سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب مَنْ قَالَ الْمُدَبَّرُ مِنَ الثُّلُثِ:
جن علماء نے یہ کہا: کہ مدبر صرف ثلث میں سے آزاد ہو گا
حدیث نمبر: 3308
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "الْمُعْتَقَةُ عَنْ دُبُرٍ وَوَلَدُهَا مِنْ الثُّلُثِ".
حسن رحمہ اللہ نے کہا: مدبر لونڈی اور اس کا بچہ تہائی مال میں سے آزاد ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3308]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3319] »
یہ اثر صحیح ہے۔ تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
یہ اثر صحیح ہے۔ تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 3309
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: مَنْصُورٌ أَخْبَرَنِي، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "الْمُعْتَقُ عَنْ دُبُرٍ مِنَ الثُّلُثِ".
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: غلام مدبر میت کے تہائی مال سے آزاد ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3309]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3320] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 3310
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الشَّقَرِيِّ، وَأَبِي هَاشِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "الْمُدَبَّرُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ".
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: غلام مدبرمیت کے پورے مال سے آزاد ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3310]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3321] »
اس اثر کی سند میں ابوعبداللہ شقری ہیں، تستری محرف ہے۔ ابراہیم رحمہ اللہ تک اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 470]
اس اثر کی سند میں ابوعبداللہ شقری ہیں، تستری محرف ہے۔ ابراہیم رحمہ اللہ تک اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 470]
حدیث نمبر: 3311
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: "الْمُعْتَقُ عَنْ دُبُرٍ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ". سُئِلَ أَبُو مُحَمَّد: بِأَيِّهِمَا تَقُولُ؟ قَالَ: مِنَ الثُّلُثِ.
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا: موت کے بعد آزاد ہونے والا غلام کل مال سے آزاد ہو گا، راوی نے کہا: امام ابومحمد دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: آپ کی کیا رائے ہے؟ کہا: تہائی مال سے آزاد ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3311]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3322] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ ابوعوانہ: وضاح یشکری، اور ابوبشر: جعفر بن ایاس ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 1915] ، [ابن منصور 474]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ ابوعوانہ: وضاح یشکری، اور ابوبشر: جعفر بن ایاس ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 1915] ، [ابن منصور 474]
وضاحت: (تشریح احادیث 3305 سے 3311)
آخر کے دو قول یہ ہیں کہ مدبر پورے مال سے آزاد ہو گا، باقی تمام اقوال یہ ہیں کہ ثلث مال سے آزاد ہوگا۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس قول کو ترجیح دی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ کوئی آدمی مال اور غلام چھوڑے جس کو مدبر کیا ہو، اگر اس کی قیمت ایک ثلث کے برابر ہو تو وہ آزاد ہو گا، اس سے زیادہ ہو تو بقدرِ ثلث آزاد ہوگا، اور باقی دو ثلث ورثاء میں تقسیم کر دیئے جائیں گے۔
آخر کے دو قول یہ ہیں کہ مدبر پورے مال سے آزاد ہو گا، باقی تمام اقوال یہ ہیں کہ ثلث مال سے آزاد ہوگا۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے بھی اس قول کو ترجیح دی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ کوئی آدمی مال اور غلام چھوڑے جس کو مدبر کیا ہو، اگر اس کی قیمت ایک ثلث کے برابر ہو تو وہ آزاد ہو گا، اس سے زیادہ ہو تو بقدرِ ثلث آزاد ہوگا، اور باقی دو ثلث ورثاء میں تقسیم کر دیئے جائیں گے۔
36. باب مَنْ قَالَ لاَ تَشْهَدْ عَلَى وَصِيَّةٍ حَتَّى تُقْرَأَ عَلَيْكَ:
وصیت پر اس وقت تک گواہ نہ بنو جب تک کہ پڑھ نہ لو
حدیث نمبر: 3312
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "لَا تَشْهَدْ عَلَى وَصِيَّةٍ حَتَّى تُقْرَأَ عَلَيْكَ، وَلَا تَشْهَدْ عَلَى مَنْ لَا تَعْرِفُ".
حسن رحمہ اللہ نے کہا: کسی وصیت پر گواہ نہ بنو یہاں تک کہ وہ تم کو سنائی جائے، اور جس کو جانتے نہیں اس کی گواہی نہ دو۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3312]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الحسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3323] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ اور مخلد: ابن الحسین ہیں، اس کے ہم معنی [ابن أبى شيبه 18091] نے روایت کیا ہے۔
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ اور مخلد: ابن الحسین ہیں، اس کے ہم معنی [ابن أبى شيبه 18091] نے روایت کیا ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 3311)
امیر المؤمنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے: وہ سورج کی طرف اشارہ کر کے فرماتے تھے: «على مثل هذه أشهد» سورج کی طرح واضح چیز کی گواہی دو، اور جھوٹی گواہی سے شریعت نے روکا ہے «ألا و شهادة الزور.» اور قرآن پاک میں ہے: «﴿وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ﴾ [الحج: 30] » یعنی ”جھوٹی گواہی دینے سے بچو۔
“ واللہ اعلم۔
امیر المؤمنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے: وہ سورج کی طرف اشارہ کر کے فرماتے تھے: «على مثل هذه أشهد» سورج کی طرح واضح چیز کی گواہی دو، اور جھوٹی گواہی سے شریعت نے روکا ہے «ألا و شهادة الزور.» اور قرآن پاک میں ہے: «﴿وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ﴾ [الحج: 30] » یعنی ”جھوٹی گواہی دینے سے بچو۔
“ واللہ اعلم۔
37. باب مَنْ أَوْصَى لأُمَّهَاتِ أَوْلاَدِهِ:
اولاد کی ماؤں کے لئے وصیت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3313
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ "أَوْصَى لِأُمَّهَاتِ أَوْلَادِهِ بِأَرْبَعَةِ آلَافٍ، أَرْبَعَةِ آلَافٍ، لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ".
حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی اولاد کی ماؤں کے لئے چار ہزار کی وصیت کی، ان میں سے ہر ایک عورت کے لئے چار ہزار کی۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3313]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أن منقطع الحسن لم يسمع من عمر، [مكتبه الشامله نمبر: 3324] »
اس اثر کے رجال ثقات ہیں، لیکن سند میں انقطاع ہے۔ حسن رحمہ اللہ کا لقاء سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11021] ، [عبدالرزاق 16458] ، [ابن منصور 438]
اس اثر کے رجال ثقات ہیں، لیکن سند میں انقطاع ہے۔ حسن رحمہ اللہ کا لقاء سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11021] ، [عبدالرزاق 16458] ، [ابن منصور 438]
وضاحت: (تشریح حدیث 3312)
«أمهات أولاده» سے مراد وہ لونڈیاں ہیں جن سے ان کا مالک جماع کرے اور ان سے اولاد ہو جائے، ان کے لئے کوئی حصہ مقرر نہیں ہے، اس لئے وصیت میں ان کے لئے مالک کچھ حصہ مقرر کر سکتا ہے۔
والله اعلم۔
«أمهات أولاده» سے مراد وہ لونڈیاں ہیں جن سے ان کا مالک جماع کرے اور ان سے اولاد ہو جائے، ان کے لئے کوئی حصہ مقرر نہیں ہے، اس لئے وصیت میں ان کے لئے مالک کچھ حصہ مقرر کر سکتا ہے۔
والله اعلم۔
38. باب وَصِيَّةِ الْغُلاَمِ:
نوعمر لڑکے کی وصیت کا بیان
حدیث نمبر: 3314
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، أنبأنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ: أَنَّهُ "أَجَازَ وَصِيَّةَ ابْنِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً".
عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ نے تیرہ سال کے لڑکے کی وصیت کو جائز قرار دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3314]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3325] »
اس اثر کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10898] ، [عبدالرزاق 16416، 16419]
اس اثر کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10898] ، [عبدالرزاق 16416، 16419]
حدیث نمبر: 3315
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ:"أَوْصَى غُلَامٌ مِنْ الْحَيِّ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ، فَقَالَ شُرَيْحٌ: إِذَا أَصَابَ الْغُلَامُ فِي وَصِيَّتِهِ، جَازَتْ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: يُعْجِبُنِي، وَالْقُضَاةُ لَا يُجِيزُونَ.
ابواسحاق نے کہا: ایک قبیلے کے سات سالہ لڑکے نے وصیت کی تو قاضی شریح نے کہا: اگر وصیت صحیح ہے تو جائز ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: یہ رائے مجھے پسند ہے لیکن قاضی حضرات اس کو جائز نہیں گردانتے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3315]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3326] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10904] ، [عبدالرزاق 16414] ، [ابن منصور 434] ، [اخبار القضاة 264/2]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10904] ، [عبدالرزاق 16414] ، [ابن منصور 434] ، [اخبار القضاة 264/2]
حدیث نمبر: 3316
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق أَنَّهُ"شَهِدَ شُرَيْحًا أَجَازَ وَصِيَّةَ عَبَّاسِ بْنِ إِسْمَاعِيل بْنِ مَرْثَدٍ لِظِئْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْحِيرَةِ"، وَعَبَّاسٌ صَبِيٌّ.
ابواسحاق بن اسماعیل نے بیان کیا کہ وہ قاضی شریح کے پاس تھے، انہوں نے عباس بن اسماعیل بن مرثد کی اہلِ حیرہ کی دایہ کے لئے وصیت کو جائز قرار دیا، اس وقت عباس بچے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3316]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3327] »
اس اثر کی سند صحیح ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
اس اثر کی سند صحیح ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
حدیث نمبر: 3317
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأنا يُونُسُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، قَالَ: قَالَ شُرَيْحٌ: "إِذَا اتَّقَى الصَّبِيُّ الرَّكِيَّةَ، جَازَتْ وَصِيَّتُهُ".
ابواسحاق نے کہا: قاضی شریح نے کہا: جب بچہ کنویں (میں گرنے) سے بچنے لگ جائے تو اس کی وصیت جائز ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3317]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3328] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: «سابق ولا حق» اور [ابن أبى شيبه 10906]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: «سابق ولا حق» اور [ابن أبى شيبه 10906]
وضاحت: (تشریح احادیث 3313 سے 3317)
یعنی جب اس بچے کے اندر اچھے برے اور نفع و نقصان کا شعور پیدا ہو جائے تو اس کی وصیت قابلِ عمل ہے۔
یعنی جب اس بچے کے اندر اچھے برے اور نفع و نقصان کا شعور پیدا ہو جائے تو اس کی وصیت قابلِ عمل ہے۔