مختصر حصن المسلم سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
12. الذكر عند الدخول المنزل
گھر میں داخل ہوتے وقت کی دعا
حدیث نمبر: 27
بِسْمِ اللَٰهِ وَلَجْنَا، وَبِسْمِ اللَٰهِ خَرَجْنَا، وَعَلَى اللَٰهِ رَبِّنَا تَوَكَّلْنَا
”اللہ کے نام کے ساتھ ہم داخل ہوئے اور اللہ کے نام کے ساتھ ہی ہم باہر نکلے اور ہم نے اپنے پروردگار اللہ ہی پر بھروسہ کیا۔“
اس کے بعد اپنے گھر والوں کو سلام کہے۔ [ اسناده ضعيف، سنن ابي داؤد:5094]
نوٹ:- ایک دوسری حدیث میں ہے۔ ”جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہونے اور کھانا کھانے کے وقت اللہ کو یاد کرتا ہے تو شیطان (اپنے چیلوں سے) کہتا ہے کہ اس گھر میں تمہارے لئے رات گزارنے کا ٹھکانا نہیں ہے اور نہ ہی رات کے کھانے میں تمہاراحصہ ہے۔“ [ صحيح مسلم:2018]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 27]
اس کے بعد اپنے گھر والوں کو سلام کہے۔ [ اسناده ضعيف، سنن ابي داؤد:5094]
نوٹ:- ایک دوسری حدیث میں ہے۔ ”جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہونے اور کھانا کھانے کے وقت اللہ کو یاد کرتا ہے تو شیطان (اپنے چیلوں سے) کہتا ہے کہ اس گھر میں تمہارے لئے رات گزارنے کا ٹھکانا نہیں ہے اور نہ ہی رات کے کھانے میں تمہاراحصہ ہے۔“ [ صحيح مسلم:2018]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 27]
13. دعاء الذهاب إلى المسجد
مسجد کی طرف جانے کی دعا
حدیث نمبر: 28
اللَٰهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي لِسَانِىْ نُورً, وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَمِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ شِمَالِىْ نُورًا، وَمِنْ أَمَامِيْ نُورًا، وَمِنْ خَلْفِيْ نُورًا، وَاجْعَلْ فِي نَفْسِىْ نُورًا, وَاَعْظِمْ لِىْ نُوْرًا, وَعَظِّمْ لِىْ نُوْرًا, وَاجْعَلْ لِّي نُورًا, وَاجْعَلْنِى نُورًا, اللَّهُمَّ اَعْطِنِىْ نُورًا, وَاجْعَلْ فِيْ عَصَبِىْ نُورًا, وَفِيْ لَحْمِىْ نُورًا, وَفِيْ دَمِىْ نُورًا, وَفِيْ شَعْرِىْ نُورًا, وَفِيْ بَشَرِيْ نُورًا, ”اللَٰهُمَّ اجْعَلْ لِّي نُورًا فِيْ قَبْرِىْ وَ نُورًا فِيْ عِظَامِىْ“ وَ زِدْنِىْ نُورًا, وَ زِدْنِىْ نُورًا, وَ زِدْنِىْ نُورًا, وَهَبْ لِىْ نُورًا عَلى نُوْرٍ
”اے اللہ! میرے دل میں نور بھر دے، اور میری زبان میں نور اور میری سماعت میں نور اور میری بصارت میں نور، میرے اوپر نور، میرے نیچے نور، میرے دائیں نور، میرے بائیں نور، میرے سامنے نور اور میرے پیچھے نور، اور میرے نفس میں نور، اور تو میرے نور کو زیادہ کرے اور مجھے بہت زیادہ نور عطا فرما، میرے لئے نور بنا اور مجھے نور بنا دے، اے اللہ مجھے نور عطا فرما، اور میرے پٹھوں میں نور بھر دے، میرے گوشت میں، میرے خون میں، میرے بالوں میں اور میری جلد میں نور بھر دے۔ اے اللہ میرے لئے میری قبر میں نور بھر دے، اور میری ہڈیوں میں نور بھر دے (اور مجھے مزید نور عطا فرما، مجھے مزید نور عطا فرما، مجھے مزید نور عطا فرما) اور مجھے نور ہی نور عطا فرما۔
یہ دعا مطلق ہے، اس کا مسجد جانے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“ [ صحيح بخاري:6316، صحيح مسلم:763، مسند احمد:343/1، والادب المفرد:695]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 28]
یہ دعا مطلق ہے، اس کا مسجد جانے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“ [ صحيح بخاري:6316، صحيح مسلم:763، مسند احمد:343/1، والادب المفرد:695]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 28]
14. دعاء دخول المسجد
مسجد میں داخل ہونے کی دعا
حدیث نمبر: 29
أَعُوذُ بِاللَٰهِ الْعَظِيمِ، وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ، وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ، مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ وَالصًّلوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ
”میں عظمت والے اللہ، اس کے معزز چہرے اور اس کی قدیم سلطنت کی پناہ میں آتا ہوں، شیطان مردود سے، اللہ کے نام کے ساتھ اور درود و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، اے اللہ! میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔“ [ اسناده صحيح، سنن ابي داؤد:466] ، [صحيح بدون ”والصلٰوة“ سنن ابي داؤد:466] ، [صحيح مسلم:713 ]
اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ الفاظ مروی ہیں: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» ”اے اللہ! مجھے معاف فرما اور میرے گناہ معاف فرما اور میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔“ [ صحيح ابن ماجه:129/1-128]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 29]
اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ الفاظ مروی ہیں: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» ”اے اللہ! مجھے معاف فرما اور میرے گناہ معاف فرما اور میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔“ [ صحيح ابن ماجه:129/1-128]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 29]
15. دعاء الخروج من المسجد
مسجد سے نکلنے کی دعا
حدیث نمبر: 30
بِسْمِ اللَٰهِ، وَالصًّلوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَٰهِ، اللَٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ، اللَٰهُمَّ اعْصِمْنِىْ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
”اللہ کے نام کے ساتھ اور درود و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں، اے اللہ! مجھے شیطان مردود سے بچا لے۔“ [ اسناده ضعيف، سنن ابن ماجه:771،صحيح مسلم:713،سنن ابي داؤد:465]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 30]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 30]
16. أذكار الأذان
اذان کے اذکار
حدیث نمبر: 31
يقول مثل ما يقول المؤذن إلا في (حي على الصلاة، وحي على الفلاح) فيقول
لا حول ولا قوة إلا بالله.
وَأَنا أَشْـهَدُ أَنْ لا إِلـهَ إِلاّ اللهُ وَحْـدَهُ لا شَـريكَ لَـه، وَأَنَّ محَمّـداً عَبْـدُهُ وَرَسـولُه، رَضيـتُ بِاللهِ رَبَّاً، وَبِمُحَمَّـدٍ رَسـولاً وَبِالإِسْلامِ دينَـاً
لا حول ولا قوة إلا بالله.
وَأَنا أَشْـهَدُ أَنْ لا إِلـهَ إِلاّ اللهُ وَحْـدَهُ لا شَـريكَ لَـه، وَأَنَّ محَمّـداً عَبْـدُهُ وَرَسـولُه، رَضيـتُ بِاللهِ رَبَّاً، وَبِمُحَمَّـدٍ رَسـولاً وَبِالإِسْلامِ دينَـاً
اذان سننے والا مؤذن کے جواب میں وہی کلمات کہے جو وہ کہہ رہا ہے. ۱؎
لیکن «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» اور «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”آؤ نماز کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف“ کے جواب میں کہے: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہِ» ”اللہ کی توفیق و مدد کے بغیر کسی گناہ سے بچنے کی طاقت اور کوئی نیکی کرنے کی قوت نہیں۔“ ۲؎
پھر یہ کہے۔ «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور بالیقین محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ میں اللہ کے رب ہونے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوا۔“ ۳؎
۱؎ [صحيح بخاري:611، صحيح مسلم:383] ۲؎ [صحيح بخاري:613، صحيح مسلم:385] ۳؎ [صحيح مسلم:386، صحيح مسلم:384]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 31]
لیکن «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» اور «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”آؤ نماز کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف“ کے جواب میں کہے: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہِ» ”اللہ کی توفیق و مدد کے بغیر کسی گناہ سے بچنے کی طاقت اور کوئی نیکی کرنے کی قوت نہیں۔“ ۲؎
پھر یہ کہے۔ «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور بالیقین محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ میں اللہ کے رب ہونے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوا۔“ ۳؎
۱؎ [صحيح بخاري:611، صحيح مسلم:383] ۲؎ [صحيح بخاري:613، صحيح مسلم:385] ۳؎ [صحيح مسلم:386، صحيح مسلم:384]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 31]
حدیث نمبر: 32
يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ فَرَاغِهِ مِنْ إِجَابَةِ الْمُؤَذِّنِ
اذان کے جواب سے فارغ ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے۔ [ صحيح مسلم:384]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 32]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 32]
حدیث نمبر: 33
اَللّٰهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلاَةِ القَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ
”اے اللہ اس کامل دعوت اور قائم نماز کے رب! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما، اور انہیں مقام محمود پر پہنچا جس کا تو نےان سے وعدہ کیا ہے۔ یقیناً تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔“ «إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ» یہ الفاظ سنن الکبری للبیہقی کے ہیں اور اس کی سند صحیح ہے۔ [صحيح بخاري:614]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 33]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 33]
حدیث نمبر: 34
يَدْعُو لِنَفسِهِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ فَإِنَّ الدُّعَاءَ حِينَئِذٍ لاَ يُرَدُّ
اذان اور اقامت کے درمیان اپنے لئے اللہ سے دعا کرے کیونکہ اس وقت دعا رد نہیں کی جاتی۔ [ صحيح، سنن داؤد:521، سنن ترمذي:212 مسند احمد:/120/3، 225/5، ح 13357 صحيح ابن خزيمه:427]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 34]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 34]
17. دعاء الاستفتاح
دعائے استفتاح
حدیث نمبر: 35
اللّٰهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللّٰهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللّٰهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ
”اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اس طرح دوری فرما دے جس طرح تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری پیدا کی ہے۔ اے اللہ مجھے میری خطاؤں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے، اے اللہ مجھے میری خطاؤں سے برف، پانی اور اولوں کے ساتھ دھو ڈال۔“ [ صحيح بخاري:744، صحيح مسلم:598]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 35]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 35]
حدیث نمبر: 36
سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرَكَ
”اے اللہ! تو اپنی تعریف کے ساتھ پاک ہے، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں۔“ [ صحيح، سنن ابي داؤد:775، سنن ترمذي:242، سنن ابن ماجه:804]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 36]
[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 36]