🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ كَفَّارَاتِ الأَيْمَانِ:
باب: پس قسم کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6708
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ}. وَمَا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَزَلَتْ: {فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَطَاءٍ وَعِكْرِمَةَ مَا كَانَ فِي الْقُرْآنِ أَوْ أَوْ فَصَاحِبُهُ بِالْخِيَارِ وَقَدْ خَيَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَعْبًا فِي الْفِدْيَةِ.
‏‏‏‏ اور (سورۃ المائدہ میں) اللہ تعالیٰ کا فرمان «فكفارته إطعام عشرة مساكين‏» اور یہ کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ پھر روزے یا صدقہ یا قربانی کا فدیہ دینا ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطاء و عکرمہ سے منقول ہے کہ قرآن مجید میں جہاں «أو أو» (بمعنی یا) کا لفظ آتا ہے تو اس میں اختیار بتانا مقصود ہوتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب رضی اللہ عنہ کو فدیہ کے معاملہ میں اختیار دیا تھا (کہ مسکینوں کو کھانا کھلائیں یا ایک بکرے کا صدقہ کریں)۔ [صحيح البخاري/كتاب كفارات الأيمان/حدیث: Q6708]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6708
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: أَتَيْتُهُ: يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" ادْنُ"، فَدَنَوْتُ فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ، أَوْ صَدَقَةٍ، أَوْ نُسُكٍ"، وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَالنُّسُكُ: شَاةٌ وَالْمَسَاكِينُ: سِتَّةٌ.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوشہاب عبداللہ بن نافع نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے، ان سے مجاہد نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے، ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریب ہو جا، میں قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے سر کے کپڑے تکلیف دے رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر روزے صدقہ یا قربانی کا فدیہ دیدے۔ اور مجھے ابن عون نے خبر دی، ان سے ایوب نے بیان کیا کہ روزے تین دن کے ہوں گے اور قربانی ایک بکری کی اور (کھانے کے لیے) چھ مسکین ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب كفارات الأيمان/حدیث: 6708]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہو جاؤ۔ پھر میں قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر روزے رکھو یا صدقہ دو یا قربانی کا فدیہ دو۔ ابن عون کے طریق سے ایوب نے کہا: روزے تین دن کے ہوں گے، قربانی ایک بکری کی اور کھانا چھ مساکین کے لیے ہوگا۔ [صحيح البخاري/كتاب كفارات الأيمان/حدیث: 6708]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ وَاللَّهُ مَوْلاَكُمْ وَهْوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ}:
باب: سورۃ التحریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ”اور اللہ تعالیٰ نے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کیا ہوا ہے اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہ بڑا جاننے والا بڑی حکمت والا ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6709
مَتَى تَجِبُ الْكَفَّارَةُ عَلَى الْغَنِيِّ وَالْفَقِيرِ؟
‏‏‏‏ اور مالدار اور محتاج پر کفارہ کب واجب ہوتا ہے؟ [صحيح البخاري/كتاب كفارات الأيمان/حدیث: Q6709]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6709
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ فِيهِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلَكْتُ، قَالَ:" وَمَا شَأْنُكَ؟"، قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ:" تَسْتَطِيعُ تُعْتِقُ رَقَبَةً؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" اجْلِسْ"، فَجَلَسَ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، وَالْعَرَقُ: الْمِكْتَلُ الضَّخْمُ، قَالَ:" خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ"، قَالَ: أَعَلَى أَفْقَرَ مِنَّا؟ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، قَالَ:" أَطْعِمْهُ عِيَالَكَ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ان کی زبان سے سنا وہ حمید بن عبدالرحمٰن سے بیان کرتے تھے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ عرض کیا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تم ایک غلام آزاد کر سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا دو مہینے متواتر روزے رکھ سکتا ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ وہ صاحب بیٹھ گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں ( «عرق» ایک بڑا پیمانہ ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے جا اور اسے پورا صدقہ کر دے۔ انہوں نے پوچھا، کیا اپنے سے زیادہ محتاج پر (صدقہ کر دوں)؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئیے اور آپ کے سامنے کے دانت مبارک دکھائی دینے لگے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بچوں ہی کو کھلا دینا۔ [صحيح البخاري/كتاب كفارات الأيمان/حدیث: 6709]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: میں ہلاک ہو گیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: میں نے رمضان المبارک میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ایک غلام آزاد کر سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک «عَرَق» لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں، عرق ایک بڑے ٹوکرے کو کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لے لو اور اسے صدقہ کر دو۔ اس نے کہا: اپنے سے زیادہ محتاج پر صدقہ کر دوں؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیے حتیٰ کہ آپ کے سامنے والے دانت دکھائی دینے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے اہل خانہ کو کھلا دو۔ [صحيح البخاري/كتاب كفارات الأيمان/حدیث: 6709]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ مَنْ أَعَانَ الْمُعْسِرَ فِي الْكَفَّارَةِ:
باب: جس نے کفارہ کے ادا کرنے کے لیے کسی تنگ دست کی مدد کی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6710
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلَكْتُ فَقَالَ:" وَمَا ذَاكَ؟"، قَالَ: وَقَعْتُ بِأَهْلِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ:" تَجِدُ رَقَبَةً؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟"، قَالَ: لَا، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِعَرَقٍ، وَالْعَرَقُ: الْمِكْتَلُ فِيهِ تَمْرٌ، فَقَالَ:" اذْهَبْ بِهَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ"، قَالَ: أَعَلَى أَحْوَجَ مِنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا، ثُمَّ قَالَ:" اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ".
ہم سے محمد بن محبوب بصریٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر بن راشد نے، ان سے زہری نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی، میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کوئی غلام ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ دریافت فرمایا متواتر دو مہینے روزے رکھ سکتے ہو، انہوں نے کہا کہ نہیں۔ دریافت فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ایک انصاری صحابی «عرق» لے کر حاضر ہوئے، «عرق» ایک پیمانہ ہے، اس میں کھجوریں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے جا اور صدقہ کر دے۔ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنے سے زیادہ ضرورت مند پر صدقہ کروں؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ ان دونوں میدانوں کے درمیان کوئی گھرانہ ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا اور اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دے۔ [صحيح البخاري/كتاب كفارات الأيمان/حدیث: 6710]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور کہا: میں تباہ ہو گیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تجھے کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: میں رمضان المبارک میں اپنی بیوی سے صحبت کر بیٹھا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس کوئی غلام ہے (جسے تو آزاد کر سکے؟) اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم متواتر دو ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ اسی دوران ایک انصاری کھجوروں سے بھرا ہوا ایک «عَرَق» لے کر حاضر ہوئے، «عَرَق» بڑے ٹوکرے کو کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جاؤ اور صدقہ کر دو۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنے سے زیادہ ضرورت مند پر صدقہ کروں؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! مدینہ طیبہ کے ان دونوں کناروں کے درمیان ہم سے زیادہ کوئی اور محتاج نہیں ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا، اسے لے جاؤ اور اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔ [صحيح البخاري/كتاب كفارات الأيمان/حدیث: 6710]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ يُعْطِي فِي الْكَفَّارَةِ عَشَرَةَ مَسَاكِينَ، قَرِيبًا كَانَ أَوْ بَعِيدًا:
باب: کفارہ میں دس مسکینوں کو کھانا دیا جائے خواہ وہ قریب کے رشتہ دار ہوں یا دور کے بلکہ قریب والوں کو کھلانے میں ثواب اور بھی زیادہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6711
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلَكْتُ، قَالَ:" وَمَا شَأْنُكَ؟"، قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ:" هَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟"، قَالَ: لَا أَجِدُ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، فَقَالَ:" خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ"، فَقَالَ: أَعَلَى أَفْقَرَ مِنَّا؟ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَفْقَرُ مِنَّا، ثُمَّ قَالَ:" خُذْهُ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے؟ کہا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے آزاد کر سکو؟ انہوں نے کہا نہیں۔ دریافت فرمایا، کیا متواتر دو مہینے تم روزے رکھ سکتے ہو؟ کہا کہ نہیں، دریافت فرمایا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ عرض کیا کہ اس کے لیے بھی میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے جا اور صدقہ کر۔ انہوں نے پوچھا کہ اپنے سے زیادہ محتاج پر؟ ان دونوں میدان کے درمیان ہم سے زیادہ محتاج کوئی نہیں ہے۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اسے لے جا اور اپنے گھر والوں کو کھلا دے۔ [صحيح البخاري/كتاب كفارات الأيمان/حدیث: 6711]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: میں تو ہلاک ہو گیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا بات ہے؟ اس نے عرض کیا: میں نے ماہ رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے پاس کوئی غلام ہے جسے تو آزاد کر سکے؟ اس نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تو متواتر دو ماہ روزے رکھ سکتا ہے؟ اس نے عرض کیا: نہیں۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جاؤ اور صدقہ کر دو۔ اس نے عرض کیا: اپنے سے زیادہ محتاج پر؟ جبکہ مدینہ طیبہ کے دونوں کناروں کے درمیان ہم سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جاؤ اور اپنے اہل خانہ کو کھلا دو۔ [صحيح البخاري/كتاب كفارات الأيمان/حدیث: 6711]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ صَاعِ الْمَدِينَةِ:
باب: مدینہ منورہ کا صاع (ایک پیمانہ)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6712
وَمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَرَكَتِهِ وَمَا تَوَارَثَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذَلِكَ قَرْنًا بَعْدَ قَرْنٍ.
‏‏‏‏ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مد (ایک پیمانہ) اور اس میں برکت، اور بعد میں بھی اہل مدینہ کو نسلاً بعد نسل جَو صاع اور مد ورثہ میں ملا اس کا بیان۔ [صحيح البخاري/كتاب كفارات الأيمان/حدیث: Q6712]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6712
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ:" كَانَ الصَّاعُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُدًّا وَثُلُثًا بِمُدِّكُمُ الْيَوْمَ"، فَزِيدَ فِيهِ: فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے قاسم بن مالک مزنی نے بیان کیا، کہا ہم سے جعید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک صاع تمہارے زمانہ کے مد سے ایک مد اور تہائی کے برابر ہوتا تھا۔ بعد میں عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ میں اس میں زیادتی کی گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب كفارات الأيمان/حدیث: 6712]
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں ایک صاع تمہارے ہاں رائج الوقت $1 \frac{1}{3}$ (ایک مد اور تہائی) مد کے برابر ہوتا تھا، پھر حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں اس کے اندر اضافہ کر دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب كفارات الأيمان/حدیث: 6712]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6713
حَدَّثَنَا مُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْجَارُودِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ وَهْوَ سَلْمٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ:" كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِي زَكَاةَ رَمَضَانَ، بِمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْمُدِّ الْأَوَّلِ، وَفِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ، بِمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ أَبُو قُتَيْبَةَ: قَالَ لَنَا مَالِكٌ: مُدُّنَا أَعْظَمُ مِنْ مُدِّكُمْ، وَلَا نَرَى الْفَضْلَ إِلَّا فِي مُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ لِي مَالِكٌ: لَوْ جَاءَكُمْ أَمِيرٌ فَضَرَبَ مُدًّا أَصْغَرَ مِنْ مُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تُعْطُونَ؟ قُلْتُ: كُنَّا نُعْطِي بِمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَفَلَا تَرَى أَنَّ الْأَمْرَ إِنَّمَا يَعُودُ إِلَى مُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے منذر بن الولید الجارودی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوقتیبہ، سلم شعیری نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما رمضان کا فطرانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے پہلے مد کے وزن سے دیتے تھے اور قسم کا کفارہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے ہی دیتے تھے۔ ابوقتیبہ نے اسی سند سے بیان کیا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا کہ ہمارا مد تمہارے مد سے بڑا ہے اور ہمارے نزدیک ترجیح صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کو ہے۔ اور مجھ سے امام مالک نے بیان کیا کہ اگر ایسا کوئی حاکم آیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے چھوٹا مد مقرر کر دے تو تم کس حساب سے (صدقہ فطر وغیرہ) نکا لو گے؟ میں نے عرض کیا کہ ایسی صورت میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کے حساب سے فطرہ نکالا کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ معاملہ ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کی طرف لوٹتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب كفارات الأيمان/حدیث: 6713]
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما رمضان المبارک کا فطرانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے پہلے «مُدّ» پیمانے سے دیتے تھے اور قسم کا کفارہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے «مُدّ» سے دیا کرتے تھے۔ ابو قتیبہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے ہم سے کہا: ہمارا اہل مدینہ کا «مُدّ» تمہارے «مُدّ» سے زیادہ باعظمت ہے اور ہم تو اسی «مُدّ» کو افضل جانتے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا «مُدّ» ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے مجھ سے (دوبارہ) کہا: (فرض کرو) اگر ایک حاکم آ جائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے «مُدّ» سے چھوٹا «مُدّ» رائج کر دے تو تم فطرانہ وغیرہ کس «مُدّ» سے ادا کرو گے؟ میں نے کہا: ایسے حالات میں تو ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے «مُدّ» ہی سے ادا کریں گے۔ تو انہوں نے فرمایا: آخر کار نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے «مُدّ» کا اعتبار کیا جائے گا (تو اب بھی اسی «مُدّ» کا حساب رکھو، تمہیں بنو امیہ کے «مُدّ» سے کیا غرض ہے؟)۔ [صحيح البخاري/كتاب كفارات الأيمان/حدیث: 6713]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6714
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ، وَصَاعِهِمْ، وَمُدِّهِمْ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! ان کے «كيل» پیمانے میں ان کے صاع اور ان کے مد میں برکت عطا فرما۔ [صحيح البخاري/كتاب كفارات الأيمان/حدیث: 6714]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بایں الفاظ میں دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ، وَمُدِّهِمْ» اے اللہ! ان کے پیمانے، ان کے صاع اور ان کے مد میں برکت عطا فرما۔ [صحيح البخاري/كتاب كفارات الأيمان/حدیث: 6714]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں