مختصر حصن المسلم سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
35. ما يفعل من رأى الرؤيا أو الحلم
برا خواب دیکھنے والا کیا کرے؟
حدیث نمبر: 127
يَــتَحَوَّلُ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ
جس پہلو پر لیٹا ہوا تھا اسے تبدیل کر لے۔ [صحيح مسلم: 2261]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 127]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 127]
حدیث نمبر: 128
يقوم يصلي إن أراد ذلك.ويَقُومُ يُصَلِّي إِنْ أَرَادَ ذَلِكَ
چاہے تو دو رکعت نماز ادا کر لے۔ [صحيح مسلم: 2263]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 128]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 128]
36. دعاء قنوت الوتر
قنوت وتر کی دعائیں
حدیث نمبر: 129
الّٰھُمَّ اهْدِنِي فِي مَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِي مَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِي مَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَاِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ
”اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں ہدایت دے دے جنہیں تو نے ہدایت دی ہے، اور ان لوگوں میں عافیت دے دے جنہیں تو نے عافیت دی ہے، اور لوگوں میں میرا والی بن جن کا تو والی بنا ہے، جو فیصلہ تو نے کیا ہے اس کے شر سے مجھے بچا، کیونکہ تو فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، جس کا تو نگہبان بن جائے وہ ذلیل نہیں ہو سکتا، اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ معزز نہیں ہو سکتا، تو بابرکت ہے اے ہمارے رب، اور بلند ہے۔“ [صحيح، سنن ابي داؤد: 1425، سنن ترمذي: 4640، صحيح ابن خزيمه: 1095، سنن نسائي: 1746]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 129]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 129]
حدیث نمبر: 130
الّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سُخْطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ
”اے اللہ! یقیناً میں تیری خوشنودی کے ساتھ ناراضگی سے پناہ میں آتا ہوں، تیری معافی کے ساتھ تیری سزا سے پناہ میں آتا ہوں، اور میں تجھ سے تیرے ذریعے ہی پناہ طلب کرتا ہوں، میں تیری حمد و ثنا کو شمار نہیں کر سکتا، تو اسی طرح ہے جس طرح تو نے اپنی تعریف کی۔“ [اسناده صحيح، سنن ابي داؤد: 1427، سنن ترمذي: 3566، سنن ابن ماجه: 1179]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 130]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 130]
حدیث نمبر: 131
اللّٰهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، نَرْجُو رَحْمَتَكَ، وَنَخْشَى عَذَابَكَ، إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكَافِرِينَ مُلْحِقٌ، اللهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ، وَنُثْنِي عَلَيْكَ الْخَيْرَ، وَلَا نَكْفُرُكَ، وَنُؤْمِنُ بِكَ، وَنَخْضَعُ لَكَ، وَنَخْلَعَ مَنْ يَكْفُرُكَ
”اے اللہ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، اور تیرے لئے ہی نماز پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں، تیری طرف ہی ہم دوڑتے ہیں اور جلدی کرتے ہیں، تیری رحمت کی امید کرتے ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں، یقیناً تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے، اے اللہ! بے شک ہم تجھ سے مدد طلب کرتے ہیں اور بخشش مانگتے ہیں، تیری اچھی تعریف کرتے ہیں، تیرا کفر نہیں کرتے، ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں اور تیرے لئے کبھی جھکتے ہیں، اور جو تجھ سے کفر کرتا ہے ہم اس سے علیحدہ ہوتے ہیں۔“ [حسن بغير هذا لسياق، السنن الكبري للبيهقي: 211/2 و فى متنه تقديم و تاخير]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 131]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 131]
37. الذكر عقب السلام من الوتر
نماز وتر سے سلام پھیرنے کے بعد ذکر
حدیث نمبر: 132
سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ
”پاک ہے (میرا رب) بادشاہ نہایت مقدس۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ یہ کلمات کہتے، تیسری مرتبہ بلند آواز سے کہتے تو انہیں لمبا کرتے پھر کہتے «رَبِّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ» ”فرشتوں اور روح کا رب۔“ [صحيح، سنن ابي داؤد: 1430، سنن نسائي: 1733، 1700، سنن الداقطني: 31/2ح1644]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 132]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ یہ کلمات کہتے، تیسری مرتبہ بلند آواز سے کہتے تو انہیں لمبا کرتے پھر کہتے «رَبِّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ» ”فرشتوں اور روح کا رب۔“ [صحيح، سنن ابي داؤد: 1430، سنن نسائي: 1733، 1700، سنن الداقطني: 31/2ح1644]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 132]
38. دعاء الهم والحزن
غم اور فکر کی دعا
حدیث نمبر: 133
اللَٰهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، ابْنُ عَبْدِكَ، ابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجِلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي
”اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں تیرے بندے کا بیٹا ہوں، تیری باندی کا بیٹا ہوں، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، تیرا حکم مجھ میں جاری ہے، میرے بارے میں تیرا فیصلہ عدل پر مبنی ہے، میں تجھ سے ہر اس نام کے ساتھ سوال کرتا ہوں جو تیرا ہے، جس کے ساتھ تو نے اپنا نام رکھا ہے، یا تو نے اسے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے یا اسے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے، یا اسے اپنے پاس علم غیب میں رکھنے کو ترجیح دی ہے، کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غم کو دور کرنے والا اور میری فکر و پریشانی کو لے جانے والا بنا۔“ [سنده ضعيف، مسند احمد: 391/1ح3711]
اس کی سند میں عبدالرحمٰن بن عبد اللہ بن مسعود مدلس راوی ہیں۔
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 133]
اس کی سند میں عبدالرحمٰن بن عبد اللہ بن مسعود مدلس راوی ہیں۔
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 133]
حدیث نمبر: 134
اللَٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الهَمِّ وَالحَزَنِ، وَالعَجْزِ وَالكَسَلِ، وَالجُبْنِ وَالبُخْلِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ
”اے اللہ! میں پریشانی، غم، عاجزی، سستی، بزدلی، بخل، قرض چڑھنے اور لوگوں کے غلبے سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ [صحيح بخاري: 6369]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 134]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 134]
39. دعاء الكرب
بےچینی کی دعا
حدیث نمبر: 135
لاَ إِلٰهَ إِلَّا اللَٰه العَظِيمُ الحَلِيمُ، لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَٰهُ رَبُّ العَرْشِ العَظِيمِ، لاَ إِلٰهَ إِلَّا اللَٰهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الأَرْضِ، وَرَبُّ العَرْشِ الكَرِيمِ
”اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں عظمت والا، بردبار ہے۔ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں عرش عظیم کا رب ہے۔ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں۔ آسمانوں کا رب ہے اور زمین کا رب ہے، عرش کریم کا رب ہے۔“ [صحيح بخاري: 6346، صحيح مسلم: 2730]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 135]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 135]
حدیث نمبر: 136
اللَٰهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ
”اے اللہ! میں تیری ہی رحمت کی امید کرتا ہوں، مجھے لحظہ بھر بھی میرے نفس کے سپرد نہ کر، میری مکمل حالت درست فرما دے، تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں۔“ [اسناده ضعيف، سنن ابي داؤد: 5090، مسند احمد: 42/5]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 136]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 136]