مختصر حصن المسلم سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
30. أذكار الصباح والمساء
صبح و شام کے اذکار
حدیث نمبر: 87
أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَٰهِ وَالْحَمْدُ لِلَٰهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِى هَذَا الْيَوْمِ، وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِى هَذَا الْيَوْمِ، وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ
”ہم نے صبح کی اور اللہ کی بادشاہت (کائنات وغیرہ) نے صبح کی، تمام تعریفات اللہ کے لئے ہیں، اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے لئے تمام تعریفات اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے میرے رب! میں تجھ سے اس دن کی بھلائی اور جو اس کے بعد بھلائی ہے کا سوال کرتا ہوں، اور میں اس دن کے شر اور جو اس کے بعد شر ہے سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اے میرے رب! میں سُستی، اور بُرے بڑھاپے سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اے میرے رب! میں آگ میں اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ [صحيح مسلم:2723]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 87]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 87]
حدیث نمبر: 88
اللَٰهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ
”اے اللہ! ہم نے تیرے نام کے ساتھ صبح کی، تیرے نام کے ساتھ شام کی، تیرے نام کے ساتھ ہم زندہ ہیں اور تیرے نام کے ساتھ ہم مرتے ہیں اور تیری طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔“ [اسناده صحيح، سنن ابي داؤد:5068] ، [سنن ابن ماجه:3868] ، [سنن ترمذي:3391] امام ترمذی رحمہ اللہ نے کہا ”یہ حدیث حسن ہے۔“
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 88]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 88]
31. اقرأ هذا الدعاء في وقت المساء
شام کے وقت یہ دعا پڑھے
حدیث نمبر: 89
اللَٰهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ
”اے اللہ! تیرے نام کے ساتھ ہم نے شام کی اور تیرے نام کے ساتھ ہم نے صبح کی، تیرے نام کے ساتھ ہم زندہ رہتے ہیں اور تیرے نام کے ساتھ ہم مرتے ہیں اور تیری طرف ہی اٹھ کر جانا ہے۔“ [اسناده صحيح، سنن ابي داؤد:5068، سنن ابن ماجه:3868، سنن ترمذي:3391]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 89]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 89]
حدیث نمبر: 90
اللَٰهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لاَ إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ
”اے اللہ! تو میرا رب ہے تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں تو نے مجھے پیدا کیا ہے، میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے عہد اور تیرے وعدے پر قائم ہوں، جتنی مجھ میں طاقت ہے، جو (خطا، گناہ) میں نے کیا اس کے شر سے تیرے پناہ میں آتا ہوں، میں تیرے لئے اپنے اوپر تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوں، اور اپنے گناہ کا بھی اقرار کرتا ہوں، مجھے بخش دے کیونکہ گناہوں کو تیرے علاوہ کوئی نہیں بخش سکتا۔“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے ایمان و یقین کے ساتھ یہ کلمات کہے اور رات کو فوت ہو گیا تو وہ جنت میں داخل ہو گا، اسی طرح وہ شخص بھی جس نے صبح کے وقت یہ کلمات کہے۔“ [صحيح بخاري:6306]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 90]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 90]
حدیث نمبر: 91
اللَٰهُمَّ إِنِّي أَصْبَحْتُ أُشْهِدُكَ وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ وَمَلَائِكَتَكَ، وَجَمِيعَ خَلْقِكَ أَنَّكَ أَنْتَ اللَٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ
”اے اللہ! میں نے صبح کی، میں تجھے گواہ بناتا ہوں اور تیرا عرش اٹھانے والے فرشتوں اور تمام فرشتوں، اور تیری مخلوق کو گواہ بناتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، اور یقینا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تیرے بندے اور رسول ہیں۔“، اور شام کے وقت کہے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَمْسَيْتُ» ”اے اللہ میں نے شام کی۔“، جس شخص نے یہ کلمات صبح کے وقت کہے اس نے دن کا شکریہ ادا کر دیا، اور جس نے شام کے وقت یہ کلمات کہے اس نے رات کا شکریہ ادا کر دیا۔، جس نے صبح یا شام چار چار مرتبہ یہ کلمات کہے اللہ تعالیٰ اس کی گردن کو آگ سے آزاد کر دیتا ہے۔ [حسن، سنن ابي داؤد:5069]
اور اس کا حسن شاہد [ابوداؤد:5078] ہی میں ہے۔ نیز دیکھئے [سنن ترمذي:3501، الادب المفرد للبخاري:1201]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 91]
اور اس کا حسن شاہد [ابوداؤد:5078] ہی میں ہے۔ نیز دیکھئے [سنن ترمذي:3501، الادب المفرد للبخاري:1201]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 91]
حدیث نمبر: 92
اللَٰهُمَّ مَا أَصْبَحَ (شام کے وقت «أمسٰى کہے) «بِي مِنْ نِعْمَةٍ أَوْ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ فَمِنْكَ وَحْدَكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ، فَلَكَ الْحَمْدُ، وَلَكَ الشُّكْرُ
”اے اللہ! مجھ پر یا تیری مخلوق میں سے کسی پر صبح کے وقت جو بھی نعمت اتری تو وہ صرف تیری طرف سے ہی ہے، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، تیرے لئے ہی تمام تعریفات اور تیرے لئے ہی شکر ہے۔“ جس بھی شخص نے یہ کلمات صبح کے وقت کہے اس نے دن کا شکریہ ادا کر دیا اور جس نے شام کے وقت یہ کلمات کہے اس نے رات کا شکریہ ادا کیا۔ [اسناده ضعيف، سنن ابي داؤد:5073 عمل اليوم و الليلة لابن السني 42، تحقيق الشيخ حليم الهلالي]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 92]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 92]
حدیث نمبر: 93
اللَٰهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَٰهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَٰهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ، وَالْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ
”اے اللہ! مجھے میرے بدن میں عافیت دے، اے اللہ! مجھے میری سماعت میں عافیت دے، اے اللہ! مجھے میری بصارت میں عافیت دے، تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں، اے اللہ! میں کفر اور محتاجی سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں۔“ [اسناده ضعيف، سنن ابي داؤد:5090، مسند احمد:42/5، الادب المفرد:701]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 93]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 93]
حدیث نمبر: 94
حَسْبِيَ اللَٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
”میرے لئے اللہ ہی کافی ہے جس کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں۔ میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ عرش عظیم کا رب ہے۔“، جس شخص نے صبح و شام یہ کلمات سات مرتبہ کہے، اللہ تعالی دنیا و آخرت کے اہم معاملات میں اسے کافی ہو جاتا ہے۔ [اسناده حسن، سنن ابي داؤد:5081، عمل اليوم و الليلة لابن السني:89/1ح43]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 94]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 94]
حدیث نمبر: 95
اللَٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللّٰهُمَّ أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَٰهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي، وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَٰهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي
”اے اللہ! میں تجھ سے دنیا وآخرت میں درگزر اور عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے اپنے دین، اپنی دنیا، اپنے اہل اور اپنے مال میں درگزر اور عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میرے پوشیدہ امور پر پردہ ڈال اور میری گھبراہٹوں میں مجھے امن دے، اے اللہ! میرے سامنے سے، میرے پیچھے سے، میرے دائیں سے، میرے بائیں سے، میرے اوپر سے میری حفاظت فرما، اور میں تیری عظمت کے ساتھ پناہ میں آتا ہوں کہ میں اپنے نیچے سے اچانک ہلاک کر دیا جاؤں۔“ [اسناده صحيح، سنن ابي داؤد:5074، سنن ابن ماجه:3871، سنن نسائي:5531، ببعض الاختلاف]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 95]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 95]
حدیث نمبر: 96
اللَٰهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ
”اے اللہ! اے غائب و حاضر کو جاننے والے، اے آسمانوں اور زمین کو نئے سرے سے بنانے والے، اے ہر چیز کے رب اور مالک، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں، میں اپنے نفس کے شر، شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اور اس بات سے تیری پناہ میں آتا ہوں کہ میں اپنے نفس پر برائی کا ارتکاب کروں یا کسی مسلمان کی طرف اسے کھینچ کر لاؤں۔“ [صحيح، سنن ترمذي:3392]
نیز دیکھئے [سنن ابي داؤد:5067]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 96]
نیز دیکھئے [سنن ابي داؤد:5067]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 96]