🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. بَابُ دُعَاءِ الْعَائِدِ لِلْمَرِيضِ:
باب: جو شخص بیمار کی عیادت کو جائے وہ کیا کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5675
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَتَى مَرِيضًا أَوْ أُتِيَ بِهِ، قَالَ:" أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا"، قَالَ عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ: وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَأَبِي الضُّحَى، إِذَا أُتِيَ بِالْمَرِيضِ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کے پاس تشریف لے جاتے یا کوئی مریض آپ کے پاس لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے «أذهب الباس رب الناس،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اشف وأنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ شفاء لا يغادر سقما» اے پروردگار لوگوں کے! بیماری دور کر دے، اے انسانوں کے پالنے والے! شفاء عطا فرما، تو ہی شفاء دینے والا ہے۔ تیری شفاء کے سوا اور کوئی شفاء نہیں، ایسی شفاء دے جس میں مرض بالکل باقی نہ رہے۔ اور عمرو بن ابی قیس اور ابراہیم بن طہمان نے منصور سے بیان کیا، انہوں نے ابراہیم اور ابوالضحیٰ سے کہ جب کوئی مریض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا جاتا۔ [صحيح البخاري/كتاب المرضى/حدیث: 5675]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مریض کے پاس تشریف لے جاتے تھے یا کوئی مریض آپ کے پاس لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے یوں دعا کرتے: «أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» اے لوگوں کے رب! بیماری دور کر دے، شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے علاوہ کوئی شفا نہیں، ایسی شفا دے جس کے بعد کوئی مرض باقی نہ رہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جب کوئی مریض آپ کی خدمت میں لایا جاتا، ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب آپ کسی مریض کے پاس تشریف لے جاتے۔ [صحيح البخاري/كتاب المرضى/حدیث: 5675]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5675M
وَقَالَ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، وَحْدَهُ، وَقَالَ: إِذَا أَتَى مَرِيضًا.
اور جریر بن عبدالحمید نے منصور سے، انہوں نے ابوالضحی اکیلے سے یوں روایت کیا کہ آپ جب کسی بیمار کے پاس تشریف لے جاتے۔ [صحيح البخاري/كتاب المرضى/حدیث: 5675M]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ وُضُوءِ الْعَائِدِ لِلْمَرِيضِ:
باب: عیادت کرنے والے کا بیمار کے لیے وضو کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5676
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ، فَتَوَضَّأَ فَصَبَّ عَلَيَّ، أَوْ قَالَ: صُبُّوا عَلَيْهِ، فَعَقَلْتُ، فَقُلْتُ: لَا يَرِثُنِي إِلَّا كَلَالَةٌ، فَكَيْفَ الْمِيرَاثُ؟، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر (محمد بن جعفر) نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے میں بیمار تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وضو کا پانی مجھ پر ڈالا یا فرمایا کہ اس پر یہ پانی ڈال دو اس سے مجھے ہوش آ گیا۔ میں نے عرض کیا کہ میں تو کلالہ ہوں (جس کے والد اور اولاد نہ ہو) میرے ترکہ میں تقسیم کیسے ہو گی اس پر میراث کی آیت نازل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كتاب المرضى/حدیث: 5676]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، جبکہ میں بیمار تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور وضو کا پانی مجھ پر ڈالا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہ پانی) اس پر بہا دو۔ اس سے مجھے ہوش آ گیا۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں تو کلالہ ہوں، میرے ترکے کی تقسیم کیسے ہوگی؟ اس پر فرائض کی آیت نازل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كتاب المرضى/حدیث: 5676]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ مَنْ دَعَا بِرَفْعِ الْوَبَاءِ وَالْحُمَّى:
باب: جو شخص وبا اور بخار کے دور کرنے کے لیے دعا کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5677
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ:" لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ، وَبِلَالٌ، قَالَتْ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا، فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ؟، وَيَا بِلَالُ كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَتْ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى، يَقُولُ: كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ، وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أُقْلِعَ عَنْهُ يَرْفَعُ عَقِيرَتَهُ، فَيَقُولُ: أَلَا لَيْتَ شِعْرِي، هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مِجَنَّةٍ وَهَلْ تَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ، أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا، وَمُدِّهَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر اور بلال رضی اللہ عنہما کو بخار ہو گیا۔ بیان کیا کہ پھر میں ان کے پاس (بیمار پرسی کے لیے) گئی اور پوچھا کہ محترم والد بزرگوار! آپ کا کیا حال ہے اور اے بلال! آپ کا کیا حال ہے بیان کیا کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بخار ہوتا تو وہ یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔ ہر شخص اپنے گھر والوں میں صبح کرتا ہے اور موت اس کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور بلال رضی اللہ عنہ کا جب بخار اترتا تو بلند آواز سے وہ یہ اشعار پڑھتے۔ کاش مجھے معلوم ہوتا کہ میں ایک رات وادی (مکہ) میں اس طرح گزار سکوں گا کہ میرے چاروں طرف اذخر اور جلیل (گھاس) کے درخت ہوں گے اور کیا کبھی پھر میں مجنہ کے گھاٹ پر اتر سکوں گا اور کیا کبھی شامہ اور طفیل میں اپنے سامنے دیکھ سکوں گا۔ راوی نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی «اللهم حبب إلينا المدينة كحبنا مكة أو أشد وصححها وبارك لنا في صاعها ومدها وانقل حماها فاجعلها بالجحفة» اے اللہ! ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت پیدا کر جیسا کہ ہمیں (اپنے وطن) مکہ کی محبت تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ مدینہ کی محبت عطا کر اور اس کی آب و ہوا کو صحت بخش بنا دے اور ہمارے لیے اس کے صاع اور مد میں برکت عطا فرما اور اس کے بخار کو کہیں اور جگہ منتقل کر دے اسے جحفہ (نامی گاؤں) میں بھیج دے۔ [صحيح البخاري/كتاب المرضى/حدیث: 5677]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بخار نے آ لیا۔ میں ان دونوں کے پاس عیادت کے لیے گئی اور پوچھا: اے والد محترم! آپ کا کیا حال ہے؟ اے بلال! تم کیسے ہو؟ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بخار ہوتا تو وہ یہ شعر پڑھتے: «كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ، وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ» ہر شخص اپنے اہل خانہ میں صبح کرتا ہے لیکن موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا جب بخار اترتا تو بآواز بلند یہ اشعار پڑھتے: «أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً، بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ، وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مِجَنَّةٍ، وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ» کاش! میں ایسی وادی (مکہ) میں رات بسر کرتا کہ میرے چاروں طرف اذخر اور جلیل نامی گھاس ہوتی، کیا میں کسی دن مجنہ کے چشموں تک پہنچوں گا؟ اور کیا میرے سامنے شامہ اور طفیل نامی پہاڑ ظاہر ہوں گے؟ راوی نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صورت حال سے آگاہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ سے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْهَا لَنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ» اے اللہ! ہمارے دلوں میں مدینہ طیبہ کی محبت پیدا کر دے جیسا کہ ہمیں مکہ مکرمہ محبوب ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ مدینہ طیبہ کی محبت عطا فرما اور اس کی آب و ہوا کو صحت بخش کر دے، ہمارے لیے اس کے صاع اور مد میں برکت عطا فرما اور اس کے بخار کو کہیں اور منتقل کر دے، اسے جحفہ میں بھیج دے۔ [صحيح البخاري/كتاب المرضى/حدیث: 5677]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں