🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ وَفَضْلِهَا:
باب: نماز کے اوقات اور ان کے فضائل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q521
وَقَوْلِهِ: إِنَّ الصَّلاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا سورة النساء آية 103 مُوَقَّتًا وَقَّتَهُ عَلَيْهِمْ.
‏‏‏‏ کہ مسلمانوں پر نماز وقت مقررہ میں فرض ہے، یعنی اللہ نے ان کے لیے نمازوں کے اوقات مقرر کر دئیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: Q521]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 521
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْعِرَاقِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ؟ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: بِهَذَا أُمِرْتُ، فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَةَ: اعْلَمْ مَا تُحَدِّثُ، أَوَ أَنَّ جِبْرِيلَ هُوَ أَقَامَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقْتَ الصَّلَاةِ، قَالَ عُرْوَةُ: كَذَلِك كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے امام مالک رحمہ اللہ علیہ کو پڑھ کر سنایا ابن شہاب کی روایت سے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ نے ایک دن (عصر کی) نماز میں دیر کی، پس عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے، اور انہوں نے بتایا کہ (اسی طرح) مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک دن (عراق کے ملک میں) نماز میں دیر کی تھی جب وہ عراق میں (حاکم) تھے۔ پس ابومسعود انصاری (عقبہ بن عمر) ان کی خدمت میں گئے۔ اور فرمایا، مغیرہ رضی اللہ عنہ! آخر یہ کیا بات ہے، کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جب جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے تو انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز پڑھی، پھر جبرائیل علیہ السلام نے نماز پڑھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز پڑھی، پھر جبرائیل علیہ السلام نے نماز پڑھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز پڑھی، پھر جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ میں اسی طرح حکم دیا گیا ہوں۔ اس پر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عروہ سے کہا، معلوم بھی ہے آپ کیا بیان کر رہے ہیں؟ کیا جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے اوقات (عمل کر کے) بتلائے تھے۔ عروہ نے کہا، کہ ہاں اسی طرح بشیر بن ابی مسعود رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطہ سے بیان کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 521]
حضرت ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ایک دن (عصر کی) نماز کو مؤخر کر دیا تو ان کے پاس حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ آئے اور ان سے کہا کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ جب عراق میں (گورنر) تھے تو ایک دن ان سے نماز میں کچھ تاخیر ہو گئی۔ حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور ان سے کہا: اے مغیرہ! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ایک دن حضرت جبریل علیہ السلام نازل ہوئے اور انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کے ساتھ نماز ادا کی، پھر دوسری نماز کا وقت ہوا تو حضرت جبریل علیہ السلام کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر تیسری نماز کے وقت حضرت جبریل علیہ السلام کی معیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی، پھر چوتھی نماز کے وقت بھی دونوں نے اکٹھے نماز پڑھی، پھر پانچویں نماز کے وقت حضرت جبریل علیہ السلام نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ہی نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اسی طرح نماز ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عروہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آپ ذرا سوچ سمجھ کر بیان کریں، کیا واقعی حضرت جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اوقاتِ نماز کی نشاندہی کی تھی؟ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ حضرت بشیر بن ابومسعود رحمہ اللہ اسی طرح اپنے والد ابومسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 521]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 522
قَالَ عُرْوَةُ: وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ".
‏‏‏‏ عروہ رحمہ اللہ علیہ نے کہا کہ مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھ لیتے تھے جب ابھی دھوپ ان کے حجرہ میں موجود ہوتی تھی اس سے بھی پہلے کہ وہ دیوار پر چڑھے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 522]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عصر اس حالت میں پڑھتے تھے کہ دھوپ ان کے حجرے میں ہوتی تھی قبل اس کے کہ (سایہ اس کی) دیواروں پر نمایاں ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 522]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ: {مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا الصَّلاَةَ وَلاَ تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ”اللہ پاک کی طرف رجوع کرنے والے (ہو جاؤ) اور اس سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 523
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادٌ هُوَ ابْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّا مِنْ هَذَا الْحَيِّ مِنْ رَبِيعَةَ وَلَسْنَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِشَيْءٍ نَأْخُذْهُ عَنْكَ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، فَقَالَ:" آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، الْإِيمَانِ بِاللَّهِ، ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا إِلَيَّ خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَى عَنْ، الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُقَيَّرِ، وَالنَّقِيرِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عباد بن عباد بصریٰ نے، اور یہ عباد کے لڑکے ہیں، ابوجمرہ (نصر بن عمران) کے ذریعہ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ ہم اس ربیعہ قبیلہ سے ہیں اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینوں ہی میں حاضر ہو سکتے ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایسی بات کا ہمیں حکم دیجیئے، جسے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھ لیں اور اپنے پیچھے رہنے والے دوسرے لوگوں کو بھی اس کی دعوت دے سکیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں، پہلے اللہ پر ایمان لانے کا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفصیل بیان فرمائی کہ اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اور دوسرے نماز قائم کرنے کا، تیسرے زکوٰۃ دینے کا، اور چوتھے جو مال تمہیں غنیمت میں ملے، اس میں سے پانچواں حصہ ادا کرنے کا اور تمہیں میں تونبڑی حنتم، قسار اور نقیر کے استعمال سے روکتا ہوں۔ (نوٹ: یہ تمام برتن شراب بنانے کے لیے استعمال ہوتے تھے)۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 523]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے عرض کیا: ہمارا تعلق ربیعہ قبیلے سے ہے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں صرف حرمت والے مہینوں میں حاضری دے سکتے ہیں، اس لیے آپ ہمیں ایسی باتوں کی تلقین کریں جن پر ہم خود بھی عمل کریں اور اپنے باقی ماندہ لوگوں کو بھی دعوت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے منع کرتا ہوں: اللہ پر ایمان لانا۔۔۔ پھر اس کی وضاحت فرمائی۔۔۔ اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، نیز نماز قائم کرنا، زکاۃ دینا اور مال غنیمت سے پانچواں حصہ مجھے ادا کرنا۔ اور میں «الدُّبَّاءُ» دباء، «الحَنْتَمُ» حنتم، «المُقَيَّرُ» مقیر اور «النَّقِيرُ» نقیر کے استعمال سے منع کرتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 523]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ الْبَيْعَةِ عَلَى إِقَامَةِ الصَّلاَةِ:
باب: نماز درست طریقے سے پڑھنے پر بیعت کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 524
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے قیس بن ابی حازم نے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے بیان کیا کہ جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر نماز قائم کرنے، زکوٰۃ دینے، اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 524]
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز پڑھنے، زکاۃ دینے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے پر بیعت کی۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 524]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ الصَّلاَةُ كَفَّارَةٌ:
باب: اس بیان میں کہ گناہوں کے لیے نماز کفارہ ہے (یعنی اس سے صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 525
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، قَالَ: سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ، قَالَ:" كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ؟ قُلْتُ: أَنَا كَمَا قَالَهُ، قَالَ: إِنَّكَ عَلَيْهِ أَوْ عَلَيْهَا لَجَرِيءٌ، قُلْتُ: فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ، تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصَّوْمُ وَالصَّدَقَةُ وَالْأَمْرُ وَالنَّهْيُ، قَالَ: لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ، وَلَكِنْ الْفِتْنَةُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَا يَمُوجُ الْبَحْرُ، قَالَ: لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْهَا بَأْسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا، قَالَ: أَيُكْسَرُ أَمْ يُفْتَحُ؟ قَالَ: يُكْسَرُ، قَالَ: إِذًا لَا يُغْلَقَ أَبَدًا، قُلْنَا: أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ الْبَابَ؟ قَالَ: نَعَمْ، كَمَا أَنَّ دُونَ الْغَدِ اللَّيْلَةَ"، إِنِّي حَدَّثْتُهُ بِحَدِيثٍ لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ، فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ، فَأَمَرْنَا مَسْرُوقًا فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: الْبَابُ عُمَرُ.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے اعمش کی روایت سے بیان کیا، اعمش (سلیمان بن مہران) نے کہا کہ مجھ سے شقیق بن مسلمہ نے بیان کیا، شقیق نے کہا کہ میں نے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے سنا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے پوچھا کہ فتنہ سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث تم میں سے کسی کو یاد ہے؟ میں بولا، میں نے اسے (اسی طرح یاد رکھا ہے) جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث کو بیان فرمایا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ بولے، کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتن کو معلوم کرنے میں بہت بےباک تھے۔ میں نے کہا کہ انسان کے گھر والے، مال اولاد اور پڑوسی سب فتنہ (کی چیز) ہیں۔ اور نماز، روزہ، صدقہ، اچھی بات کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا ان فتنوں کا کفارہ ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے اس کے متعلق نہیں پوچھتا، مجھے تم اس فتنہ کے بارے میں بتلاؤ جو سمندر کی موج کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہوا بڑھے گا۔ اس پر میں نے کہا کہ یا امیرالمؤمنین! آپ اس سے خوف نہ کھائیے۔ آپ کے اور فتنہ کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ پوچھا کیا وہ دروازہ توڑ دیا جائے گا یا (صرف) کھولا جائے گا۔ میں نے کہا کہ توڑ دیا جائے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ بول اٹھے، کہ پھر تو وہ کبھی بند نہیں ہو سکے گا۔ شقیق نے کہا کہ ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا عمر رضی اللہ عنہ اس دروازہ کے متعلق کچھ علم رکھتے تھے تو انہوں نے کہا کہ ہاں! بالکل اسی طرح جیسے دن کے بعد رات کے آنے کا۔ میں نے تم سے ایک ایسی حدیث بیان کی ہے جو قطعاً غلط نہیں ہے۔ ہمیں اس کے متعلق حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھنے میں ڈر ہوتا تھا (کہ دروازہ سے کیا مراد ہے) اس لیے ہم نے مسروق سے کہا (کہ وہ پوچھیں) انہوں نے دریافت کیا تو آپ نے بتایا کہ وہ دروازہ خود عمر رضی اللہ عنہ ہی تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 525]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے فرمایا: تم میں سے کس کو فتنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد ہے؟ میں نے عرض کیا: مجھے اسی طرح یاد ہے جس طرح آپ نے فرمایا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بلاشبہ تم ہی اس قسم کی بات کرنے کے متعلق جرات کر سکتے ہو۔ میں نے عرض کیا: (آپ نے فرمایا تھا:) انسان کا وہ فتنہ جو اس کے گھر بار، مال و اولاد اور اس کے ہمسایوں میں ہوتا ہے، اسے تو نماز، روزہ، صدقہ و خیرات، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر مٹا دیتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا مقصد اس قسم کے فتنے کے متعلق معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ میں اس فتنے کے متعلق دریافت کرنا چاہتا ہوں جو سمندر کی طرح موجزن ہو گا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے امیر المومنین! اس فتنے سے آپ کو کوئی خطرہ نہیں، کیونکہ اس کے اور آپ کے درمیان ایک بند دروازہ حائل ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ کہ وہ دروازہ کھولا جائے یا توڑا جائے گا؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ توڑا جائے گا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ گویا ہوئے: تو پھر کبھی بند نہ ہو گا۔ ہم لوگوں نے (حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے) کہا: آیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ دروازے کو جانتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! جیسے کل آنے والے دن سے پہلے رات آتی ہے۔ میں نے ان سے ایسی حدیث بیان کی جو چیستان نہ تھی۔ ہم لوگ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اس دروازے کے متعلق سوال کرنے سے مرعوب تھے، لہذا ہم نے (اپنے ساتھی) مسروق سے کہا، چنانچہ انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے دروازے کی بابت پوچھا تو انہوں نے فرمایا: وہ دروازہ خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 525]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 526
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ،" أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ سورة هود آية 114، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلِي هَذَا؟ قَالَ: لِجَمِيعِ أُمَّتِي كُلِّهِمْ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، سلیمان تیمی کے واسطہ سے، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے، انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہ ایک شخص نے کسی غیر عورت کا بوسہ لے لیا۔ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ کو اس حرکت کی خبر دے دی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، کہ نماز دن کے دونوں حصوں میں قائم کرو اور کچھ رات گئے بھی، اور بلاشبہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ اس شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ! کیا یہ صرف میرے لیے ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میری تمام امت کے لیے یہی حکم ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 526]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کسی عورت کو بوسہ دے دیا، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ کو اپنے گناہ سے مطلع کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾ [سورة هود: 114] دن کے دونوں کناروں، یعنی صبح و شام نماز پابندی سے پڑھا کرو اور رات کے کچھ حصوں میں بھی اس کا اہتمام کرو، بلاشبہ نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں۔ اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ حکم خاص میرے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ میری امت کے لیے ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 526]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ فَضْلِ الصَّلاَةِ لِوَقْتِهَا:
باب: نماز وقت پر پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 527
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا صَاحِبُ وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ، هَذِهِ الدَّارِ، قَالَ:" سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا، قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ، قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي".
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے کہا کہ مجھے ولید بن عیزار کوفی نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابوعمر و شیبانی سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے اس گھر کے مالک سے سنا، (آپ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کر رہے تھے) انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے وقت پر نماز پڑھنا، پھر پوچھا، اس کے بعد، فرمایا والدین کے ساتھ نیک معاملہ رکھنا۔ پوچھا اس کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ تفصیل بتائی اور اگر میں اور سوالات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور زیادہ بھی بتلاتے۔ (لیکن میں نے بطور ادب خاموشی اختیار کی)۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 527]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کی بروقت ادائیگی۔ انہوں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: والدین سے حسن سلوک۔ انہوں نے عرض کیا: اس کے بعد کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اسی قدر بیان کیا، اگر میں مزید پوچھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور بیان فرماتے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 527]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَةٌ:
باب: اس بیان میں کہ پانچوں وقت کی نمازیں گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 528
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، وَالدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا مَا تَقُولُ ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ، قَالُوا: لَا يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا، قَالَ: فَذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا".
ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم اور عبدالعزیز بن محمد دراوردی نے یزید بن عبداللہ کی روایت سے، انہوں نے محمد بن ابراہیم تیمی سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اگر کسی شخص کے دروازے پر نہر جاری ہو اور وہ روزانہ اس میں پانچ پانچ دفعہ نہائے تو تمہارا کیا گمان ہے۔ کیا اس کے بدن پر کچھ بھی میل باقی رہ سکتا ہے؟ صحابہ نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ! ہرگز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی حال پانچوں وقت کی نمازوں کا ہے کہ اللہ پاک ان کے ذریعہ سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 528]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر کوئی نہر جاری ہو جس میں وہ ہر روز پانچ مرتبہ نہاتا ہو تو تم کیا کہتے ہو کہ یہ کام اس پر کچھ بھی میل کچیل چھوڑے گا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ایسا کرنے سے کچھ بھی میل کچیل باقی نہیں رہے گا۔ آپ نے فرمایا: پانچوں نمازوں کی یہی مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 528]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ تَضْيِيعِ الصَّلاَةِ عَنْ وَقْتِهَا:
باب: اس بارے میں کہ بے وقت نماز پڑھنا، نماز کو ضائع کرنا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 529
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، عَنْ غَيْلَانَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" مَا أَعْرِفُ شَيْئًا مِمَّا كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ الصَّلَاةُ، قَالَ: أَلَيْسَ ضَيَّعْتُمْ مَا ضَيَّعْتُمْ فِيهَا؟".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی بن میمون نے غیلان بن جریر کے واسطہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کی کوئی بات اس زمانہ میں نہیں پاتا۔ لوگوں نے کہا، نماز تو ہے۔ فرمایا اس کے اندر بھی تم نے کر رکھا ہے جو کر رکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 529]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جو باتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں تھیں، ان میں سے اب میں کوئی بات نہیں پاتا۔ عرض کیا گیا: نماز تو باقی ہے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس (نماز) کا جو حال تم نے کر رکھا ہے وہ تمہیں معلوم ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 529]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں