🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب تضييع الصلاة عن وقتها:
باب: اس بارے میں کہ بے وقت نماز پڑھنا، نماز کو ضائع کرنا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 529
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، عَنْ غَيْلَانَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" مَا أَعْرِفُ شَيْئًا مِمَّا كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ الصَّلَاةُ، قَالَ: أَلَيْسَ ضَيَّعْتُمْ مَا ضَيَّعْتُمْ فِيهَا؟".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی بن میمون نے غیلان بن جریر کے واسطہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کی کوئی بات اس زمانہ میں نہیں پاتا۔ لوگوں نے کہا، نماز تو ہے۔ فرمایا اس کے اندر بھی تم نے کر رکھا ہے جو کر رکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 529]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥غيلان بن جرير المعولي
Newغيلان بن جرير المعولي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥مهدي بن ميمون الأزدي، أبو يحيى
Newمهدي بن ميمون الأزدي ← غيلان بن جرير المعولي
ثقة
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← مهدي بن ميمون الأزدي
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 529 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:529
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں اختصار ہے۔
تفصیلی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت انس ؓ کا مذکورہ ارشاد نمازوں کو بے وقت پڑھنے سے متعلق ہے، چنانچہ ابو رافع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں آج ان چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو بھی محفوظ نہیں پاتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں تھیں۔
ابو رافع نے کہا:
اے ابو حمزہ! نماز بھی باقی نہیں ہے؟ حضرت انس ؓ نے جواب دیا:
کیا تمھیں معلوم نہیں کہ حجاج بن یوسف نے نماز کا کیا حال کر رکھا ہے؟ (مسند أحمد: 208/3)
اس روایت کی مزید تفصیل طبقات ابن سعد میں ہے۔
حضرت ثابت بنانی بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ حضرت انس ؓ کے ساتھ تھے کہ حجاج بن یوسف نے نماز کو مؤخر کر کے پڑھا۔
حضرت انس ؓ کھڑے ہوئے تاکہ اس سلسلے میں اسے تنبیہ کی جائے، لیکن آپ کے متعلقین نے آپ کو بات کرنے سے روک دیا۔
آپ وہاں سے نکل آئے اور راستے میں اپنے ساتھیوں سے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہنے لگے کہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کی کوئی بات نظر نہیں آتی، ہاں! ظاہری طور پر شہادتین کا اقرار ضرور موجود ہے۔
ایک آدمی نے کہا:
نماز کا اہتمام تو باقی ہے؟ آپ نے فرمایا:
تم نے نماز ظہر کو مغرب کے وقت پہنچا دیا ہے۔
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں نماز کا یہ حال تھا؟ (فتح الباري: 19/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 529]