🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. بَابُ وَقْتِ الْمَغْرِبِ:
باب: مغرب کی نماز کے وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q559
وَقَالَ عَطَاءٌ: يَجْمَعُ الْمَرِيضُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ.
‏‏‏‏ اور عطاء بن ابی رباح نے کہا کہ مریض عشاء اور مغرب دونوں کو ایک ساتھ جمع کر لے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: Q559]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 559
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِيِّ صُهَيْبٌ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيج، يَقُولُ:" كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ".
ہم سے محمد بن مہران نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلمہ نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن عمرو اوزاعی نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابوالنجاشی نے بیان کیا، ان کا نام عطاء بن صہیب تھا اور یہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رافع بن خدیج سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم مغرب کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر جب واپس ہوتے اور تیر اندازی کرتے (تو اتنا اجالا باقی رہتا تھا کہ) ایک شخص اپنے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 559]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھتے تھے، پھر (فارغ ہونے کے بعد) جب ہم میں سے کوئی واپس جاتا (اور تیر پھینکتا) تو وہ تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ لیتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 559]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 560
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: قَدِمَ الْحَجَّاجُ فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ نَقِيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ، وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا وَأَحْيَانًا إِذَا رَآهُمُ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ، وَإِذَا رَآهُمْ أَبْطَوْا أَخَّرَ، وَالصُّبْحَ كَانُوا أَوْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے محمد بن عمرو بن حسن بن علی سے، انہوں نے کہا کہ حجاج کا زمانہ آیا (اور وہ نماز دیر کر کے پڑھایا کرتا تھا اس لیے) ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز ٹھیک دوپہر میں پڑھایا کرتے تھے۔ ابھی سورج صاف اور روشن ہوتا تو نماز عصر پڑھاتے۔ نماز مغرب وقت آتے ہی پڑھاتے اور نماز عشاء کو کبھی جلدی پڑھاتے اور کبھی دیر سے۔ جب دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھا دیتے اور اگر لوگ جلدی جمع نہ ہوتے تو نماز میں دیر کرتے۔ (اور لوگوں کا انتظار کرتے) اور صبح کی نماز صحابہ رضی اللہ عنہم یا (یہ کہا کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں پڑھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 560]
حضرت محمد بن عمرو رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب حجاج بن یوسف مدینہ آیا (اور نمازوں میں تاخیر کرنے لگا) تو ہم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے (اس کی بابت) دریافت کیا، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ ظہر عین دوپہر کے وقت پڑھتے تھے اور نمازِ عصر ایسے وقت میں ادا کرتے کہ آفتاب صاف ہوتا تھا اور نمازِ مغرب (اس وقت پڑھتے) جب آفتاب غروب ہو جاتا اور عشاء کی نماز کبھی کسی وقت، کبھی کسی وقت، یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے کہ انہوں نے آنے میں دیر کی ہے تو نماز کو مؤخر کر دیتے اور صبح کی نماز، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں پڑھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 560]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 561
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ إِذَا تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ".
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے، فرمایا کہ ہم نماز مغرب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت پڑھتے تھے جب سورج پردے میں چھپ جاتا۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 561]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ آفتاب کے غروب ہوتے ہی ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نمازِ مغرب ادا کر لیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 561]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 562
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعًا جَمِيعًا وَثَمَانِيًا جَمِيعًا".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا میں نے جابر بن زید سے سنا، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے بیان کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات رکعات (مغرب اور عشاء کی) ایک ساتھ آٹھ رکعات (ظہر اور عصر کی نمازیں) ایک ساتھ پڑھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 562]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مغرب اور عشاء کی) سات رکعات ایک ساتھ اور (ظہر و عصر کی) آٹھ رکعات ایک ساتھ پڑھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 562]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ مَنْ كَرِهَ أَنْ يُقَالَ لِلْمَغْرِبِ الْعِشَاءُ:
باب: اس بارے میں جس نے مغرب کو عشاء کہنا مکروہ جانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 563
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ الْحُسَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمُ الْمَغْرِبِ"، قَالَ: الْأَعْرَابُ وَتَقُولُ هِيَ: الْعِشَاءُ.
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، جو عبداللہ بن عمرو ہیں، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے حسین بن ذکوان سے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن بریدہ نے، کہا مجھ سے عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایسا نہ ہو کہ مغرب کی نماز کے نام کے لیے اعراب (یعنی دیہاتی لوگوں) کا محاورہ تمہاری زبانوں پر چڑھ جائے۔ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے کہا یا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدوی مغرب کو عشاء کہتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 563]
حضرت عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری مغرب کی نماز کے نام پر بادیہ نشین غالب نہ آ جائیں (کیونکہ یہ دیہاتی نماز مغرب کو عشاء کے نام سے یاد کرتے ہیں)۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 563]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ ذِكْرِ الْعِشَاءِ وَالْعَتَمَةِ وَمَنْ رَآهُ وَاسِعًا:
باب: عشاء اور عتمہ کا بیان اور جو یہ دونوں نام لینے میں کوئی ہرج نہیں خیال کرتے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q564
قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَثْقَلُ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ الْعِشَاءُ وَالْفَجْرُ، وَقَالَ: لَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالْفَجْرِ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَالِاخْتِيَارُ أَنْ يَقُولَ الْعِشَاءُ، لِقَوْلِهِ تَعَالَى: وَمِنْ بَعْدِ صَلاةِ الْعِشَاءِ سورة النور آية 58 وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: كُنَّا نَتَنَاوَبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ فَأَعْتَمَ بِهَا، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةُ: أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعِشَاءِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَنْ عَائِشَةَ، أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَمَةِ، وَقَالَ جَابِرٌ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ، وَقَالَ أَبُو بَرْزَةَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ، وَقَالَ أَنَسٌ: أَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ، وَأَبُو أَيُّوبَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ.
‏‏‏‏ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کر کے فرمایا، کہ منافقین پر عشاء اور فجر تمام نمازوں سے زیادہ بھاری ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کاش! وہ سمجھ سکتے کہ عتمہ (عشاء) اور فجر کی نمازوں میں کتنا ثواب ہے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ عشاء کہنا ہی بہتر ہے۔ کیونکہ ارشاد باری ہے «ومن بعد صلاة العشاء‏» (میں قرآن نے اس کا نام عشاء رکھ دیا ہے) ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے عشاء کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں پڑھنے کے لیے باری مقرر کر لی تھی۔ ایک مرتبہ آپ نے اسے رات گئے پڑھا۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء دیر سے پڑھی۔ بعض نے عائشہ رضی اللہ عنہا نے نقل کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «عتمه» کو دیر سے پڑھا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء پڑھتے تھے۔ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء میں دیر کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشاء کو دیر میں پڑھتے تھے۔ ابن عمر، ابوایوب اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: Q564]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 564
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ سَالِمٌ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ وَهِيَ الَّتِي يَدْعُو النَّاسُ الْعَتَمَةَ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ:" أَرَأَيْتُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ، فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ".
ہم سے عبدان عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں یونس بن یزید نے خبر دی زہری سے کہ سالم نے یہ کہا کہ مجھے (میرے باپ) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی۔ یہی جسے لوگ «عتمه» کہتے ہیں۔ پھر ہمیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم اس رات کو یاد رکھنا۔ آج جو لوگ زندہ ہیں ایک سو سال کے گزرنے تک روئے زمین پر ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 564]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک شب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز عشاء پڑھائی اور یہ وہی نماز ہے جسے لوگ «عَتَمَة» کہتے تھے، پھر نماز سے فراغت کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تمہیں اس رات کے متعلق خبر دوں، آج جو لوگ روئے زمین پر ہیں، آج سے ایک صدی پوری ہونے تک ان میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 564]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ إِذَا اجْتَمَعَ النَّاسُ أَوْ تَأَخَّرُوا:
باب: نماز عشاء کا وقت جب لوگ (جلدی) جمع ہو جائیں یا جمع ہونے میں دیر کر دیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 565
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو هُوَ ابْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ، وَالْعِشَاءَ إِذَا كَثُرَ النَّاسُ عَجَّلَ وَإِذَا قَلُّوا أَخَّرَ، وَالصُّبْحَ بِغَلَسٍ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ حجاج نے سعد بن ابراہیم سے بیان کیا، وہ محمد بن عمرو سے جو حسن بن علی بن ابی طالب کے بیٹے ہیں، فرمایا کہ ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں دریافت کیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ آپ نماز ظہر دوپہر میں پڑھتے تھے۔ اور جب نماز عصر پڑھتے تو سورج صاف روشن ہوتا۔ مغرب کی نماز واجب ہوتے ہی ادا فرماتے، اور عشاء میں اگر لوگ جلدی جمع ہو جاتے تو جلدی پڑھ لیتے اور اگر آنے والوں کی تعداد کم ہوتی تو دیر کرتے۔ اور صبح کی نماز منہ اندھیرے میں پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 565]
حضرت محمد بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازوں کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز عین دوپہر کے وقت پڑھتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھ لیتے کہ سورج ابھی تاب دار (روشن) ہوتا، نماز مغرب غروب آفتاب کے فوراً بعد پڑھ لیتے اور عشاء کی نماز کے لیے اگر اکثر مقتدی آ جاتے تو جلدی پڑھ لیتے اور اگر حاضرین کی تعداد کم ہوتی تو مؤخر کر دیتے اور نماز صبح اندھیرے میں پڑھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 565]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ فَضْلِ الْعِشَاءِ:
باب: نماز عشاء (کے لیے انتظار کرنے) کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 566
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ:" أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِالْعِشَاءِ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الْإِسْلَامُ، فَلَمْ يَخْرُجْ، حَتَّى قَالَ عُمَرُ: نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ فَخَرَجَ، فَقَالَ لِأَهْلِ الْمَسْجِدِ: مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ غَيْرَكُمْ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے عقیل کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز دیر سے پڑھی۔ یہ اسلام کے پھیلنے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک باہر تشریف نہیں لائے جب تک عمر رضی اللہ عنہ نے یہ نہ فرمایا کہ عورتیں اور بچے سو گئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہارے علاوہ دنیا میں کوئی بھی انسان اس نماز کا انتظار نہیں کرتا۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 566]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں دیر فرمائی، یہ اسلام کے پھیلنے سے پہلے کا واقعہ ہے، چنانچہ آپ گھر سے نہیں نکلے تاآنکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ عورتوں اور بچوں کو نیند آ رہی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اہل مسجد سے فرمایا: روئے زمین پر تمہارے علاوہ اور کوئی اس نماز کا انتظار نہیں کر رہا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 566]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں