سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب
ترقیم الباني: 1720 ترقیم فقہی: -- 3279
-" إنه لا يحبك إلا مؤمن ولا يبغضك إلا منافق".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اے علی!) تجھ سے محبت کرنے والا مومن اور تجھ سے بغض رکھنے والا منافق ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3279]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1720
ترقیم الباني: 1980 ترقیم فقہی: -- 3280
-" علي يقضي ديني".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی میرا قرضہ ادا کرے گا۔“ یہ حدیث سیدنا انس بن مالک، سیدنا حبشی بن جنادہ اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3280]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1980
ترقیم الباني: 2487 ترقیم فقہی: -- 3281
-" إن منكم من يقاتل على تأويل هذا القرآن، كما قاتلت على تنزيله، فاستشرفنا وفينا أبو بكر وعمر، فقال: لا، ولكنه خاصف النعل. يعني عليا رضي الله عنه".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم بیٹھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، آپ اپنی ایک بیوی کے گھر سے نکلے اور ہمارے پاس تشریف لائے۔ ہم کھڑے ہوئے (اور) آپ کے ساتھ چل دیے، آپ کا جوتا ٹوٹ گیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کو سلائی کرنے کی خاطر پیچھے رہ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے اور ہم بھی آپ کے ساتھ چلتے رہے۔ ایک مقام پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے انتظار میں ٹھہر گئے، ہم بھی آپ کے ساتھ رک گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بعض لوگ میری طرح اس قرآن کی تفسیر کے مطابق جہاد کرتے ہیں۔“ ہم جھانکنے لگ گئے اور ہم میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، میری مراد جوتے کی سلائی کرنے والا (علی) ہے۔“ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خوشخبری دینے کے لیے آئے، لیکن ایسے لگ رہا تھا کہ انہوں نے یہ بشارت خود سن لی تھی۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3281]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2487
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت
ترقیم الباني: 1995 ترقیم فقہی: -- 3282
-" فاطمة بضعة مني، يقبضني ما يقبضها ويبسطني ما يبسطها، وإن الأنساب يوم القيامة تنقطع غير نسبي وسببي وصهري".
مسور کہتے ہیں کہ حسن بن حسن نے میری بیٹی سے شادی کرنے کے لیے مجھے پیغام بھیجا، میں نے قاصد کو کہا: اسے کہنا کہ وہ مجھے شام کو ملے۔ اس نے مسور سے (وقت کے مطابق) ملاقات کی۔ مسور نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور کہا: اللہ کی قسم! مجھے کوئی نسبی اور ازدواجی رشتہ و قرابت تمہارے نسب و حسب اور نسبی و ازدواجی تعلق و قرابت سے بڑھ کر محبوب نہیں ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاطمہ میرے ( بدن کا) ٹکڑا ہے، جو چیز اسے پریشان کرتی ہے وہ مجھے بھی پریشان کرتی ہے، جو چیز اسے خوش کرتی ہے وہ مجھے بھی خوش کرتی ہے اور قیامت والے دن سب احساب و انساب منقطع ہو جائیں گے، ماسوائے میرے نسب، رشتہ و قرابت اور دامادگی کے۔“ ( اس حدیث کے بعد غور کر (کہ) تیرے گھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عہنا کی بیٹی ہے۔ اگر میں نے اپنی بیٹی سے بھی تیری شادی کر دی تو وہ پریشان ہو گی (ایسی صورت میں میرا اور میری بیٹی کا کیا بنے گا؟) حسن بن حسن نے اسے معذور سمجھا اور چل دیے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3282]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1995
ترقیم الباني: 1424 ترقیم فقہی: -- 3283
-" سيدات نساء أهل الجنة بعد مريم بنت عمران: فاطمة وخديجة وآسية امرأة فرعون".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مریم بنت عمران کے بعد جنتی عورتوں کی سردار یہ (تین عورتیں) فاطمہ، خدیجہ اور فرعوں کی بیوی آسیہ ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3283]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1424
ترقیم الباني: 2948 ترقیم فقہی: -- 3284
-" يا فاطمة! ألا ترضين أن تكوني سيدة نساء المؤمنين، أو سيدة نساء هذه الأمة".
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ کے پاس جمع تھیں، کوئی ایک بھی غیر حاضر نہیں تھی، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس چل کر آ رہی تھیں، ان کے چلنے کا انداز بالکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والا تھا۔ جب آپ نے ان کو دیکھا تو یوں خوش آمدید کہا: ”میری بیٹی! مرحبا۔“ پھر ان کو اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھا لیا، آپ نے ان سے سرگوشی کی، وہ شد و مد سے رونے لگ گئیں۔ جب آپ نے ان کے غم و الم کو دیکھا تو دوسری دفعہ سرگوشی کی، اب کی بار انہوں نے ہنسنا شروع کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے میں نے اس سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کوئی رازدارانہ بات کی، لیکن تو نے رونا شروع کر دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر چلے گئے تو میں نے ان سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا سرگوشی کی ہے؟ انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش نہیں کر سکتی۔ جب آپ فوت ہو گئے تو میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں تجھے تجھ پر اپنے حق کا واسطہ دے کر پوچھتی ہوں کہ اب تم مجھے ضرور بتاؤ گی۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے اب، بتا دیتی ہوں۔ انہوں نے مجھے بتلایا کہ آپ نے پہلی دفعہ والی سرگوشی میں مجھے فرمایا: ” جبریل مجھ سے ہر سال ایک دفعہ قرآن مجید کا دورہ کیا کرتے تھے اور اس سال دو دفعہ کیا، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ میری موت کا وقت قریب آ چکا ہے۔ لہٰذا اللہ سے ڈرنا اور صبر کرنا، میں تیرے لیے بہترین پیش رو ہوں گا۔“ یہ بات سن کر مجھے رونا آ گیا، آپ دیکھ ہی رہی تھیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بےچینی اور گھبراہٹ کو دیکھا تو فرمایا: ”فاطمہ! اگر تمہیں ( جنت میں) مومنوں کی عورتوں یا اس امت کی عورتوں کی سرداری دی جائے تو راضی ہو جاؤ گی؟“ یہ سن کر میں ہنس پڑی، آپ دیکھ ہی رہی تھیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3284]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2948
سیدنا زینب رضی اللہ عنہا کی فضیلت
ترقیم الباني: 3071 ترقیم فقہی: -- 3285
- (زينبُ خيرُ (وفي روايةٍ: أفضلُ) بناتي، أُصِيبَتْ بي) .
عروہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زینب میری افضل بیٹی ہے، اسے میری وجہ سے تکلیف پہنچی۔“ جب یہ حدیث علی بن حسین (بن فاطمہ) کو پہنچی تو وہ عروہ کے پاس آئے اور کہا: مجھے ایک حدیث موصول ہوئی ہے، اس میں (میری دادی) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تنقیص کی گئی ہے، اس کی کیا حقیقت ہے؟ عروہ نے کہا: میں نہیں چاہتا کہ مجھے اتنا کچھ (مال و دولت) مل جائے اور میں سیدہ فاطمہ کے حق میں تنقیص کروں۔ آج کے بعد میرا تجھ سے معاہدہ ہے کہ میں یہ حدیث بیان نہیں کروں گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3285]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3071
سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی فضیلت
ترقیم الباني: 2807 ترقیم فقہی: -- 3286
-" اللهم إني أحبه، فأحببه وأحب من يحبه. يعني الحسن بن علي رضي الله عنهما".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھتا ہوں تو میری آنکھوں سے آنسو بہہ پڑتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، میں مسجد میں تھا، آپ نے میرا ہاتھ پکڑا، میں آپ کے ساتھ چل دیا، آپ نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی، حتیٰ کہ ہم بنوقینقاع کے بازار پہنچ گئے، آپ نے وہاں چکر لگایا اور ادھر ادھر دیکھا، پھر واپس پلٹ آئے اور میں بھی آپ کے ساتھ تھا، یہاں تک کہ ہم مسجد میں پہنچ گئے۔ آپ وہاں حبوہ باندھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: ”چھوٹا بچہ کدھر ہے؟ چھوٹے کو ذرا بلا کر لاؤ۔“ سو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ دوڑتا ہوا آیا، آپ کی گودی میں گر پڑا اور اپنا ہاتھ آپ کی ڈاڑھی میں داخل کرنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منہ کھول کر اس کے منہ کو اپنے منہ میں داخل کیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ! میں اسے محبت کرتا ہوں، تو اس سے بھی اور اس سے محبت کرنے والے سے بھی محبت کر۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3286]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2807
ترقیم الباني: 2789 ترقیم فقہی: -- 3287
-" اللهم إني أحبه، فأحبه. يعني الحسن بن علي".
سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ ان کے کندھے پر بیٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت فرما۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3287]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2789
ترقیم الباني: 3354 ترقیم فقہی: -- 3288
- (كان يأخذ أسامة بن زيد والحسن، ويقول: اللهم! إني أحبهما فأحبهما) .
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر کہتے: ”اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت کر۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3288]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3354