْرٍ، وَقَالُوا لِابْنِ الدَّغِنَةِ: مُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيَعْبُدْ رَبَّهُ فِي دَارِهِ، فَلْيُصَلِّ، وَلْيَقْرَأْ مَا شَاءَ، وَلَا يُؤْذِينَا بِذَلِكَ، وَلَا يَسْتَعْلِنْ بِهِ، فَإِنَّا قَدْ خَشِينَا أَنْ يَفْتِنَ أَبْنَاءَنَا وَنِسَاءَنَا، قَالَ ذَلِكَابْنُ الدَّغِنَةِ لِأَبِي بَكْرٍ، فَطَفِقَ أَبُو بَكْرٍ يَعْبُدُ رَبَّهُ فِي دَارِهِ، وَلَا يَسْتَعْلِنُ بِالصَّلَاةِ، وَلَا الْقِرَاءَةِ فِي غَيْرِ دَارِهِ، ثُمَّ بَدَا لِأَبِي بَكْرٍ فَابْتَنَى مَسْجِدًا بِفِنَاءِ دَارِهِ وَبَرَزَ، فَكَانَ يُصَلِّي فِيهِ وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَيَتَقَصَّفُ عَلَيْهِ نِسَاءُ الْمُشْرِكِينَ، وَأَبْنَاؤُهُمْ، يَعْجَبُونَ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا بَكَّاءً، لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ حِينَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَأَفْزَعَ ذَلِكَ أَشْرَافَ قُرَيْشٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَأَرْسَلُوا إِلَى ابْنِ الدَّغِنَةِ فَقَدِمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا لَهُ: إِنَّا كُنَّا أَجَرْنَا أَبَا بَكْرٍ عَلَى أَنْ يَعْبُدَ رَبَّهُ فِي دَارِهِ، وَإِنَّهُ جَاوَزَ ذَلِكَ، فَابْتَنَى مَسْجِدًا بِفِنَاءِ دَارِهِ، وَأَعْلَنَ الصَّلَاةَ وَالْقِرَاءَةَ، وَقَدْ خَشِينَا أَنْ يَفْتِنَ أَبْنَاءَنَا وَنِسَاءَنَا فَأْتِهِ، فَإِنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْتَصِرَ عَلَى أَنْ يَعْبُدَ رَبَّهُ فِي دَارِهِ فَعَلَ، وَإِنْ أَبَى إِلَّا أَنْ يُعْلِنَ ذَلِكَ، فَسَلْهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْكَ ذِمَّتَكَ، فَإِنَّا كَرِهْنَا أَنْ نُخْفِرَكَ وَلَسْنَا مُقِرِّينَ لِأَبِي بَكْرٍ الِاسْتِعْلَانَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَتَى ابْنُ الدَّغِنَةِ أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتَ الَّذِي عَقَدْتُ لَكَ عَلَيْهِ، فَإِمَّا أَنْ تَقْتَصِرَ عَلَى ذَلِكَ، وَإِمَّا أَنْ تَرُدَّ إِلَيَّ ذِمَّتِي، فَإِنِّي لَا أُحِبُّ أَنْ تَسْمَعَ الْعَرَبُ، أَنِّي أُخْفِرْتُ فِي رَجُلٍ عَقَدْتُ لَهُ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنِّي أَرُدُّ إِلَيْكَ جِوَارَكَ، وَأَرْضَى بِجِوَارِ اللَّهِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أُرِيتُ دَارَ هِجْرَتِكُمْ، رَأَيْتُ سَبْخَةً ذَاتَ نَخْلٍ بَيْنَ لَابَتَيْنِ وَهُمَا الْحَرَّتَانِ، فَهَاجَرَ مَنْ هَاجَرَ قِبَلَ الْمَدِينَةِ، حِينَ ذَكَرَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ بَعْضُ مَنْ كَانَ هَاجَرَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَتَجَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى رِسْلِكَ، فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤْذَنَ لِي، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَلْ تَرْجُو ذَلِكَ بِأَبِي أَنْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَحَبَسَ أَبُو بَكْرٍ نَفْسَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَصْحَبَهُ، وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ كَانَتَا عِنْدَهُ وَرَقَ السَّمُرِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے کہ ابن شہاب نے بیان کیا، اور انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا تو اپنے والدین کو اسی دین اسلام کا پیروکار پایا۔ اور ابوصالح سلیمان نے بیان کیا کہ مجھ سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا۔ ان سے یونس نے، اور ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے جب ہوش سنبھالا تو اپنے والدین کو دین اسلام کا پیروکار پایا۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں صبح و شام دونوں وقت تشریف نہ لاتے ہوں۔ پھر جب مسلمانوں کو بہت زیادہ تکلیف ہونے لگی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ہجرت حبشہ کا ارادہ کیا۔ جب آپ برک غماد پہنچے تو وہاں آپ کی ملاقات قارہ کے سردار مالک ابن الدغنہ سے ہوئی۔ اس نے پوچھا، ابوبکر! کہاں کا ارادہ ہے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کا جواب یہ دیا کہ میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے۔ اور اب تو یہی ارادہ ہے کہ اللہ کی زمین میں سیر کروں اور اپنے رب کی عبادت کرتا رہوں۔ اس پر مالک بن الدغنہ نے کہا کہ آپ جیسا انسان (اپنے وطن سے) نہیں نکل سکتا اور نہ اسے نکالا جا سکتا ہے۔ کہ آپ تو محتاجوں کے لیے کماتے ہیں، صلہ رحمی کرتے ہیں۔ مجبوروں کا بوجھ اپنے سر لیتے ہیں۔ مہمان نوازی کرتے ہیں۔ اور حادثوں میں حق بات کی مدد کرتے ہیں۔ آپ کو میں امان دیتا ہوں۔ آپ چلئے اور اپنے ہی شہر میں اپنے رب کی عبادت کیجئے۔ چنانچہ ابن الدغنہ اپنے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لے کر آیا اور مکہ پہنچ کر کفار قریش کے تمام اشراف کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ ابوبکر جیسا نیک آدمی (اپنے وطن سے) نہیں نکل سکتا۔ اور نہ اسے نکالا جا سکتا ہے۔ کیا تم ایسے شخص کو بھی نکال دو گے جو محتاجوں کے لیے کماتا ہے اور جو صلہ رحمی کرتا ہے اور جو مجبوروں اور کمزوروں کا بوجھ اپنے سر پر لیتا ہے۔ اور جو مہمان نوازی کرتا ہے اور جو حادثوں میں حق بات کی مدد کرتا ہے۔ چنانچہ قریش نے ابن الدغنہ کی امان کو مان لیا۔ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امان دے دی۔ پھر ابن الدغنہ سے کہا کہ ابوبکر کو اس کی تاکید کر دینا کہ اپنے رب کی عبادت اپنے گھر ہی میں کر لیا کریں۔ وہاں جس طرح چاہیں نماز پڑھیں، اور قرآن کی تلاوت کریں، لیکن ہمیں ان چیزوں کی وجہ سے کوئی ایذا نہ دیں اور نہ اس کا اظہار کریں، کیونکہ ہمیں اس کا ڈر ہے کہ کہیں ہمارے بچے اور ہماری عورتیں فتنہ میں نہ پڑ جائیں۔ ابن الدغنہ نے یہ باتیں جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سنائیں تو آپ اپنے رب کی عبادت گھر کے اندر ہی کرنے لگے۔ نہ نماز میں کسی قسم کا اظہار کرتے اور نہ اپنے گھر کے سوا کسی دوسری جگہ تلاوت کرتے۔ پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کچھ دنوں بعد ایسا کیا کہ آپ نے اپنے گھر کے سامنے نماز کے لیے ایک جگہ بنا لی۔ اب آپ ظاہر ہو کر وہاں نماز پڑھنے لگے۔ اور اسی پر تلاوت قرآن کرنے لگے۔ پس پھر کیا تھا مشرکین کے بچوں اور ان کی عورتوں کا مجمع لگنے لگا۔ سب حیرت اور تعجب کی نگاہوں سے انہیں دیکھتے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے ہی رونے والے تھے۔ جب قرآن پڑھنے لگتے تو آنسوؤں پر قابو نہ رہتا۔ اس صورت حال سے اکابر مشرکین قریش گھبرائے اور سب نے ابن الدغنہ کو بلا بھیجا۔ ابن الدغنہ ان کے پاس آیا تو ان سب نے کہا کہ ہم نے تو ابوبکر کو اس لیے امان دی تھی کہ وہ اپنے رب کی عبادت گھر کے اندر ہی کریں گے، لیکن وہ تو زیادتی پر اتر آئے اور گھر کے سامنے نماز پڑھنے کی ایک جگہ بنا لی ہے۔ نماز بھی سب کے سامنے ہی پڑھنے لگے ہیں اور تلاوت بھی سب کے سامنے کرنے لگے ہیں۔ ڈر ہمیں اپنی اولاد اور عورتوں کا ہے کہ کہیں وہ فتنہ میں نہ پڑ جائیں۔ اس لیے اب تم ان کے پاس جاؤ۔ اگر وہ اس پر تیار ہو جائیں کہ اپنے رب کی عبادت صرف اپنے گھر کے اندر ہی کریں، پھر تو کوئی بات نہیں، لیکن اگر انہیں اس سے انکار ہو تو تم ان سے کہو کہ وہ تمہاری امان تمہیں واپس کر دیں۔ کیونکہ ہمیں یہ پسند نہیں کہ تمہاری امان کو ہم توڑ دیں۔ لیکن اس طرح انہیں اظہار اور اعلان بھی کرنے نہیں دیں گے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اس کے بعد ابن الدغنہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ آپ کو معلوم ہے وہ شرط جس پر میرا آپ سے عہد ہوا تھا۔ اب یا تو آپ اس شرط کی حدود میں رہیں یا میری امان مجھے واپس کر دیں۔ کیونکہ یہ میں پسند نہیں کرتا کہ عرب کے کانوں تک یہ بات پہنچے کہ میں نے ایک شخص کو امان دی تھی لیکن وہ امان توڑ دی گئی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہاری امان تمہیں واپس کرتا ہوں میں تو بس اپنے اللہ کی امان سے خوش ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مکہ ہی میں موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے تمہاری ہجرت کا مقام دکھلایا گیا ہے۔ میں نے ایک کھاری نمکین زمین دیکھی ہے۔ جہاں کھجور کے باغات ہیں اور وہ پتھریلے میدانوں کے درمیان میں ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اظہار فرما دیا تو جن مسلمانوں نے ہجرت کرنی چاہی وہ پہلے ہی مدینہ ہجرت کر کے چلے گئے۔ بلکہ بعض وہ صحابہ بھی جو حبشہ ہجرت کر کے چلے گئے تھے وہ بھی مدینہ آ گئے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی ہجرت کی تیاریاں کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، جلدی نہ کرو، امید ہے کہ مجھے بھی جلد ہی اجازت مل جائے گی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! کیا آپ کو اس کی امید ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ضرور! چنانچہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرنے لگے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کریں۔ ان کے پاس دو اونٹ تھے، انہیں چار مہینے تک وہ ببول کے پتے کھلاتے رہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الكفالة/حدیث: 2297]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ (اُم المومنین) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا اپنے والدین کو اسی دینِ اسلام پر پایا اور ہم پر کوئی دن نہیں گزرتا تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام دونوں وقت ہمارے ہاں تشریف لاتے تھے۔ جب مسلمانوں کی آزمائش بہت شدید ہو گئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے نکلے یہاں تک کہ جب وہ برکِ غماد پہنچے تو انہیں ابنِ دغنہ ملا جو قارہ قبیلے کا سردار تھا۔ اس نے پوچھا: اے ابوبکر رضی اللہ عنہ! کہاں کا ارادہ ہے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے تو میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی زمین میں گھوم پھر کر اس کی عبادت کرتا رہوں۔ ابنِ دغنہ نے کہا: تم جیسا کوئی شخص نہ خود نکلتا ہے اور نہ ہی نکالا جاتا ہے کیونکہ تم غریبوں کی اعانت کرتے ہو، صلہ رحمی کرتے ہو، لوگوں کا بار (بوجھ) اٹھاتے ہو، مہمانوں کی میزبانی کرتے ہو اور حق پر ثابت رہنے کی وجہ سے کسی پر آنے والے مسائل و مشکلات میں ان کی مدد کرتے ہو۔ آؤ میں تمہیں پناہ دیتا ہوں، گھر واپس چلے آؤ اور اپنے شہر میں اپنے رب کی عبادت کرو، چنانچہ ابنِ دغنہ وہاں سے روانہ ہوا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ واپس آگیا۔ اس کے بعد ابنِ دغنہ گھوم پھر کر کفارِ قریش کے سرداروں سے ملا اور ان سے کہنے لگا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسا انسان نہ خود نکل سکتا ہے اور نہ ہی اسے نکالا جا سکتا ہے۔ کیا تم ایسے شخص کو یہاں سے نکلنے پر مجبور کرتے ہو جو بے بس لوگوں کے لیے کمائی کرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے، عاجز اور مجبور لوگوں کا بوجھ اٹھاتا ہے، مہمانوں کی میزبانی کرتا ہے اور حق پر ثابت قدم رہنے والوں پر آنے والی مشکلات میں اس کی مدد کرتا ہے؟ چنانچہ قریش نے ابنِ دغنہ کی پناہ کو مان لیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امان دے دی لیکن ابنِ دغنہ سے انہوں نے کہا کہ آپ انہیں خبردار کر دیں کہ وہ اپنے گھر میں اپنے رب کی عبادت کریں، نماز پڑھیں اور جو چاہیں قرأت کریں مگر ہمیں اذیت نہ دیں اور نہ اس کا اعلان ہی کریں کیونکہ ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہمارے بچوں اور عورتوں کو فتنے میں مبتلا کر دیں گے۔ ابنِ دغنہ نے یہ سب کچھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہہ دیا۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں عبادت کرنے لگے اور علانیہ اپنے گھر کے سوا کسی دوسری جگہ نماز اور قرآن پڑھنا چھوڑ دیا۔ پھر انہیں خیال آیا تو انہوں نے اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنا لی اور باہر نکل کر وہاں نماز پڑھنا شروع کر دی۔ وہ جب وہاں قرآن پڑھتے تو ان کے پاس مشرکین کے بچوں اور عورتوں کا ہجوم ہو جاتا، وہ تعجب کرتے اور انہیں غور سے دیکھتے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بہت رونے والے انسان تھے، وہ جب قرآن پڑھتے تو اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ سکتے تھے، اس چیز نے مشرکین کے سرداروں کو گھبراہٹ میں ڈال دیا تو انہوں نے ابنِ دغنہ کو پیغام بھیجا۔ وہ آیا تو انہوں نے اس سے کہا: ہم نے ابوبکر کو اس شرط پر امان دی تھی کہ وہ اپنے گھر میں اپنے رب کی عبادت کریں، لیکن انہوں نے اس سے آگے ایک اور قدم بڑھا لیا ہے اور اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنا لی ہے، اس میں علانیہ طور پر نماز پڑھنے اور قرآن کی تلاوت کرنے لگے ہیں۔ ہمیں خطرہ ہے کہ وہ اس طرح ہمارے بچوں اور عورتوں کو فتنے میں مبتلا کر دیں گے۔ تو ان کے پاس جاؤ اگر وہ اپنے گھر میں اپنے رب کی عبادت کرنے پر قناعت کریں تو ٹھیک ہے اور اگر وہ اس پر راضی نہیں اور علانیہ عبادت کرنا چاہتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ وہ تمہیں تمہارا عہد (اور ذمہ) واپس کر دیں کیونکہ ہمیں تمہاری امان توڑنا اچھا معلوم نہیں ہوتا اور نہ ہمیں ابوبکر کا اس طرح علانیہ عبادت کرنا ہی گوارا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ابنِ دغنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: آپ جانتے ہیں کہ جس شرط پر میں نے آپ کا ذمہ لیا تھا یا تو آپ اسی شرط پر قائم رہیں بصورتِ دیگر میرا ذمہ میرے حوالے کر دیں، کیونکہ یہ بات مجھے قطعاً گوارا نہیں کہ اہل عرب کے ہاں اس بات کا چرچا ہو کہ میں نے ایک شخص کا ذمہ لیا تھا جسے توڑ دیا گیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تیرا ذمہ تیرے حوالے کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی پناہ پر راضی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مکہ ہی میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تمہاری ہجرت کا مقام دکھایا گیا ہے۔ میں نے دو پتھریلے میدانوں کے درمیان کھجور کے درختوں پر مشتمل کلر والی زمین دیکھی ہے۔“ جب مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سنی تو جن لوگوں نے ہجرت کرنی چاہی وہ مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کر گئے اور بعض لوگ (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) جو ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے تھے وہ بھی مدینہ کی طرف لوٹ آئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی ہجرت کی تیاری شروع کر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”ابھی ذرا ٹھہرو (جلدی نہ کرو) کیونکہ امید ہے کہ مجھے بھی ہجرت کی اجازت مل جائے گی۔“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! کیا آپ بھی ہجرت کے امیدوار ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کرنے کے لیے رک گئے۔ چنانچہ انہوں نے دو اونٹنیاں اس سفر کے لیے خاص طور پر رکھیں اور چار مہینے تک انہیں کیکر کے پتے بطور چارہ کھلاتے رہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الكفالة/حدیث: 2297]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
5. بَابُ الدَّيْنِ:
باب: قرض کا بیان۔
حدیث نمبر: 2298
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمُتَوَفَّى عَلَيْهِ الدَّيْنُ فَيَسْأَلُ، هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ فَضْلًا؟ فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهُ تَرَكَ لِدَيْنِهِ وَفَاءً صَلَّى، وَإِلَّا، قَالَ لِلْمُسْلِمِينَ: صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ، قَالَ: أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ تُوُفِّيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَتَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کسی ایسی میت کو لایا جاتا جس پر کسی کا قرض ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ کیا اس نے اپنے قرض کے ادا کرنے کے لیے بھی کچھ چھوڑا ہے؟ پھر اگر کوئی آپ کو بتا دیتا کہ ہاں اتنا مال ہے جس سے قرض ادا ہو سکتا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز پڑھاتے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں ہی سے فرما دیتے کہ اپنے ساتھی کی نماز پڑھ لو۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فتح کے دروازے کھول دیئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں مسلمانوں کا خود ان کی ذات سے بھی زیادہ مستحق ہوں۔ اس لیے اب جو بھی مسلمان وفات پا جائے اور وہ مقروض رہا ہو تو اس کا قرض ادا کرنا میرے ذمے ہے اور جو مسلمان مال چھوڑ جائے وہ اس کے وارثوں کا حق ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الكفالة/حدیث: 2298]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی میت لائی جاتی جس پر قرض ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے: ”کیا اس نے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ مال چھوڑا ہے؟“ اگر بیان کیا جاتا کہ اس نے اتنا مال چھوڑا ہے جس سے قرض کی ادائیگی ہو سکتی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھ دیتے، ورنہ مسلمانوں سے کہہ دیتے: ”تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو۔“ جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فتوحات کے دروازے کھول دیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اہل ایمان پر خود ان سے بھی زیادہ حق رکھتا ہوں۔ لہٰذا جو کوئی مومن فوت ہو جائے اور وہ قرض چھوڑ جائے تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہوگی اور جو مال چھوڑے وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الكفالة/حدیث: 2298]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة