🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب تضييع الصلاة عن وقتها:
باب: اس بارے میں کہ بے وقت نماز پڑھنا، نماز کو ضائع کرنا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 530
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ أَخِي عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ:" دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِدِمَشْقَ وَهُوَ يَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكَ؟، فَقَالَ: لَا أَعْرِفُ شَيْئًا مِمَّا أَدْرَكْتُ إِلَّا هَذِهِ الصَّلَاةَ، وَهَذِهِ الصَّلَاةُ قَدْ ضُيِّعَتْ"، وَقَالَ بَكْرُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ نَحْوَهُ.
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں عبدالواحد بن واصل ابوعبیدہ حداد نے خبر دی، انہوں نے عبدالعزیز کے بھائی عثمان بن ابی رواد کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے سنا کہ میں دمشق میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا۔ آپ اس وقت رو رہے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کی کوئی چیز اس نماز کے علاوہ اب میں نہیں پاتا اور اب اس کو بھی ضائع کر دیا گیا ہے۔ اور بکر بن خلف نے کہا کہ ہم سے محمد بن بکر برسانی نے بیان کیا کہ ہم سے عثمان بن ابی رواد نے یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 530]
امام زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک دن دمشق میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ رو رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کی کوئی چیز باقی نہیں رہی، ہاں نماز تھی، اسے بھی اب ضائع کیا جا رہا ہے۔ بکر بن خلف نے کہا: ہمیں محمد بن بکر برسانی نے، ان کو عثمان بن ابی رواد نے اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 530]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عثمان بن أبي رواد العتكي، أبو عبد اللهثقة
👤←👥محمد بن بكر البرساني، أبو عثمان، أبو عبد الله
Newمحمد بن بكر البرساني ← عثمان بن أبي رواد العتكي
ثقة
👤←👥بكر بن خلف البصري، أبو بشر
Newبكر بن خلف البصري ← محمد بن بكر البرساني
ثقة
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر
Newأنس بن مالك الأنصاري ← بكر بن خلف البصري
صحابي
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← أنس بن مالك الأنصاري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥عثمان بن أبي رواد العتكي، أبو عبد الله
Newعثمان بن أبي رواد العتكي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الواحد بن واصل السدوسي، أبو عبيدة
Newعبد الواحد بن واصل السدوسي ← عثمان بن أبي رواد العتكي
ثقة
👤←👥عمرو بن أبي عمرو الكلابى، أبو محمد
Newعمرو بن أبي عمرو الكلابى ← عبد الواحد بن واصل السدوسي
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 530 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:530
حدیث حاشیہ:
دوسری روایات میں اس روایت کی کچھ تفصیل نقل ہوئی ہے کہ ولید بن عبدالملک کے دور حکومت میں حجاج بن یوسف عراق کا امیر تھا۔
حضرت انس ؓ نے نمازوں کے متعلق اس کا طرز عمل دیکھا تو حاکم وقت سے اس کی شکایت کرنے کے لیے دمشق پہنچے۔
وہاں پہنچ کر آپ نے دیکھا کہ خود حاکم وقت ولید بن عبدالملک اور اس کے دیگر امراء بھی اوقات نماز کے متعلق تساہل کا شکار ہیں تو حضرت انس ؓ بہت آزردہ خاطر ہوئے اور حالات کی خرابی دیکھ کر رونے لگے لیکن خلفائے بنو امیہ کے اس طرز عمل سے سارا عالم اسلام متاثر نہیں ہوا تھا۔
مدینہ طیبہ میں نمازوں کے اوقات کی پابندی تھی کیونکہ حضرت انس ؓ شام کے سفر سے جب مدینہ منورہ واپس آئے تو انھوں نے اہل مدینہ کو دوران نماز میں تسویۂ صفوف کی طرف متوجہ فرمایا، نیز وہاں کے امیر حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ تھے جو اوقات نماز کی پابندی کرتے تھے۔
ان سے ایک دن عصر کی نماز میں تھوڑی سی تاخیر ہوگئی تھی تو عروہ بن زبیر نے ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری ؓ کی روایت سنا کر اوقات نماز کی طرف توجہ دلائی تھی۔
امیر مدینہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ نے اسے قبول کر کے اصلاح فرمائی تھی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت انس ؓ اہل مدینہ کے متعلق اوقات نماز سے مطمئن تھے، صرف صفوں کو سیدھا کرنے کے سلسلے میں ان سے کوتاہی ہو رہی تھی جس کی طرف آپ نے توجہ دلائی۔
(فتح الباري: 20/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 530]

Sahih Bukhari Hadith 530 in Urdu