🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب الأَذَانِ مَثْنَى مَثْنَى وَالإِقَامَةُ مَرَّةً:
اذان دہری اور اقامت اکہری کہنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1226
أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ، عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْمُثَنَّى، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ:"كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَالَ: قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ، قَالَهَا مَرَّتَيْنِ: فَإِذَا سَمِعْنَا الْإِقَامَةَ، تَوَضَّأَ أَحَدُنَا وَخَرَجَ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد (مبارک) میں اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت (کے کلمات) ایک ایک بار کہے جاتے تھے، ہاں جب قد قامت الصلاۃ پر آتے تو اس کو دو بار کہتے، لہٰذا جب ہم اقامت سنتے تو ہم میں سے (ہر) کوئی وضو کرتا اور گھر سے باہر آ جاتا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1226]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 1229] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 510] ، [نسائي 627] ، [صحيح ابن حبان 1674] ، [الموارد 290]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1227
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَعَفَّانُ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: "أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ کہیں اور اقامت میں ایک مرتبہ۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1227]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1230] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 603] ، [مسلم 378] وغيرهما۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1228
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: "أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ، وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ إِلَّا الْإِقَامَةَ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: بلال کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1228]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1231] »
اس روایت کی تخریج اوپر گذر چکی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1229
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، نَحْوَهُ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1229]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: ] »
اس روایت کی تخریج بھی اوپر گذر چکی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 1225 سے 1229)
ان تمام روایاتِ صحیحہ سے ثابت ہوا کہ اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہے جا ئیں گے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو ایسا ہی حکم دیا تھا، بعض روایات میں اقامت (یعنی تکبیر) کے کلمات بھی اذان کی طرح دو دو بار کہنا مروی ہے، لیکن اکہری اقامت کہنے کی روایت اصح اور متفق علیہ ہے۔
واللہ اعلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. باب التَّرْجِيعِ في الأَذَانِ:
اذان میں ترجیع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1230
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أَمَرَ نَحْوًا مِنْ عِشْرِينَ رَجُلًا فَأَذَّنُوا، فَأَعْجَبَهُ صَوْتُ أَبِي مَحْذُورَةَ، فَعَلَّمَهُ الْأَذَانَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَالْإِقَامَةَ مَثْنَى مَثْنَى".
سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباً بیس آدمیوں سے اذان کے لئے کہا، سو انہوں نے آذان دی لیکن آپ کو ابومحذورہ کی آواز پسند آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اذان سکھائی۔ «‏‏‏‏الله أكبر الله أكبر، الله أكبر الله أكبر، أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن محمدا رسول الله، أشهد أن محمدا رسول الله، أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن محمدا رسول الله، أشهد أن محمدا رسول الله، حي على الصلاة، حي على الصلاة، حي على الفلاح، حي على الفلاح، الله أكبر الله أكبر، لا إله إلا الله» اور اقامت دو دو بار۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1230]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1232] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 379] ، [أبوداؤد 500] ، [ترمذي 191] ، [نسائي 628] ، [ابن ماجه 708] ، [ابن حبان 1680] ، [موارد الظمآن 288]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1231
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ: عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ، أَنَّ ابْنَ مُحَيْرِيزٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "عَلَّمَهُ الْأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً، وَالْإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً".
ابومحذورہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اذان کے 19 کلمات اور اقامت کے 17 کلمات سکھائے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1231]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 1233] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 502] ، [ترمذي 192] ، [نسائي 629] ، [ابن ماجه 708]
وضاحت: (تشریح احادیث 1229 سے 1231)
پہلی حدیث میں اذان کے کلمات 19 ہیں، جس میں شہادتین کے کلمات چار چار بار ہیں اور یہ ہی ترجیع ہے، یعنی شہادتین کے دونوں کلمات پہلے آہستہ آواز سے دو دو مرتبہ کہے بعد میں بآوازِ بلند پھر دو دو مرتبہ شہادتین کو دہرائے۔
یہ روایت صحیح ہے اور اس طرح ترجیع کے ساتھ اذان دینا امام مالک، امام شافعی رحمہما اللہ اور جمہور علماء کے نزدیک مشروع ہے، اور اس روایت میں اقامت کے الفاظ بلا ترجیع اذان کی طرح دو دو بار کہنا بھی ثابت ہے اور یہ فعل منکر نہیں ہے۔
واللہ اعلم۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. باب الاِسْتِدَارَةِ في الأَذَانِ:
اذان کے دوران دائیں بائیں منہ پھیرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1232
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهِ عَنْهُ، أَنَّهُ رَأَى بِلَالًا أَذَّنَ، قَالَ:"فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُ فَاهُ هَهُنَا وَهَهُنَا بِالْأَذَانِ".
ابوجحیفہ سے روایت ہے انہوں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دیتے ہوئے دیکھا، کہا: میں بھی ان کے منہ کے ساتھ اذان میں اِدھر اُدھر منہ پھیرنے لگا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1232]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1234] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 634] ، [مسلم 503 وغيرهما من أصحاب السنن] و [أبويعلی 887] ، [ابن حبان 1268] ، [الحميدي 916]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1233
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ بِلَالًا "رَكَزَ الْعَنَزَةَ، ثُمَّ أَذَّنَ، وَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ فَرَأَيْتُهُ يَدُورُ فِي أَذَانِهِ". قَالَ عَبْد اللَّهِ: حَدِيثُ الثَّوْرِيِّ أَصَحُّ.
ابوجحیفہ سے روایت کیا ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی چھڑی گاڑی، پھر اذان دی، اور اپنے دونوں کانوں میں انگلی رکھی، میں نے دیکھا کہ وہ اذان میں گھومتے ہیں۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: (اوپر والی) سفیان ثوری کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1233]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف من أجل حجاج وهو: ابن أرطاة ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1235] »
اس سند سے یہ روایت ضعیف ہے، لیکن حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 634] ، و [مسلم 503] ، و [مسند أبى يعلی 894] ، و [موارد الظمآن 2300]
وضاحت: (تشریح احادیث 1231 سے 1233)
ان احادیث سے اذان میں «حي على الصلاة» «حي على الفلاح» کہتے وقت دائیں بائیں منہ پھیرنے، اور کانوں میں انگلی ڈالنے کا ثبوت ملتا ہے جو مستحب ہے واجب نہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب الدُّعَاءِ عِنْدَ الأَذَانِ:
اذان کے وقت دعا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1234
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَنَا مُوسَى هُوَ ابْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "ثِنْتَانِ لَا تُرَدَّانِ أَوْ قَلَّ: مَا تُرَدَّانِ: الدُّعَاءُ عِنْدَ النِّدَاءِ، وَعِنْدَ الْبَأْسِ حِينَ يُلْحِمُ بَعْضُهُ بَعْضًا".
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو (وقت) دعائیں رد نہیں کی جاتی ہیں یا کم رد کی جاتی ہیں۔ ایک تو اذان کے وقت کی دعا، دوسرے لڑائی کے وقت جب لوگ ایک دوسرے سے بھڑ جاتے (برسرِ پیکار ہوتے) ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1234]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1236] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ أبوداؤد 2540] ، [المنتقي 1065] ، [المعجم الكبير 5756] ، [ابن خزيمه 419] ، [الحاكم 198/1] و [البيهقي 410/1] وغيرهم۔
وضاحت: (تشریح حدیث 1233)
اس حدیث سے دعا کی قبولیت کے اوقات معلوم ہوئے، اذان کے بعد اور میدانِ جنگ میں قتال کرتے وقت دعا کی قبولیت کے اوقات ہیں۔
اس کے علاوہ فجر کی اذان سے پہلے اور جمعہ کے دن عصر سے مغرب کی اذان تک یہ اوقات بھی دعا کی قبولیت کے ہیں، جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. باب مَا يُقَالُ عَنْدَ الأَذَانِ:
اذان کے بعد کیا کہنا چاہئے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1235
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَنْبَأنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا سَمِعْتُمْ الْمُؤَذِّنَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم موذن کی آواز سنو تو جو وہ کہتا ہے ویسے ہی تم کہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1235]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1237] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 611] ، [مسلم 383 وأصحاب السنن] و [ابن خزيمة 411] ، [أبويعلي 1189] ، [ابن حبان 1686]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں