🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب التَّوَرُّعِ عَنِ الْجَوَابِ فِيمَا لَيْسَ فِيهِ كِتَابٌ وَلاَ سُنَّةٌ:
ایسا فتوی دینے سے احتیاط برتنے کا بیان جس کے بارے میں قرآن و حدیث سے دلیل نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 121
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْأَشَجِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "إِنَّهُ سَيَأْتِي نَاسٌ يُجَادِلُونَكُمْ بِشُبُهَاتِ الْقُرْآنِ، فَخُذُوهُمْ بِالسُّنَنِ، فَإِنَّ أَصْحَابَ السُّنَنِ أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن کی (آیات) متشابہات کے بارے میں تم سے جھگڑا کریں گے، تو تم ان کی احادیث سے گرفت کرنا، اس لئے کہ اہل السنن کتاب اللہ کا بہت اچھی طرح علم رکھتے ہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 121]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن صالح وباقي رجاله ثقات، [مكتبه الشامله نمبر: 121] »
سند اس روایت کی ضعیف لیکن شاہد موجود ہے۔ دیکھئے: [الشريعة للآجري 55، 58] ، [اصول اعتقاد أهل السنة للألكائي 202] ، [جامع بيان العلم 1-17] وغیرہم۔
وضاحت: (تشریح حدیث 120)
اس روایت سے اہل الحدیث کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، نیز یہ کہ قرآن پاک سمجھنے کیلئے حدیث کا علم ضروری ہے، محکم و متشابہ کا علم حدیث شریف ہی سے حاصل ہوگا کیونکہ قرآن پاک کی تشریح و توضیح بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن تھا۔
«﴿لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ﴾ [النحل: 44] » ، نیز فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم : «إني أوتيت القرآن ومثله معه» علماء کا اتفاق ہے کہ «ومثله معه» سے مراد حدیثِ رسول ہے۔
«(على صاحبه أزكى التحيات)» ۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 122
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ هُوَ ابْنُ عُرْوَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: "مَا زَالَ أَمْرُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُعْتَدِلًا لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ حَتَّى نَشَأَ فِيهِمْ الْمُوَلَّدُونَ، أَبْنَاءُ سَبَايَا الْأُمَمِ، أَبْنَاءُ النِّسَاءِ الَّتِي سَبَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ مِنْ غَيْرِهِمْ، فَقَالُوا فِيهِمْ: بِالرَّأْيِ فَأَضَلُّوهُمْ".
عروہ بن زبیر نے کہا: بنی اسرائیل میں اعتدال قائم تھا اور کوئی خلاف شرع بات ان میں نہ تھی، پھر جب نئی نسل اور دیگر اقوام کے قیدی اور لونڈیوں کی پود آئی تو انہوں نے (دین میں) اپنی رائے داخل کر دی اور انہیں گمراہ کر دیا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 122]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 122] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 1774] ، [المعرفة والتاريخ للفسوي 93/3]
وضاحت: (تشریح حدیث 121)
اس روایت سے رائے اور قیاس کی مذمت ظاہر ہوتی ہے جو یقیناً گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. باب كَرَاهِيَةِ الْفُتْيَا:
فتویٰ دینے سے کراہت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 123
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ الْمِنْقَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَوْمًا إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: "لَا تَسْأَلْ عَمَّا لَمْ يَكُنْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَلْعَنُ مَنْ سَأَلَ عَمَّا لَمْ يَكُنْ".
حماد بن یزید نے اپنے والد سے بیان کیا کہ ایک دن ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور آپ سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا جس کا مجھے علم نہیں، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جو چیز وقوع پذیر نہیں ہوئی اس کے بارے میں نہ پوچھو، میں نے سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو ایسے شخص پر لعنت کرتے سنا ہے جو ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کرے جو (ظہور پذیر) نہیں ہوئی ہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 123]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 123] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ اس کو ابن عبدالبر نے [جامع بيان العلم 1820] اور ابوخیثمہ نے [العلم 144] میں ذکر کیا ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 122)
فرضی مسائل پوچھنے کی مذمت اس سے معلوم ہوتی ہے۔
اور جو شخص من گھڑت مسائل و فتاوے پوچھے اس پر لعنت ہے، اور یہ لعنت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے الفاظ میں ہے جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ» (دیکھئے حدیث رقم 96)۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 124
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيَّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ كَانَ يَقُولُ إِذَا سُئِلَ عَنْ الْأَمْرِ: "أَكَانَ هَذَا؟ فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ، قَدْ كَانَ، حَدَّثَ فِيهِ بِالَّذِي يَعْلَمُ وَالَّذِي يَرَى، وَإِنْ قَالُوا: لَمْ يَكُنْ، قَالَ: فَذَرُوهُ حَتَّى يَكُونَ".
امام زہری نے کہا کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے جب کسی چیز کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ پوچھتے تھے: کیا یہ واقعہ رونما ہو چکا ہے؟ اگر ان کا جواب ہاں میں ہوتا تو ان سے حدیث بیان کر دیتے یا پھر اپنی رائے ظاہر کر دیتے تھے اور اگر لوگوں کا جواب نہیں میں ہوتا تو کہہ دیتے تھے کہ جانے دو جب وقوع پذیر ہو تو پوچھنا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 124]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 124] »
یہ اثر امام زہری کے بلاغیات میں سے ہے۔ امام دارمی کے علاوہ خطیب بغدادی نے [الفقيه والمتفقه 8/2] میں، ابن عبدالبر نے [جامع بيان العلم 1813] اور ابن بطہ نے [الإبانة 318] میں ذکر کیا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 125
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: سُئِلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ، فَقَالَ: "هَلْ كَانَ هَذَا بَعْدُ؟، قَالُوا: لَا، قَالَ: دَعُونَا حَتَّى تَكُونَ، فَإِذَا كَانَ، تَجَشَّمْنَاهَا لَكُمْ".
عامر نے کہا کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے کوئی مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے پوچھا یہ رونما ہو چکا ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں تو عمار نے کہا: جب تک واقع نہ ہو ہمیں چھوڑ دو اور اگر وہ واقعہ وقوع پذیر ہو چکے تو ہم تمہارے لئے مسئلہ کے چھان بین کی مشقت برداشت کریں گے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 125]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع عامر الشعبي لم يسمع من عمار، [مكتبه الشامله نمبر: 125] »
اس روایت میں انقطاع ہے، اور اسے خطیب نے [الفقيه والمتفقه 8/2] میں ذکر کیا ہے اور اس کا شاہد صحیح بھی موجود ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 126
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ: "أُحَرِّجُ بِاللَّهِ عَلَى رَجُلٍ سَأَلَ عَمَّا لَمْ يَكُنْ، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ بَيَّنَ مَا هُوَ كَائِنٌ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے منبر پر فرمایا: میں اس شخص کو گنہگار سمجھتا ہوں جو فرضی مسئلہ پوچھے کیونکہ جو چیز ظہور پذیر ہونے والی ہے اسے الله تعالیٰ نے بیان فرما دیا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 126]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 126] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 1807] ، [الفقيه والمتفقه 7/2] ، [فتح الباري 266/13]
وضاحت: (تشریح احادیث 123 سے 126)
سابقہ آثار جلیل القدر صحابہ کرام کے ہیں اور ان سے فرضی مسائل پوچھنے کی مذمت ظاہر ہوتی ہے۔
اس اثر سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یقین و اعتماد اور فہم و فراست ظاہر ہوتا ہے، جو چیز ظہور پذیر ہونے والی ہے اس کو الله تعالیٰ نے وضاحت سے بیان فرما دیا ہے، اور جس سے خاموشی اختیار کی، وضاحت نہیں کی اس کے بارے میں پوچھا بھی نہ جائے، یہی بات «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ﴾ [المائده: 101] » اور حدیث شریف: «دَعُونِيْ مَا تَرَكْتُكُمْ عَلَيْهِ.» سے واضح ہوتی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 127
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ،، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: "مَا رَأَيْتُ قَوْمًا كَانُوا خَيْرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا سَأَلُوهُ إِلَّا عَنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ مَسْأَلَةً حَتَّى قُبِضَ، كُلُّهُنَّ، فِي الْقُرْآنِ مِنْهُنَّ، يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ سورة البقرة آية 217، وَ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ سورة البقرة آية 222، قَالَ: مَا كَانُوا يَسْأَلُونَ إِلَّا عَمَّا يَنْفَعُهُمْ".
سیدنا عبداللہ عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے بہتر لوگ نہیں دیکھے، اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی میں صرف ۱۳ مسئلے آپ سے پوچھے تھے، جو سب کے سب قرآن پاک میں مذکور ہیں، جیسے: « ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ ...﴾ » (البقرة: ۲۱۷/۲) لوگ آپ سے شہر حرام کے بارے میں پوچھتے ہیں، « ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ...﴾ » (البقرة: ۲۲۲/۲) لوگ آپ سے حیض کے مسائل دریافت کرتے ہیں۔ نیز انہوں نے بتایا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صرف وہی سوال اور مسئلہ پوچھتے تھے جو انہیں سودمند ہوتا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 127]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 127] »
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ اثر ضعیف ہے۔ 13 مسائل کی تحدید بھی صحيح نہیں معلوم ہوتی «(والله أعلم)» اس کو ابن عبدالبر نے [جامع بيان العلم 1809] اور ابن بطہ نے [الإبانة 396] میں اسی سند سے ذکر کیا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 128
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ , عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: "لَمَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ مِمَّنْ سَبَقَنِي مِنْهُمْ، فَمَا رَأَيْتُ قَوْمًا أَيْسَرَ سِيرَةً، وَلَا أَقَلَّ تَشْدِيدًا مِنْهُمْ".
عمر بن اسحاق نے کہا: اپنے سے پہلے لوگوں میں سب سے زیادہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو پایا، میں نے ان سے زیادہ آسان سیرت اور سب سے کم سختی کرنے والا کسی کو نہیں دیکھا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 128]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 128] »
اس قول کی سند جید ہے اور اسے [ابن أبي شيبة 18409] اور ابن سعد نے [طبقات 160/1/7] میں ذکر کیا ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 126 سے 128)
اس اثر میں صحابہ کرام کی سیرت، طرزِ عمل اور ان کی تشدید و تکلف سے اجتناب کا بیان ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 129
أَخْبَرَنِي أَخْبَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ، أَخْبَرَنِي رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ الْكِنْدِيَّ، وَسُئِلَ عَنْ امْرَأَةٍ مَاتَتْ مَعَ قَوْمٍ لَيْسَ لَهَا وَلِيٌّ، فَقَالَ: "أَدْرَكْتُ أَقْوَامًا مَا كَانُوا يُشَدِّدُونَ تَشْدِيدَكُمْ، وَلَا يَسْأَلُونَ مَسَائِلَكُمْ".
رجاء بن حیوہ نے کہا: میں نے عبادہ بن نسی الکندی سے سنا ان سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا گیا جو کچھ لوگوں کے ساتھ فوت ہو گئی اور اس کا کوئی ولی موجود نہیں تھا تو انہوں نے کہا: میں نے ایسی جماعت کو پایا جو نہ تمہاری طرح تشدد کرتے اور نہ تمہارے جیسے مسائل پوچھتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 129]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 129] »
اس قول کی سند صحیح ہے اور اسے ابن عساکر نے [تاريخ ص: 47] میں ذکر کیا ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 128)
اس میں صحابہ کرام کی فضیلت اور عدم تشدید کا بیان ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 130
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، أَخْبَرَنِي رَجَاءُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيِّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، بِمَرْجِ الدِّيبَاجِ فَرَأَيْتُ مِنْهُ خَلْوَةً، فَسَأَلْتُهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ، فَقَالَ لِي: مَا تَصْنَعُ بِالْمَسَائِلِ؟، قُلْتُ:"لَوْلَا الْمَسَائِلُ، لَذَهَبَ الْعِلْمُ، قَالَ: "لَا تَقُلْ ذَهَبَ الْعِلْمُ، إِنَّهُ لَا يَذْهَبُ الْعِلْمُ مَا قُرِئَ الْقُرْآنُ، وَلَكِنْ لَوْ قُلْتَ: يَذْهَبُ الْفِقْهُ".
ہشام بن مسلم قرشی نے کہا کہ میں ابن محیریز کے ساتھ وادی مرج الدیباج میں تھا، انہیں تنہا پا کر میں نے ان سے ایک مسئلہ دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: تم مسائل پوچھ کر کیا کرو گے؟ میں نے کہا: اگر مسائل نہ ہوتے تو علم مٹ جاتا، کہنے لگے یہ نہ کہو کہ علم مٹ جاتا، جب تک قرآن کریم پڑھا جاتا رہے گا، علم نہیں مٹے گا، ہاں تم یہ کہہ سکتے ہو کہ سمجھ بوجھ اٹھ جائے گی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 130]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 130] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 141/5] ، [تاريخ ابن عساكر 406/38] ۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں