الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
564. بَابُ الاسْتِلْقَاءِ
چت لیٹنے کا بیان
حدیث نمبر: 1185
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُهُ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ: رَأَيْتُهُ - قُلْتُ لِابْنِ عُيَيْنَةَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ مُسْتَلْقِيًا، وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى.
سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چت لیٹے دیکھا، اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر رکھا ہوا تھا۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 1185]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الاستئذان: 6287 و مسلم: 2100 و أبوداؤد: 4866 و الترمذي: 2765 و النسائي: 721»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 1186
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أُمِّ بَكْرٍ بِنْتِ الْمِسْوَرِ، عَنْ أَبِيهَا قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ مُسْتَلْقِيًا، رَافِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأخْرَى.
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو چت لیٹے دیکھا، اس طرح کہ انہوں نے ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھی ہوئی تھی۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 1186]
تخریج الحدیث: «ضعيف الإسناد موقوفًا»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد موقوفًا
565. بَابُ الضَّجْعَةِ عَلَى وَجْهِهِ
چہرے کے بل لیٹنا
حدیث نمبر: 1187
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ مُوسَى بْنِ خَلَفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنِ ابْنِ طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ كَانَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، أَتَانِي آتٍ وَأَنَا نَائِمٌ عَلَى بَطْنِي، فَحَرَّكَنِي بِرِجْلِهِ فَقَالَ: ”قُمْ، هَذِهِ ضَجْعَةٌ يُبْغِضُهَا اللَّهُ“، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي.
سیدنا طخفہ بن قیس غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ اصحابِ صفہ میں سے تھے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رات کے آخری پہر مسجد میں سویا ہوا تھا۔ میرے پاس کوئی آنے والا آیا جبکہ میں پیٹ کے بل الٹا سویا ہوا تھا، اس نے مجھے اپنے پاؤں سے ہلایا اور فرمایا: ”اٹهو، اس طرح سونے کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔“ چنانچہ میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے سر پر کھڑے ہیں۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 1187]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه أبوداؤد، كتاب الأدب، باب فى الرجل ينبطح على بطنه: 5040 ابن ماجه: 3723»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 1188
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيلٍ الْكِنْدِيُّ، مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ مُنْبَطِحًا لِوَجْهِهِ، فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ وَقَالَ: قُمْ، نَوْمَةٌ جَهَنَّمِيَّةٌ.
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو چہرے کے بل لیٹا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں سے اسے ٹھوکر لگائی اور فرمایا: ”اٹھو، یہ جہنمیوں کے سونے کا انداز ہے۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 1188]
تخریج الحدیث: «ضعيف الإسناد بهذا اللفظ: أخرجه ابن ماجه، كتاب الأدب، باب النهي عن الاضطجاع على الوجه: 3725 - يه حديث اپنے شاهد كے ساته قابلِ حجت هے. حديث: 1187 كے فائده نمبر 1 ميں اس كي طرف اشاره كيا گيا هے.»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد بهذا اللفظ
566. بَابُ لَا يَأْخُذُ وَلَا يُعْطِي إِلَّا بِالْيُمْنَى
دائیں ہاتھ سے لینے اور دینے کا بیان
حدیث نمبر: 1189
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”لَا يَأْكُلُ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ، وَلَا يَشْرَبَنَّ بِشِمَالِهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ“. قَالَ: كَانَ نَافِعٌ يَزِيدُ فِيهَا: ”وَلَا يَأْخُذْ بِهَا، وَلَا يُعْطِي بِهَا.“
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بائیں ہاتھ سے کھائے نہ بائیں ہاتھ سے پیے، کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے۔“ نافع جب یہ روایت بیان کرتے تو ان الفاظ کا اضافہ کرتے: ”بائیں ہاتھ کے ساتھ نہ کوئی چیز پکڑے اور نہ دے۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 1189]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه مسلم، كتاب الأشربة: 2020 و أبوداؤد: 3776 و الترمذي: 1799 و النسائي فى الكبرىٰ: 6864»
قال الشيخ الألباني: صحيح
567. بَابُ: أَيْنَ يَضَعُ نَعْلَيْهِ إِذَا جَلَسَ؟
جب بیٹھے تو جوتے کہاں رکھے؟
حدیث نمبر: 1190
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَارُونَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ نَهِيكٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ إِذَا جَلَسَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْلَعَ نَعْلَيْهِ، فَيَضَعُهُمَا إِلَى جَنْبِهِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں: سنت یہ ہے کہ جب آدمی بیٹھے تو اپنے جوتے اتار کر اپنے پہلو میں رکھ لے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 1190]
تخریج الحدیث: «ضعيف: أخرجه أبوداؤد، كتاب اللباس: 4138 - أنظر المشكاة: 4417»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
568. بَابُ: الشَّيْطَانُ يَجِيءُ بِالْعُودِ وَالشَّيْءِ يَطْرَحُهُ عَلَى الْفِرَاشِ
شیطان لکڑی یا کوئی چیز لا کر بستر پر پھینک دیتا ہے
حدیث نمبر: 1191
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ: إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي إِلَى فِرَاشِ أَحَدِكُمْ بَعْدَ مَا يَفْرِشُهُ أَهْلُهُ وَيُهَيِّئُونَهُ، فَيُلْقِي عَلَيْهِ الْعُودَ أَوِ الْحَجَرَ أَوِ الشَّيْءَ، لِيُغْضِبَهُ عَلَى أَهْلِهِ، فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ فَلاَ يَغْضَبْ عَلَى أَهْلِهِ، قَالَ: لأَنَّهُ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ.
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: بلاشبہ شیطان تم میں سے کسی کے بستر پر آتا ہے جب اس کے گھر والے بچھاتے اور تیار کرتے ہیں، اور اس پر کوئی لکڑی، پتھر یا کوئی چیز پھینک دیتا ہے تاکہ وہ اپنے گھر والوں پر برہم ہو۔ جب تم میں سے کوئی ایسی چیز دیکھے تو اپنے گھر والوں پر غصہ نہ ہو۔ فرمایا: کیونکہ یہ شیطان کا کام ہے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 1191]
تخریج الحدیث: «حسن: أخرجه الخرائطي فى مساوي الأخلاق: 310 و قد صح مرفوعًا عن أبى هريرة نحوه برقم: 1217»
قال الشيخ الألباني: حسن
569. بَابُ مَنْ بَاتَ عَلَى سَطْحٍ لَيْسَ لَهُ سُتْرَةٌ
بغیر چار دیواری والی چھت پر سونے کی ممانعت
حدیث نمبر: 1192
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُمَرُ - رَجُلٌ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ هُوَ ابْنُ جَابِرٍ - عَنْ وَعْلَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَنْ بَاتَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَيْسَ عَلَيْهِ حِجَابٌ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ.“ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: فِي إِسْنَادِهِ نَظَرٌ.
سیدنا علی بن شیبان یمامی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو رات کو ایسے گھر کی چھت پر سویا جس پر پردہ اور رکاوٹ نہ ہو تو اس کی (اللہ تعالیٰ پر) کوئی ذمہ داری نہیں۔“ ابو عبداللہ کہتے ہیں: اس کی سند محل نظر ہے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 1192]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه أبوداؤد، كتاب الأدب، باب فى النوم على سطح غير محجر: 5041 - أنظر الصحيحة: 674»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 1193
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ رِيَاحٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُمَارَةَ قَالَ: جَاءَ أَبُو أَيُّوبَ الأَنْصَارِيُّ، فَصَعِدْتُ بِهِ عَلَى سَطْحٍ أَجْلَحَ، فَنَزَلَ وَقَالَ: كِدْتُ أَنْ أَبِيتَ اللَّيْلَةَ وَلاَ ذِمَّةَ لِي.
علی بن عماره رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ میں انہیں لے کر ایک کھلی چھت پر چڑھ گیا۔ وہ نیچے اتر آئے اور کہا: ممکن تھا میں چت پر رات گزار لیتا اور میری کوئی ذمہ داری نہ ہوتی۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 1193]
تخریج الحدیث: «ضعيف: أخرجه ابن أبى شيبة: 26360، اس روايت كي سند ميں على بن عماره راوي مجهول الحال هے.»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
حدیث نمبر: 1194
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَنْ بَاتَ عَلَى إِنْجَارٍ فَوَقَعَ مِنْهُ فَمَاتَ، بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ، وَمَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ حِينَ يَرْتَجُّ - يَعْنِي: يَغْتَلِمُ - فَهَلَكَ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ.“
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کھلی چھت پر رات گزاری اور اس سے گر کر مرگیا تو اس کی ذمہ داری نہیں۔ اور جس شخص نے سمندر کی طغیانی کے وقت اس میں سفر کیا اور ہلاک ہو گیا تو اس کا بھی کوئی ذمہ نہیں۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 1194]
تخریج الحدیث: «حسن: أخرجه البخاري فى التاريخ الكبير: 426/3 و أحمد: 20749 - أنظر الصحيحة: 828»
قال الشيخ الألباني: حسن