صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب صلة الرحم تزيد فى العمر
صلہ رحمی سے عمر بڑھ جاتی ہے
حدیث نمبر: 41
41/56 عن أنس بن مالك؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:"من أحب أن يبسط له في رزقه، وأن ينسأ له في أثره (1) ، فليصل رحمه".
سیدنا انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو یہ چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں اس کے لیے وسعت کر دی جائے اور اس کے لیے اس کی عمر طویل کر دی جائے اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کیا کرے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 41]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 42
42/57 عن أبى هريرة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:" من سره أن يبسط له في رزقه، وأن ينسأ له في أثره، فليصل رحمه".
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جسے یہ بات پسند ہو کہ اس کے لیے اس کے رزق میں وسعت کر دی جائے اور اس کی عمر بڑھا دی جائے اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کیا کرے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 42]
تخریج الحدیث: (صحيح)
24. باب من وصل رحمه أحبه أهله
جو رشتہ داری کو ملاتا ہے اس کے اہل و عیال اس سے محبت کرتے ہیں
حدیث نمبر: 43
43/58 عن ابن عمر قال:"من اتقى ربه، ووصل رحمه، نُسّىءَ في أجله، (وفي لفظ: أُنسيء له في عُمُرهِ /59) وثرى ماله، وأحبه أهله".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: جو اپنے رب سے ڈرتا ہے اور رشتہ داری کو ملاتا ہے اس کی عمر کو لمبا کر دیا جاتا ہے (اس کی موت میں تاخیر کر دی جاتی ہے)۔ اس کے مال میں اضافہ کر دیا جاتا ہے اور اس کے گھر کے افراداس سے محبت کرتے ہیں۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 43]
تخریج الحدیث: (حسن)
25. باب بر الأقرب فالأقرب
زیادہ قریبی سے حسن سلوک کرنا پھر اس سے جو اس کے بعد قریبی ہو
حدیث نمبر: 44
44/60 عن المقدام بن معدي كرب؛ أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:"إن الله يوصيكم بأمهاتكم، ثم يوصيكم بأمهاتكم، ثم يوصيكم بآبائكم، ثم يوصيكم بالأقرب فالأقرب".
مقدام بن معدی کرب سے مروی ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک اﷲ تمہیں تمہاری ماؤں کے ساتھ (حسن سلوک) کی وصیت کرتا ہے پھر تمہاری ماؤں کے ساتھ وصیت کرتا ہے، پھر تمہارے باپوں کے ساتھ، پھر تمہیں اس آدمی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے جو اس کے بعد زیادہ قریبی ہو، پھر جو اس کے بعد زیادہ قریبی ہو۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 44]
تخریج الحدیث: (صحيح)
26. باب إثم قاطع الرحم
قطع رحمی کرنے والے کا گناہ
حدیث نمبر: 45
45/64 عن جبير بن مطعم ؛ أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:" لا يدخل الجنة قاطع رحم".
جبیر بن مطعم سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”رشتہ داری کو توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 45]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 46
46/65 عن أبي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:"إن الرحم شجنة من الرحمن، تقول: يا رب! إني ظلمت، يا رب! إني قطعت. يا رب! إني إني. يا رب! يا رب! فيجيبها: ألا ترضين أن أقطع من قطعك، وأصل من وصلك؟".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رحم رحمٰن سے پھوٹی ہوئی جڑ ہے اور کہتی ہے: اے میرے رب! مجھ پر ظلم کیا گیا ہے۔ اے میرے رب! مجھے توڑا گیا ہے (یعنی میرے رشتہ کا حق نہ پہنچایا گیا) اے میرے رب! مجھ پر یہ زیادتی کی گئی، مجھ پر یہ زیادتی کی گئی، «يَا رَبِّ»، «يَا رَبِّ» ۔ (اﷲ تعالیٰ) اسے جواب دیتا ہے: کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ جو تجھے کاٹے گا میں اسے کاٹوں گا اور جو تجھے جوڑے گا میں اسے جوڑوں گا۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 46]
تخریج الحدیث: (حسن)
حدیث نمبر: 47
47/66 عن سعيد بن سمعان قال: سمعت أبا هريرة يتعوذ من إمارة الصبيان والسفهاء.
سعید بن سمعان بیان کرتے ہیں کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ لڑکوں اور احمقوں کی حکمرانی سے پناہ مانگتے تھے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 47]
تخریج الحدیث: (صحيح)
27. باب عقوبة قاطع الرحم فى الدنيا
قطع رحمی کرنے والے کی دنیا میں سزا
حدیث نمبر: 48
48/67 عن أبى بكرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"ما من ذنب أحرى أن يعجل الله لصاحبه العقوبة في الدنيا، مع ما يدخر له في الآخرة من قطيعة الرحم والبغي".
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رشتہ داری کو کاٹنے اور ظلم کرنے سے بڑھ کر کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جو اس بات کا زیادہ لائق ہو کہ اللہ اس کے کرنے والے کو دنیا میں بھی جلدی سزا دے اور ساتھ ساتھ وہ سزا بھی جو اس کے لیے آخرت میں جمع کر رکھی ہے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 48]
تخریج الحدیث: (صحيح)
28. باب ليس الواصل بالمكافئ
رشتہ داری ملانے والا وہ نہیں جو بدلے میں ملائے
حدیث نمبر: 49
49/68 عن عبد الله بن عمرو؛ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:"ليس الواصل بالمكافىء، ولكن الواصل الذي إذا قطعت رحمه وصلها".
سیدنا عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رشتہ داری ملانے والا وہ نہیں جو بدلے میں رشتہ داری ملائے لیکن رشتہ داری ملانے والا وہ ہے جب اس کے لیے رشتہ داری کو کاٹا جائے وہ اسے ملائے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 49]
تخریج الحدیث: (صحيح)
29. باب فضل من يصل ذا الرحم الظالم
ظالم رشتہ دار سے رشتہ داری ملانے کی فضیلت
حدیث نمبر: 50
50/69 عن البراء قال: جاء أعرابى فقال: يا نبي الله! علمني عملاً يدخلنى الجنة. قال:"لئن كنت أقصرت الخطبة لقد أعرضت المسألة، أعتق النسمة، وفك الرقبة". قال: أو ليستا واحداً؟ قال:"لا؛ عتق النسمة أن تعتق النسمة، وفكُّ الرّقبةِ أن تُعين على الرقبة، والمنيحةُ الرغوبُ (1) ، والفيء على ذي الرحم ؛ فإن لم تطق ذلك، فأمر بالمعروف، وانْهَ عن المنكر، فإن لم تطق ذلك، فكف لسانك، إلا من خير".
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عرابی آیا اور اس نے عرض کیا: اے اﷲ کے نبی! مجھے کوئی ایسا عمل سکھائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش کہ تم نے اپنی بات مختصر کی ہوتی تم نے تو سوال لمبا کر دیا۔ غلام کو آزاد کرو اور گردن کو آزاد کرو۔“ اس نے کہا: کیا یہ دونوں باتیں ایک ہی نہیں ہیں؟ فرمایا:”نہیں، غلام آزاد کرنا تو یہ ہے کہ تم پورا غلام آزاد کرو اور گردن آزاد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ غلام کو آزاد کرنے میں مدد کرو، اور زیادہ دودھ دینے والا جانور عطیہ کرو اور رشتہ داروں کو خرچہ دو اگر تمہیں اس بات کی طاقت نہ ہو تو نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو خیر کی بات کے سوا اپنی زبان کو قابو کر لو۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 50]
تخریج الحدیث: (صحيح)