مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الوُضُوءُ لَيْسَ ضَرُورِيًّا بَعْدَ البَوْلِ)
پیشاب کرنے کے بعد وضو ضروری نہیں ہے
حدیث نمبر: 368
368 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: بَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ عُمَرُ خَلْفَهُ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عُمَرُ!) فَقَالَ: مَاءٌ تَتَوَضَّأُ بِهِ. قَالَ: (مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ وَلَوْ فَعَلْتُ لَكَانَتْ سُنَّةً) رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشاب کیا تو عمر رضی اللہ عنہ پانی کا لوٹا لیے آپ کے پیچھے کھڑے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: پانی ہے، آپ اس سے وضو فرمائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جب میں پیشاب کروں تو وضو بھی کروں، اگر میں ایسا کروں تو یہ سنت بن جائے گی۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 368]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (42) و ابن ماجه (327)
٭ عبد الله بن يحيي التوأم: ضعيف .»
٭ عبد الله بن يحيي التوأم: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيفٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (مَدْحُ طَهَارَةِ أَهْلِ قُبَاءَ)
اہل قباء کی طہارت کی تعریف
حدیث نمبر: 369
369 - وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ وَجَابِرٍ وَأَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ لَمَّا نَزَلَتْ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ! إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ فِي الطَّهُورِ فَمَا طَهُورُكُمْ؟ قَالُوا: نَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ، وَنَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ وَنَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ. قَالَ: فَهُوَ ذَاكَ فَعَلَيْكُمُوهُ) رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
ابوایوب، جابر اور انس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ جب یہ آیت: ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ﴾ [سورة التوبة: 108] ”اس میں ایسے لوگ ہیں جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ پاک صاف رہیں، اور اللہ پاک صاف رہنے والوں کو پسند کرتا ہے“ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے انصار کی جماعت! اللہ نے پاکیزگی کے بارے میں تمہاری تعریف کی ہے، تمہاری پاکیزگی کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ہم ہر نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، غسلِ جنابت کرتے ہیں اور پانی سے استنجا کرتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پس یہی وجہ ہے، چنانچہ تم اس کی پابندی کرو۔“ (اسنادہ حسن، رواہ ابن ماجہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 369]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه ابن ماجه (355)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (طَعْنُ المُشْرِكِينَ وَجَوَابُهُ)
مشرکین کا طعنہ اور اس کا جواب
حدیث نمبر: 370
370 - وَعَنْ سَلْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ، وَهُوَ يَسْتَهْزِئُ: إِنِّي لَأَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى الْخَرَاءَةَ. قُلْتُ: (أَجَلْ أَمَرَنَا أَنْ لَا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا وَلَا نَكْتَفِيَ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ وَلَا عَظْمٌ) رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَاللَّفْظُ لَهُ.
سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، کسی مشرک نے ازراہِ مذاق کہا: میرا خیال ہے تمہارا ساتھی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں بول و براز کے آداب بھی سکھاتا ہے، میں نے کہا: ہاں بالکل ٹھیک ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی حکم دیا ہے کہ ”ہم بول و براز کے وقت قبلہ کی طرف منہ کریں نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کریں اور ہم (استنجا کے لیے) تین ڈھیلوں سے کم استعمال نہ کریں، اور ان میں لید اور ہڈی نہ ہو۔“ اسے مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے، مذکورہ الفاظ احمد کے ہیں۔ رواہ مسلم و احمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 370]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (57/ 262) و أحمد (437/5 ح 24103)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (عَذَابُ القَبْرِ بِسَبَبِ مَنْعِ أَمْرِ اللَّهِ)
اللہ کے حکم کو روکنے سے عذاب قبر ہوتا ہے
حدیث نمبر: 371
371 - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنُ حَسَنَةَ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِي يَدِهِ الدَّرَقَةُ فَوَضَعَهَا ثُمَّ جَلَسَ، فَبَالَ إِلَيْهَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ: انْظُرُوا إِلَيْهِ يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ، فَسَمِعَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: (وَيْحَكَ! أَمَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَوْلُ قَرَضُوهُ بِالْمَقَارِيضِ فَنَهَاهُمْ فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ) رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ
عبدالرحمٰن بن حسنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ کے ہاتھ میں چمڑے کی ڈھال تھی، آپ نے اسے رکھا، پھر بیٹھ کر اس کی طرف رخ کر کے پیشاب کیا، تو ان میں سے کسی نے کہا: انہیں دیکھو، کیسے عورت کی طرح (چھپ کر) پیشاب کر رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بات سن لی اور فرمایا: ”تم پر افسوس ہے، کیا تم اس سے باخبر نہیں جو بنی اسرائیل کے ایک ساتھی کے ساتھ ہوا کہ جب انہیں پیشاب لگ جاتا تو وہ اس حصے کو قینچی سے کاٹ دیا کرتے تھے، چنانچہ اس شخص نے ان کو منع کر دیا جس کی وجہ سے اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 371]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (22) و ابن ماجه (346)
٭ الأعمش مدلس و عنعن .»
٭ الأعمش مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (عَذَابُ القَبْرِ بِسَبَبِ مَنْعِ أَمْرِ اللَّهِ، بِرِوَايَةِ النَّسَائِيِّ)
اللہ کے حکم کو روکنے سے عذاب قبر ہوتا ہے، بروایت نسائی
حدیث نمبر: 372
372 - وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْهُ عَنْ أَبِي مُوسَى.
امام نسائی رحمہ اللہ نے یہ روایت ان (عبدالرحمٰن بن حسنہ رضی اللہ عنہ) کی سند سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 372]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه النسائي (1/ 26. 28 ح 30)
٭ الأعمش مدلس و عنعن .»
٭ الأعمش مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني:
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (مَنْعُ البَوْلِ مُتَوَجِّهًا إِلَى القِبْلَةِ)
قبلہ رخ پیشاب کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 373
373 - وَعَنْ مَرْوَانَ الْأَصْفَرِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، ثُمَّ جَلَسَ يَبُولُ إِلَيْهَا فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! أَلَيْسَ قَدْ نُهِيَ عَنْ هَذَا؟ قَالَ: بَلْ إِنَّمَا نُهِيَ عَنْ ذَلِكَ فِي الْفَضَاءِ. فَإِذَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَيْءٌ يَسْتُرُكَ، فَلَا بَأْسَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مروان اصفر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی سواری کو قبلہ رخ بٹھایا، پھر اس کے رخ بیٹھ کر پیشاب کیا، میں نے عرض کیا: ابوعبدالرحمٰن! کیا اس سے منع نہیں کیا گیا؟ انہوں نے فرمایا: (نہیں) بلکہ صرف کھلی فضا میں اس سے منع کیا گیا ہے، اگر تمہارے اور قبلہ کے مابین کوئی ایسی چیز ہو جو تمہارے لیے پردہ ہو تو پھر (قبلہ رخ پیشاب کرنے میں) کوئی حرج نہیں۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 373]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (11)
٭ الحسن بن ذکوان ضعفه الجمھور و حديثه في صحيح البخاري متابعة وھو مدلس أيضًا و عنعن .»
٭ الحسن بن ذکوان ضعفه الجمھور و حديثه في صحيح البخاري متابعة وھو مدلس أيضًا و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (دُعَاءُ الخُرُوجِ مِنْ بَيْتِ الخَلَاءِ)
خروج خلاء کے وقت کی دعا
حدیث نمبر: 374
374 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنِّي الْأَذَى وَعَافَانِي) رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت الخلا سے باہر تشریف لائے تو یہ دعا پڑھتے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ أَذْهَبَ عَنِّي الْأَذَى وَعَافَانِيْ» ”ہر قسم کی تعریف و شکر اللہ کے لیے ہے جس نے مجھ سے تکلیف دور کی اور مجھے عافیت عطا فرمائی۔“ (ضعیف)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 374]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (301)
٭ إسماعيل بن مسلم المکي: ضعيف الحديث و فيه علل أخري .»
٭ إسماعيل بن مسلم المکي: ضعيف الحديث و فيه علل أخري .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (مَنْعُ الاسْتِنْجَاءِ بِالرَّوْثِ أَوِ العَظْمِ وَغَيْرِهِمَا)
گوبر یا ہڈی وغیرہ سے استنجاء کی ممانعت
حدیث نمبر: 375
375 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: لَمَّا قَدِمَ وَفْدُ الْجِنِّ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ انْهَ أُمَّتَكَ أَنْ يَسْتَنْجُوا بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثَةٍ أَوْ حُمَمَةٍ، فَإِنَّ اللَّهَ جَعَلَ لَنَا فِيهَا رِزْقًا. فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ذَلِكَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب جنوں کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اپنی امت کو ہڈی یا لید یا کوئلے سے استنجا کرنے سے منع فرمائیں، کیونکہ اللہ نے ان چیزوں میں ہمارے لیے رزق رکھا ہے“، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا۔ [اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد] [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 375]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (39)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (السِّوَاكُ قَبْلَ الصَّلَاةِ)
نماز سے پہلے مسواک
حدیث نمبر: 376
[ 3 ] بَابُ السِّوَاكِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 376 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ، وَبِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں نمازِ عشاء تاخیر سے پڑھنے اور ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم فرماتا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 376]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (887) و مسلم (42 / 252)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (إِكْثَارُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ السِّوَاكِ)
نبی اطہر صلی اللہ علیہ وسلم کا کثرت سے مسواک فرمانا
حدیث نمبر: 377
377 - وَعَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ؟ قَالَتْ: بِالسِّوَاكِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
شریح بن ہانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لاتے تو آپ سب سے پہلے کون سا کام کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: مسواک۔ (رواہ مسلم)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 377]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (43/ 253)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح