🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (الْمَوْتُ رَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِ)
موت مومن کے لیےاللہ کی رحمت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1603
1603 - وَعَنِ ابْنِ قَتَادَةَ: أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ: مُسْتَرِيحٌ أَوْ مُسْتَرَاحٌ مِنْهُ. فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْمُسْتَرِيحُ؟ وَمَا الْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟ فَقَالَ: الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ، وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ، وَالْبِلَادُ، وَالشَّجَرُ، وَالدَّوَابُّ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”یہ راحت پا گیا یا دوسرے اس سے راحت پا گئے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ راحت پا گیا یا دوسرے اس سے راحت پا گئے، اس سے کیا مراد ہے؟ تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”بندۂ مومن دنیا کی مشکلات اور تکلیفوں سے راحت پا کر اللہ کی رحمت کی طرف جاتا ہے، جبکہ فاجر شخص سے بندے، شہر، درخت اور حیوانات راحت پا جاتے ہیں۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1603]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6512) و مسلم (950/61)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عِيشَةُ الدُّنْيَا كَمُسَافِرٍ)
زندگی کو ایک مسافر کی طرح بسر کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1604
1604 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَنْكِبِي، فَقَالَ: كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ، أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ  ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: إِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ، وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الْمَسَاءَ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ، وَمِنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے کندھے سے پکڑ کر فرمایا: ”دنیا میں کسی اجنبی شخص یا کسی راہ گزر کی طرح رہو۔“ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: جب شام ہو جائے تو صبح کا انتظار نہ کرو، اور جب صبح ہو جائے تو پھر شام کا انتظار نہ کرو، اور صحت میں اپنی بیماری کے لیے اور اپنی حیات سے اپنی موت کے لیے توشہ حاصل کرو۔ (رواہ البخاری)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1604]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6416)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (يَجِبُ حُسْنُ الظَّنِّ بِاللَّهِ تَعَالَى)
اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھنا چاہئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1605
1605 - عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ يَقُولُ:"لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللَّهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آپ کی وفات سے تین روز قبل فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے کسی کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسنِ ظن رکھتا ہو۔“ (رواہ مسلم)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1605]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2877/81)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (سُؤَالُ اللَّهِ تَعَالَى عَنْ عِبَادِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ)
اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن بندوں سے اپنی ملاقات کے بارے میں پوچھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1606
الْفَصْلُ الثَّانِي 1606 - عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِنْ شِئْتُمْ أَنْبَأْتُكُمْ مَا أَوَّلُ مَا يَقُولُ اللَّهُ لِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ  ، وَمَا أَوَّلُ مَا يَقُولُونَ لَهُ، قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:"إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ: هَلْ أَحْبَبْتُمْ لِقَائِي؟ يَقُولُونَ: نَعَمْ يَا رَبَّنَا. فَيَقُولُ: لِمَ؟ فَيَقُولُونَ: رَجَوْنَا عَفْوَكَ وَمَغْفِرَتَكَ. فَيَقُولُ: قَدْ وَجَبَتْ لَكُمْ مَغْفِرَتِي. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ، وَأَبُو نُعَيْمٍ فِي الْحِلْيَةِ.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتائے دیتا ہوں کہ روز قیامت سب سے پہلے اللہ مومنوں سے کیا فرمائے گا اور وہ سب سے پہلے اس سے کیا عرض کریں گے؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں اللہ کے رسول! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ مومنوں سے فرمائے گا: کیا تم مجھے ملنا پسند کرتے تھے؟ وہ عرض کریں گے: جی ہاں، ہمارے پروردگار! وہ پوچھے گا: کس لیے؟ وہ عرض کریں گے: ہمیں آپ کے عفو و درگزر اور مغفرت کی امید تھی، وہ فرمائے گا: پس میری مغفرت تمہارے لیے واجب ہو گئی۔“ (ضعیف) [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1606]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البغوي في شرح السنة (268/5. 269 ح 1452) و أبو نعيم في حلية الأولياء (179/8) [و أحمد 238/5]
٭ فيه عبيد الله بن زحر ضعيف ضعفه الجمھور.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (يَجِبُ كَثْرَةُ ذِكْرِ الْمَوْتِ)
موت کو کثرت سے یاد کرنا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1607
1607 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”لذتوں کو کاٹ دینے والی، موت کو کثرت سے یاد کیا کرو۔“ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی والنسائی وابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1607]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2307 وقال: حسن غريب.) والنسائي (4/4 ح 1825) و ابن ماجه (4258) [و صححه ابن حبان (2559. 2562) والحاکم علٰي شرط مسلم (4/ 321) ووافقه الذهبي. ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حَقُّ الْحَيَاءِ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى)
اللہ تعالیٰ سے حیا کرنے کا حق
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1608
1608 - (وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ) : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ) (لِأَصْحَابِهِ: اسْتَحْيُوا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ  . قَالُوا: إِنَّا نَسْتَحْيِي مِنَ اللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ. قَالَ: لَيْسَ ذَلِكَ وَلَكِنْ مَنِ اسْتَحْيَى مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ فَلْيَحْفَظِ الرَّأْسَ وَمَا وَعَى، وَلْيَحْفَظِ الْبَطْنَ وَمَا حَوَى، وَلْيَذْكُرِ الْمَوْتَ وَالْبِلَى، وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ تَرَكَ زِينَةَ الدُّنْيَا فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ اسْتَحْيَى مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ) . (رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ) .
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک روز اپنے صحابہ سے فرمایا: ”اللہ سے حیا کرو جس طرح اس سے حیا کرنے کا حق ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ ہم اللہ سے حیا کرتے ہیں۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”یہ بات نہیں ہے، بلکہ جو شخص اللہ سے ایسی حیا کرتا ہے جیسی اس سے حیا کرنے کا حق ہے، تو وہ سر اور ان چیزوں کی جو سر میں ہیں (آنکھ، کان، زبان) کی حفاظت کرے، اور وہ پیٹ اور اس کے متعلقات (شرم گاہ، ہاتھ، پاؤں اور دل وغیرہ) کی حفاظت کرے، وہ موت اور بو ہونے کو یاد رکھے، اور جو آخرت چاہتا ہے وہ دنیا ترک کر دے۔ جو شخص اس طرح کرے تو اس نے اللہ سے ایسی حیا کی جیسی اس سے حیا کرنے کا حق ہے۔“ [ضعیف] [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1608]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه أحمد (387/1 ح 3671) والترمذي (2458) [و صححه الحاکم (323/4) ووافقه الذهبي و للحديث شواھد. ]
٭ صباح بن محمد ضعيف و للحديث شواھد ضعيفة.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْمَوْتُ هَدِيَّةٌ لِلْمُؤْمِنِ)
موت مؤمن کے لئے تحفہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1609
1609 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: تُحْفَةُ الْمُؤْمِنِ الْمَوْتُ  . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”موت مومن کے لیے تحفہ ہے۔“ (ضعیف)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1609]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (9884)
٭ فيه عبد الرحمٰن الإفريقي ضعيف ولم أقف علٰي سند الطبراني في الکبير و قول بعض العلماء ’’إسناده جيد‘‘ و’’رجاله ثقات‘‘ لا يفيد حتي نقف علي سند الطبراني لأن تساھل ھؤلاء الناقلين مشھور.»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْظَرُ مَوْتِ الْمُؤْمِنِ)
مومن کی موت کا منظر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1610
1610 - (وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ بِعَرَقِ الْجَبِينِ  . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ) .
بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”مومن مرتا ہے تو اس کی پیشانی پر پسینہ آ جاتا ہے۔“ صحیح، اسے ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1610]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (982 وقال: حسن.) والنسائي (5/4. 6 ح 1829. 1830) و ابن ماجه (1452) [و صححه ابن حبان (الإحسان: 3000) والحاکم علٰي شرط الشيخين (361/1) ووافقه الذهبي. ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وَصْفُ الْمَوْتِ الْمُفَاجِئِ)
اچانک موت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1611
1611 - (وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَوْتُ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ الْأَسَفِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَزَادَ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ: وَرَزِينٌ فِي كِتَابِهِ أَخْذَةُ الْأَسَفِ لِلْكَافِرِ، وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِ) .
عبیداللہ بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اچانک موت، غضب کی گرفت ہے۔“ ابو داؤد۔ امام بیہقی رحمہ اللہ نے شعب الایمان میں اور رزین نے اپنی کتاب میں یہ اضافہ نقل کیا ہے: ”غضب کی پکڑ کافر کے لیے ہے جبکہ مومن کے لیے رحمت ہے۔“ صحیح۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1611]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (3110 و إسناده صحيح) والبيھقي في شعب الإيمان (10218، و السنن الکبري 379/3 وسنده ضعيف، فيه عبيد الله بن الوليد الوصا في ضعيف) و رزين (لم أجده)
٭ و للحديث طريق موقوف عند البيھقي في سننه (379/3) وسنده ضعيف، الأعمش مدلس و عنعن و حديث البخاري (6512) و مسلم (950) يغني عنه. وللحديث شاھد ضعيف)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حُسْنُ الظَّنِّ بِاللَّهِ تَعَالَى)
اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1612
1612 - وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى شَابٍّ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَقَالَ: كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَ: أَرْجُو اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنِّي أَخَافُ ذُنُوبِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَوْطِنِ إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ مَا يَرْجُو، وَآمَنَهُ مِمَّا يَخَافُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک نوجوان شخص کے پاس گئے جبکہ وہ نزع کی حالت میں تھا، آپ نے فرمایا: ”تم کیسا محسوس کرتے ہو؟“ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اللہ سے امید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈرتا ہوں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ایسے موقع پر کسی بندے کے دل میں دو چیزیں (امید اور خوف) اکٹھی ہو جائیں تو اللہ اسے وہ چیز عطا فرما دیتا ہے جس کی وہ امید کرتا ہے اور جس چیز سے وہ ڈر رہا ہوتا ہے اس سے اسے بے خوف کر دیتا ہے۔“ حسن، رواہ الترمذی و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1612]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (983) و ابن ماجه (4261) [وصححه ابن الملقن في تحفة المحتاج (763) ] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں