Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب قوله تعالى: {ووصينا الإنسان بوالديه حسنا}
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنے کی تاکید کی ہے“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1
1/1 (صحيح) عن أبي عمرو الشيباني قال: حَدَّثَنَا صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ:"الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا". قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: ثُمَّ"بِرُّ الْوَالِدَيْنِ" قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: ((ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ)) قَالَ: حَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي.
ابوعمرو شیبانی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس گھر کے مالک نے حدیث بیان کی اور اپنے ہاتھ کے ساتھ سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا کہ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اللہ عزوجل کے نزدیک کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے؟ فرمایا: نماز کو اس کے اول وقت پر ادا کرنا، میں نے کہا: پھر کون سا؟ فرمایا: پھر والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا۔ میں نے کہا: پھر کون سا؟ فرمایا: پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ (ابن مسعود) نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ اعمال بتائے اور اگر میں زیادہ طلب کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے زیادہ بتاتے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 1]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2
2/2 (صحيح) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: رِضَا الرَّبِّ فِي رِضَا الوالد وسخط الرب في سخط الوالد.
سیدنا عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا: رب کی خوشنودی باپ کی خوشنودی میں اور رب کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں ہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 2]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب بر الأم
ماں کے ساتھ حسن سلوک کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3
3/3 (حسن) عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ:"أُمَّكَ" قُلْتُ: مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ:"أُمَّكَ" قُلْتُ: مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ:"أُمَّكَ" قُلْتُ: مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ:"أباك، ثم الأقرب، فالأقرب".
بہز بن حکیم سے مروی ہے وہ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، میں نے عرض کیا، یا رسول اﷲ! میں کس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤں؟ فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ، میں نے کہا: اس کے بعد کس کے ساتھ حسن سلوک کروں؟ فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ، میں نے کہا: اس کے بعد کس کے ساتھ حسن سلوک کروں؟ فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ، میں نے کہا: اس کے بعد کس کے ساتھ نیک سلوک کروں؟ فرمایا: اپنے باپ کے ساتھ پھر اس کے بعد جو زیادہ قریبی ہو، پھر اس کے بعد جو زیادہ قریبی ہو۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 3]
تخریج الحدیث: (حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4
4/4 (صحيح) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي خَطَبْتُ امْرَأَةً، فَأَبَتْ أَنْ تَنْكِحَنِي، وَخَطَبَهَا غَيْرِي، فَأَحَبَّتْ أَنْ تَنْكِحَهُ، فَغِرْتُ عَلَيْهَا فَقَتَلْتُهَا، فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: أُمُّكَ حَيَّةٌ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: تُبْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَتَقَرَّبْ إِلَيْهِ مَا اسْتَطَعْتَ. [قال: عطاء بن يسار:] فَذَهَبْتُ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: لِمَ سَأَلْتَهُ عَنْ حَيَاةِ أُمِّهِ؟ فَقَالَ:"إِنِّي لَا أَعْلَمُ عَمَلًا أَقْرَبَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ بِرِّ الْوَالِدَةِ".
سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا، اس نے مجھ سے شادی سے انکار کر دیا اور ایک دوسرے آدمی نے نکاح کا پیغام دیا عورت نے اس سے نکاح کرنا پسند کر لیا۔ مجھے بڑی غیرت آئی اور میں نے اس عورت کو قتل کر دیا۔ کیا میرے لیے کوئی توبہ ہے؟ پوچھا: کیا تیری ماں زندہ ہے؟ اس شخص نے کہا: نہیں، فرمایا: اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو اور جتنی تم طاقت رکھو اس کا قرب حاصل کرو، عطاء بن یسار کہتے ہیں: میں گیا اور سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ نے اس سے یہ کیوں پوچھا تھا کہ اس کی ماں زندہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا کہ ماں کے ساتھ نیک سلوک سے زیادہ اللہ کے قریب کوئی دوسرا عمل ہو سکتا ہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 4]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب بر الأب
باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5
5/5 (صحيح) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ:"أُمَّكَ". قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:"أُمَّكَ". قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:"أمك". قال: ثم من؟ (ثم عاد الرابعةَ فـ) قال:"أباك".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کس کے ساتھ نیک سلوک کروں؟ فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ، پوچھا: پھر کس کے ساتھ؟ فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ، پوچھا گیا: پھر کس کے ساتھ؟ فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ، پوچھا گیا: پھر کس کے ساتھ؟ (پھر آپ چوتھی مرتبہ لوٹے اور) فرمایا: اپنے باپ کے ساتھ۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 5]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب لين الكلام لوالديه
والدین سے نرم کلام کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6
6/8 - (صحيح الإسناد.) عن طَيْسَلَةُ بْنُ مَيَّاسٍ (1) قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّجَدَاتِ (2)، فَأَصَبْتُ ذُنُوبًا لَا أَرَاهَا إِلَّا مِنَ الْكَبَائِرِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عُمَرَ. قَالَ: مَا هِيَ؟ قُلْتُ: كَذَا وَكَذَا. قَالَ: لَيْسَتْ هَذِهِ مِنَ الْكَبَائِرِ، هُنَّ تِسْعٌ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ نَسَمَةٍ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَإِلْحَادٌ فِي الْمَسْجِدِ، وَالَّذِي يَسْتَسْخِرُ (3)، وَبُكَاءُ الْوَالِدَيْنِ مِنَ الْعُقُوقِ، قَالَ: لِي ابْنُ عُمَرَ: أَتَفْرَقُ (4) النَّارَ، وَتُحِبُّ أَنْ تَدْخُلَ الْجَنَّةَ؟ قُلْتُ: إي، والله! قال: أحيٌّ والداك؟ قُلْتُ: عِنْدِي أُمِّي. قَالَ: فَوَاللَّهِ! لَوْ أَلَنْتَ لَهَا الْكَلَامَ، وَأَطْعَمْتَهَا الطَّعَامَ، لَتَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مَا اجْتَنَبْتَ الكبائر.
طیسلہ بن میاس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: میں نجدہ بن عامر خارجی کے پیروکار کے ساتھ تھا، (یہ خارجیوں کی ایک جماعت ہے) میں نے ایسے گناہوں کا ارتکاب کیا جن کو میں کبائر ہی خیال کرتا ہوں، تو میں نے اس کا تذکرہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے پوچھا: وہ کون کون سے گناہ ہیں؟ میں نے کہا: ایسے ایسے، انہوں نے کہا: یہ کبائر نہیں ہیں۔ وہ تو نو ہیں: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، کسی جان کو قتل کرنا، جنگ سے فرار ہونا، پاکدامن عورت پر بدکاری کی تہمت لگانا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، مسجد میں کفر (بےدینی) کا ارتکاب کرنا، وہ آدمی جو (دین کا) مذاق اڑاتا ہے، والدین کا (بیٹے کی) نافرمانی کی وجہ سے رونا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کہا: کیا تم جہنم سے ڈرتے ہو اور چاہتے ہو جنت میں داخل ہو جاؤ؟ میں نے کہا: ہاں اللہ کی قسم۔ پوچھا: کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ میں نے کہا: میرے پاس میری والدہ ہیں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تو اس کے ساتھ نرمی کے ساتھ بولے: اور اس کو کھانا کھلائے تو تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے جب تک کبیرہ گناہوں سے بچو گے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 6]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7
7/9- (صحيح الإسناد) عن عروة قَالَ:: {وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ} [الإسراء: 24] قَالَ:"لَا تَمْتَنِعْ مِنْ شَيْءٍ أَحَبَّاهُ".
عروہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ‏ «‏وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ‏» رحمت سے اپنے عاجزی کے بازو ان کے سامنے جھکا دو۔ اور کہا: ایسی چیز سے انکار نہ کرنا جس کو تیرے والدین پسند کریں۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 7]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب جزاء الوالدين
والدین کو بدلہ دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8
8/10- (صحيح) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ، إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲعنہ سے مروی ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بچہ اپنے والد کو بدلہ نہیں دے سکتا مگر یہ کہ اس کو غلام پائے تو وہ اس کو خرید لے اور اس کو آزاد کر دے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 8]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9
9/11 - (صحيح الإسناد.) عن أبى بردة؛ أَنَّهُ شَهِدَ ابْنَ عُمَرَ، ورجلٌ يمانيٌ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ - حَمَلَ أُمَّهُ وراء ظهره - يقول: إِنِّي لَهَا بَعِيرُهَا الْمُذَلَّلُ...... إِنْ أُذْعِرَتْ رِكَابُهَا (1) لَمْ أُذْعَرِ ثُمَّ قَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ! أَتُرَانِي جَزَيْتُهَا؟ قَالَ: لَا. وَلَا بِزَفْرَةٍ واحدة (2)، واحدة ثم طَافَ ابْنُ عُمَرَ، فَأَتَى الْمَقَامَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ. ثُمَّ قَالَ: يَا ابْنَ أَبِي مُوسَى! إِنَّ كُلَّ ركعتين تكفران ما أمامهما.
ابوبردہ سے مروی ہے کہ وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھے اور ایک یمنی آدمی بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا اس نے اپنی ماں کو اپنی پشت کے پیچھے اٹھایا ہوا تھا، (اور) یہ کہہ رہا تھا: میں اس کا مطیع اونٹ ہوں اگر اس کی سواریاں خوفزدہ کر دی جائیں تو میں خوفزدہ نہیں کیا جاؤں گا۔ پھر اس آدمی نے کہا: اے ابن عمر! کیا تمہارا خیال ہے کہ میں نے اپنی ماں کا بدلہ چکا دیا ہے؟ کہا: نہیں، اس کی ایک آہ کا بدلہ بھی نہ چکایا۔ پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے طواف کیا، تو وہ مقام ابرہیم کے پاس آئے دو رکعتیں پڑھیں پھر کہا: اے ابوموسیٰ کے بیٹے! ہر دو رکعتیں ان گناہوں کو ساکت کر دیتی ہیں جو پہلے کیے گئے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 9]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10
10/13 - (صحيح) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، وَتَرَكَ أَبَوَيْهِ يَبْكِيَانِ، فقال:"ارْجِعْ إِلَيْهِمَا، وَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا وہ آپ کے ہاتھ پر ہجرت کے لیے بیعت کر رہا تھا اور اس نے اپنے والدین کو اس حال میں چھوڑ دیا کہ وہ رو رہے تھے۔ فرمایا: ان کے پاس واپس جاؤ، اب انہیں ہنساؤ جیسے تم نے انہیں رلایا ہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 10]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں