🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (صَلَاةُ البَرْدَيْنِ أَيْ صَلَاةُ الصُّبْحِ وَالمَسَاءِ)
نماز فجر اور نماز عصر کے فضائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 624
[ ص: 540 ] (3) بَابُ فَضِيلَةِ الصَّلَوَاتِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 624 - عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: (لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا) يَعْنِي الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے یعنی فجر اور نماز عصر پڑھے تو وہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 624]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (213/ 634)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كِرَامًا كَاتِبِينَ وَظِيفَتُهُمْ)
صلوٰۃ البردین یعنی صبح و شام کی نمازیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 625
625 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص دو ٹھنڈی نمازیں (فجر و عصر) پڑھے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 625]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (574) و مسلم (215/ 635)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مُؤَدِّي صَلَاةِ الفَجْرِ فِي حِفْظِ اللهِ)
کراماً کاتبین کی ڈیوٹی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 626
626 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ، وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ، فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ - وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ: كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رات اور دن کے وقت فرشتے یکے بعد دیگرے تمہارے پاس آتے رہتے ہیں اور وہ نماز فجر اور نماز عصر میں اکٹھے ہوتے ہیں، پھر وہ فرشتے، جنہوں نے تمہارے ہاں رات بسر کی ہوتی ہے، اوپر چڑھتے ہیں، ان کا رب ان سے پوچھتا ہے، حالانکہ وہ ان کے متعلق بہتر جانتا ہے، تم نے میرے بندوں کو کس حال (یعنی آخری عمل) پر چھوڑ کر آئے ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں، جب ہم ان کے پاس سے آئے تو وہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، اور جب ان کے پاس گئے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 626]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (555) و مسلم (210/ 632)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَضَائِلُ الصَّلَوَاتِ المُخْتَلِفَةِ)
فجر کی نماز پڑھنے والا اللہ کی حفاظت میں ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 627
627 - وَعَنْ جُنْدَبٍ الْقَسْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ ; فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ، فَلَا يَطْلُبَنَّكُمُ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ ; فَإِنَّهُ مَنْ يَطْلُبْهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ يُدْرِكْهُ، ثُمَّ يَكُبُّهُ عَلَى وَجْهِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي بَعْضِ نُسَخِ (الْمَصَابِيحِ) : الْقُشَرِيُّ بَدَلَ الْقَسْرِيِّ.
جندب قسری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز فجر پڑھ لیتا ہے تو وہ اللہ کے عہدو امان میں آجاتا ہے، چنانچہ تم ایسا کوئی کام نہ کرنا جس کی وجہ سے اللہ اپنے عہدو امان کے بارے میں تمہارا مؤاخذہ کرے، کیونکہ وہ اپنے عہدو امان کے بارے میں جس شخص سے مؤاخذہ کرے گا تو وہ اسے پکڑ کر اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے گا۔ متفق علیہ۔ اور مصابیح کے بعض نسخوں میں القسری کے بجائے القشیری مذکور ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 627]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (261/ 657)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (صَلَاتَا الفَجْرِ وَالعِشَاءِ ثَقِيلَتَانِ عَلَى المُنَافِقِ)
مختلف نمازوں کے فضائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 628
628 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ، لَاسْتَهَمُوا ; وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ، لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ ; وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ، لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوگ اذان اور صف اول کی فضیلت کے بارے میں جان لیں پھر اگر انہیں اس کے حصول کے لیے قرعہ اندازی کرنی پڑے تو وہ ضرور قرعہ اندازی کریں، اور اگر وہ نماز کے لیے جلدی آنے کی فضیلت کے بارے میں جان لیں تو وہ اس کی طرف ضرور سبقت حاصل کریں، اور اگر انہیں نماز عشاء اور نماز فجر کی اہمیت کاپتہ چل جائے تو وہ انہیں پڑھنے کے لیے ضرور (مسجد میں) آئیں خواہ انہیں سرین یا پاؤں اور گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 628]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (615) و مسلم (129 / 437)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَدَاءُ صَلَاتَيِ الفَجْرِ وَالعِشَاءِ فِي الجَمَاعَةِ كَقِيَامِ اللَّيْلِ كُلِّهِ)
فجر اور عشاء کی نماز منافق پر بھاری ہوتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 629
629 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (لَيْسَ صَلَاةً أَثْقَلَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ مِنَ الْفَجْرِ وَالْعِشَاءِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز فجر اور نماز عشاء منافقوں پر سب سے زیادہ بھاری نمازیں ہیں، لیکن اگر انہیں ان کے اجر و ثواب کا پتہ چل جائے تو وہ انہیں پڑھنے کے لیے ضرور (مسجد میں) آئیں، خواہ انہیں سرین یا پاؤں اور گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 629]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (657) و مسلم (252 / 651)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (احْفَظْ وَالتَزِمِ المُصْطَلَحَ الشَّرْعِيَّ)
فجر اور عشاء کی نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنا پوری رات کے قیام کے برابر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 630
630 - وَعَنْ عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ ; فَكَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَمَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ، فَكَأَنَّمَا صَلَّى اللَّيْلَ كُلَّهُ) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے نماز عشاء با جماعت ادا کی تو گویا اس نے نصف شب کا قیام کیا اور جس نے نماز صبح با جماعت ادا کی تو گویا اس نے پوری رات کا قیام کیا۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 630]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (260 / 656)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَأَخُّرُ أَهْلِ القُرَى فِي صَلَاةِ العِشَاءِ)
شرعی اصطلاح کی حفاظت اور رعایت کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 631
631 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (لَا يَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمُ الْمَغْرِبِ) قَالَ: (تَقُولُ الْأَعْرَابُ: هِيَ الْعِشَاءُ) .
ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دیہاتی لوگ، تمہاری نماز مغرب کے نام کے بارے میں، تم پر غالب نہ آ جائیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: دیہاتی اسے عشاء کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ صحیح۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 631]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه مسلم (لم أجده) [و رواه البخاري (563) من حديث عبد الله بن مغفل رضي الله عنه به، و کذا في مصابيح السنة (438) ] »
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الصَّلَاةُ الوُسْطَى أَيْ الصَّلَاةُ المُتَوَسِّطَةُ)
عشاء کی نماز میں دیہاتی لوگوں کا دیر کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 632
632 - وَقَالَ: (لَا يَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمُ الْعِشَاءِ، فَإِنَّهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ الْعِشَاءُ. فَإِنَّهَا تَعْتِمُ بِحِلَابِ الْإِبِلِ) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
اور فرمایا: دیہاتی لوگ، تمہاری عشاء کے نام کے بارے میں تم پر غالب نہ آ جائیں، کیونکہ اس کا نام تو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں عشاء ہے، کیونکہ وہ اونٹوں کا دودھ دھونے کی وجہ سے اسے عتمہ کہتے ہیں۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 632]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (229 / 644)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الفَصْلُ الثَّانِي)
صلوٰۃ وسطیٰ یعنی درمیانی نماز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 633
633 - وَعَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: (حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى: صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوہ خندق کے روز فرمایا: انہوں نے ہمیں نماز عصر سے روک دیا، اللہ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 633]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4533) و مسلم (205 / 627)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں