صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
254. باب من قال: يستجاب للعبد ما لم يعجل
حدیث نمبر: 510
510/654 عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:"يستجاب لأحدكم ما لم [يدع بإثم أو قطيعة رحم، أو/ 655) يعجل ؛ يقول: دعوت فلم يستجب لي [ فيدع الدعاء] ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے ہر شخص کی دعا قبول کی جاتی ہے اگر وہ گناہ یا قطع رحمی نہ کرے اور جلدی نہ کرے اور یہ نہ کہے کہ میں نے بہت دعائیں کیں مگر قبول نہ ہوئیں اور پھر وہ دعا کرنا چھوڑ دے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 510]
تخریج الحدیث: (صحيح)
255. باب من تعوذ بالله من الكسل
حدیث نمبر: 511
511/656 عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول:" اللهم إني أعوذ بك من الكسل والمغرم، وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال، وأعوذ بك من عذاب النار".
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے داد ا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: «اللهم إني أعوذ بك من الكسل والمغرم، وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال، وأعوذ بك من عذاب النار» ”اے اللہ! میں کاہلی اور قرض سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور میں مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں او ر میں آگ کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 511]
تخریج الحدیث: (حسن صحيح)
حدیث نمبر: 512
512/657 عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم ؛ وعن عطار بن أبي ميمونة، عن أبي رافع، عن أبي هريرة قال:" كان النبي صلى الله عليه وسلم يتعوذ بالله من شر المحيا والممات وعذاب القبر، وشر المسيح الدجال".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روا یت کرتے ہیں اور عطار بن ابی میمونہ سے مروی ہے وہ ابورافع سے روایت کرتے ہیں وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زندگی اور موت کے فتنے سے، قبر کے عذاب سے اور مسیح دجال کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 512]
تخریج الحدیث: (صحيح)
256. باب من لم يسأل الله يغضب عليه
حدیث نمبر: 513
513/658 عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:"من لم يسأل الله غضب الله عليه"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ سے نہیں مانگتا اللہ اس پر غضبناک ہوتا ہے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 513]
تخریج الحدیث: (حسن)
حدیث نمبر: 514
514/660 عن أبان بن عثمان قال: سمعت عثمان قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول:" من قال صباح كل يوم ومساء كل ليلة ثلاثاً ثلاثاً: بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم، لم يضره شيء" وكان أصابه (1) طرف من الفالج، فجعل ينظر إليه، ففطن له. فقال: إن الحديث كما حدثتك، ولكني لم أقله ذلك اليوم؛ ليمضي قدر الله.
ابان بن عثمان سے مروی ہے کہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے ہر دن کی صبح کو اور ہر رات کی شام کو تین تین بار یہ کہا: «بسم الله الذى لا يضر مع اسمه شيء فى الأرض ولا فى السماء وهو السميع العليم»، ”اللہ کے نام سے ابتدا کرتا ہوں جس کے نام کے ساتھ کوئی چیز نہ زمین میں نقصان پہنچاتی ہے اور نہ آسمان میں اور وہ بڑا سننے والا اور بڑا علم والا ہے۔“ اس کو کوئی چیز بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔“ انہیں ایک پہلو پر فالج ہو چکا تھا۔ سامع اس کو دیکھنے لگا وہ بھانپ گئے۔ فرمایا: حدیث تو ویسے ہی ہے جیسے میں نے تم سے بیان کی لیکن اس دن میں یہ دعا نہیں پڑھ سکا تاکہ اللہ کی تقدیر جاری ہو سکے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 514]
تخریج الحدیث: (حسن صحيح)
257. باب الدعاء عند الصف فى سبيل الله
حدیث نمبر: 515
515/661 عن سهل بن سعد قال:"ساعتان تفتح لهما أبواب السماء، وقل داعٍ ترد عليه دعوته: حين يحضر النداء، والصف في سبيل الله".
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: دو اوقات میں آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ان اوقات میں بہت ہی کم لوگ ایسے ہیں جن کی ایسی دعائیں ہوں جو قبول نہ ہوں، ایک اذان کا وقت، دوسرا وہ وقت جب اللہ کی راہ میں صف بندی ہو۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 515]
تخریج الحدیث: (صحيح موقوفاً)
258. باب دعوات النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 516
516/663 عن شكل بن حميد قال: قلت: يا رسول الله! علمني دعاء أنتفع به. قال:"قل: الله عافني من شر سمعي، وبصري، ولساني، وقلبي، وشر منيي". قال وكيع:"منيي" يعني: الزنا والفجور.
سیدنا شکل بن حمید رضی اللہ عنہ سے مرو ی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ مجھے ایسی دعا بتادیجیئے جس سے میں نفع اٹھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: «الله عافني من شر سمعي، وبصري، ولساني، وقلبي، وشر منيي» اے اللہ! مجھے میری سماعت، بصارت، زبان، قلب اور میری منی کی برائی سے محفوظ رکھ، وکیع نے کہا: منی یعنی زنا اور فجور۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 516]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 517
517/665 عن ابن عباس قال: سمعت [وفي رواية: كان/664] النبي صلى الله عليه وسلم يدعو بهذا:" رب [وفي الرواية الأخرى: اللهم [ أعني ولا تعن علي، وانصرني ولا تنصر علي (1) وامكر لي ولا تمكر علي، ويسر لي الهدى ] وفي الأخرى: يسر الهدى إلي (2) ] ، وانصرني على من بغى علي. رب اجعلني شكاراً لك، ذكاراً لك راهباً لك، مطواعاً لك (3) ، مخبتاً لك، أواهاً (4) منيباً تقبل توبتي واغسل حوبتي (5) وأجب دعوتي، وثبت حجتي، واهدِ قلبي، وسدد لساني، واسلل سخيمة قلبي".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے سنا (اور ایک روایت میں ہے)کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ سے دعا کرتے تھے: «رب (وفي الرواية الأخرى: (اللهم أعني ولا تعن علي، وانصرني ولا تنصر علي، وامكر لي ولا تمكر علي، ويسر لي الهدى)) (وفي الأخرى: يسر الهدى إلي)، وانصرني على من بغى علي. رب اجعلني شكاراً لك، ذكاراً لك راهباً لك، مطواعاً لك، مخبتاً لك، أواهاً، منيباً تقبل توبتي واغسل حوبتي، وأجب دعوتي، وثبت حجتي، واهدِ قلبي، وسدد لساني، واسلل سخيمة قلبي» اے میرے رب! (اور ایک دوسری روایت میں، اے اللہ!)، میری مدد فرما اور میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر، اور میری نصرت فرما اور میرے خلاف کسی کی نصرت نہ فرما، میرے بھلے کی تدبیر کر میرے خلاف تدبیر نہ کر، اور میرے لیے ہدایت آسان کر دے، (اور ایک روایت میں ہے: ہدایت کو میری طرف آسان کر دے) اور جو مجھ پر ظلم کریں ان کے خلاف میری مدد فرما، اے میرے رب! تو مجھے اپنا شکر گزار، اپنا ذکر کرنے والا، تیرے لیے عاجزی کرنے والا، گناہوں پر گڑگڑانے والا بنا، تو میری توبہ قبول فرما میرے گناہوں کو دھو دے، میری دعا قبول فرما، میری حجت کو قائم کر، میرے دل کو ہدایت دے۔ میری زبان کو درست چلا اور میرے دل سے میل کچیل کو نکال دے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 517]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 518
518/666 عن محمد بن كعب القرظي: قال معاوية بن أبي سفيان على المنبر:"إنه لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منع الله، ولا ينفع ذا الجد منه الجد. ومن يرد الله به خيراً يفقهه في الدين". سمعت هؤلاء الكلمات من النبي صلى الله عليه وسلم، على هذه الأعواد.
محمد بن کعب قرظی سے روایت ہے، انہو ں نے کہا: سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے منبر پر کہا: بے شک جو چیز تو دے دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے اللہ روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی صاحب دولت کو اس کی دولت تجھ سے فائدہ نہیں دے سکتی، جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ دے دیتا ہے۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کلمات (منبر کی) انہی لکڑیوں پر سنے ہیں۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 518]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 519
519/668 عن أبي هريرة، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعو:"اللهم أصلح لي ديني الذي هو عصمة أمري، وأصلح لي دنياي التي فيها معاشي، واجعل الموت رحمة لي من كل سوء". أو كما قال.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے: «اللهم أصلح لي ديني الذى هو عصمة أمري، وأصلح لي دنياي التى فيها معاشي، واجعل الموت رحمة لي من كل سوء» ”اے اللہ! میرے دین کو سنوار دے یہی میرے معاملات کا تحفظ ہے، اور میرے لیے میری دنیا کو سنوار دے کہ اسی میں میری معاش ہے اور موت کو میرے لیے ہر برائی سے رحمت بنا دے۔“ یا جیسا کہ آپ نے فرمایا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 519]
تخریج الحدیث: (صحيح)