سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو صدیق کا لقب کیسے ملا؟
ترقیم الباني: 306 ترقیم فقہی: -- 3249
-" لما أسري بالنبي صلى الله عليه وسلم إلى المسجد الأقصى أصبح يتحدث الناس بذلك فارتد ناس ممن كانوا آمنوا به وصدقوه وسعوا بذلك إلى أبي بكر رضي الله عنه فقالوا: هل لك إلى صاحبك يزعم أنه أسري به الليلة إلى بيت المقدس؟ قال: أو قال ذلك؟ قالوا: نعم، قال: لئن كان قال ذلك لقد صدق، قالوا: أو تصدقه أنه ذهب الليلة إلى بيت المقدس وجاء قبل أن يصبح؟ قال: نعم إني لأصدقه فيما هو أبعد من ذلك، أصدقه بخبر السماء في غدوة أو روحة. فلذلك سمي أبو بكر الصديق".
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد اقصی تک سیر کرائی گئی اور صبح کے وقت لوگوں نے اس موضوع پر بات چیت شروع کی تو کچھ لوگ، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا چکے تھے اور آپ کی تصدیق کر چکے تھے، مرتد ہو گئے، وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: یہ آپ کا ساتھی اس قسم کا دعویٰ کر رہا ہے کہ اسے آج رات بیت المقدس تک سیر کرائی گئی، اب آپ اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعویٰ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بات کی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا: کیا تم تصدیق کرو گے کہ آپ راتوں رات بیت المقدس گئے اور صبح سے پہلے پہلے واپس بھی آ گئے ہیں؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، (غور کرو کہ) میں تو ان امور میں بھی آپ کی تصدیق کرتا ہوں جو (تمہاری سمجھ کے مطابق) اس (وقوعہ) سے بھی مشکل اور بعید ہیں۔ میں تو صبح کے وقت آسمانی خبر یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی کی تصدیق کرتا ہوں، وہ صبح کو موصول ہو یا شام کو۔ اسی وجہ سے ابوبکر کو ”صدیق“ کہا گیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3249]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 306
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بلافصل تھے
ترقیم الباني: 3614 ترقیم فقہی: -- 3250
- (بينما أنا على بئر أَنْزِعُ منها؛ جاءني أبو بكر وعمر، فأخذ أبو بكر الدلو، فنزع ذنوباً أو ذنوبين، وفي نزعه ضعف، والله يغفر له! ثم أخذها ابن الخطاب من يد أبي بكر، فاستحالت في يده غرباً، فلم أر عبقرياً من الناس يفري فريه، فنزع، حئى ضرب الناس بعطن ٍ) . جاء من حديث ابن عمر، وأبي هريرة، وأبي الطفيل. أما حديث ابن عمر؛ فرواه عنه اثنان: أولهما ة سالم - ولده-:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ( خواب میں) ایک کنویں سے پانی کھینچ رہا تھا، میرے پاس ابوبکر آئے، انہوں نے ڈول پکڑا اور ایک دو ڈول کھینچے، اس کے کھینچنے میں کمزوری محسوس ہو رہی تھی اور اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا۔ پھر ابوبکر کے ہاتھ سے عمر بن خطاب نے (وہ ڈول) پکڑ لیا، پھر تو وہ بہت بڑا ڈول ثابت ہوا، میں نے ایسا قوی (اور باکمال) آدمی نہیں دیکھا جو اس طرح کام کرتا ہو، انہوں نے اتنا پانی کھینچا کہ لوگ اپنے اونٹوں کو سیراب کر کے پانی کے پاس ٹھہر گئے۔ ” یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3250]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3614
ترقیم الباني: 690 ترقیم فقہی: -- 3251
-" أبى الله والمؤمنون أن يختلف عليك يا أبا بكر".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری بڑھ گئی تو ( میرے بھائی) عبدالرحمٰن بن ابوبکر کو حکم دیا کہ ”کوئی تختی یا ہڈی لاؤ، میں ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کے حق میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں تاکہ اس پر کسی کو اختلاف نہ ہو۔“ جب عبدالرحمٰن چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر! اللہ تعالیٰ نے اور مؤمنوں نے اس بات سے انکار کر دیا ہے کہ تجھ پر اختلاف کیا جائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3251]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 690
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب
ترقیم الباني: 3225 ترقیم فقہی: -- 3252
- (اللهم! أعزّ الإسلام بعمر بن الخطاب خاصةً) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو غلبہ نصیب فرما۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3252]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3225
ترقیم الباني: 327 ترقیم فقہی: -- 3253
-" لو كان بعدي نبي لكان عمر".
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3253]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 327
ترقیم الباني: 1405 ترقیم فقہی: -- 3254
-" رأيتني دخلت الجنة، فإذا أنا بالرميصاء امرأة أبي طلحة، وسمعت خشفا أمامي، فقلت: من هذا يا جبريل؟ قال: هذا بلال".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوا، اچانک وہاں میری نگاہ ابوطلحہ کی بیوی رمیصا پر پڑی اور مجھے اپنے سامنے والی جانب سے کسی کے حرکت کرنے کی آواز سنائی دی، میں نے کہا: جبریل! یہ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ بلال ہے۔ پھر میں نے ایک سفید محل دیکھا، اس کے صحن میں ایک لڑکی بھی موجود تھی۔ میں نے پوچھا: یہ کس کا محل ہے؟ اس نے جواب دیا: یہ عمر بن خطاب کا ہے۔ میں نے چاہا کہ اس میں داخل ہو جاؤں اور (اندر سے) دیکھ لوں، لیکن عمر! مجھے تیری غیرت یاد آ گئی۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا میں آپ پر غیرت کر سکتا ہوں؟۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3254]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1405
ترقیم الباني: 1423 ترقیم فقہی: -- 3255
-" من منع فضل مائه أو فضل كلئه منعه الله فضله يوم القيامة".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنت میں داخل ہوا، اچانک سونے کا ایک محل دیکھا۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا ایک قریشی جوان کا ہے۔ مجھے خیال تھا کہ یہ میرا ہی ہو گا (کیونکہ میں قریشی ہوں)۔ بہرحال میں نے پوچھا: وہ قریشی کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! اگر تیری غیرت و حمیت کا مسئلہ نہ ہوتا تو میں اس میں ضرور داخل ہو جاتا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ پر غیرت کھا سکتا ہوں؟“۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3255]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1423
ترقیم الباني: 3612 ترقیم فقہی: -- 3256
- (بينما أنا نائم؛ رأيت الناس يُعرَضُونَ عليّ وعليهم قُمُصٌ؛ منها ما يَبْلُغُ الثَّديَّ، ومنها ما يبلغ أسفل من ذلك؛ فعُرِضَ عليَّ عُمَرُ وعليه قميص يَجُرُّهُ، قالوا: فما أوّلتَهُ يا رسول الله؟! قال: الدِّين) .
ابوامامہ بن سہل بن حنیف ایک صحابی رسول سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سو رہا تھا، اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ مجھ پر اس حال میں پیش کئے جانے لگے کہ انہوں نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں، کسی کی قمیص سینے تک تھی، کسی کی اس سے نیچے تک، اتنے میں عمر کو پیش کیا گیا، ان کی قمیص تو (اتنی لمبی تھی کہ) گھسٹ رہی تھی۔“ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اس خواب کی تعبیر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قمیصوں سے مراد) دین ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3256]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3612
ترقیم الباني: 824 ترقیم فقہی: -- 3257
-" أبو بكر وعمر سيدا كهول أهل الجنة من الأولين والآخرين".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر اور عمر پہلے اور پچھلے لوگوں میں سے جنت میں داخل ہونے والے عمر رسیدہ لوگوں کے سردار ہیں۔“ یہ حدیث سیدنا علی بن ابوطالب، سیدنا انس بن مالک، سیدنا ابوجحیفہ، سیدنا جابر بن عبداللہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3257]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 824
ترقیم الباني: 814 ترقیم فقہی: -- 3258
-" هذان السمع والبصر. يعني أبا بكر وعمر".
سیدنا عبداللہ بن حنطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھ کر فرمایا: ”یہ (میری امت کے) کان اور آنکھیں ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3258]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 814