سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
صحابہ کی مخصوص اغلبی صفات
ترقیم الباني: 1224 ترقیم فقہی: -- 3308
-" أرحم أمتي بأمتي أبى بكر وأشدهم في أمر الله عمر وأصدقهم حياء عثمان وأقرؤهم لكتاب الله أبي بن كعب وأفرضهم زيد بن ثابت وأعلمهم بالحلال والحرام معاذ بن جبل ألا وإن لكل أمة أمينا وإن أمين هذه الأمة أبو عبيدة بن الجراح".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت پر سب سے زیادہ رحم کرنے والے ابوبکر، اللہ تعالیٰ کے احکام کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت عمر، سب سے زیادہ حیاء کرنے والا عثمان، اللہ تعالیٰ کی کتاب کو سب سے زیادہ پڑھنے والے ابی ابن کعب، فرائض (یا علم میراث) کو سب سے زیادہ جاننے والے زید بن ثابت اور حلال و حرام کی سب سے زیادہ پہچان رکھنے والے معاذ بن جبل ہیں۔ آگاہ ہو جاؤ! ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن الجراح ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3308]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1224
ترقیم الباني: 1233 ترقیم فقہی: -- 3309
-" اقتدوا باللذين من بعدي من أصحابي أبي بكر وعمر، واهتدوا بهدي عمار، وتمسكوا بعهد ابن مسعود".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد ابوبکر اور عمر کی پیروی کرنا، عمار کی سیرت اختیار کرنا اور ابن مسعود کے عہد کو تھام لینا۔“ یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا حذیفہ بن یمان، سیدنا انس بن مالک اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت کی گئی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3309]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1233
مخصوص قبائل کی اغلبی صفات
ترقیم الباني: 1084 ترقیم فقہی: -- 3310
-" الملك في قريش والقضاء في الأنصار والآذان في الحبشة والشرعة في اليمن والأمانة في الأزد".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بادشاہت قریشیوں میں، قضاء انصاریوں میں، اذان حبشیوں میں، راہ مستقیم یمنیوں میں اور امانت ازدیوں میں ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3310]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1084
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کا زمانہ سب سے بہترین تھا
ترقیم الباني: 1841 ترقیم فقہی: -- 3311
-" خير أمتي قرني منهم، ثم الذين يلونهم - ولا أدري أذكر الثالث أم لا - ثم تخلف أقوام يظهر فيهم السمن، يهريقون الشهادة ولا يسألونها".
ابونضرہ، عبداللہ بن مولہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں اہواز میں چل رہا تھا، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک آدمی میرے آگے آگے خچر پر سوار ہو کر یوں کہتے ہوئے جا رہا تھا: اے اللہ! اس امت میں سے میرا زمانہ ختم ہو گیا ہے، اب تو مجھے ان (فوت شدگان سلف) کے ساتھ ملا دے۔ میں نے پیچھے سے کہا: اور میں بھی (یعنی مجھے اپنی دعا میں شامل کرو)، تاکہ (میں بھی) تیری دعا میں شریک ہو سکوں۔ اس نے کہا: اور میرا یہ ساتھی بھی، اگر اس کا ارادہ ہے تو۔ پھر اس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جو میرے زمانے میں (میرے ہم عصر) ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے۔ مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ تیسری دفعہ فرمائے یا نہیں۔ پھر ایسے نااہل لوگ پیدا ہوں گے کہ جن میں (دنیوی لذتوں میں رغبت کی وجہ سے) موٹاپا ظاہر ہو گا (یعنی وہ قسما قسم کے کھانے کھانا پسند کریں گے) اور وہ مطالبے سے پہلے (جھوٹی) شہادتیں دینے میں جلدبازی سے کام لیں گے۔“ خچر پر سوار آدمی سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3311]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1841
ترقیم الباني: 1839 ترقیم فقہی: -- 3312
-" خير أمتي القرن الذي بعثت فيه، ثم الذين يلونهم، (ثم الذين يلونهم) - والله أعلم أذكر الثالثة أم لا - ثم يخلف قوم يحبون السمانة، يشهدون قبل أن يستشهدوا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے بہترین افراد وہ ہیں جن میں مجھے بھیجا گیا، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے (یعنی تابعین)، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے۔“ (یعنی تبع تابعین) اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیسری بار کا ذکر کیا تھا یا نہیں۔ ”پھر ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو موٹاپے کو پسند کریں گے اور وہ شہادت دیں گے، حالانکہ ان سے شہادت دینے کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3312]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1839
ترقیم الباني: 1840 ترقیم فقہی: -- 3313
-" خير أمتي القرن الذين بعثت فيهم، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم - والله أعلم أذكر الثالث أم لا - ثم يظهر قوم يشهدون ولا يستشهدون وينذرون ولا يوفون ويخونون ولا يؤتمنون، ويفشو فيهم السمن".
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے بہترین افراد وہ ہیں جن میں مجھے مبعوث کیا گیا، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے۔“ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ تیسری دفعہ کا ذکر کیا تھا یا نہیں۔ ”پھر ایسے لوگ آئیں گے جو گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی، وہ نذریں مانیں گے لیکن ان کو پورا نہیں کریں گے، وہ خیانت کریں گے اور امانت دار نہیں ہوں گے اور ان میں (دنیوی لذتوں میں رغبت کی وجہ سے) موٹاپا عام ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3313]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1840
ترقیم الباني: 3431 ترقیم فقہی: -- 3314
- (خيرُ النّاسِ قرني الذي أنا منهم، ثمّ الذين يلونَهم، [ثمّ الذين يلونَهم] ، ثم ينشَأ أقوامٌ يفشُو فيهم السِّمَنُ، يشهدُون ولا يُستشهَدون، ولهم لَغَطٌ في أسواقِهم) .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” میرے ہم عصر لوگ سب سے بہترین ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر ایسی اقوام منظر عام پر آئیں گی جن میں (دنیوی لذتوں میں رغبت کی وجہ سے) موٹاپا عام ہو گا، وہ گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا اور وہ بازاروں میں شور و غل کریں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3314]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3431
ترقیم الباني: 699 ترقیم فقہی: -- 3315
-" خير الناس قرني، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم، ثم يجيء قوم يتسمنون: يحبون السمن ينطقون الشهادة قبل أن يسألوها".
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے اور پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے۔ ان کے بعد ایسے موٹے موٹے لوگ پیدا ہوں گے، جو موٹاپے کو پسند کریں گے، وہ شہادتیں دیں گے حالانکہ ان سے ان کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3315]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 699
ترقیم الباني: 700 ترقیم فقہی: -- 3316
-" خير الناس قرني، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم، ثم يجيء قوم تسبق شهادة أحدهم يمينه ويمينه شهادته".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے اور پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے۔ پھر ایسے لوگ آئیں گے جن کی شہادتیں ان کی قسموں سے اور ان کی قسمیں ان کی شہادتوں سے سبقت لے جائیں گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3316]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 700
مہاجرین کی فضیلت
ترقیم الباني: 3584 ترقیم فقہی: -- 3317
- (للمهاجرين منابرُ من ذهبٍ يجلسون عليها يوم القيامة، قد أمنوا من الفزع)
عبدالرحمٰن اپنے باپ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجرین کے لیے قیامت والے دن سونے کے منبر ہوں گے، وہ ان پر بیٹھیں گے اور ہر قسم کی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3317]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3584