صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
261. باب دعوات النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 539M
و في رواية سعيد بن جبير عنه قال:كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا قام من اللیل،فصلی،فقضی صلاته،یثنی علی الله بما هو اهله ثم یکون من آخر کلامه:"اللهم اجعل لي نوراً في قلبي و اجعل لي نوراً في سمعي و اجعل لي نوراً في بصري و اجعل لي نوراً عن يميني ونوراً عن شمالي واجعل لي نوراً من بين يدي، ونوراً من خلفي، وزدني نوراً، وزدني نوراً، وزدني نوراً".
اور ایک روایت میں سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھتے نماز پڑھتے اور جب نماز پوری کر لیتے تو اللہ کی تعریفات کرتے جو اللہ کے شایان شان ہیں پھر آپ کا آخری کلام یہ ہوتا: «اللهم اجعل لي نوراً فى قلبي و اجعل لي نوراً فى سمعي و اجعل لي نوراً فى بصري و اجعل لي نوراً عن يميني ونوراً عن شمالي واجعل لي نوراً من بين يدي، ونوراً من خلفي، وزدني نوراً، وزدني نوراً، وزدني نوراً» ۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 539M]
حدیث نمبر: 540
540/697 عن عبد الله بن عباس: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلاة من جوف الليل، قال:"اللهم لك الحمد، أنت نور السماوات والأرض ومن فيهن، ولك الحمد، أنت قيام السماوات والأرض، ولك الحمد أنت رب السماوات والأرض ومن فيهن، أنت الحقّ، ووعدك الحقّ، ولقاؤك الحق، والجنة حق، والنار حق، والساعة حق. اللهم لك أسلمت، وبك آمنت، وعليك توكلت، وإليك أنبت، وبك خاصمت، وإليك حاكمت، فاغفر لي ما قدمت وأخرت، وأسررت وأعلنت (4) ، أنت إلهي، لا إله إلا أنت".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آدھی رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو کہتے: «اللهم لك الحمد، أنت نور السماوات والأرض ومن فيهن، ولك الحمد، أنت قيام السماوات والأرض، ولك الحمد أنت رب السماوات والأرض ومن فيهن، أنت الحقّ، ووعدك الحقّ، ولقاؤك الحق، والجنة حق، والنار حق، والساعة حق. اللهم لك أسلمت، وبك آمنت، وعليك توكلت، وإليك أنبت، وبك خاصمت، وإليك حاكمت، فاغفر لي ما قدمت وأخرت، وأسررت وأعلنت، أنت إلهي، لا إله إلا أنت» ”اے اللہ! تیرے لیے ہی تمام قسم کی حمد ہے، تو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ اس میں سے ان سب کا نور ہے تیرے ہی لیے سب حمد ہے کہ تو آسمانوں اور زمین کو قائم کرنے والا ہے، تیرے لیے حمد ہے تو آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے ان سب کا رب ہے۔ تو حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیرا ملنا حق، جنت حق، دوزخ حق اور قیامت حق ہے۔ اے اللہ! میں تیرے لیے فرمانبردار ہوا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، میں نے تیری طرف رجوع کیا، تیری ہی توفیق سے میں (کفار سے) جھگڑا کرتا ہوں اور تجھ ہی کو میں حاکم مانتا ہوں، پس میرے اگلے، پچھلے، باطنی، ظاہر ی سارے گناہ بخش دے تو ہی میرا معبود ہے اور تیرے سواکوئی اور معبود نہیں ہے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 540]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 541
541/699 عن رفاعة الزرقي قال: لما كان يوم أحد، وانكفأ المشركون، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"استووا حتى أثني على ربي عز وجل". فصاروا خلفه صفوفاً فقال:"اللهم لك الحمد كله، اللهم لا قابض لما بسطت، ولا مقرب لما باعدت، ولا مباعد لما قربت، ولا معطي لما منعت، ولا مانع لما أعطيت. اللهم ابسط علينا من بركاتك ورحمتك، وفضلك ورزقك، اللهم إني أسألك النعيم المقيم الذي لا يحول ولا يزول. اللهم إني أسألك النعيم يوم العيلة، والأمن يوم الحرب، اللهم عائذاً بك من سوء ما أعطيتنا، وشر ما منعت منا اللهم حبب إلينا الإيمان وزينه في قلوبنا، وكره إلينا الكفر والفسوق والعصيان واجعلنا من الراشدين. اللهم توفنا مسلمين وأحبنا مسلمين، وألحقنا بالصالحين، غير خزايا، ولا مفتونين. اللهم قاتل الكفرة الذي يصدون عن سبيلك ويكذبون رسلك، واجعل عليهم رجزك وعذابك. اللهم قاتل الكفرة الذين أوتوا الكتاب، إله الحق".
رفاعہ زرقی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: جب احد کا دن تھا اور مشرکین لوٹ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صف درست کر لو یہاں تک کہ میں اپنے رب عزوجل کی تعریف کروں۔“ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنا کر کھڑے ہو گئے آپ نے کہا: «اللهم لك الحمد كله، اللهم لا قابض لما بسطت، ولا مقرب لما باعدت، ولا مباعد لما قربت، ولا معطي لما منعت، ولا مانع لما أعطيت. اللهم ابسط علينا من بركاتك ورحمتك، وفضلك ورزقك، اللهم إني أسألك النعيم المقيم الذى لا يحول ولا يزول. اللهم إني أسألك النعيم يوم العيلة، والأمن يوم الحرب، اللهم عائذاً بك من سوء ما أعطيتنا، وشر ما منعت منا اللهم حبب إلينا الإيمان وزينه فى قلوبنا، وكره إلينا الكفر والفسوق والعصيان واجعلنا من الراشدين. اللهم توفنا مسلمين وأحبنا مسلمين، وألحقنا بالصالحين، غير خزايا، ولا مفتونين. اللهم قاتل الكفرة الذى يصدون عن سبيلك ويكذبون رسلك، واجعل عليهم رجزك وعذابك. اللهم قاتل الكفرة الذين أوتوا الكتاب، إله الحق» ”اے اللہ! تمام تر تعریف تیرے لیے ہی ہے، جو تو پھیلا دے اسے کوئی سمیٹنے والا نہیں اور جو تو دور کر دے اسے کوئی نزدیک کرنے والا نہیں اور جسے تو نزدیک کر دے اسے کوئی دور کرنے والا نہیں جسے تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جس سے تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں۔ اے اللہ! ہم پر اپنی برکات، رحمت، فضل اور رزق کو پھیلا دے۔ اے اللہ! میں تجھ سے قائم رہنے والی نعمت مانگتا ہوں جو نہ ختم ہو، نہ زائل، اے اللہ! میں تجھ سے تنگی کے دن نعمتوں کا اور جنگ کے دن امن کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں ہر اس چیز کی برائی سے جو تو نے ہمیں عطا کی اور ہر اس چیز کے شر سے جو تو نے ہم سے روک دیا۔ یا اللہ! ہمارے دلوں میں ایمان کی محبت ڈال دے اور اسے ہمارے دلوں میں مزین کر دے ہمارے دلوں میں کفر کی، فسق و فجور کی اور نافرمانی کی نفرت ڈال دے۔ اور ہمیں بھلائی پر چلنے والوں میں سے کر دے۔ یا اللہ! ہمیں مسلمان فوت کر مسلمان زندہ رکھ، ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے، نہ ہماری رسوائی ہو نہ ہم کسی گمراہی میں پڑیں، یا اللہ ان کافروں کو قتل کر جو تیرے راستے سے روکتے ہیں، تیرے پیغمبروں کو جھٹلاتے ہیں تو ان پر اپنے عذاب کو نازل کر دے۔ اے معبود حق! ان کافروں کو قتل کر جنہیں کتاب دی گئی۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 541]
تخریج الحدیث: (صحيح)
262. باب الدعاء عند الكرب
حدیث نمبر: 542
542/701 عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، أنه قال لأبيه: يا أبت عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، أنه قال لأبيه: يا أبت! إني أسمعك تدعو كل غداة:"اللهم عافني في بدني، اللهم عافني في سمعي، اللهم عافني في بصري، لا إله إلا أنت"، تعيدها ثلاثاً حين تمسي، وحين تصبح ثلاثاً، وتقول:"اللهم إني أعوذ بك من الكفر والفقر، اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر، لا إله إلا أنت". تعيدها ثلاثاً حين تمسي، وحين تصبح ثلاثاً؟ فقال: نعم؛ يا بني! سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول بهن. وأنا أحب أن أستن بسنته. قال: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" دعوات المكروب: اللهم رحمتك أرجو، ولا تكلني إلى نفسي طرفة عين، وأصلح لي شأني كله، لا إله إلا أنت".
عبدالرحمن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد سے کہا: ابا جان! میں آپ کو سنتا ہوں کہ ہر صبح آپ یہ دعا کرتے ہیں: «اللهم عافني فى بدني، اللهم عافني فى سمعي، اللهم عافني فى بصري، لا إله إلا أنت» ”اے اللہ! مجھے میرے جسم میں عافیت دے۔ اے اللہ! مجھے میری سماعت میں عافیت دے۔ اے اللہ! مجھے میری بصارت میں عافیت دے تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“ آپ اس دعا کو صبح تین مرتبہ پڑھتے ہیں اور شام کو تین مرتبہ پڑھتے ہیں اور آپ کہتے ہیں: «اللهم إني أعوذ بك من الكفر والفقر، اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر، لا إله إلا أنت» آپ اس دعا کو صبح تین مرتبہ پڑھتے ہیں اور شام کو تین مرتبہ پڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ہاں اے میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کلمات کہتے ہوئے سنا ہے اور میں پسند کرتا ہوں کہ آپ کی سنت پر عمل کروں اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے چینی میں مبتلا آدمی کی یہ دعا ہے: «اللهم رحمتك أرجو، ولا تكلني إلى نفسي طرفة عين، وأصلح لي شأني كله، لا إله إلا أنت» اے اللہ! میں تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں ایک لمحے کے لئے بھی مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کر، ہماری ہر حالت کو درست کر دے تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے)۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 542]
تخریج الحدیث: (حسن)
حدیث نمبر: 543
543/702 عن ابن عباس قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول: [ وفي طريق: يدعو/ 700] عند الكرب:"لا إله إلا الله العظيم الحليم، لا إله إلا الله رب العرش العظيم، لا إله إلا الله رب السماوات ورب الأرض ورب العرش الكريم [وفي الطريق الأخرى: العظيم] ، اللهم اصرف شره" (1) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کرب کے وقت یہ دعا مانگتے تھے: «لا إله إلا الله العظيم الحليم، لا إله إلا الله رب العرش العظيم، لا إله إلا الله رب السماوات ورب الأرض ورب العرش الكريم [وفي الطريق الأخرى: العظيم] ، اللهم اصرف شره» ”اس اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو عظیم و حلیم ہے، اس اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے، اس اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور عالیشان عرش کا رب ہے (اور ایک روایت میں ہے: عظیم) اے اللہ! اس کے شر کو پھیر دے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 543]
تخریج الحدیث: (صحيح)
263. باب الدعاء عند الاستخارة
حدیث نمبر: 544
544/703 عن جابر قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة في الأمور، كالسورة من القرآن:"إذا همّ [أحدكم] بالأمر فليركع ركعتين، ثم يقول: اللهم إني أستخيرك بعلمك، واستقدرك بقدرتك، وأسألك من فضلك العظيم، فإنك تقدر ولا أقدر، وتعلم ولا أعلم، وأنت علام الغيوب. اللهم إن كنت تعلم هذا الأمر خيراً لي في ديني، ومعاشي، وعاقبة أمري- أو قال: في (1) عاجل أمري وآجله- فاقدره لي (2) ، وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة- أو قال: عاجل- أمري وآجله، فاصرفه عني واصرفني عنه، واقدر لي الخير حيث كان، ثم رضّني، ويسمي حاجته".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں معاملات میں استخارہ اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی کوئی سورت۔ جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے اسے چاہیے کہ دو رکعتیں پڑھے پھر کہے: ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کے ساتھ خیر طلب کرتا ہوں اور میں تجھ سے تیری قدرت سے طاقت مانگتا ہوں۔ اور میں تجھ سے تیرے عظیم فضل کا سوال کرتا ہوں کیونکہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو غیبوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین، میری گزران اور میرے انجام خیر کے لیے بہتر ہے یا فرمایا: میرے جلد یا دیر سے کام کے لیے بہتر ہے تو اس کو میرے لیے مقد ر کر دے اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین اور میری زندگی کی گزران اور انجام کار کے لیے یا جلدی دنیا کے لیے اور آخرت کے لیے برا ہے تو اس کو مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے اور میرے لیے خیر کو مقدر کر دے جہاں وہ ہو پھر مجھے راضی کر دے اور اپنے کام کا نام بھی لے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 544]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 545
545/704 عن جابر بن عبد الله قال:" دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم في هذا المسجد ؛ مسجد الفتح ؛ يوم الاثنين ويوم الثلاثاء ويوم الأربعاء فاستجيب له بين الصلاتين من يوم الأربعاء". قال جابر: ولم ينزل بي أمر مهم غائظ إلا توخيت تلك الساعة؛ فدعوت الله فيه بين الصلاة يوم الأربعاء في تلك الساعة، إلا عرفت الإجابة.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسجد ”مسجد الفتح“ میں پیر، منگل اور بدھ کے دن دعا کی آپ کی دعا بدھ کے دن دونمازوں کے درمیانی وقت میں مقبول ہوئی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کبھی مجھ پر کوئی پریشان کن امر نازل نہیں ہوتا جو غصہ دلانے والا ہو مگر میں اسی گھڑی کو تلاش کرتا ہوں۔ میں اللہ سے اس گھڑی میں دو نمازوں کے درمیان دعا مانگتا ہوں، بدھ کے دن اس گھڑی میں مگر میں دعا کی قبولیت معلوم کر لیتا ہوں جب مجھے کبھی کوئی اہم مہم، امر پیش آیا میں نے اس وقت کو متعین کر کے بدھ کے دن دو نمازوں کے درمیان دعا کی اور میں نے دیکھا دعا قبول ہو گئی۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 545]
تخریج الحدیث: (حسن)
حدیث نمبر: 546
546/705 عن أنس: كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم فدعا رجل فقال: يا بديع السماوات يا حي يا قيوم! إني أسألك. فقال:"أتدرون بما دعا؟ والذي نفسي بيده دعا الله باسمه الذي إذا دعي به أجاب".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ایک شخص نے دعا کی: اور کہا: «يا بديع السماوات يا حي يا قيوم! إني أسألك» ”اے آسمانوں کو عدم سے وجود میں لانے والے، اے سب کو زندگی عطا کرنے والے، سب کو قائم کرنے والے میں تجھ سے سوال کرتا ہوں“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے اس نے کس طرح دعا کی؟ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس نے اللہ کو اس کے اس نام سے پکارا کہ جب اس نام سے پکارا جاتا ہے تو وہ قبول فرماتا ہے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 546]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 547
547/706 عن عبد الله بن عمرو قال: قال أبو بكر رضي الله عنه للنبي صلى الله عليه وسلم: علمني دعاء أدعو به في صلاتي. قال:"قل: اللهم إني ظلمت نفسي ظلماً كثيراً، ولا يغفر الذنوب إلا أنت، فاغفر لي من عندك مغفرة، إنك أنت الغفور الرحيم".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے ایسی دعا بتا دیں جو میں نماز میں کیا کروں؟ فرمایا: کہا کرو «اللهم إني ظلمت نفسي ظلماً كثيراً، ولا يغفر الذنوب إلا أنت، فاغفر لي من عندك مغفرة، إنك أنت الغفور الرحيم» ”میں نے اپنے نفس پر بہت ظلم کیا اور گناہوں کو تیرے سوا اور کوئی معاف نہیں کرتا تو میری مغفرت فرما دے پوری مغفرت کیونکہ تو ہی مغفرت فرمانے والا رحم والا ہے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 547]
تخریج الحدیث: (صحيح)
264. باب الدعاء إذا خاف السلطان
حدیث نمبر: 548
548/707 عن عبد الله بن مسعود: إذا كان على أحدكم إمام يخاف تغطرسه، أو ظلمه، فليقل:"اللهم رب السماوات السبع ورب العرش العظيم، كن لي جاراً من فلان بن فلان وأحزابه من خلائقك؛ أن يفرط علي أحد منهم، أو يطغى، عز جارك، وجل ثناؤك، ولا إله إلا أنت".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: جب تم پر کوئی ایسا حاکم ہو جس کی سخت گیری اور ظلم کا خوف ہو تو یہ کہا کرو «اللهم رب السماوات السبع ورب العرش العظيم، كن لي جاراً من فلان بن فلان وأحزابه من خلائقك؛ أن يفرط على أحد منهم، أو يطغى، عز جارك، وجل ثناؤك، ولا إله إلا أنت» ”اے اللہ! سات آسمانوں کے رب اور عرش عظیم کے رب تو اپنی مخلوق میں سے فلاں بن فلاں سے اور اس کے گروہ سے مجھے پناہ دینے والا بن جا یہ کہ ان میں سے کوئی مجھ پر حملہ کرے یا زیادتی کرے تیری پناہ طاقت ور ہے اور تیری تعریف بڑی عظیم ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 548]
تخریج الحدیث: (صحيح)