شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
سرکہ بہترین سالن ہے
حدیث نمبر: 150
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ» قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فِي حَدِيثِهِ: «نِعْمَ الْإِدَامُ أَوِ الْأُدْمُ الْخَلُّ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ ایک عمدہ سالن ہے۔“ عبداللہ بن عبدالرحمان نے اپنی حدیث میں «نعم الإدام» یا «الأدام» کہا ہے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة إدام رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 150]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
«سنن ترمذي: 1840، وقال: حسن صحيح غريب . صحيح مسلم: 2051، دارالسلام:5350-5351 . سنن عبدالله بن عبدالرحمٰن الدارمي: 101/2 ح 2055»
«سنن ترمذي: 1840، وقال: حسن صحيح غريب . صحيح مسلم: 2051، دارالسلام:5350-5351 . سنن عبدالله بن عبدالرحمٰن الدارمي: 101/2 ح 2055»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معمولی قسم کی کھجوریں بھی . . .
حدیث نمبر: 151
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ: «أَلَسْتُمْ فِي طَعَامٍ وَشَرَابٍ مَا شِئِتُمْ؟ لَقَدْ رَأَيْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَجِدُ مِنَ الدَّقَلِ مَا يَمْلَأُ بَطْنَهُ»
سماک بن حرب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: کیا تم چاہت اور مرضی کے کھانے پینے میں (مگن) نہیں ہو؟ حالانکہ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نکمی اور گھٹیا کھجوریں اتنی بھی نہ ہوتیں جن سے وہ شکم سیری کر سکیں۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة إدام رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 151]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
«سنن ترمذي: 2372، وقال: هذا حديث حسن صحيح . صحيح مسلم 2977، دارالسلام: 7459»
«سنن ترمذي: 2372، وقال: هذا حديث حسن صحيح . صحيح مسلم 2977، دارالسلام: 7459»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
سرکہ ایک بہترین سالن ہے
حدیث نمبر: 152
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نِعْمَ الْإِدَامُ أَوِ الْأُدْمُ: الْخَلُّ"
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ ایک بہترین سالن ہے۔“ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة إدام رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 152]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
«سنن الترمذي: 1842 . سنن ابي داود: 3820»
اس روایت کی سند سفیان ثوری (مدلس) کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے اور سنن ابن ماجہ (3317) میں ان کی متابعت قیس بن الربیع (ضعیف راوی) سے مروی ہے، لیکن اس سند میں قیس کا شاگرد جبارہ بن مغلس سخت مجروح اور ساقط العدالت ہے، لہٰذا یہ متابعت مردودہے۔
حدیث سابق (150) صحیح ہے اور اس روایت کا صحیح شاہد ہے، جس کے ساتھ یہ روایت بھی صحیح ہے۔
«سنن الترمذي: 1842 . سنن ابي داود: 3820»
اس روایت کی سند سفیان ثوری (مدلس) کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے اور سنن ابن ماجہ (3317) میں ان کی متابعت قیس بن الربیع (ضعیف راوی) سے مروی ہے، لیکن اس سند میں قیس کا شاگرد جبارہ بن مغلس سخت مجروح اور ساقط العدالت ہے، لہٰذا یہ متابعت مردودہے۔
حدیث سابق (150) صحیح ہے اور اس روایت کا صحیح شاہد ہے، جس کے ساتھ یہ روایت بھی صحیح ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرغی کا گوشت کھایا
حدیث نمبر: 153
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، فَأُتِيَ بِلَحْمِ دَجَاجٍ فَتَنَحَّى رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ: مَا لَكَ؟ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُهَا تَأْكُلُ شَيْئًا فَحَلَفْتُ أَنْ لَا آكُلَهَا قَالَ: «ادْنُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ لَحْمَ دَجَاجٍ»
زہدم الجرمی سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو مرغی کا گوشت لایا گیا تو ایک آدمی کھانے والوں میں سے الگ ہو گیا، (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے) کہا: تجھے کیا ہوا؟ کہنے لگا: میں نے اس کو ایک بدبودار چیز کھاتے ہوئے دیکھا تو میں نے قسم کھا لی کہ اسے کبھی نہ کھاؤں گا۔ تو (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے) کہا: قریب ہو جاؤ، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغی کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة إدام رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 153]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
«سنن ترمذي:1827، مختصرا وقال: حسن صحيح . صحيح بخاري: 5517 . صحيح مسلم: 1649 من حديث سفيان الثوري به و للحديث طرق عند البخاري (4385) وغيره»
«سنن ترمذي:1827، مختصرا وقال: حسن صحيح . صحيح بخاري: 5517 . صحيح مسلم: 1649 من حديث سفيان الثوري به و للحديث طرق عند البخاري (4385) وغيره»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سرخاب کا گوشت کھایا
حدیث نمبر: 154
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ الْبَغْدَادِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَفِينَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «أَكَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمَ حُبَارَى»
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سرخاب کا گوشت کھایا۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة إدام رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 154]
تخریج الحدیث: { «سنده ضعيف» }:
«سنن ترمذي: 1828، وقال: غريب . . . . سنن ابي داود: 3797»
یہ روایت اس وجہ سے ضعیف ہے کہ اس کا راوی ابراہیم بن عمر بن سفینہ ضعیف ہے، اسے صرف ابن عدی نے ثقہ قرار دیا اور عقیلی، ابن حبان اور ذہبی یعنی جمہور نے ضعیف قرار دیا۔
(سابقہ) حدیث (153) میں یہ دلیل ہے کہ مرغی حلال ہے اور طیبات میں سے ہے۔
«سنن ترمذي: 1828، وقال: غريب . . . . سنن ابي داود: 3797»
یہ روایت اس وجہ سے ضعیف ہے کہ اس کا راوی ابراہیم بن عمر بن سفینہ ضعیف ہے، اسے صرف ابن عدی نے ثقہ قرار دیا اور عقیلی، ابن حبان اور ذہبی یعنی جمہور نے ضعیف قرار دیا۔
(سابقہ) حدیث (153) میں یہ دلیل ہے کہ مرغی حلال ہے اور طیبات میں سے ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
مرغی کا گوشت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی تناول فرمایا
حدیث نمبر: 155
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: فَقَدَّمَ طَعَامَهُ وَقَدَّمَ فِي طَعَامِهِ لَحْمَ دَجَاجٍ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مَوْلًى قَالَ: فَلَمْ يَدْنُ فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: «ادْنُ، فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ مِنْهُ» ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَطْعَمَهُ أَبَدًا
زہدم الجرمی سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھانا لایا گیا اور اس کھانے میں مرغی کا گوشت تھا۔ حاضرین میں بنو تیم اللہ کا سرخ رنگ کا ایک شخص بھی موجود تھا جو کہ آزاد شدہ غلام معلوم ہوتا تھا، وہ قریب نہ ہوا تو سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قریب ہو جاؤ، یقیناً میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے کھاتے دیکھا ہے، اس نے کہا: میں نے اسے کچھ (گندی) چیز کھاتے دیکھا تو میں اس سے کراہت کرنے لگا تب میں نے قسم اٹھا لی کہ میں اسے کبھی نہ کھاؤں گا۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة إدام رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 155]
تخریج الحدیث: { «سنده صحيح» }:
ديكهئيے حديث سابق:153
ديكهئيے حديث سابق:153
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح
زیتون کا تیل استعمال کرو
حدیث نمبر: 156
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُقَالُ: لَهُ عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي أَسِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ؛ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ»
سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم زیتون کھاؤ اور اس کا تیل استعمال کرو کیونکہ یہ بابرکت درخت (کا پھل) ہے۔“ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة إدام رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 156]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
«سنن ترمذي: 1852، وقال: هذا حديث غريب . . . مسند احمد: 497/3 ح 16054 . المعجم الكبير للطبراني: 269/19 . 270 ح 597»
روایت مذکورہ میں زھیر بن معاویہ نے سفیان ثوری کی متابعت کر رکھی ہے۔ [ديكهئے المعجم الكبير ح 596 ]
عطاء سے مراد ابن ابی رباح نہیں بلکہ کوئی اور شخص ہیں اور حاکم و ذہبی دونوں نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ [المستدرك مع التلخيص 397/2۔ 398 ح 3504 ]
لہٰذا وہ حسن الحدیث ہیں اور عبد اللہ بن عیسیٰ بھی جمہور کے نزدیک موثق ہونے کی وجہ سے صدوق حسن الحدیث ہیں۔
اس حدیث کے کئی شواہد بھی ہیں۔ مثلا دیکھئے آنے والی حدیث: 157
«سنن ترمذي: 1852، وقال: هذا حديث غريب . . . مسند احمد: 497/3 ح 16054 . المعجم الكبير للطبراني: 269/19 . 270 ح 597»
روایت مذکورہ میں زھیر بن معاویہ نے سفیان ثوری کی متابعت کر رکھی ہے۔ [ديكهئے المعجم الكبير ح 596 ]
عطاء سے مراد ابن ابی رباح نہیں بلکہ کوئی اور شخص ہیں اور حاکم و ذہبی دونوں نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ [المستدرك مع التلخيص 397/2۔ 398 ح 3504 ]
لہٰذا وہ حسن الحدیث ہیں اور عبد اللہ بن عیسیٰ بھی جمہور کے نزدیک موثق ہونے کی وجہ سے صدوق حسن الحدیث ہیں۔
اس حدیث کے کئی شواہد بھی ہیں۔ مثلا دیکھئے آنے والی حدیث: 157
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
زیتون بابرکت درخت ہے
حدیث نمبر: 157
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ؛ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ» قَالَ أَبُو عِيسَى: «وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ كَانَ يَضْطَرِبُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فَرُبَّمَا أَسْنَدَهُ، وَرُبَّمَا أَرْسَلَهُ»
امیر المؤمنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم زیتون کا تیل (اپنے کھانے میں ملا کر) کھاؤ اور اس کی (اپنے جسم پر) مالش کرو، کیونکہ یہ بابرکت درخت (کا پھل) ہے۔“ ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کی سند میں راوی عبدالرزاق کو اضطراب ہوتا ہے، کبھی اس کو مسند بیان کرتے ہیں اور کبھی مرسل بیان کرتے ہیں۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة إدام رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 157]
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح
حدیث نمبر: 158
حَدَّثَنَا السِّنْجِيُّ وَهُوَ أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ السِّنْجِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عُمَرَ
زید بن اسلم نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کیا ہے اور اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا واسطہ ذکر نہیں کیا۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة إدام رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 158]
تخریج الحدیث: { «سنده صحيح» }:
«سنن ترمذي: 1851، و ذكر كلاما . سنن ابن ماجه: 3319 . المستدرك: 122/4 وصححه الحاكم عليٰ شرط الشيخين ووافقه الذهبي و اورده الضياء المقدسي فى المختارة (175/1 ح 83،82)»
«سنن ترمذي: 1851، و ذكر كلاما . سنن ابن ماجه: 3319 . المستدرك: 122/4 وصححه الحاكم عليٰ شرط الشيخين ووافقه الذهبي و اورده الضياء المقدسي فى المختارة (175/1 ح 83،82)»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا
حدیث نمبر: 159
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الدُّبَّاءُ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ، أَوْ دُعِيَ لَهُ فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُهُ فَأَضَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ لِمَا أَعْلَمُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھے، آپ کی خدمت میں ایک کھانا لایا گیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی گئی تو میں اس میں سے کدو تلاش کر کے آپ کے سامنے رکھتا، کیونکہ میں بخوبی جانتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پسند فرماتے ہیں۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة إدام رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 159]
تخریج الحدیث: { «سنده صحيح» }:
«مسند احمد (177/3، 273، 279 زوائد عبد الله بن احمد، 290) . سنن دارمي: 2057 . السنن الكبريٰ للنسائي: 6664»
«مسند احمد (177/3، 273، 279 زوائد عبد الله بن احمد، 290) . سنن دارمي: 2057 . السنن الكبريٰ للنسائي: 6664»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح