🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (الفَصْلُ الثَّالِثُ)
نماز فجر کو اسفار میں پڑھنا افضل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 614
614 - وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالدَّارِمِيُّ ; وَلَيْسَ عِنْدَ النَّسَائِيِّ: فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز فجر، روشن ہو جانے پر پڑھو کیونکہ وہ زیادہ باعث اجر ہے۔ ترمذی، ابوداؤد، دارمی، نسائی میں یہ الفاظ نہیں: کہ وہ زیادہ باعث اجر ہے۔ صحیح۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 614]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (154 وقال: حسن صحيح .) و أبو داود (424) والدارمي (277/1 ح 1220) والنسائي (272/1 ح 549، 550) [وابن ماجه (672) و صححه ابن حبان (263) ] »
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَأْخِيرُ صَلَاةِ العِشَاءِ كَثِيرًا)
نماز عصر کا وقت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 615
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 615 - عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ فَتُقْسَمُ عَشْرَ قِسَمٍ، ثُمَّ تُطْبَخُ، فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ مَغِيبِ الشَّمْسِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز عصر ادا کرتے، پھر اونٹ نحر کیا جاتا، اس کے دس حصے کیے جاتے، پھر اسے پکایا جاتا تو ہم غروب آفتاب سے پہلے پکا ہوا گوشت کھا لیتے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 615]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2485) و مسلم (625/198)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يُخَفِّفُ الصَّلَاةَ)
نماز عشاء میں بہت زیادہ تاخیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 616
616 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ. فَخَرَجَ إِلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ، فَلَا نَدْرِي: أَشَيْءٌ شَغَلَهُ فِي أَهْلِهِ أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ؟ فَقَالَ حِينَ خَرَجَ: إِنَّكُمْ لَتَنْتَظِرُونِ صَلَاةً مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ، وَلَوْلَا أَنْ يَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک رات ہم نماز عشاء کے لیے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتظار کر رہے تھے، پس آپ تہائی رات گزر جانے یا اس کے بعد تشریف لائے، ہم نہیں جانتے کہ کسی کام نے آپ کو اپنے اہل خانہ میں مصروف رکھا یا اس کے علاوہ کوئی کام تھا، پس جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (اپنے حجرہ سے) باہر تشریف لائے تو فرمایا: تم نماز کا انتظار کر رہے ہو، تمہارے علاوہ کوئی اہل دین اس کا انتظار نہیں کر رہا، اگر امت کے لیے گراں نہ ہوتا میں انہیں اسی وقت پڑھاتا۔ پھر آپ نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے اقامت کہی اور آپ نے نماز پڑھائی۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 616]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (220/ 639)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الجُلُوسُ انْتِظَارًا لِلصَّلَاةِ كَأَنَّهُ فِي الصَّلَاةِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تخفیف کرتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 617
617 - وَعَنْ ‌‌‌‌جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ نَحْوًا مِنْ صَلَاتِكُمْ، وَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَتَمَةَ بَعْدَ صَلَاتِكُمْ شَيْئًا، وَكَانَ يُخَفِّفُ الصَّلَاةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تمہاری نمازوں کے اوقات کے مطابق ہی نمازیں پڑھا کرتے تھے، لیکن آپ نماز عشاء تمہاری نماز سے کچھ تاخیر سے پڑھا کرتے تھے، اور آپ نماز ہلکی پڑھایا کرتے تھے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 617]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (227/ 643)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كَانَتْ صَلَاةُ العَصْرِ تُؤَخَّرُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ ﷺ)
نماز کے انتظار میں بیٹھنا گویا نماز میں ہونا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 618
618 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَتَمَةِ، فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى مَضَى نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، فَقَالَ:"خُذُوا مَقَاعِدَكُمْ"، فَأَخَذْنَا مَقَاعِدَنَا فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَأَخَذُوا مَضَاجِعَهُمْ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ، وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ وَسَقَمُ السَّقِيمِ، لَأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَالنَّسَائِيُّ
ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز عشاء پڑھنے کا ارادہ کیا، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تقریباً نصف شب گزر جانے کے بعد تشریف لائے تو فرمایا: اپنی جگہ پر بیٹھے رہو۔ چنانچہ ہم اپنی جگہ پر بیٹھ گئے، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک لوگ نماز پڑھ کر سو چکے، اور جب کہ تم اس وقت تک نماز ہی میں رہو گے جب تک تم نماز کے انتظار میں رہو گے اور اگر ضعیف کے ضعف، بیمار کی بیماری کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اس نماز کو نصف شب تک مؤخر کرتا۔ صحیح، رواہ ابوداؤد و النسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 618]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبوداود (422) و النسائي (268/1 ح 539) [وابن ماجه (693) و صححه ابن خزيمة (345) ] »
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (جَوَازُ تَأْخِيرِ أَوْ تَعْجِيلِ الصَّلَاةِ بِسَبَبِ الطَّقْسِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عصر کی نماز تاخیر سے ہوتی تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 619
619 - وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْكُمْ، وَأَنْتُمْ أَشَدُّ تَعْجِيلًا لِلْعَصْرِ مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ
ام سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، نماز ظہر جلد پڑھنے میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تم سے زیادہ سخت تھے اور نماز عصر جلدی پڑھنے میں تم ان سے زیادہ سخت ہو۔ صحیح، رواہ احمد و الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 619]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (289/6 ح 27011) والترمذي (161 وقال: حسن .)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِذَا أَخَّرَ الأَئِمَّةُ الصَّلَوَاتِ)
موسم کی وجہ سے نماز میں تاخیرر اور تعجیل ہو سکتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 620
620 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الْحَرُّ أَبْرَدَ بِالصَّلَاةِ، وَإِذَا كَانَ الْبَرْدُ عَجَّلَ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ معمول تھا کہ گرمی ہوتی تو آپ نماز (ظہر) دیر سے پڑھتے اور جب سردی ہوتی تو جلدی فرماتے تھے۔ صحیح، رواہ النسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 620]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه النسائي (1/ 248 ح 500) [والبخاري: 906] »
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (سَيَكُونُ بَعْدَ النَّبِيِّ ﷺ حُكَّامٌ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ)
جب امام نمازیں تاخیر سے ادا کریں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 621
621 - وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي أُمَرَاءُ يَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ عَنِ الصَّلَاةِ لِوَقْتِهَا حَتَّى يَذْهَبَ وَقْتُهَا، فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُصَلِّي مَعَهُمْ؟ قَالَ:"نَعَمْ"رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: میرے بعد تمہارے کچھ ایسے امراء ہوں گے کہ چند چیزیں انہیں وقت پر نماز پڑھنے سے غافل کر دیں گی حتیٰ کہ اس کا وقت گزر جائے گا چنانچہ (جب یہ صورت حال ہو تو) تم نمازیں وقت پر ادا کرنا۔ کسی شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں ان کے ساتھ بھی پڑھ لوں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں۔ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 621]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (433) [وابن ماجه: 1257] »
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (جَانِبٌ عَظِيمٌ مِنْ سِيرَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نماز کو تاخیر سے پڑھنے والے حکمراں ہوں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 622
622 - وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ وَقَّاصٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ مِنْ بَعْدِي يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ فَهِيَ لَكُمْ، وَهِيَ عَلَيْهِمْ، فَصَلُّوا مَعَهُمْ مَا صَلَّوُا الْقِبْلَةَ"رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
قبیصہ بن وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے بعد تمہارے کچھ ایسے حکمران ہوں گے جو نمازیں دیر سے پڑھیں گے، چنانچہ وہ تمہارے لیے باعث ثواب اور ان کے لیے موجب گناہ ہونگی، پس جب تک وہ قبلہ رخ نمازیں پڑھتے رہیں تو تم ان کے ساتھ نماز پڑھو۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 622]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبوداود (434)
٭ فيه صالح بن عبيد مجھول الحال و ثقه ابن حبان وحده و حديث البخاري (694) يغني عنه .»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ فَضَائِلِ الصَّلَاةِ)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی سیرت کا ایک عظیم پہلو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 623
623 - وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ، فَقَالَ: إِنَّكَ إِمَامُ عَامَّةٍ، وَنَزَلَ بِكَ مَا تَرَى، وَيُصَلِّي لَنَا إِمَامُ فِتْنَةٍ، وَنَتَحَرَّجُ فَقَالَ: الصَّلَاةُ أَحْسَنُ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ، فَأَحْسِنْ مَعَهُمْ، وَإِذَا أَسَاءُوا فَاجْتَنِبْ إِسَاءَتَهُمْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عبیداللہ بن عدی بن خیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جبکہ وہ محصور تھے، تو انہوں نے کہا: آپ امیر المومنین ہیں اور آپ پریشانی میں مبتلا ہیں، جبکہ فتنے کا سرغنہ ہمیں نماز پڑھاتا ہے، اور ہم اسے گناہ سمجھتے ہیں، انہوں (عثمان رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: نماز مسلمانوں کا بہترین عمل ہے، جب لوگ اچھا کام کریں، تو تم بھی ان کے ساتھ مل کر اچھا کرو، اور جب وہ برا کریں تو تم ان کی برائی سے دور رہو۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 623]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (695)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں