🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
کسی نیکی کو حقیر نہ سمجھا جائے، عار دلانا اور سب و شتم کرنا منع ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 770 ترقیم فقہی: -- 2584
-" اتق الله عز وجل ولا تحقرن من المعروف شيئا ولو أن تفرغ من دلوك في إناء المستسقي وإياك والمخيلة فإن الله تبارك وتعالى لا يحب المخيلة وإن امرؤ شتمك وعيرك بأمر يعلمه فيك، فلا تعيره بأمر تعلمه فيه، فيكون لك أجره وعليه إثمه ولا تشتمن أحدا".
سیدنا جابر بن سَلِیم یا سُلَیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام میں تشریف فرما تھے۔ میں نے کہا: تم میں نبی کون ہے؟ جواباً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی طرف یا لوگوں نے آپ کی طرف اشارہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھٹنوں اور کمر کے گرد چادر باندھ کر اور گھٹنے کھڑے کر کے سرین کے بل بیٹھے تھے، چادر کا کنارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں پر لگ رہا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کچھ چیزوں کے بارے میں تند مزاج ہوں، آپ مجھے سکھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے ڈر جا، کسی نیکی کو حقیر مت جان، اگرچہ وہ پانی مانگنے والے کے برتن میں پانی ڈالنے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو، تکبر سے اجتناب کر، کیونکہ اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا، اگر کوئی آدمی تجھے گالی دے اور تجھے تیرے کسی عیب، جسے وہ جانتا ہے، کی بنا پر عار دلائے، تو تو اسے اس برائی کی بنا پر عار مت دلا جسے تو جانتا ہے، اس طرح کرنے سے اس کا اجر تجھے ملے گا اور اس کے گناہ کا وبال اسی پر ہو گا اور (‏‏‏‏یہ بھی یاد رکھ کہ) کسی کو گالی نہیں دینا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2584]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 770

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
تین نیکیاں اور تین برائیاں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 685 ترقیم فقہی: -- 2585
-" آمركم بثلاث وأنهاكم عن ثلاث، آمركم أن تعبدوا الله ولا تشركوا به شيئا وتعتصموا بحبل الله جميعا ولا تفرقوا وتطيعوا لمن ولاه الله عليكم أمركم. وأنهاكم عن قيل وقال وكثرة السؤال وإضاعة المال".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں تین چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور تین چیزوں سے منع کرتا ہوں: میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھراؤ اور سب کے سب اللہ کے دین پر مضبوطی سے ڈٹے رہو اور فرقوں میں مت پڑو اور جس کو اللہ تعالیٰ تمہارا حکمران بنا دے، اس کی اطاعت کرو اور میں تمہیں فضول باتوں، کثرت سوال اور فضول خرچی سے منع کرتا ہوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2585]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 685

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نماز اور غلاموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 868 ترقیم فقہی: -- 2586
-" اتقوا الله في الصلاة وما ملكت أيمانكم".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت کے دوران فرمایا: ”نماز اور اپنے غلاموں (‏‏‏‏اور مالوں) کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات باربار دہرائے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2586]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 868

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
بابرکت کھانا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 895 ترقیم فقہی: -- 2587
-" أحب الطعام إلى الله ما كثرت عليه الأيدي".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏اللہ تعالیٰ کے ہاں محبوب کھانا وہ ہے جس کو کھانے والے زیادہ ہوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2587]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 895

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ٹیک لگا کر کھانا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 544 ترقیم فقہی: -- 2588
-" آكل كما يأكل العبد وأجلس كما يجلس العبد".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے، ٹیک لگا کر کھا لیا کریں، کیونکہ اس میں آپ کے لیے زیادہ آسانی ہے۔ (‏‏‏‏یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اس قدر جھکایا کہ قریب تھا کہ آپ کی پیشانی زمین کو چھونے لگتی اور فرمایا: ”میں تو بندے کی طرح کھاؤں گا اور بندے کی طرح ہی بیٹھوں گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2588]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 544

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2104 ترقیم فقہی: -- 2589
-" ما رئي رسول الله صلى الله عليه وسلم يأكل متكئا قط، ولا يطأ عقبه رجلان".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹیک لگا کر کھانا کھاتے ہوئے دیکھا گیا اور (‏‏‏‏نہ یہ دیکھا گیا کہ) دو آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل رہے ہوں (‏‏‏‏اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے آگے ہوں)۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2589]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2104

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3122 ترقیم فقہی: -- 2590
- (لا تأكل متَّكِئاً، ولا على غِرْبَالٍ، ولا تتخِذَنَّ مِنَ المسجدِ مُصلىً لا تصلِّي إلا فيهِ، ولا تَخَطَّ رِقابَ الناسِ يومَ الجُمُعَةِ؛ فيجعلَكَ الله لُهمْ جسراً يوم القيامة) .
سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹیک لگا کر نہ کھانا، چھانے ہوئے آنے کی روٹی نہ کھانا، مسجد میں کوئی جگہ مقرر نہیں کرنا کہ اسی میں ہی نماز پڑھی جائے اور جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگنا، وگرنہ اللہ تعالیٰ روز قیامت تجھے لوگوں کے لیے پل بنا دے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2590]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3122

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
برتن میں رکھے ہوئے کھانے کی چوٹی سے کھانا ناپسندیدہ ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3125 ترقیم فقہی: -- 2591
- (كانَ يكرهُ أنْ يُؤْخَذَ مِنْ رأْسِ الطعامِ) .
سیدنا عبیداللہ بن علی بن ابورافع اپنی دادی سلمی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند کرتے تھے کہ (‏‏‏‏برتن وغیرہ میں رکھے ہوئے) کھانے کی چوٹی سے کھانا کھایا جائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2591]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3125

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کھڑا ہو کر کھانا پینا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3178 ترقیم فقہی: -- 2592
- (كنّا نشربُ ونحنُ قِيامٌ، ونأكلُ ونحنُ نمشي، على عهدِ رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم -) .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھڑے ہو کر (‏‏‏‏بھی) کھا پی لیتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2592]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3178

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
محبوب لوگ اور محبوب اعمال
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 906 ترقیم فقہی: -- 2593
-" أحب الناس إلى الله تعالى أنفعهم للناس وأحب الأعمال إلى الله عز وجل سرور يدخله على مسلم أو يكشف عنه كربة أو يقضي عنه دينا أو تطرد عنه جوعا ولأن أمشي مع أخ في حاجة أحب إلي من أن أعتكف في هذا المسجد، (يعني مسجد المدينة) شهرا ومن كف غضبه ستر الله عورته ومن كظم غيظه ولو شاء أن يمضيه أمضاه ملأ الله قلبه رجاء يوم القيامة ومن مشى مع أخيه في حاجة حتى تتهيأ له أثبت الله قدمه يوم تزول الأقدام (وإن سوء الخلق يفسد العمل كما يفسد الخل العسل) ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہیں اور کون سے اعمال اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہیں جو دوسرے لوگوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ اعمال یہ ہیں کہ مسلمان کا اپنے بھائی کو خوش کرنا، اس سے کوئی تکلیف دور کرنا، اس کا قرض چکانا اور اسے کھانا کھلانا۔ (‏‏‏‏دیکھیں) مجھے کسی بھائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اس کے ساتھ چلنا اس مسجد نبوی میں ایک مہینہ اعتکاف کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ (‏‏‏‏اور یاد رکھو کہ) جس نے اپنے غضب کو روک لیا اللہ تعالیٰ اس کی خامیوں پر پردہ ڈالے گا، جو آدمی اپنے غصے کو نافذ کرنے کے باوجود پی گیا، اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کے دل کو امیدوں سے بھر دے گا۔ جو اپنے بھائی کے ساتھ اس کی ضرورت پوری کرنے کے لیے چلا، اللہ تعالیٰ اس کو ا‏‏‏‏س دن ثابت قدم رکھے گا جس دن قدم ڈگمگا جائیں گے اور بدخلقی اعمال کو یوں تباہ کرتی ہے جیسے سرکہ، شہد میں بگاڑ پیدا کر دیتا ہے۔“ ‏‏‏‏ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2593]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 906

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں