🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابٌ:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 334
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي، فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَقَالُوا: أَلَا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ؟ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسِ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ، فَقَالَ: حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، وَجَعَلَ يَطْعُنُنِي بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْرِ: مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ؟ قَالَتْ: فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَأَصَبْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں مالک نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے بتلایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بعض سفر (غزوہ بنی المصطلق) میں تھے۔ جب ہم مقام بیداء یا ذات الجیش پر پہنچے تو میرا ایک ہار کھو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاش میں وہیں ٹھہر گئے اور لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٹھہر گئے۔ لیکن وہاں پانی کہیں قریب میں نہ تھا۔ لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا ”عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کام کیا؟ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام لوگوں کو ٹھہرا دیا ہے اور پانی بھی کہیں قریب میں نہیں ہے اور نہ لوگوں ہی کے ساتھ ہے۔“ پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک میری ران پر رکھے ہوئے سو رہے تھے۔ فرمانے لگے کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام لوگوں کو روک لیا۔ حالانکہ قریب میں کہیں پانی بھی نہیں ہے اور نہ لوگوں کے پاس ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ والد ماجد (رضی اللہ عنہ) مجھ پر بہت خفا ہوئے اور اللہ نے جو چاہا انہوں نے مجھے کہا اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری ران پر تھا۔ اس وجہ سے میں حرکت بھی نہیں کر سکتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کے وقت اٹھے تو پانی کا پتہ تک نہ تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری اور لوگوں نے تیمم کیا۔ اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا ”اے آل ابی بکر! یہ تمہاری کوئی پہلی برکت نہیں ہے۔“ عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے فرمایا۔ پھر ہم نے اس اونٹ کو ہٹایا جس پر میں سوار تھی تو ہار اسی کے نیچے مل گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب التيمم/حدیث: 334]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ جب ہم بیداء یا ذات الجیش پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاش کے لیے قیام فرمایا تو دوسرے لوگ بھی آپ کے ہمراہ ٹھہر گئے، مگر وہاں کہیں پانی نہ تھا۔ لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: آپ نہیں دیکھتے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سب لوگوں کو ٹھہرا لیا اور یہاں پانی بھی نہیں ملتا اور نہ ان کے پاس پانی ہی ہے۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر سر رکھے محو استراحت تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہنے لگے: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سب لوگوں کو یہاں ٹھہرا لیا، حالانکہ یہاں پانی نہیں ہے اور نہ ہی لوگوں کے پاس پانی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مجھ پر ناراض ہوئے اور جو اللہ کو منظور تھا (برا بھلا) کہا، نیز میری کوکھ میں ہاتھ سے کچوکا لگانے لگے، لیکن میں نے حرکت اس لیے نہ کی کہ میری ران پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک تھا۔ صبح کے وقت اس بے آب مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آیتِ تیمم نازل فرمائی، چنانچہ لوگوں نے تیمم کر لیا۔ اس وقت حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بولے: اے آل ابوبکر! یہ کوئی تمہاری پہلی برکت نہیں! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جس اونٹ پر میں سوار تھی، ہم نے اسے اٹھایا تو اس کے نیچے سے ہار مل گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب التيمم/حدیث: 334]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 335
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ. ح قَالَ: وحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ النَّضْرِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ الْفَقِيرُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي، نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَلْيُصَلِّ، وَأُحِلَّتْ لِي الْمَغَانِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً".
ہم سے محمد بن سنان عوفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا (دوسری سند) کہا اور مجھ سے سعید بن نضر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ہشیم نے، انہوں نے کہا ہمیں خبر دی سیار نے، انہوں نے کہا ہم سے یزید الفقیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں جابر بن عبداللہ نے , نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی تھیں۔ ایک مہینہ کی مسافت سے رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے اور تمام زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور پاکی کے لائق بنائی گئی۔ پس میری امت کا جو انسان نماز کے وقت کو (جہاں بھی) پالے اسے وہاں ہی نماز ادا کر لینی چاہیے۔ اور میرے لیے غنیمت کا مال حلال کیا گیا ہے۔ مجھ سے پہلے یہ کسی کے لیے بھی حلال نہ تھا۔ اور مجھے شفاعت عطا کی گئی۔ اور تمام انبیاء اپنی اپنی قوم کے لیے مبعوث ہوتے تھے لیکن میں تمام انسانوں کے لیے عام طور پر نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب التيمم/حدیث: 335]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں: ایک یہ کہ مجھے ایک مہینے کی مسافت پر بذریعہ رعب مدد دی گئی ہے۔ دوسری یہ کہ تمام روئے زمین کو میرے لیے مسجد اور پاک کرنے والی بنا دیا گیا ہے۔ اب میری امت میں جس شخص کو نماز کا وقت آ جائے اسے چاہیے کہ وہیں نماز پڑھ لے۔ تیسری یہ کہ میرے لیے مالِ غنیمت کو حلال کر دیا گیا ہے جبکہ اس سے پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھا۔ چوتھی یہ کہ مجھے شفاعت (کبریٰ) عطا کی گئی ہے۔ پانچویں یہ کہ پہلے نبی خاص اپنی قوم کے لیے مبعوث ہوا کرتا تھا، مگر میں تمام لوگوں کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا گیا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب التيمم/حدیث: 335]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ إِذَا لَمْ يَجِدْ مَاءً وَلاَ تُرَابًا:
باب: اس بارے میں کہ جب نہ پانی ملے اور نہ مٹی تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 336
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْأَسْمَاءَ قِلَادَةً فَهَلَكَتْ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا، فَوَجَدَهَا، فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَصَلَّوْا، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ"، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ لِعَائِشَةَ: جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ ذَلِكِ لَكِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ خَيْرًا.
ہم سے سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے، وہ اپنے والد سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انھوں نے اسماء رضی اللہ عنہا سے ہار مانگ کر پہن لیا تھا، وہ گم ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اس کی تلاش کے لیے بھیجا، جسے وہ مل گیا۔ پھر نماز کا وقت آ پہنچا اور لوگوں کے پاس (جو ہار کی تلاش میں گئے تھے) پانی نہیں تھا۔ لوگوں نے نماز پڑھ لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق شکایت کی۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری جسے سن کر اسید بن حضیر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا آپ کو اللہ بہترین بدلہ دے۔ واللہ جب بھی آپ کے ساتھ کوئی ایسی بات پیش آئی جس سے آپ کو تکلیف ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے اس میں خیر پیدا فرما دی۔ [صحيح البخاري/كتاب التيمم/حدیث: 336]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے ایک ہار حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مستعار لیا جو گم ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اس کی تلاش کے لیے روانہ کیا۔ وہ اسے مل گیا لیکن ان لوگوں کو نماز کا وقت ایسی حالت میں آیا کہ ان کے پاس پانی نہیں تھا، چنانچہ انہوں نے (ویسے ہی) نماز ادا کر لی۔ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل فرما دی۔ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”اللہ تمہیں جزائے خیر دے، اللہ کی قسم! جب بھی تم پر کوئی ایسی بات آ پڑی جسے تم ناگوار خیال کرتی تھیں تو اللہ تعالیٰ نے اس میں تمہارے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے خیر و برکت عطا فرما دی۔“ [صحيح البخاري/كتاب التيمم/حدیث: 336]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ التَّيَمُّمِ فِي الْحَضَرِ:
باب: اقامت کی حالت میں بھی تیمم کرنا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q337
وَبِهِ قَالَ عَطَاءٌ: وَقَالَ الْحَسَنُ: فِي الْمَرِيضِ عِنْدَهُ الْمَاءُ وَلَا يَجِدُ مَنْ يُنَاوِلُهُ يَتَيَمَّمُ، وَأَقْبَلَ ابْنُ عُمَرَ مِنْ أَرْضِهِ بِالْجُرُفِ فَحَضَرَتِ الْعَصْرُ بِمَرْبَدِ النَّعَمِ فَصَلَّى، ثُمَّ دَخَلَ الْمَدِينَةَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ فَلَمْ يُعِدْ.
‏‏‏‏ جب پانی نہ پائے اور نماز فوت ہونے کا خوف ہو۔ عطاء بن ابی رباح کا یہی قول ہے اور امام حسن بصری نے کہا کہ اگر کسی بیمار کے نزدیک پانی ہو جسے وہ اٹھا نہ سکے اور کوئی ایسا شخص بھی وہاں نہ ہو جو اسے وہ پانی (اٹھا کر) دے سکے تو وہ تیمم کر لے۔ اور عبداللہ بن عمر جرف کی اپنی زمین سے واپس آ رہے تھے کہ عصر کا وقت مقام مربدالنعم میں آ گیا۔ آپ نے (تیمم سے) عصر کی نماز پڑھ لی اور مدینہ پہنچے تو سورج ابھی بلند تھا مگر آپ نے وہ نماز نہیں لوٹائی۔ [صحيح البخاري/كتاب التيمم/حدیث: Q337]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 337
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ الْأَعْرَجِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الْأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ:"أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے جعفر بن ربیعہ سے، انہوں نے عبدالرحمٰن اعرج سے، انہوں نے کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عمیر بن عبداللہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں اور عبداللہ بن یسار جو کہ میمونہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے، ابوجہیم بن حارث بن صمہ انصاری (صحابی) کے پاس آئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ”بئر جمل“ کی طرف سے تشریف لا رہے تھے، راستے میں ایک شخص نے آپ کو سلام کیا (یعنی خود اسی ابوجہیم نے) لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا۔ پھر آپ دیوار کے قریب آئے اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا پھر ان کے سلام کا جواب دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب التيمم/حدیث: 337]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عمیر کہتے ہیں کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدتنا میمونہ رضی اللہ عنہا کے غلام عبداللہ بن یسار، حضرت ابوجہیم بن حارث بن صمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ بئرِ جمل سے واپس آ رہے تھے کہ راستے میں ایک شخص ملا اور اس نے آپ کو سلام کیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب نہ دیا یہاں تک کہ آپ ایک دیوار کے پاس آئے اور اس سے اپنے منہ اور ہاتھوں کا مسح کیا، یعنی تیمم فرمایا، پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب التيمم/حدیث: 337]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ الْمُتَيَمِّمُ هَلْ يَنْفُخُ فِيهِمَا:
باب: اس بارے میں کہ کیا مٹی پر تیمم کے لیے ہاتھ مارنے کے بعد ہاتھوں کو پھونک کر ان کو چہرے اور دونوں ہتھیلوں پر مل لینا کافی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 338
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أُصِبِ الْمَاءَ؟ فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَمَا تَذْكُرُ أَنَّا كُنَّا فِي سَفَرٍ أَنَا وَأَنْتَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فَصَلَّيْتُ، فَذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا، فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ وَنَفَخَ فِيهِمَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حکم بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے ذر بن عبداللہ سے، انہوں نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے، وہ اپنے باپ سے، انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کی کہ مجھے غسل کی حاجت ہو گئی اور پانی نہیں ملا (تو میں اب کیا کروں) اس پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا، کیا آپ کو یاد نہیں جب میں اور آپ سفر میں تھے، ہم دونوں جنبی ہو گئے۔ آپ نے تو نماز نہیں پڑھی لیکن میں نے زمین پر لوٹ پوٹ لیا، اور نماز پڑھ لی۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تجھے بس اتنا ہی کافی تھا اور آپ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر انہیں پھونکا اور دونوں سے چہرے اور پہنچوں کا مسح کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب التيمم/حدیث: 338]
حضرت عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے لیکن پانی نہیں مل سکا۔ اس موقع پر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں اور آپ دونوں سفر میں تھے اور جنبی ہو گئے تھے؟ آپ نے تو نماز نہیں پڑھی تھی لیکن میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہو کر نماز پڑھ لی تھی۔ پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے اتنا ہی کافی تھا۔“ یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، پھر ان میں پھونک ماری، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب التيمم/حدیث: 338]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ التَّيَمُّمُ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ:
باب: اس بارے میں کہ تیمم میں صرف منہ اور دونوں پہنچوں پر مسح کرنا کافی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 339
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عَمَّارٌ بِهَذَا،" وَضَرَبَ شُعْبَةُ بِيَدَيْهِ الْأَرْضَ، ثُمَّ أَدْنَاهُمَا مِنْ فِيهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ"، وَقَالَ النَّضْرُ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَرًّا يَقُولُ: عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قَالَ الْحَكَمُ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَمَّارٌ.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے کہا کہ مجھے حکم بن عیینہ نے خبر دی ذر بن عبداللہ سے، وہ سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے، وہ اپنے باپ سے کہ عمار نے یہ واقعہ بیان کیا (جو پہلے گزر چکا) اور شعبہ نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا۔ پھر انہیں اپنے منہ کے قریب کر لیا (اور پھونکا) پھر ان سے اپنے چہرے اور پہنچوں کا مسح کیا اور نضر بن شمیل نے بیان کیا کہ مجھے شعبہ نے خبر دی حکم سے کہ میں نے ذر بن عبداللہ سے سنا، وہ سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ کے حوالہ سے حدیث روایت کرتے تھے۔ حکم نے کہا کہ میں نے یہ حدیث ابن عبدالرحمٰن بن ابزی سے سنی، وہ اپنے والد کے حوالہ سے بیان کرتے تھے کہ عمار نے کہا (جو پہلے مذکور ہوا)۔ [صحيح البخاري/كتاب التيمم/حدیث: 339]
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے تیمم کے متعلق یہ سب واقعہ بیان کیا (پہلی روایت کی طرف اشارہ ہے) اور شعبہ (ایک راوی) نے اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر دونوں ہاتھ اپنے منہ کے قریب کیے، پھر اپنے منہ اور دونوں ہتھیلیوں پر مسح کیا۔ نضر (بن شمیل) کی روایت کے مطابق حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”(پاک مٹی) مسلمان کا وضو ہے، پانی کی جگہ وہ (مسلمان کو) کافی ہوتی ہے، یعنی جب پانی دستیاب نہ ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب التيمم/حدیث: 339]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 340
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ شَهِدَ عُمَرَ، وَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ: كُنَّا فِي سَرِيَّةٍ، فَأَجْنَبْنَا، فَقَالَ:" تَفَلَ فِيهِمَا".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے حکم کے واسطہ سے حدیث بیان کی، وہ ذر بن عبداللہ سے، وہ ابن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، وہ اپنے والد سے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے اور عمار رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ ہم ایک لشکر میں گئے ہوئے تھے۔ پس ہم دونوں جنبی ہو گئے۔ اور (اس میں ہے کہ بجائے «نفخ فيهما‏» کے) انہوں نے «تفل فيهما‏» کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب التيمم/حدیث: 340]
حضرت عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے جب ان سے حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم دونوں ایک چھوٹے لشکر میں تھے کہ دونوں کو جنابت لاحق ہو گئی۔ مزید کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں پر اتنی زور سے پھونک ماری کہ اس میں قدرے لعاب دہن بھی شامل ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب التيمم/حدیث: 340]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 341
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قَالَ: قَالَ عَمَّارٌ لِعُمَرَ: تَمَعَّكْتُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَكْفِيكَ الْوَجْهَ وَالْكَفَّانِ".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے حکم سے، وہ ذر بن عبداللہ سے، وہ سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے، وہ اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے، انہوں نے بیان کیا کہ عمار رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں تو زمین میں لوٹ پوٹ ہو گیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرے لیے صرف چہرے اور پہنچوں پر مسح کرنا کافی تھا (زمین پر لیٹنے کی ضرورت نہ تھی)۔ [صحيح البخاري/كتاب التيمم/حدیث: 341]
حضرت عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں پر مسح کرنا ہی کافی تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب التيمم/حدیث: 341]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 342
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ: وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے حکم سے، انہوں نے ذر بن عبداللہ سے، انہوں نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے۔ انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے، انہوں نے کہا کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھا کہ عمار رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا۔ پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب التيمم/حدیث: 342]
حضرت عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، ان سے حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا، پھر انہوں نے حدیث (سابق) بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب التيمم/حدیث: 342]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12»