مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (فَضْلُ الْوَفَاةِ بَعِيدًا عَنْ مَكَانِ الْمِيلَادِ)
جائے پیدائش سے دور وفات کی فضیلت
حدیث نمبر: 1593
1593 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ مِمَّنْ وُلِدَ بِهَا ; فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا لَيْتَهُ مَاتَ بِغَيْرِ مَوْلِدِهِ. قَالُوا: وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:"إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ بِغَيْرِ مَوْلِدِهِ قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مدینہ میں پیدا ہونے والا ایک شخص فوت ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھ کر فرمایا: ”کاش کہ یہ اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کسی اور جگہ فوت ہوتا۔“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کس لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک جب کوئی آدمی اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کسی جگہ فوت ہوتا ہے تو اس کی جائے پیدائش سے جائے وفات تک کے فاصلے کے برابر اسے جنت عطا کر دی جاتی ہے۔“ (اسنادہ حسن، رواہ النسائی و ابن ماجہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1593]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه النسائي (7/4. 8 ح 1833) وابن ماجه (1614) [و صححه ابن حبان (729) ] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (الْمَوْتُ فِي السَّفَرِ مَوْتَةُ شَهَادَةٍ)
سفر میں مرنا شہادت کی موت
حدیث نمبر: 1594
1594 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَوْتُ الْغُرْبَةِ شَهَادَةٌ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پردیس کی موت شہادت ہے۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1594]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (1613)
٭ فيه الھذيل بن الحکم: لين الحديث و للحديث شواھد ضعيفة.»
٭ فيه الھذيل بن الحکم: لين الحديث و للحديث شواھد ضعيفة.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (الْمَوْتُ بَيْنَ الْمَرْضَى شَهَادَةٌ وَحِفْظٌ مِنْ فِتَنِ الْقَبْرِ)
بیمار ہو کر مرنا شہادت اور قبر کے فتنوں سے حفاظت
حدیث نمبر: 1595
1595 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَنْ مَاتَ مَرِيضًا مَاتَ شَهِيدًا ، أَوْ وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَغُدِيَ، وَرِيحَ عَلَيْهِ بِرِزْقِهِ مِنَ الْجَنَّةِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، والْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بیماری کی حالت میں فوت ہوتا ہے تو وہ شہادت کی موت مرتا ہے، اسے قبر کے فتنے سے بچا لیا جاتا ہے، صبح و شام اسے جنت سے رزق پہنچا دیا جاتا ہے۔“ (ضعیف) [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1595]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه ابن ماجه (1615) والبيھقي في شعب الإيمان (9897)
٭ فيه إبراهيم بن محمد الأسلمي متروک متھم.»
٭ فيه إبراهيم بن محمد الأسلمي متروک متھم.»
قال الشيخ الألباني: مَوْضُوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا
--. (الْمَوْتُ مِنَ الطَّاعُونِ شَهَادَةٌ)
طاعون سے مرنے والا شہید
حدیث نمبر: 1596
1596 - وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: يَخْتَصِمُ الشُّهَدَاءُ وَالْمُتَوَفَّوْنَ عَلَى فُرُشِهِمْ إِلَى رَبِّنَا - عَزَّ وَجَلَّ - فِي الَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنَ الطَّاعُونِ ، فَيَقُولُ الشُّهَدَاءُ: إِخْوَانُنَا قُتِلُوا كَمَا قُتِلْنَا. وَيَقُولُ الْمُتَوَفَّوْنَ: إِخْوَانُنَا مَاتُوا عَلَى فُرُشِهِمْ كَمَا مِتْنَا. فَيَقُولُ رَبُّنَا: انْظُرُوا إِلَى جِرَاحِهِمْ فَإِنْ أَشْبَهَتْ جِرَاحَتُهُمْ جِرَاحَ الْمَقْتُولِينَ فَإِنَّهُمْ مِنْهُمْ وَمَعَهُمْ، فَإِذَا جِرَاحُهُمْ قَدْ أَشْبَهَتْ جِرَاحَهُمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ) .
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”شہداء اور اپنے بستروں پر وفات پانے والے، طاعون کی وجہ سے فوت ہونے والوں کے بارے میں ہمارے رب عز وجل کے سامنے مقدمہ پیش کریں گے تو شہداء عرض کریں گے: ہمارے بھائی ہیں وہ ویسے ہی شہید کیے گئے جیسے ہم شہید کیے گئے، جبکہ فوت ہونے والے کہیں گے: یہ ہمارے بھائی ہیں، یہ بھی ویسے ہی اپنے بستروں پر فوت ہوئے جس طرح ہم فوت ہوئے، ہمارا رب فرمائے گا: ان کے زخم دیکھو، اگر تو ان کے زخم، مقتولین (شہداء) کے زخموں کی طرح ہیں تو پھر یہ ان میں سے ہیں اور ان کے ساتھ ہیں، پس ان کے زخم انہی کے زخموں سے مشابہ تھے۔“ (حسن، رواہ احمد والنسائی) [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1596]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أحمد (128/4. 129 ح 17291) و النسائي (37/6. 38 ح 3166)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (لاَ يَفِرُّ مِنْ مَكَانِ الطَّاعُونِ وَيَبْقَى فِيهِ)
جہاں طاعون ہو وہاں سے نہ بھاگنے اور وہیں رہنے کا حکم
حدیث نمبر: 1597
1597 - وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: الْفَارُّ مِنَ الطَّاعُونِ كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ ، وَالصَّابِرُ فِيهِ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ. (رَوَاهُ أَحْمَدُ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”طاعون سے فرار ہونے والا میدانِ جہاد سے فرار ہونے والے کی طرح ہے، اور وہاں صبر کرنے (رک جانے) والے کے لیے شہید کا ثواب ہے۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1597]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه أحمد (353/3 ح 14853)
٭ فيه عمرو بن جابر: ضعيف متھم، و روي أحمد (145/6، 255) بسند حسن عن عائشة رضي الله عنھا عن رسول الله ﷺ قال: ’’الفار من الطاعون کالفار من الزحف.‘‘»
٭ فيه عمرو بن جابر: ضعيف متھم، و روي أحمد (145/6، 255) بسند حسن عن عائشة رضي الله عنھا عن رسول الله ﷺ قال: ’’الفار من الطاعون کالفار من الزحف.‘‘»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا
--. (مَنْعُ دُعَاءِ الْمَوْتِ)
موت کی دعا کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 1598
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (بَابُ تَمَنِّي الْمَوْتِ وَذِكْرِهِ) (الْفَصْلُ الْأَوَّلُ) 1598 - (عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ) ، إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَزْدَادَ خَيْرًا، وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے، اگر تو وہ نیکوکار ہے تو شاید کہ وہ نیکیوں میں اضافہ کر لے، اور اگر وہ خطا کار ہے تو شاید کہ وہ توبہ کر لے۔“ اسے بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1598]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5673)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (مَنْعُ التَّمَنِّي بِالْمَوْتِ)
موت کی آرزو کرنا منع ہے
حدیث نمبر: 1599
1599 - وَعَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ ، وَلَا يَدْعُ بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ ; إِنَّهُ إِذَا مَاتَ انْقَطَعَ أَمَلُهُ، وَإِنَّهُ لَا يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ عُمْرُهُ إِلَّا خَيْرًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی موت کی تمنا کرے نہ اس کے آنے سے پہلے اس کے لیے دعا کرے، کیونکہ جب وہ فوت ہو جاتا ہے تو اس کی امید منقطع ہو جاتی ہے، اور مومن کی عمر تو اس کے لیے خیر و بھلائی میں اضافے کا باعث ہے۔“ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1599]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2682/13)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (مَنْعُ دُعَاءِ الْمَوْتِ بِسَبَبِ الْمَشَقَّةِ)
تکلیفوں کی وجہ سے موت کی دعا کرنا منع ہے
حدیث نمبر: 1600
1600 - وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ) أَصَابَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص کسی تکلیف پہنچنے پر موت کی تمنا نہ کرے، اگر اس کو ضرور کہنا ہے تو وہ یوں کہے: «اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي» ”اے اللہ! جب تک میرا زندہ رہنا میرے لیے بہتر ہے تب تک مجھے زندہ رکھنا، اور جب وفات میرے لیے بہتر ہو تب مجھے (دنیا سے) اٹھا لینا۔““ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1600]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5671) و مسلم (2680/10)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (ثَوَابُ مَوْتِ الْمُؤْمِنِ رِضَا اللَّهِ تَعَالَى)
مومن کی موت کا انعام اللہ تعالیٰ کی رضا ہے
حدیث نمبر: 1601
1601 - وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ". فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ: إِنَّا لَنَكْرَهُ الْمَوْتَ. قَالَ:"لَيْسَ ذَلِكَ، وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَانِ اللَّهِ وَكَرَامَتِهِ، فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ فَأَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا حَضَرَ بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَعُقُوبَتِهِ، فَلَيْسَ شَيْءٌأَكْرَهُ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ فَكَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ، وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ سے ملاقات کرنا پسند کرتا ہے تو اللہ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا یا آپ کی کسی اور زوجہ محترمہ نے فرمایا: بے شک ہم تو موت کو ناپسند کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بات نہیں ہے، بلکہ مومن کو موت آتی ہے تو اسے اللہ کی رضامندی اور اس کی عزت افزائی کی بشارت دی جاتی ہے تو پھر جو اس کے آگے ہونے والا ہوتا ہے وہ اسے سب سے زیادہ محبوب ہوتا ہے لہذا وہ اللہ سے ملاقات کرنا پسند کرتا ہے اور اللہ اس سے ملاقات کرنا پسند کرتا ہے، اور جب کافر کو موت آتی ہے تو اسے اللہ کے عذاب اور اس کی سزا کی بشارت دی جاتی ہے تو پھر اس کو مستقبل سے زیادہ ناگوار کوئی چیز نظر نہیں آتی تو وہ اللہ سے ملاقات کرنا ناپسند کرتا ہے اور اللہ اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1601]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6507) و مسلم (2683/14)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (الْمَوْتُ قَبْلَ لِقَاءِ اللَّهِ تَعَالَى)
اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے پہلے موت
حدیث نمبر: 1602
1602 - وَفِي رِوَايَةِ عَائِشَةَ: وَالْمَوْتَ قَبْلَ لِقَاءِ اللَّهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی روایت میں ہے: ”اللہ کی ملاقات سے پہلے موت ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1602]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2684/15)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح