🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (الرُّقَى الْمَسْنُونَةُ لِلْوَجَعِ)
جسم میں درد کا مسنون دم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1533
1533 - وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَعًا يَجِدُهُ فِي جَسَدِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"ضَعْ يَدَكَ عَلَى الَّذِي يَأْلَمُ مِنْ جَسَدِكَ وَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ ثَلَاثًا  ، وَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ: أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ"قَالَ: فَفَعَلْتُ. فَأَذْهَبَ اللَّهُ مَا كَانَ بِي. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے جسم کی تکلیف کے متعلق رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شکایت کی تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں فرمایا: ”اپنے جسم کے تکلیف والے حصے پر اپنا ہاتھ رکھو، اور تین مرتبہ «بِسْمِ اللهِ» پڑھ کر سات مرتبہ یہ دعا پڑھو: «أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ» ”میں ہر اس شر سے جو میں پاتا ہوں اور جس سے میں ڈرتا ہوں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ چاہتا ہوں۔“”راوی بیان کرتے ہیں، میں نے ایسے ہی کیا تو اللہ تعالیٰ نے میری وہ تکلیف دور کر دی۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1533]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2202/67)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (رُقْيَةُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ)
جبریل امین﷤ علیہ السلام کا دم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1534
1534 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَشْتَكَيْتَ؟ فَقَالَ:"نَعَمْ". قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ  ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ، أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ اللَّهُ يَشْفِيكَ، بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا: ”محمد! آپ بیمار ہیں؟“ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ تو انہوں نے یوں دم کیا: «بِسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ، اللهُ يَشْفِيكَ، بِسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ» ”میں آپ کو تکلیف دینے والی ہر چیز سے، ہر نفس کے شر سے یا حاسد کی نظر سے اللہ کے نام کے ساتھ آپ کو دم کرتا ہوں، اللہ آپ کو شفا عطا فرمائے، میں اللہ کے نام کے ساتھ آپ کو دم کرتا ہوں“۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1534]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (40/ 2186)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (رُقْيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُسَيْنِ وَكَرِيمِيهِمَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا)
حسین کریمین رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1535
1535 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ:"أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ"، وَيَقُولُ:"إِنَّ أَبَاكُمَا كَانَ يُعَوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَفِي أَكْثَرِ نُسَخِ"الْمَصَابِيحِ":"بِهِمَا"عَلَى لَفْظِ الثَّنْيَةِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو ان کلمات کے ساتھ اللہ کی پناہ میں دیتے تھے: «أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ» ”میں اللہ کے کلماتِ تامہ کے ذریعے ہر شیطان، زہریلے جانور اور ہر ضرر رساں نظر کے شر سے تمہیں بچاتا ہوں“ اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا کرتے تھے: ”تمہارے باپ (ابراہیم علیہ السلام) ان کلمات کے ذریعے اسماعیل (علیہ السلام) و اسحاق (علیہ السلام) کے لیے پناہ طلب کیا کرتے تھے“ بخاری، مصابیح کے اکثر نسخوں میں تثنیہ کا صیغہ [بِهِما] ہے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1535]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (3371)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْمَصَائِبُ تُمَحِّصُ الْخَطَايَا)
مصائب سے گناہوں کا دور ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1536
1536 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کسی مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1536]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6545)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الرَّجَاءُ وَالْمَشَقَّةُ تُمْحِي الْخَطَايَا)
رنج و تکلیف سے گناہ مٹ جاتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1537
1537 - وَعَنْهُ، وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"مَا يُصِيبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ، وَلَا وَصَبٍ، وَلَا هَمٍّ  ، وَلَا حُزْنٍ، وَلَا أَذًى، وَلَا غَمٍّ، حَتَّى الشَّوْكَةُ يُشَاكُهَا، إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا خَطَايَاهُ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہما نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کو جو پریشانی، غم، رنج، تکلیف اور دکھ پہنچتا ہے، حتیٰ کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ اس (تکلیف) کی وجہ سے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1537]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5641. 5642) و مسلم (2573/52)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْمَشَقَّةُ كَالْجِلْدِ تَخْلَعُ الذُّنُوبَ)
تکلیف پیڑ کے پٹّوں کی طرح گناہوں کو جھاڑ دیتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1538
1538 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُوعَكُ، فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَجَلْ، إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ". قَالَ: فَقُلْتُ: ذَلِكَ لِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ؟ فَقَالَ:"أَجَلْ". ثُمَّ قَالَ:"مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مِنْ مَرَضٍ فَمَا سِوَاهُ، إِلَّا حَطَّ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ سَيِّئَاتِهِ  ، كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ بخار میں مبتلا تھے، میں نے آپ کو اپنا ہاتھ لگایا تو میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم! آپ تو بہت سخت بخار میں مبتلا ہیں۔ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ہاں، مجھے تمہارے دو آدمیوں جیسا بخار ہوتا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا، یہ اس لیے کہ آپ کے لیے دو گنا اجر ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان کو کسی مرض یا کسی اور وجہ سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ اس وجہ سے اس کے گناہ اس طرح گرا دیتا ہے جس طرح (موسم خزاں میں) درخت اپنے پتے گرا دیتا ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1538]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5648) و مسلم (2571/45)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (شِدَّةُ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی شدت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1539
1539 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا الْوَجَعُ عَلَيْهِ أَشَدُّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے زیادہ کسی کو تکلیف میں مبتلا نہیں دیکھا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1539]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5646) و مسلم (2570/44)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وَصْفُ حَالِ نَزْعَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نزع کی کیفیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1540
1540 - وَعَنْهَا قَالَتْ: مَاتَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي، فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ  لِأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی تو آپ کا سر مبارک میری ٹھوڑی اور سینے کے درمیان تھا، اور نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (کی موت کی سختی) کے بعد میں کسی پر موت کی سختی کو کبھی برا نہیں سمجھتی۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1540]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (4446)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَرْقُ الْمُؤْمِنِ وَالْمُنَافِقِ فِي الْحَيَاةِ)
مومن اورمنافق کی زندگی میں فرق
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1541
1541 - وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ  ، تُفَيِّئُهَا الرِّيَاحُ، تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا أُخْرَى، حَتَّى يَأْتِيَ أَجَلُهُ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ الَّتِي لَا يُصِيبُهَا شَيْءٌ، حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال کھیتی کی نرم و نازک شاخ کی طرح ہے جسے ہوائیں جھکاتی ہیں، کبھی اسے نیچے گرا دیتی ہیں اور کبھی سیدھا کر دیتی ہیں، حتیٰ کہ اس کی اجل آ جاتی ہے، جبکہ منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے، جس پر کوئی چیز اثر انداز نہیں ہوتی حتیٰ کہ وہ ایک ہی مرتبہ ٹوٹ جاتا ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1541]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5643) و مسلم (2810/59)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَا هُوَ الْفَرْقُ بَيْنَ الْمُؤْمِنِ وَالْمُنَافِقِ)
مومن اور منافق کی زندگی میں کیا فرق ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1542
1542 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الزَّرْعِ لَا تَزَالُ الرِّيحُ تُمِيلُهُ، وَلَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ الْبَلَاءُ  ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ شَجَرَةِ الْأَرْزَةِ لَا تَهْتَزُّ حَتَّى تَسْتَحْصِدَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال کھیتی کی سی ہے جسے ہوا جھکا دیتی ہے، اور مومن کو مصائب آتے رہتے ہیں، جبکہ منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے وہ حرکت نہیں کرتا حتیٰ کہ اسے کاٹ دیا جاتا ہے۔“ (متفق علیہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1542]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5644) و مسلم (2809/58)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں