سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب في وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان
حدیث نمبر: 91
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُرَيْحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي قُرَّةَ مَوْلَى أَبِي جَهْلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ هَذِهِ السُّورَةَ لَمَّا أُنْزِلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ {1} وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا {2} سورة النصر آية 1-2، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيَخْرُجُنَّ مِنْهُ أَفْوَاجًا كَمَا دَخَلُوهُ أَفْوَاجًا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی الله صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ یہ سورة « ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ٭ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا ﴾ » (النصر: 1،2/110) جب نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ”جس طرح فوج در فوج لوگ اس (دین میں) داخل ہوئے ہیں اسی طرح یقیناً فوج در فوج نکل بھی جائیں گے۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 91]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 91] »
اس حدیث کی سند جید ہے اور اسے [امام حاكم 496/4] نے روایت کیا اور کہا کہ اس کی سند صحیح ہے لیکن بخاری ومسلم نے اس کو روایت نہیں کیا، ذہبی نے بھی اس کی تائید کی ہے۔
اس حدیث کی سند جید ہے اور اسے [امام حاكم 496/4] نے روایت کیا اور کہا کہ اس کی سند صحیح ہے لیکن بخاری ومسلم نے اس کو روایت نہیں کیا، ذہبی نے بھی اس کی تائید کی ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 90)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی جو مرورِ زمانہ میں ثابت ہوتی رہی ہے، کتنے فرقے قدریہ، معتزلہ، رافضہ، باطنیہ، منکرینِ حدیث، خوارج ایسے پیدا ہوتے رہے ہیں جو دین سے اسی طرح فوج در فوج نکل گئے، لہٰذا دین میں نئی باتیں ایجاد کرنے، ان کو رواج دینے، اور ایسے برے عمل سے بچنا اور ہوشیار رہنا چاہے۔
«﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [النور: 63] » ترجمہ: ”سنو! جو لوگ حکمِ رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے، یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچے۔
“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی جو مرورِ زمانہ میں ثابت ہوتی رہی ہے، کتنے فرقے قدریہ، معتزلہ، رافضہ، باطنیہ، منکرینِ حدیث، خوارج ایسے پیدا ہوتے رہے ہیں جو دین سے اسی طرح فوج در فوج نکل گئے، لہٰذا دین میں نئی باتیں ایجاد کرنے، ان کو رواج دینے، اور ایسے برے عمل سے بچنا اور ہوشیار رہنا چاہے۔
«﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [النور: 63] » ترجمہ: ”سنو! جو لوگ حکمِ رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے، یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچے۔
“
حدیث نمبر: 92
أَخْبَرَنِي أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ الْمِصْرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ أَبِي أَيُّوبَ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيِّ، عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ خَرَّبُوذَ الْمَكِّيِّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، قَالَ: "دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَهْتَمِ عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ مَعَ الْعَامَّةِ فَلَمْ يُفْجَأْ عُمَرُ إِلَّا وَهُوَ بَيْنَ يَدَيْهِ يَتَكَلَّمُ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ غَنِيًّا عَنْ طَاعَتِهِمْ، آمِنًا لِمَعْصِيَتِهِمْ، وَالنَّاسُ يَوْمَئِذٍ فِي الْمَنَازِلِ وَالرَّأْيِ مُخْتَلِفُونَ، فَالْعَرَبُ بِشَرِّ تِلْكَ الْمَنَازِلِ: أَهْلُ الْحَجَرِ، وَأَهْلُ الْوَبَرِ، وَأَهْلُ الدَّبَرِ، تُجْتَازُ دُونَهُمْ طَيِّبَاتُ الدُّنْيَا وَرَخَاءُ عَيْشِهَا، لَا يَسْأَلُونَ اللَّهَ جَمَاعَةً، وَلَا يَتْلُونَ لَهُ كِتَابًا، مَيِّتُهُمْ فِي النَّارِ، وَحَيُّهُمْ أَعْمَى نَجِسٌ مَعَ مَا لَا يُحْصَى مِنْ الْمَرْغُوبِ عَنْهُ، وَالْمَزْهُودِ فِيهِ، فَلَمَّا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَنْشُرَ عَلَيْهِمْ رَحْمَتَهُ، بَعَثَ إِلَيْهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ، وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَلَمْ يَمْنَعْهُمْ ذَلِكَ أَنْ جَرَحُوهُ فِي جِسْمِهِ وَلَقَّبُوهُ فِي اسْمِهِ، وَمَعَهُ كِتَابٌ مِنْ اللَّهِ نَاطِقٌ، لَا يُقُومُ إِلَّا بِأَمْرِهِ، وَلَا يُرْحَلُ إِلَّا بِإِذْنِهِ، فَلَمَّا أُمِرَ بِالْعَزْمَةِ، وَحُمِلَ عَلَى الْجِهَادِ، انْبَسَطَ لِأَمْرِ اللَّهِ لَوْثُهُ، فَأَفْلَجَ اللَّهُ حُجَّتَهُ، وَأَجَازَ كَلِمَتَهُ، وَأَظْهَرَ دَعْوَتَهُ، وَفَارَقَ الدُّنْيَا تَقِيًّا نَقِيًّا، ثُمَّ قَامَ بَعْدَهُ أَبُو بَكْرٍ فَسَلَكَ سُنَّتَهُ، وَأَخَذَ سَبِيلَهُ، وَارْتَدَّتْ الْعَرَبُ أَوْ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُمْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الَّذِي كَانَ قَابِلًا، انْتَزَعَ السُّيُوفَ مِنْ أَغْمَادِهَا، وَأَوْقَدَ النِّيرَانَ فِي شُعُلِهَا، ثُمَّ نَكِبَ بِأَهْلِ الْحَقِّ أَهْلَ الْبَاطِلِ، فَلَمْ يَبْرَحْ يُقَطِّعُ أَوْصَالَهُمْ، وَيَسْقِي الْأَرْضَ دِمَاءَهُمْ، حَتَّى أَدْخَلَهُمْ فِي الَّذِي خَرَجُوا مِنْهُ، وَقَرَّرَهُمْ بِالَّذِي نَفَرُوا عَنْهُ، وَقَدْ كَانَ أَصَابَ مِنْ مَالِ اللَّهِ بَكْرًا، يَرْتَوِي عَلَيْهِ، وَحَبَشِيَّةً أَرْضَعَتْ وَلَدًا لَهُ، فَرَأَى ذَلِكَ عِنْدَ مَوْتِهِ غُصَّةً فِي حَلْقِهِ، فَأَدَّى ذَلِكَ إِلَى الْخَلِيفَةِ مِنْ بَعْدِهِ، وَفَارَقَ الدُّنْيَا تَقِيًّا نَقِيًّا عَلَى مِنْهَاجِ صَاحِبِهِ، ثُمَّ قَامَ بَعْدَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَمَصَّرَ الْأَمْصَارَ، وَخَلَطَ الشِّدَّةَ بِاللِّينِ، وَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، وَشَمَّرَ عَنْ سَاقَيْهِ وَعَدَّ لِلْأُمُورِ أَقْرَانَهَا، وَلِلْحَرْبِ آلَتَهَا، فَلَمَّا أَصَابَهُ فَتَي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَمَرَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَسْأَلُ النَّاسَ: هَلْ يُثْبِتُونَ قَاتِلَهُ: فَلَمَّا قِيلَ: فَتَي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، اسْتَهَلَّ يَحْمَدُ رَبَّهُ أَنْ لَا يَكُونَ أَصَابَهُ ذُو حَقٍّ فِي الْفَيْءِ فَيَحْتَجَّ عَلَيْهِ بِأَنَّهُ إِنَّمَا اسْتَحَلَّ دَمَهُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ حَقِّهِ، وَقَدْ كَانَ أَصَابَ مِنْ مَالِ اللَّهِ بِضْعَةً وَثَمَانِينَ أَلْفًا، فَكَسَرَ لَهَا رِبَاعَهُ وَكَرِهَ بِهَا كَفَالَةَ أَوْلَادِهِ، فَأَدَّاهَا إِلَى الْخَلِيفَةِ مِنْ بَعْدِهِ، وَفَارَقَ الدُّنْيَا تَقِيًّا نَقِيًّا عَلَى مِنْهَاجِ صَاحِبَيْهِ، ثُمَّ إِنَّكَ يَا عُمَرُ بُنَيُّ الدُّنْيَا وَلَّدَتْكَ مُلُوكُهَا، وَأَلْقَمَتْكَ ثَدْيَيْهَا، وَنَبَتَّ فِيهَا تَلْتَمِسُهَا مَظَانَّهَا، فَلَمَّا وُلِيتَهَا أَلْقَيْتَهَا حَيْثُ أَلْقَاهَا اللَّهُ، هَجَرْتَهَا وَجَفَوْتَهَا، وَقَذِرْتَهَا إِلَّا مَا تَزَوَّدْتَ مِنْهَا، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَلَا بِكَ حَوْبَتَنَا وَكَشَفَ بِكَ كُرْبَتَنَا، فَامْضِ وَلَا تَلْتَفِتْ، فَإِنَّهُ لَا يَعِزُّ عَلَى الْحَقِّ شَيْءٌ، وَلَا يَذِلُّ عَلَى الْبَاطِلِ شَيْءٌ، أَقُولُ قَوْلِي هَذَا، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لِي وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ"، قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: فَكَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ فِي الشَّيْءِ: قَالَ لِيَ ابْنُ الْأَهْتَمِ: امْضِ وَلَا تَلْتَفِتْ.
خالد بن معدان نے کہا کہ عبداللہ بن الاہتم عام لوگوں کے ساتھ عمر بن عبدالعزیز کے پاس داخل ہوئے۔ اچانک عمر بن عبدالعزیز نے انہیں گفتگو کرتے ہوئے اپنے سامنے دیکھا، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی اور امابعد کے بعد کہا: اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا فرمایا ان کی اطاعت سے مستغنی ہو کر اور ان کی نافرمانی سے مامون ہو کر، اس وقت لوگ اپنے گھر اور رائے میں مختلف تھے، اور عرب تو ان منازل میں اور بری حالت میں تھے، وہ پتھروں اور صوف (اون) والے اور دیہاتی تھے جن سے دنیا بھر کی اچھی چیزیں کترا کر نکل جاتی تھیں، نہ وہ اللہ تعالی سے مل جل کر دعا کرتے اور نہ اس کی کوئی کتاب تلاوت کرتے، ان میں سے مرنے والا جہنمی اور زندہ رہنے والا اندها و گندا تھا اور برائیوں کا کوئی حساب نہ تھا، پھر جب اللہ تعالی نے اپنی رحمت سے انہیں نوازنے کا ارادہ فرمایا تو انہیں میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا جن پر تمہاری پریشانی بہت گراں گزرتی ہے، وہ تمہاری منفعت کے بڑے ہی حریص و خواہش مند اور ایمان داروں کے ساتھ بڑے ہی شفیق و مہربان ہیں۔ اللہ کا ان پر درود و سلام اور اس کی رحمتیں برکتیں نازل ہوں۔ اس کے باوجود لوگوں نے آپ کو لہولہان کیا اور طرح طرح کے لقب دیئے۔ حالانکہ آپ کے ساتھ اللہ کی طرف سے بولتی ہوئی کتاب تھی، آپ جس کو لے کر کھڑے ہوئے اور اسی کے اذن سے سفر کیا، اور جب آپ کو حق بات کہنے کا حکم ہوا اور جہاد پر ابھارا گیا تو آپ کا رُواں رُواں خوش ہو گیا (امر الٰہی کے سامنے آپ کی قوت و سختی میں جرأت آ گئی)، چنانچہ اللہ تعالی نے آپ کی دلیل کو غالب فرمایا، آپ کے کلمے کو جاری کیا، آپ کی دعوت کو غالب کر دیا، اس طرح آپ دنیا سے پاک صاف رخصت ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کا مشن لے کر اٹھے اور آپ ہی کے نقش قدم پر چلے اور (اس وقت) عرب (کے کچھ قبلے) مرتد ہو گئے اور زکاة دینے سے انکار کر دیا تو انہوں نے صرف وہی چیز قبول کی جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کیا تھا۔ میانوں سے تلوار نکالی اور آگ بھڑکا دی پھر حق والوں کے ساتھ مل کر باطل پرستوں کی سرکوبی کی اور ان کے جوڑوں کو توڑتے الگ کرتے رہے اور ان کے خون سے زمین کو سیراب کرتے رہے یہاں تک کہ انہیں وہیں واپس ہونے پر مجبور کر دیا جہاں سے وہ نکل بھاگے تھے اور اسی چیز پر واپس لے آئے جس سے وہ بھاگ نکلے تھے (یعنی منکرین زکاة تائب ہو گئے)۔ انہیں الله تعالی کے مال سے جوان اونٹ (یا گائے) ملے جن پر وہ پانی لاتے اور ایک حبشی لونڈی نصیب ہوئی جس نے ان کی اولاد کو دودھ پلایا، وفات سے پہلے اس کی گردن میں ایک گلوبند دیکھا، جس سے وہ بے چین ہو گئے اور وہ آپ کے بعد آنے والے خلیفہ کے سپرد کر دیا اور اپنے ساتھی و دوست (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے منہاج و طریقے پر پاک و صاف دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کے بعد سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ برسر اقتدار آئے اور شہر بسائے، سختی و نرمی کا امتزاج ہوا، آستین و ازار چڑھا کر میدان میں آئے اور تمام امور کے لئے افراد کو تیار کیا، جنگ کے لئے آلات مہیا کئے، اور جب مغیرہ بن شعبہ کے غلام نے انہیں زخمی کر دیا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ پتہ لگائیں، انہوں نے بتایا کہ آپ کا قاتل مغیرہ بن شعبہ کا غلام ہے، تو الله کا شکر ادا کیا کہ کوئی ایسا صاحب حق ان کا قاتل نہیں جو کہہ سکے کہ غنیمت کے مال میں اس کے ساتھ نا انصافی کی گئی تھی اس کی وجہ سے اس نے قتل کا اقدام کیا، انہیں بھی اللہ کے مال (میں سے) اسّی ہزار سے زیادہ نصیب ملا، اور انہوں نے اللہ کے راستے میں خوب خرچ کیا، اور اپنی اولاد کی کفالت اس مال سے نامناسب سمجھی، اور اپنے بعد آنے والے خلیفہ کے سپرد اس کو کر دیا اور اپنے دونوں ساتھیوں کی طرح پاک و صاف دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کے بعد اے عمر (ابن عبدالعزيز) تم جیسے دنیا دار قسم کے لوگ آئے جس کو دنیا کے بادشاہوں نے جنم دیا اور اپنے سینے سے تمہارا منہ بھر دیا، جس میں تم پلے بڑھے اور اسی بادشاہی کی تلاش میں رہے۔ پھر جب تمہیں اس کی ولایت ملی تو تم نے اسے وہیں پہنچا دیا جہاں تک اللہ نے پہنچایا۔ تم نے اس سے دوری اختیار کی، اس پر ستم ڈھایا اور برا سمجھا سوائے اس چیز کے جو اپنے لئے زاد راہ بنائی۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے تمہارے ذر یعہ ہماری مصیبتیں دور فرمائیں اور تمہارے ذر یعہ ہمارے کرب کو دور کر دیا، اس لئے اپنے کام میں لگے رہیے، ادھر ادھر نہ دیکھئے، حق سے بڑھ کر کوئی چیز اچھی (قابل عزت) نہیں، اور باطل سے بڑھ کر کوئی چیز بری اور ذلیل نہیں۔ میں یہ بات کہتا ہوں اور اپنے تمام مومن مرد وعورتوں کے لئے مغفرت کا طالب ہوں۔ ابوایوب نے کہا: عمر بن عبدالعزیز اس چیز کے بارے میں کہتے تھے: میرے لئے ابن الاہتم نے کہا: «امض ولا تلتفت» چلتے رہئے، ادھر ادھر نہ دیکھئے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 92]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده فيه مجهولان. وهو موقوف على ابن الأهتم، [مكتبه الشامله نمبر: 92] »
امام دارمی کے علاوہ کسی اور محدث نے یہ روایت ذکر نہیں کی اور اس میں دو راوی مجہول ہیں۔ اس روایت کو جاحظ نے [البيان والتبيين 117/2-120] میں ذکر کیا ہے۔
امام دارمی کے علاوہ کسی اور محدث نے یہ روایت ذکر نہیں کی اور اس میں دو راوی مجہول ہیں۔ اس روایت کو جاحظ نے [البيان والتبيين 117/2-120] میں ذکر کیا ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 91)
عبداللہ بن الأھتم اس وقت کے بڑے عالم و واعظ تھے، ان کی اس تقریر میں حقیقت بیانی اور حکمت و موعظت ہے، مودت سے بھرپور اس وعظ میں برائی کی نشاندہی اور اچھائی کی ترغیب و تعلیم اور اس پر خلیفۂ خامس سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی تشجیع اور مدح بھی ہے۔
عبداللہ بن الأھتم اس وقت کے بڑے عالم و واعظ تھے، ان کی اس تقریر میں حقیقت بیانی اور حکمت و موعظت ہے، مودت سے بھرپور اس وعظ میں برائی کی نشاندہی اور اچھائی کی ترغیب و تعلیم اور اس پر خلیفۂ خامس سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی تشجیع اور مدح بھی ہے۔
15. باب مَا أَكْرَمَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَوْتِهِ:
وفات کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تکریم کا بیان
حدیث نمبر: 93
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوْزَاءِ أَوْسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "قَحَطَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ قَحْطًا شَدِيدًا، فَشَكَوْا إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: انْظُرُوا قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاجْعَلُوا مِنْهُ كُوَوًا إِلَى السَّمَاءِ حَتَّى لَا يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ سَقْفٌ، قَالَ: فَفَعَلُوا، فَمُطِرْنَا مَطَرًا حَتَّى نَبَتَ الْعُشْبُ، وَسَمِنَتِ الْإِبِلُ حَتَّى تَفَتَّقَتْ مِنْ الشَّحْمِ، فَسُمِّيَ عَامَ الْفَتْقِ".
ابوالجوزاء اوس بن عبداللہ نے بیان کیا: اہل مدینہ بہت سخت قحط سالی کے شکار ہوئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس شکایت لے کر آئے، انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں آسمان کی طرف ایسا روشندان بناؤ کہ آسمان اور قبر کے درمیان چھت حائل نہ ہو۔ راوی نے کہا: لوگوں کا ایسا کرنا تھا کہ اتنی بارش ہوئی کہ گھاس اگ آئی، اونٹ فربہ ہو کر چربی سے پھٹنے لگے اور اس سال کا نام ہی پھٹنے والا سال پڑ گیا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 93]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات وهو موقوف على عائشة، [مكتبه الشامله نمبر: 93] »
اس روایت کو امام دارمی کے علاوہ کسی محدث نے روایت نہیں کیا۔ اس کے رواة ثقات ہیں لیکن موقوف ہے۔
اس روایت کو امام دارمی کے علاوہ کسی محدث نے روایت نہیں کیا۔ اس کے رواة ثقات ہیں لیکن موقوف ہے۔
حدیث نمبر: 94
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: "لَمَّا كَانَ أَيَّامُ الْحَرَّةِ لَمْ يُؤَذَّنْ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا، وَلَمْ يُقَمْ وَلَمْ يَبْرَحْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ لَا يَعْرِفُ وَقْتَ الصَّلَاةِ إِلَّا بِهَمْهَمَةٍ يَسْمَعُهَا مِنْ قَبْرِ النَّبِيِّ"، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
سعید بن عبدالعزیز نے کہا: معرکہ حرة میں تین دن تک مسجد نبوی میں اذان و اقامت نہیں ہوئی، اور سعید بن المسيب مسجد نبوی میں بیٹھے رہے، ان کو نماز کا وقت اس بھاری آواز سے پتہ چلتا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ سے (بوقت نماز) سنائی دیتی تھی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 94]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات ولكن سعيد بن عبد العزيز أصغر من أن يدرك هذه الحادثة أو يسمع من سعيد بن المسيب، [مكتبه الشامله نمبر: 94] »
اس روایت کو امام دارمی کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا اور سعید بن عبدالعزیز کا لقاء سعيد بن المسیب سے محل نظر ہے، اول الذکر ثانی الذکر سے بہت چھوٹے تھے۔ بقیہ رجال اس سند کے ثقات ہیں۔
اس روایت کو امام دارمی کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا اور سعید بن عبدالعزیز کا لقاء سعيد بن المسیب سے محل نظر ہے، اول الذکر ثانی الذکر سے بہت چھوٹے تھے۔ بقیہ رجال اس سند کے ثقات ہیں۔
وضاحت: (تشریح احادیث 92 سے 94)
واقعہ حرہ 63ھ میں پیش آیا سند کے اعتبار سے یہ روایت ثابت نہیں۔
واقعہ حرہ 63ھ میں پیش آیا سند کے اعتبار سے یہ روایت ثابت نہیں۔
حدیث نمبر: 95
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي خَالِدٌ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّ كَعْبًا دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَذَكَرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ كَعْبٌ: "مَا مِنْ يَوْمٍ يَطْلُعُ إِلَّا نَزَلَ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنْ الْمَلَائِكَةِ، حَتَّى يَحُفُّوا بِقَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْرِبُونَ بِأَجْنِحَتِهِمْ، وَيُصَلُّونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا أَمْسَوْا، عَرَجُوا وَهَبَطَ مِثْلُهُمْ، فَصَنَعُوا مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا انْشَقَّتْ عَنْهُ الْأَرْضُ، خَرَجَ فِي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْ الْمَلَائِكَةِ يَزِفُّونَهُ".
نبیہ بن وھب سے مروی ہے کہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر چل نکلا تو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہر دن ستر ہزار فرشتے اترتے ہیں اور اپنے پروں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو ڈھانپ لیتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھتے رہتے ہیں، پھر جب شام ہو جاتی ہے تو وہ (آسمان پر) چڑھ جاتے ہیں اور انہیں کی طرح دوسرے فرشتے آتے ہیں اور درود پڑھتے ہیں حتی کہ زمین شق ہو گی اور آپ ستر ہزار فرشتوں کو ہٹاتے ہوئے قبر سے نمودار ہوں گے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 95]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده علتان: الأولى ضعف عبد الله بن صالح فهو سيئ الحفظ جدا وكانت فيه غفلة والانقطاع أيضا فإن نبيه بن وهب لم يدرك كعبا، [مكتبه الشامله نمبر: 95] »
اس کی سند میں دو علتیں ہیں، ایک تو راوی عبداللہ بن صالح ضعیف ہے، دوسرے اس کی سند میں انقطاع ہے۔ اس کو سخاوی نے [القول البديع ص: 48] میں ذکر کیا ہے۔
اس کی سند میں دو علتیں ہیں، ایک تو راوی عبداللہ بن صالح ضعیف ہے، دوسرے اس کی سند میں انقطاع ہے۔ اس کو سخاوی نے [القول البديع ص: 48] میں ذکر کیا ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 94)
یہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کا قول ہے، جو نہ مرفوع ہے اور نہ صحیح، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کے لئے احادیثِ صحیحہ کا ذخیرہ موجود ہے، مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سید الانبیاء والمرسلین ہونا، تمام نبیوں کی امامت کرنا، وغیرہ وغیرہ۔
یہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کا قول ہے، جو نہ مرفوع ہے اور نہ صحیح، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کے لئے احادیثِ صحیحہ کا ذخیرہ موجود ہے، مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سید الانبیاء والمرسلین ہونا، تمام نبیوں کی امامت کرنا، وغیرہ وغیرہ۔
16. باب اتِّبَاعِ السُّنَّةِ:
سنت کی پیروی کا بیان
حدیث نمبر: 96
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ، ثُمَّ وَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَأَنَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ؟ فَأَوْصِنَا، فَقَالَ: "أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسَنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَإِيَّاكُمْ وَالْمُحْدَثَاتِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ"، وقَالَ أَبُو عَاصِمٍ مَرَّةً:"وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ".
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، پھر آپ نے بڑی مؤثر نصیحت فرمائی جس سے آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور دل لرز گئے، ایک شخص نے کہا یہ تو آخری الوداع کہنے والے کا وعظ ہے، پس آپ ہمیں وصیت فرما دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور سمع و طاعت (یعنی امیر کی بات سننے اور اس پر عمل کرنے) کی وصیت کرتا ہوں چاہے وہ (امیر) حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا، پس تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا، ان کو دانتوں سے مضبوط پکڑ لینا، دین میں نئی باتوں سے (بدعات سے) بچنا اس لئے کہ ہر بدعت گمراہی ہے۔“ ابوعاصم نے ایک مرتبہ کہا: «إِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُوْرِ» یعنی نئے کاموں سے بچنا اس لئے کہ ہر بدعت گمراہی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 96]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 96] »
اس حدیث کو [ابوداؤد 4607] و [ترمذي 2676] و [ابن ماجه 42-44] و [البغوي 102] و [ابن حبان رقم 45-104/1] اور [أحمد 126/4] وغیرہم نے بسند صحيح ذکر کیا ہے۔
اس حدیث کو [ابوداؤد 4607] و [ترمذي 2676] و [ابن ماجه 42-44] و [البغوي 102] و [ابن حبان رقم 45-104/1] اور [أحمد 126/4] وغیرہم نے بسند صحيح ذکر کیا ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 95)
اس حدیث میں تقویٰ اور اطاعتِ امیر کی وصیت اور اتباعِ سنّت کا حکم ہے۔
خلفائے راشدین کی فضیلت اور ان کی اتباع کا حکم ہے۔
بدعات و نئی باتوں سے اجتناب کا حکم ہے۔
اختلاف رونما ہونے کی پیشین گوئی اور نجات کے راستے کی نشاندہی ہے۔
اس حدیث میں تقویٰ اور اطاعتِ امیر کی وصیت اور اتباعِ سنّت کا حکم ہے۔
خلفائے راشدین کی فضیلت اور ان کی اتباع کا حکم ہے۔
بدعات و نئی باتوں سے اجتناب کا حکم ہے۔
اختلاف رونما ہونے کی پیشین گوئی اور نجات کے راستے کی نشاندہی ہے۔
حدیث نمبر: 97
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: كَانَ مَنْ مَضَى مِنْ عُلَمَائِنَا يَقُولُونَ: "الِاعْتِصَامُ بِالسُّنَّةِ نَجَاةٌ، وَالْعِلْمُ يُقْبَضُ قَبْضًا سَرِيعًا، فَنَعْشُ الْعِلْمِ ثَبَاتُ الدِّينِ وَالدُّنْيَا، وَفِي ذَهَابِ الْعِلْمِ ذَهَابُ ذَلِكَ كُلِّهِ".
امام زہری رحمہ اللہ نے کہا: ہمارے اسلاف کہتے تھے سنت کی پیروی نجات (کا ذریعہ) ہے اور علم تیزی سے سمٹ جائے گا، علم کی بقا دین و دنیا کی بقا ہے اور علم کے مٹ جانے سے سب کچھ مٹ جائے گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 97]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 97] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ لیکن یہ امام زہری رحمہ اللہ کا قول ہے۔ دیکھئے: [شرح اعتقاد أهل السنة للالكائي 136] ، [حلية الأولياء 369/3] ، [الزهد لابن المبارك 817]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ لیکن یہ امام زہری رحمہ اللہ کا قول ہے۔ دیکھئے: [شرح اعتقاد أهل السنة للالكائي 136] ، [حلية الأولياء 369/3] ، [الزهد لابن المبارك 817]
حدیث نمبر: 98
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ: "بَلَغَنِي أَنَّ أَوَّلَ ذَهَابِ الدِّينِ تَرْكُ السُّنَّةُ، يَذْهَبُ الدِّينُ سُنَّةً سُنَّةً، كَمَا يَذْهَبُ الْحَبْلُ قُوَّةً قُوَّةً".
عبدالله الدیلمی نے کہا ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ پہلے پہل دین کا اٹھنا سنت کے چھوڑنے کی وجہ سے ہو گا، دین ایک ایک سنت کے بدلے اٹھ جائے گا جس طرح رسی کی ایک ایک گرہ کھل جاتی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 98]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 98] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المعرفة والتاريخ للفسوي 386/3] ، [شرح اعتقاد أهل السنة 127] ، [الإبانة لابن بطة 229] بعض نسخوں میں ہے: «إِنَّ أَوَّلَ ذَهَابَ الدِّيْنِ تَرْكُ السُّنَّةِ» ۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المعرفة والتاريخ للفسوي 386/3] ، [شرح اعتقاد أهل السنة 127] ، [الإبانة لابن بطة 229] بعض نسخوں میں ہے: «إِنَّ أَوَّلَ ذَهَابَ الدِّيْنِ تَرْكُ السُّنَّةِ» ۔
حدیث نمبر: 99
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَسَّانَ، قَالَ: "مَا ابْتَدَعَ قَوْمٌ بِدْعَةً فِي دِينِهِمْ إِلَّا نَزَعَ اللَّهُ مِنْ سُنَّتِهِمْ مِثْلَهَا، ثُمَّ لَا يُعِيدُهَا إِلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
حسان بن عطيہ نے کہا: جس قوم نے بھی اپنے دین میں بدعت ایجاد کی اللہ تعالی ان سے اسی کے مثل سنت اٹھا لیتا ہے، پھر وہ سنت اللہ تعالی قیامت تک واپس نہیں لائے گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 99]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 99] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 73/6] ، [المعرفة 386/3] ، [شرح اعتقاد أهل السنة 129] ، [الإبانة لابن بطه 328] لیکن یہ موقوف روایت ہے۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 73/6] ، [المعرفة 386/3] ، [شرح اعتقاد أهل السنة 129] ، [الإبانة لابن بطه 328] لیکن یہ موقوف روایت ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 96 سے 99)
یہ تمام روایات جو گرچہ ائمہ کرام کے اقوال ہیں، لیکن ان سے سنّت کی فضیلت، تمسک بالسنۃ کی اہمیت ثابت ہوتی ہے، نیز یہ کہ ایک بدعت ایجاد ہوتی ہے تو اسی طرح کی ایک سنّت معدوم ہو جاتی ہے۔
یہ تمام روایات جو گرچہ ائمہ کرام کے اقوال ہیں، لیکن ان سے سنّت کی فضیلت، تمسک بالسنۃ کی اہمیت ثابت ہوتی ہے، نیز یہ کہ ایک بدعت ایجاد ہوتی ہے تو اسی طرح کی ایک سنّت معدوم ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 100
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: "مَا ابْتَدَعَ رَجُلٌ بِدْعَةً إِلَّا اسْتَحَلَّ السَّيْفَ".
ابوقلابہ نے کہا: جس آدمی نے بدعت ایجاد کی تو اس نے تلوار (قتل) کو حلال کر دیا۔ (یعنی وہ قابل گردن زدنی ہے)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 100]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 10] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الشريعة للآجري ص: 68] ، [طبقات ابن سعد 134/1/7] ، [شرح اعتقاد أهل السنة 247] ، [اعتصام للشاطبي 55/1] اور یہ ابوقلابہ کا قول ہے۔
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الشريعة للآجري ص: 68] ، [طبقات ابن سعد 134/1/7] ، [شرح اعتقاد أهل السنة 247] ، [اعتصام للشاطبي 55/1] اور یہ ابوقلابہ کا قول ہے۔