مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الْحُمَّى تُمَحِّصُ الْخَطَايَا)
بخار گناہوں کو دور کر دیتا ہے
حدیث نمبر: 1543
1543 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أُمِّ السَّائِبِ فَقَالَ: مَا لَكِ تُزَفْزِفِينَ؟!"قَالَتِ: الْحُمَّى - لَا بَارَكَ اللَّهُ فِيهَا - قَالَ:"لَا تَسُبِّي الْحُمَّى ; فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ ، كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام سائب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو فرمایا: ”آپ کیوں کانپ رہی ہیں؟“ انہوں نے بتایا: بخار ہے، اللہ اسے برکت نہ دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بخار کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح ختم کر دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کی میل کچیل دور کر دیتی ہے۔“ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1543]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2575/53)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ)
اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے ساتھ ہمدردی
حدیث نمبر: 1544
1544 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ أَوْ سَافَرَ، كُتِبَ لَهُ بِمِثْلِ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ بیمار ہو جائے یا وہ سفر پر ہو تو اس کے لیے اتنا ہی عمل (ثواب) لکھ دیا جاتا ہے جتنا وہ حالتِ قیام اور حالتِ صحت میں کیا کرتا تھا۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1544]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (2996)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (الْمَوتُ فِي الطَّاعُونِ شَهَادَةٌ)
طاعون سے موت شہادت ہے
حدیث نمبر: 1545
1545 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”طاعون مسلمان کی شہادت ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1545]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5732) و مسلم (1916/166)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (أَنْوَاعُ الشَّهَادَةِ)
شہادت کی اقسام
حدیث نمبر: 1546
1546 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ : الْمَطْعُونُ، وَالْمَبْطُونُ، وَالْغَرِيقُ، وَصَاحِبُ الْهَدْمِ، وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”شہداء پانچ قسم کے ہیں: طاعون کے مرض سے، پیٹ کے مرض سے، ڈوب جانے سے فوت ہونے والا، کسی دیوار وغیرہ کے نیچے دب کر مر جانے والا اور اللہ کی راہ میں شہید ہو جانے والا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1546]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2829) و مسلم (164/ 1914)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (أَمْرُ الْهَرَبِ مِنْ مَنْطِقَةِ الطَّاعُونِ)
طاعون زہ علاقے سے فرار کا حکم
حدیث نمبر: 1547
1547 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الطَّاعُونِ فَأَخْبَرَنِي:"أَنَّهُ عَذَابٌ يَبْعَثُهُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ، وَأَنَّ اللَّهَ جَعَلَهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ، لَيْسَ مِنْ أَحَدٍ يَقَعُ الطَّاعُونُ فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا ، يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُصِيبُهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ، إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ"رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ".
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے طاعون کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو ایک طرح کا عذاب ہے، اللہ جس پر چاہتا ہے اسے مسلط کر دیتا ہے، اور اللہ نے اسے مومنوں کے لیے رحمت بنایا ہے، جو شخص طاعون کی وبا آ جانے پر صبر اور ثواب کی امید کرتے ہوئے اور یہ جانتے ہوئے کہ اللہ نے جو اس کے متعلق لکھ دیا ہے وہ اسے پہنچ کر رہے گا، اپنے شہر میں ٹھہر جاتا ہے تو اس کے لیے شہید کے مثل اجر و ثواب ہے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1547]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5734)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (نَصِيحَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بخصوص الطَّاعُونِ)
طاعون (وبائی بیماری) کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت
حدیث نمبر: 1548
1548 - وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"الطَّاعُونُ رِجْزٌ أُرْسِلَ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، أَوْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ، وَأَنْتُمْ بِهَا، فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”طاعون ایک طرح کا عذاب ہے جو بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر یا تم سے پہلے لوگوں پر بھیجا گیا تھا، جب تم کسی ملک میں اس کے پھیل جانے کے متعلق سنو تو تم اس ملک کی طرف پیش قدمی نہ کرو اور جب کسی سرزمین پر پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو پھر وہاں سے راہ فرار اختیار نہ کرو۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1548]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6974) و مسلم (92/ 2218)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (الْجَنَّةُ بَدَلَ الْعَيْنَيْنِ)
آنکھوں کے بدلے جنت
حدیث نمبر: 1549
1549 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"قَالَ اللَّهُ - سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى -: إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِي بِحَبِيبَتَيْهِ ثُمَّ صَبَرَ ، عَوَّضْتُهُ مِنْهُمَا الْجَنَّةَ"يُرِيدُ عَيْنَيْهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا: جب میں اپنے بندے کو اس کی دو چیزوں یعنی دونوں آنکھوں سے محروم کر کے آزماتا ہوں اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو میں ان کے عوض اسے جنت عطا کرتا ہوں۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1549]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5653)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (أَجْرُ عِيَادَةِ الْمُؤْمِنِ الْمَرِيضِ)
مومن کی بیمار پرسی کا اجر
حدیث نمبر: 1550
الْفَصْلُ الثَّانِي 1550 - عَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا غُدْوَةً إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنْ عَادَهُ عَشِيَّةً إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ.
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو مسلمان کسی مسلمان کی صبح کے وقت عیادت کرتا ہے تو شام ہونے تک ستر ہزار فرشتے اس پر رحمتیں بھیجتے رہتے ہیں اور اگر وہ شام کے وقت اس کی عیادت کرتا ہے تو صبح ہونے تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ تیار کر دیا جاتا ہے۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1550]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (969 وقال: غريب حسن.) و أبو داود (3098)
٭ الحکم بن عتيبة مدلس و عنعن.»
٭ الحکم بن عتيبة مدلس و عنعن.»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (عِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّحَابَةِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابہ کی عیادت کرنا
حدیث نمبر: 1551
1551 - وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: عَادَنِي النَّبِيُّ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِعَيْنِي . رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ.
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری آنکھوں میں تکلیف تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری عیادت فرمائی۔ (اسنادہ حسن، رواہ احمد و ابوداؤد)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1551]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (4/ 375 ح 19563) و أبو داود (3102) [و صححه الحاکم علٰي شرط الشيخين (342/1) ووافقه الذهبي. ] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (فَضْلُ الْعِيَادَةِ وَالْوُضُوءِ)
باوضو عیادت کرنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 1552
1552 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، وَعَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ مُحْتَسِبًا ، بُوعِدَ مِنْ جَهَنَّمَ مَسِيرَةَ سِتِّينَ خَرِيفًا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اچھی طرح وضو کر کے ثواب کی نیت سے اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو اسے ساٹھ سال کی مسافت کے برابر جہنم سے دور کر دیا جاتا ہے۔“ (ضعیف) [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1552]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (3097)
٭ الفصل بن دلھم: لين ضعفه الجمھور.»
٭ الفصل بن دلھم: لين ضعفه الجمھور.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيفٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف