🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. باب في صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ:
عاشوراء کے روزے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1800
أَخْبَرَنَا يَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ، فَلْيَصُمْهُ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَتْرُكَهُ فَلْيَتْرُكْهُ". وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَصُومُهُ إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ صِيَامَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ یوم عاشوراء ہے اور قریش زمانہ جاہلیت میں اس کا روزہ رکھتے تھے، پس تم میں سے جس کو پسند ہو عاشوراء کا روزہ رکھے، اور جو اسے ترک کرنا چاہے ترک کر دے۔“ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما خصوصیت سے عاشوراء کا روزہ نہ رکھتے تھے الا یہ کہ ان کے روزوں کے ایام میں عاشوراء آ جاتا تو اپنے روزے پورے کرتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1800]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أن ابن إسحاق قد عنعن ولكنه متابع عليه والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1803] »
یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1892، 1893] ، [مسلم 1126] ، [ابن حبان 3622] ، [أبوداؤد 2443] ، [ابن ماجه 1737]
وضاحت: (تشریح احادیث 1796 سے 1800)
ابتدائے اسلام میں عاشوراء کے روزے کا حکم ہوا، پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشوراء کا روزہ بطورِ فریضہ چھوڑ دیا گیا اور اختیار دیا گیا کہ جو چاہے رکھے اور جو چاہے یہ روزہ نہ رکھے کما في البخاری، یہ روایت آگے آ رہی ہے لیکن اس روزے کی بھی بڑی فضیلت ہے کما مر۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: رجاله ثقات غير أن ابن إسحاق قد عنعن ولكنه متابع عليه والحديث متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1801
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:"كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، حَتَّى إِذَا فُرِضَ رَمَضَانُ، كَانَ رَمَضَانُ هُوَ الْفَرِيضَةُ، وَتُرِكَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ".
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: زمانہ جاہلیت میں قریش عاشوراء کے دن روزہ رکھا کرتے تھے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا حکم دیا یہاں تک کہ جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو یہ فریضہ ہو گئے اور عاشورا کو ترک کر دیا، جس نے چاہا روزہ رکھا اور جس نے چاہا چھوڑ دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1801]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1804] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1893، 2001، 2002] ، [مسلم 1125] ، [أبوداؤد 2442] ، [ترمذي 753] ، [أبويعلی 4638] ، [ابن حبان 3621] ، [الحميدي 202، وغيرهم]
وضاحت: (تشریح حدیث 1800)
ان تمام احادیث سے عاشورا کے روزے کی فضیلت و اہمیت معلوم ہوئی اس لئے محرم کی دس تاریخ کا روزہ رکھنا مستحب ہے نیز ایک دن قبل یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھنا چاہیے۔
علمائے کرام نے اس کی تین صورتیں ذکر کی ہیں: نو دس گیارہ تین دن تک کا روزہ رکھے یا نو اور دس دو دن کا روزہ رکھے یا دس اور گیارہ کا روزہ رکھے۔
پہلی صورت سب سے افضل ہے، اور صرف دس محرم کا روزہ رکھنے کو علمائے کرام نے مکروہ کہا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں آئندہ سال بقیدِ حیات رہا تو نویں محرم کا بھی روزہ رکھوں گا۔
ایک اور حدیث ہے کہ یہودی دس محرم کا روزہ رکھتے ہیں، تم ان کی مخالفت کرو اور نو اور دس کا روزہ رکھو، اس روزے کی فضیلت کے بارے میں فرمایا کہ اس سے پچھلے ایک سال کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، الله تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عنایت فرمائے۔
آمین۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
47. باب في صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ:
عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1802
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَوْمُ عَرَفَةَ، وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ، وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ".
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوم عرفہ اور ایام التشریق ہماری اہل اسلام کی عید کے دن ہیں اور یہ کھانے پینے کے ایام ہیں۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1802]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1805] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2419] ، [ترمذي 773] ، [نسائي 3004] ، [ابن حبان 3603]
وضاحت: (تشریح حدیث 1801)
عرفہ کا دن نو ذوالحجہ اور ایام التشريق 10 ذی الحجہ سے 13 ذی الحجہ تک ہیں، ان دنوں میں حاجی کے لئے روزہ رکھنا درست نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے حاجی کے لئے مشقت ناقابلِ برداشت ہو جائے تو وہ کما حقہ دعا و اذکار نہ کر سکے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1803
أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ، فَقَالَ: "حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ، فَلَمْ يَصُمْهُ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُثْمَانَ، فَلَمْ يَصُمْهُ، وَأَنَا لَا أَصُومُهُ، وَلَا آمُرُ بِهِ، وَلَا أَنْهَى عَنْهُ".
ابن ابی نجیح نے اپنے والد سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے دن روزہ نہیں رکھا، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بھی حج کیا تو انہوں نے بھی روزہ نہیں رکھا، اور پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی حج کیا تو انہوں نے بھی اس دن روزہ نہیں رکھا، پھر سیدنا عثان رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے بھی اس دن روزہ نہیں رکھا، اور میں بھی اس دن روزہ نہیں رکھتا اور نہ روزہ رکھنے کا حکم دیتا ہوں اور نہ اس سے روکتا ہوں۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1803]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1806] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 751] ، [أبويعلی 5595] ، [ابن حبان 3604] ، [موارد الظمآن 934] ، [الحميدي 698]
وضاحت: (تشریح حدیث 1802)
ان احادیث سے حاجی کے لئے عرفہ اور ایامِ تشریق کا روزہ نہ رکھنا ثابت ہوا، اسی لئے ان دنوں میں حجاج کے روزہ رکھنے کو علماء نے مکروہ کہا ہے، ہاں وہ حاجی جس نے حج تمتع کیا اور قربانی کی استطاعت نہ ہو تو ایامِ تشریق میں روزے رکھ سکتا ہے جیسا کہ امام مالک، شافعی، احمد و اسحاق رحمہم اللہ کا مسلک ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
48. باب النَّهْيِ عَنِ الصِّيَامِ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ:
ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1804
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَوْ أَمَرَ رَجُلًا يُنَادِي أَيَّامَ التَّشْرِيقِ:"أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ".
سیدنا بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یا کسی آدمی کو حکم دیا کہ ایام تشریق میں اعلان کر دیں کہ ”جنت میں صرف مومن بندہ داخل ہو گا، اور یہ تشریق کے دن کھانے اور پینے کے ہیں۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1804]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1807] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [نسائي 5009] ، [ابن ماجه 1720] ، [أحمد 335/4] ، [طبراني فى الكبير 1213] ، [ابن خزيمه 2960، وغيرهم]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1805
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلٍ، أَنَّهُ: دَخَلَ هُوَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَذَلِكَ الْغَدَ أَوْ بَعْدَ الْغَدِ مِنْ يَوْمِ الْأَضْحَى، فَقَرَّبَ إِلَيْهِمْ عَمْرٌو طَعَامًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ عَمْرٌو:"أَفْطِرْ، فَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِفِطْرِهَا وَيَنْهَانَا عَنْ صِيَامِهَا. فَأَفْطَرَ عَبْدُ اللَّهِ، فَأَكَلَ وَأَكَلْتُ مَعَهُ".
عقیل کے آزاد کردہ غلام ابومرہ سے مروی ہے کہ وہ اور عبداللہ بن عمرو، ان کے والد سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عید الاضحیٰ کے بعد پہلے یا دوسرے دن (گیارہ یا بارہ ذوالحجہ کو) حاضر ہوئے تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے لئے کھانا لگایا، عبداللہ نے کہا: میرا روزہ ہے، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: روزہ توڑ دو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ان دنوں میں روزہ افطار کرنے کا حکم دیا اور روزہ رکھنے سے منع کیا ہے، لہٰذا عبداللہ بن عمرو نے روزہ توڑ دیا اور کھانا کھایا، میں نے بھی ان کے ساتھ کھانا کھایا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1805]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن صالح غير أنه لا ينفرد به فقد تابعه عليه شعيب بن الليث بن سعد وهو ثقة فقيه نبيل فيصح الإسناد، [مكتبه الشامله نمبر: 1808] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، لیکن دوسری صحیح سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2418] ، [ابن خزيمه 2149] ، [مالك فى الحج 138]
وضاحت: (تشریح احادیث 1803 سے 1805)
ان احادیث سے استدلال کرتے ہوئے بعض ائمہ نے مطلقاً ایامِ تشریق کے روزہ رکھنے سے منع کیا ہے، لیکن اصح یہ ہے کہ عرفہ کے دن نو ذوالحجہ کو اور ایامِ تشریق 11، 12، 13 ذوالحجہ کو حاجی کے لئے روزہ رکھنا مناسب نہیں، ہاں متمتع جس کے پاس قربانی کرنے کے لئے پیسے نہ ہوں اور شروع ذوالحجہ میں اس نے روزے نہ رکھے ہوں تو ایامِ تشریق میں تین دن روزے رکھ سکتا ہے، اور عرفہ کا روزہ جو لوگ عرفات میں نہ ہوں ان کے لئے باعثِ خیر و برکت ہے اور اس کی بڑی فضیلت ہے، اور اگلے پچھلے ایک سال کے صغیرہ گناہ اس ایک روزے کی بدولت معاف کر دیئے جاتے ہیں، کما فی صحیح مسلم۔
سعودی عرب کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی عرفے کے دن ہی روزہ رکھنا چاہیے، خواہ وہ ذوالحجہ کی آٹھ تاریخ ہو یا نو، آج کل ذرائع اعلام سے معلوم ہو جاتا ہے کہ عرفہ کا دن کب ہے۔
ہندوستان وغیرہ میں وہاں کے حساب سے نو ذوالحجہ کا لوگ روزہ رکھتے ہیں جو سعودی عرب میں 10 ذوالحجہ اور یوم النحر کا دن ہوتا ہے، عرفہ کا دن نہیں ہوتا۔
«(فَلْيَتَأَمَّلِ الْعَامِلُوْنَ)» ، نیز ذوالحجہ کے ایک سے نو ذوالحجہ تک روزہ رکھنا افضل ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن صالح غير أنه لا ينفرد به فقد تابعه عليه شعيب بن الليث بن سعد وهو ثقة فقيه نبيل فيصح الإسناد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. باب الرَّجُلِ يَمُوتُ وَعَلَيْهِ صَوْمٌ:
کوئی آدمی مر جائے اور اس کے ذمے روزے ہوں اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1806
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً نَذَرَتْ أَنْ تَصُومَ، فَمَاتَتْ، فَجَاءَ أَخُوهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ؟"قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "فَاقْضُوا اللَّهَ، فَاللَّهُ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ". قَالَ: فَصَامَ عَنْهَا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نے حج کی نذر مانی لیکن اس کا انتقال ہو گیا تو اس کا بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بارے میں سوال کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”اگر ان کے اوپر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے؟“ عرض کیا: جی ہاں، فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا قرض ادا کرو، اللہ تعالیٰ وفا کا زیادہ حق دار ہے۔“ راوی نے کہا: پس بھائی نے بہن کی طرف سے روزہ رکھا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1806]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1809] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1953] ، [مسلم 1148، 1149] ، [أبوداؤد 3310] ، [ترمذي 716] ، [ابن ماجه 1758] ، [ابن حبان 3530-3570]
وضاحت: (تشریح حدیث 1805)
اس حدیث میں سوال حج کی نذر پوری کرنے کا ہے اور جواب میں روزے کی قضا کا ذکر ہے، غالباً الگ الگ واقعات ہیں جو کسی راوی سے یکجا ہو گئے ہیں۔
کتبِ احادیث میں روزے کی قضاء کا ذکر ہے اور [مسلم 1149] میں ایک الگ حدیث میں حج کا ذکر ہے، علی کل حال علماء کا اس سلسلے میں اختلاف ہے کہ کسی میّت پر روزہ یا حج واجب الاداء ہو تو ولی کیا کرے؟ اگر نذر کا حج یا روزہ ہے تو اس کے ولی کو پورا کرنا چاہیے، اور اگر رمضان کے روزے ہیں یا فریضۂ حج میّت پر واجب ہو تو بعض ائمہ نے کہا کہ اس کی میراث سے روزے کا فدیہ ادا کیا جائے اور میّت کے پیسے سے ہی حج کیا جائے، لیکن صحیح یہ ہے کہ «مَنْ مَاتَ وَ عَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهّ.» [بخاري 1952] کے تحت میّت پر کوئی بھی روزہ ہو اس کا قریبی ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے، اور حج بھی کر سکتا ہے جیسا کہ احادیث میں وضاحت موجود ہے۔
(دیکھئے: حدیث رقم: 1874)۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. باب في فَضْلِ الصِّيَامِ:
روزے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1807
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ بہتر ہے، روزے دار کے لئے دو وقت خوشی کے ہیں، افطار کا وقت دوسرے قیامت کے دن کی خوشی کا وقت۔“ یعنی جب قیامت کے دن روزے کے ثواب کو دیکھے گا تو خوش ہوگا «كما فى البخاري» ۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1807]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 1810] »
اس روایت کی سند حسن، لیکن حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1904] ، [مسلم 1151] ، [ترمذي 764] ، [نسائي 2215] ، [أبويعلی 5947] ، [ابن حبان 3422] ، [الحميدي 1040]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني:
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1808
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ: فَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِئَةِ ضِعْفٍ، إِلَّا الصِّيَامَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، إِنَّهُ يَتْرُكُ الطَّعَامَ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي، وَيَتْرُكُ الشَّرَابَ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي، فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”الله تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم کے لئے ایک نیکی کا بدلہ دس سے لے کر سات سو گنا ہے سوائے روزے کے، روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا کیونکہ وہ روزے دار اپنا کھانا اپنی شہوت میری وجہ سے چھوڑتا ہے، پینا اور اپنی خواہش نفسانی میری وجہ سے ترک کر دیتا ہے، پس روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1808]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1811] »
اس روایت کی سند حسن اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1904] ، [مسلم 1151] ، [ابن حبان 3416] ، نیز دیکھئے: [فتح الباري 107/4]
وضاحت: (تشریح احادیث 1806 سے 1808)
روزے دار کو کتنا اجر ملے گا یہ اس حدیثِ قدسی میں ذکر نہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ روزے دار کا اجر بے حد اور بے حساب ہوگا، جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے: «﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ [الزمر: 10] » ۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو والحديث متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1809
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الصَّوْمُ جُنَّةٌ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ ایک ڈھال ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1809]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1812] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1894، 1904] ، [مسلم 1151/162] ، [نسائي 2215] ، [ابن حبان 3427]
وضاحت: (تشریح حدیث 1808)
روز ہ گناہوں سے بچنے کے لئے یا جہنم سے بچنے کے لئے ایک ڈھال ہے، جس طرح جنگ میں دشمن کے وار سے بچنے کی ڈھال ہوتی ہے۔
ان احادیث سے روزے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ قیامت کے دن اس کا ثوابِ عظیم دیکھ کر روزے دار خوش ہوگا۔
اور روزے کا ثواب بے حد و بے حساب ہے، اور روزہ دار کے لئے رب العالمین ارحم الراحمین کی طرف سے بشارت ہے «فَإِنَّه لِيْ وَ أَنَا أَجْزِيْ بِهِ» نیز یہ کہ روزہ ایک ڈھال کی طرح ہے جو جہنم کی آگ سے بچائے گا جیسے ڈھال دشمن کے وار سے بچاتی ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں