صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
269. باب إذا سمع الرعد
حدیث نمبر: 559
559/722 عن موسى بن عبد العزيز (1) قال: حدثني الحكم قال: حدثني عكرمة؛ أن ابن عباس كان إذا سمع صوت الرعد قال:"سبحان الذي سبحت له". قال:"إن الرعد ملك ينعق بالغيث، كما ينعق الراعي بغنمه".
موسیٰ بن عبدالعزیز سے مروی ہے انہوں نے کہا: مجھے حکم نے بیان کیا انہوں نے کہا: مجھے عکرمہ نے بیان کیا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جب بادل کے گرجنے کی آواز سنتے تو کہتے تھے «سبحان الذى سبحت له» ”پاک ہے وہ ذات جس کے لیے تو نے تسبیح بیان کی۔“ اور کہا: گرج ایک فرشتہ ہے جو بادل کو اسی طرح ہانکتا ہے جیسے چرواہا اپنی بکریوں کو ہانکتا ہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 559]
تخریج الحدیث: (حسن)
حدیث نمبر: 560
560/723 عن عبد الله بن الزبير: أنه كان إذا سمع الرعد ترك الحديث، وقال:"سبحان الذي? يسبح الرعد بحمده. والملائكة من خيفته?، [الرعد: 13] ثم يقول:"إن هذا لوعيد شديد لأهل الأرض".
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب وہ بادل کے گرجنے کی آواز سنا کرتے تھے تو بات کرنا چھوڑ دیتے تھے اور کہتے تھے: «سبحان الذى يسبح الرعد بحمده والملائكة من خيفته» پھر کہتے تھے: یہ زمین والوں کے لیے سخت وعید ہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 560]
تخریج الحدیث: (صحيح)
270. باب من سأل الله العافية
حدیث نمبر: 561
561/724 عن أوسط بن إسماعيل قال: سمعت أبا بكر الصديق رضي الله عنه بعد وفاة النبي صلى الله عليه وسلم قال: قام النبي صلى الله عليه وسلم عام أول مقامي هذا – ثم بكى أبو بكر – ثم قال:" عليكم بالصدق؛ فإنه مع البر، وهما في الجنة، وإياكم والكذب، فإنه مع الفجور، وهما في النار. وسلوا الله المعافاة. فإنه لم يؤتى بعد اليقين خير من المعافاة. ولا تقاطعوا، ولا تدابروا، ولا تحاسدوا، ولا تباغضوا، وكونوا عباد الله إخواناً".
اوسط بن اسماعیل سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا انہوں نے کہا: ہجرت کے پہلے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی جگہ کھڑے ہوئے تھے جہاں میں کھڑا ہوں یہ کہہ کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے اس کے بعد کہا: سچائی کو لازم کر لو کیونکہ یہ نیکی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں جنت میں ہیں اور تم جھوٹ سے بچو کیونکہ یہ فجور کے ساتھ ہے اور یہ دونوں جہنم میں ہیں اور اللہ سے عافیت کا سوال کرو بیشک یقین کے بعد عافیت سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے جو انسان کو دی جاتی ہے اور آپس میں قطع رحمی نہ کرو اور ایک دوسرے کا بائیکاٹ نہ کرو اور ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور اللہ کے بندو بھائی بھائی بن جاؤ۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 561]
تخریج الحدیث: (صحيح)
حدیث نمبر: 562
562/726 عن العباس بن عبد المطلب، قلت: يا رسول الله! علمني شيئاً أسأل الله به. فقال:"يا عباس! سل الله العافية"، ثم مكث ثلاثاً، ثم جئت فقلت: علمني شيئاً أسأل الله به يا رسول الله!. فقال:" يا عباس! يا عم رسول الله! سل الله العافية في الدنيا والآخرة".
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی دعا سکھا دیجئے میں اس کے ساتھ اللہ سے سوال کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عباس! اللہ سے عافیت مانگا کرو، پھر تین دن رکے رہے۔ پھر میں آیا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کچھ سکھا دیجیے، میں اللہ سے سوال کروں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عباس! اے رسول اللہ کے چچا! اللہ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کا سوال کرو۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 562]
تخریج الحدیث: (صحيح)
271. باب من كره الدعاء بالبلاء
حدیث نمبر: 563
563/727 عن أنس قال: قال رجل عند النبي صلى الله عليه وسلم: اللهم [إن] لم تعطني مالاً فأتصدق به، فابتلني ببلاء يكون- أو قال: - فيه أجر. فقال:" سبحان الله، لا تطيقه! ألا قلت: اللهم آتنا في الدنيا حسنة، وفي الآخرة حسنة، وقنا عذاب النار؟".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص نے کہا: اے اللہ! تو اگر مجھے مال نہ دے جس کا میں صدقہ کروں تو مجھے کسی ایسی آزمائش میں گرفتار کر دے جس میں میرے لیے اجر ہو۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”سبحان اللہ، تم اس بات کی طاقت نہیں رکھتے، تم نے یوں کیوں نہیں کہا: اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“ ایک روایت میں ان سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ وہ داخل ہوئے۔ میں نے حمید سے کہا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس گئے جو بیمار ی سے لاچار ہو چکا تھا گویا کہ وہ چوزہ ہے جس کے پر اکھاڑے گئے، تو اس سے فرمایا:”تم اللہ سے کسی چیز کی دعا کرو یا کچھ مانگو۔“ تو وہ آدمی کہنے لگا: یا اللہ جو تو نے مجھے قیامت کو عذاب کرنا ہے وہ دنیا میں ہی کر لے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ، تم اس کی طاقت نہیں رکھتے“ یا کہا: ”تم سب اس کی استطاعت نہیں رکھتے، تم نے یوں کیوں نہ کہا: «اللهم آتنا فى الدنيا حسنة، وفي الآخرة حسنة، وقنا عذاب النار» اور آپ نے اس کے حق میں دعا کی تو اللہ نے شفا دی۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 563]
تخریج الحدیث: (حسن صحيح)
272. ـ باب من تعوذ من جهد البلاء ـ
حدیث نمبر: 564
564/729 عن عبد الله بن عمرو قال: يقول الرجل:"اللهم إني أعوذ بك من جهد البلاء" ثم يسكت، فإذا قال ذلك فليقل:"إلا بلاء فيه علاء".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: آدمی کہتا ہے: اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں آزمائش کی مشقت سے، پھر چپ ہو جائے، جب یہ کہہ چکے پھر یہ کہنا چاہیے: سوائے ایسی آزمائش کے جس میں درجات کی بلندی ہو۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 564]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)
273. باب من حكى كلام الرجل عند العتاب
حدیث نمبر: 565
565/731 عن أبي نوفل بن أبي عقرب: أن أباه سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن الصوم؟ فقال:" صم يوماً من كل شهر". قلت: بأبي أنت وأمي، زدني.قال:"زدني، زدني! صم يومين من كل شهر". قلت: بأبي أنت وأمي، زدني؛ فإني أجدني قوياً. فقال:" إني أجدني قوياً، إني أجدني قوياً!". فأفحم حتى ظننت أنه لن يزيديني، ثم قال:" صم ثلاثة من كل شهر".
ابونوفل بن ابی عقرب سے روایت ہے کہ ان کے والد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے کے بارے میں سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ماہ میں ایک روزہ رکھ لیا کرو۔“ میں نے عرض کیا آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں اور زیادہ اجازت فرمائیے۔ فرمایا: ”یہ کیا ہے کہ زیادہ کریں، زیادہ کریں۔ ہر ماہ میں دوروزے رکھ لو“، میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں اپنے آپ کو اس سے زیادہ قوی پاتا ہوں، فرمایا: زیادہ قوی پاتا ہوں، زیادہ قوی پاتا ہوں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ یہاں تک کہ میں نے خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زیادہ کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا ہر ماہ تین روزے رکھ لیا کرو۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 565]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)
274. باب
حدیث نمبر: 566
566/732 عن جابر بن عبد الله قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم – وارتفعت ريح خبيثة منتنة- فقال:" أتدرون ما هذه؟ هذه ريح الذين يغتابون المؤمنين". [وفي رواية:"إن ناساً من المنافقين اغتابوا أناساً من المسلمين، فبعثت هذه الريح لذلك" /733] .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ نہایت بدبودار آندھی چلنے لگی جو اونچی ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانتے ہو یہ کیا ہے؟ یہ ان کی بدبو ہے جو ایمان داروں کی غیبت کرتے ہیں۔“ ایک روایت میں ہے کہ کچھ منافقین نے کچھ مسلمانوں کی غیبت کی ہے یہ آندھی اسی وجہ سے چلائی گئی ہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 566]
تخریج الحدیث: (حسن)
حدیث نمبر: 567
567/734 عن ابن أم عبد [ ابن مسعود] قال:" من اغتيب عنده مؤمن فنصره، جزاه الله بها خيراً في الدنيا والآخرة، ومن اغتيب عنده مؤمن فلم ينصره، جزاه الله خيراً في الدنيا والآخرة، ومن اغتب عنده مؤمن فلم ينصره، جزاه الله بها في الدنيا والآخرة شراً، وما التقم أحد لقمة شراً من اغتياب مؤمن؛ إن قال فيه ما يعلم، فقد اغتابه، وإن قال فيه بما لا يعلم، فقد بهته".
ابن امِ عبد یعنی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس کے پاس کسی مومن کی غیبت کی گئی، اس نے اس کی حمایت کی، اللہ اسے دنیا و آخرت میں بہتر بدلا دے گا، جس کے پاس کسی مومن کی غیبت کی گئی ہو اور اس نے اس کی حمایت نہ کی ہو، اللہ اسے اس کے بدلے میں دنیا آخرت میں برا بدلہ دیں گے اور کسی نے اس سے بدتر لقمہ نہیں کھایا کہ وہ مومن آدمی کی غیبت کرے اگر اس میں واقعی وہ چیز پائی جاتی ہو جس کو وہ جانتا ہو تو اس نے غیبت کی اور اگر اس نے ایسی بات کہی جس کو نہیں جانتا تو اس نے اس پر الزام تراشی کی۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 567]
تخریج الحدیث: (صحيح الإسناد)
275. باب الغيبة وقول الله عز وجل: ? ولا يغتب بعضكم بعضا?
حدیث نمبر: 568
568/735 عن جابر بن عبد الله قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأتى على قبرين يعذب صاحباهما، فقال:"إنهما لا يعذبان في كبير؛ وبلى، أما أحدهما: فكان يغتاب الناس، وأما الآخر: فكان لا يتأذى من البول". فدعا بجريدة رطبة، أو بجريدتين، فكسرهما، ثم أمر بكل كسرة فغرست على قبر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" أما إنه سيهوّن من عذابهما، ما كانتا رطبتين، أو: لم تيبسا".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو ایسی قبروں پر آئے جن قبر والوں پر عذاب کیا جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کو کسی بڑے گناہ پر عذاب نہیں کیا جا رہا، اور کیوں نہیں، ان میں سے جو ایک ہے وہ لوگوں کی غیبت کرتا تھا اور جو دوسرا ہے وہ پیشاب کی (چھینٹوں کی) پرواہ نہیں کرتا تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی تر شاخ منگوائی یا دو شاخیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں توڑ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک شاخ کے بارے میں حکم دیا کہ اس کو ایک ایک قبر پر گاڑھ دیا جائے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سن لو ان پر عذاب ہلکا کر دیا جائے گا جب تک یہ تر رہیں گی“ یا فرمایا: ”جب تک خشک نہ ہوں گی۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 568]
تخریج الحدیث: (صحيح لغيره)