🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (بَيَانُ وُجُودِ فِرْقَةٍ مِنْ أُمَّتِي مِنَ الفِرْقَتَيْنِ)
امت میں دو فرقوں میں سے ایک فرقہ پیدا ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3536
3536 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَكُونُ أُمَّتِي فِرْقَتَيْنِ فَيَخْرُجُ مِنْ بَيْنِهِمَا مَارِقَةٌ يَلِي قَتْلَهُمْ أَوْلَاهُمْ بِالْحَقِّ  . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صل�� ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی اور ان دونوں کے بیچ سے ایک خارجی جماعت رونما ہو گی، ان کا خاتمہ وہ لوگ کریں گے جو حق کے زیادہ قریب ہونگے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3536]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1064/151)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (القَتْلُ بِغَيْرِ حَقٍّ كُفْرٌ)
ناحق قتل کرنا کفر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3537
3537 - وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:"لَا تَرْجِعُنَّ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ  ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ کر کافر نہ بن جانا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3537]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7080) و مسلم (65/118)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (القَاتِلُ وَالمَقْتُولُ فِي النَّارِ)
قاتل و مقتول جہنم میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3538
3538 - وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ حَمَلَ أَحَدُهُمَا عَلَى أَخِيهِ السِّلَاحَ فَهُمَا فِي جُرُفِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ دَخَلَاهَا جَمِيعًا". وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ قَالَ: إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ  ، قُلْتُ: هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ:"لِأَنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان ملیں اور ان میں سے ایک اپنے بھائی پر اسلحہ تان لے تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں، جب ان میں سے کوئی اپنے مقابل کو قتل کر دیتا ہے تو وہ دونوں اکٹھے جہنم میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اور ان سے ایک دوسری روایت میں ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان اپنی تلواریں سونت کر سامنے آ جاتے ہیں تو قاتل اور مقتول جہنمی ہیں۔ میں نے عرض کیا: قاتل تو ہے لیکن مقتول کس وجہ سے؟ (کہ وہ مظلوم ہونے کے باوجود جہنمی ہے) آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیونکہ وہ اپنے ساتھی (مد مقابل) کو قتل کرنے پر حریص تھا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3538]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6875 الرواية الثانية) و مسلم (2888/16، الرواية الأولٰي، 2888/14، الرواية الثانية)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (المَصِيرُ العِبْرَةُ لِقَتَلَةِ رُعَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہوں کے قاتلوں کا عبرت ناک انجام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3539
3539 - عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ عُكْلٍ فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَفَعَلُوا، فَصَحُّوا فَارْتَدُّوا وَقَتَلُوا رُعَاتَهَا  ، وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ ثُمَّ لَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا. وَفِي رِوَايَةٍ فَسَمَّرُوا أَعْيُنَهُمْ وَفِي رِوَايَةٍ: أَمَرَ بِمَسَامِيرَ فَأُحْمِيَتْ فَكَحَّلَهُمْ بِهَا وَطَرَحَهُمْ بِالْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَمَا يُسْقَوْنَ حَتَّى مَاتُوا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، عکل کے کچھ لوگ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ مدینہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہ آئی تو آپ نے انہیں صدقہ کے اونٹوں کے پاس جانے کا حکم فرمایا تاکہ وہاں وہ ان کا دودھ اور پیشاب پیئیں، انہوں نے ایسے کیا اور وہ صحت یاب ہو گئے، اس کے بعد وہ مرتد ہو گئے اور ان کے چرواہوں کو قتل کر کے اونٹ ہانک کر لے گئے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے تعاقب میں آدمی بھیجے تو وہ انہیں پکڑ کر لے آئے، آپ نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں، پھر ان کا خون بہتا رہا حتی کہ وہ فوت ہو گئے۔ ایک دوسری روایت میں ہے: انہوں نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دیں۔ اور ایک روایت میں ہے: آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلائیوں کے متعلق حکم فرمایا تو انہیں گرم کیا گیا اور انہیں ان کی آنکھوں میں پھیر کر انہیں دھوپ میں پھینک دیا گیا وہ پانی طلب کرتے رہے مگر انہیں پانی نہ دیا گیا حتی کہ وہ فوت ہو گئے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3539]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6803، الرواية الأولٰي، 1501، الثانية، 3018، الثالثة) و مسلم (1671/9، الرواية الأولي، 1671/10، الثانية)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (النَّهْيُ عَنِ المُثْلَةِ)
مثلہ کرنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3540
الْفَصْلُ الثَّانِي 3540 - عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ  . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں صدقہ دینے پر آمادہ کیا کرتے تھے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ سندہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3540]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (2667)
٭ قتادة مدلس و عنعن و حديث أحمد (20/5) يغني عن ھذا الحديث .»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (النَّهْيُ عَنْ تَرْكِ فِرَاخِ العُصْفُورِ وَإِيقَاعِ عَذَابِ النَّارِ)
چڑیا کے بچّوں کو چھوڑ دینے اور آگ کا عذاب دینے سے منع فرمایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3541
3541 - وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْ أَنَسٍ.
امام نسائی نے اسے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ صحیح، رواہ النسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3541]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه النسائي (101/7 ح 4052)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (النَّهْيُ عَنْ إِلْقَاءِ الحَيَوَانَاتِ فِي النَّارِ)
جانوروں کو بھی آگ میں نہ ڈالا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3542
3542 - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ فَرَأَيْنَا حُمْرَةً مَعَهَا فَرْخَانِ فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا فَجَاءَتِ الْحُمْرَةُ فَجَعَلَتْ تَفْرُشُ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَنْ فَجَعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا، وَرَأَى قَرْيَةَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاهَا قَالَ: مَنْ حَرَّقَ هَذِهِ فَقُلْنَا: نَحْنُ. قَالَ: إِنَّهُ، لَا يَنْبَغِي أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ  . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عبدالرحمٰن بن عبداللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو ہم نے ایک چڑیا (سرخ رنگ کی چڑیا) دیکھی، اس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے، ہم نے اس کے بچے پکڑ لیے تو وہ پھڑ پھڑانے لگی، اتنے میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کس شخص نے اسے، اس کے بچوں کی وجہ سے بے قرار کر دیا؟ اس کے بچے اسے واپس کرو۔ اور آپ نے چیونٹیوں کا ایک مسکن دیکھا جسے ہم نے جلا دیا تھا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے کس نے جلایا ہے؟ ہم نے عرض کیا: ہم نے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آگ کا عذاب دینا صرف آگ کے رب کے لائق ہے۔ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3542]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (2675)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَوْصَافُ الخَوَارِجِ)
خارجیوں کے اوصاف
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3543
3543 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ  ، قَوْمٌ يُحْسِنُونَ الْقِيلَ وَيُسِيئُونَ الْفِعْلَ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ لَا يَرْجِعُونَ. حَتَّى يَرْتَدَّ السَّهْمُ عَلَى فُوقِهِ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ يَدْعُونَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَلَيْسُوا مِنَّا فِي شَيْءٍ، مَنْ قَتَلَهُمْ كَانَ أَوْلَى بِاللَّهِ مِنْهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا سِيمَاهُمْ قَالَ التَّحْلِيقُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں عنقریب اختلاف و افتراق ہو گا۔ ایک گروہ باتیں اچھی اچھی لیکن کام برے کرے گا۔ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل (کر پار ہو) جاتا ہے۔ وہ دین کی طرف نہیں پلٹیں گے حتی کہ تیر اپنے سوفار (چٹکی جہاں کمان کا تانت ٹکتا ہے) پر واپس آ جائے۔ وہ تمام مخلوق سے بدتر ہیں۔ اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جو ان کو قتل کرتا ہے اور جسے وہ قتل کر دیں، وہ (بظاہر) اللہ کی کتاب کی طرف دعوت دیں گے۔ لیکن وہ کسی چیز میں بھی ہم میں سے نہیں ہوں گے، جس نے ان سے قتال کیا وہ ان (باقی امتیوں) سے اللہ کے زیادہ قریب ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! ان کی علامت کیا ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سر منڈانا۔ سندہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3543]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (4765)
٭ قتادة عنعن .»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ثَلَاثَةُ أَسْبَابٍ لِعُقُوبَةِ الإِعْدَامِ)
سزائے موت کی تین وجوہات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3544
3544 - وَعَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ  وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ زِنًا بَعْدَ إِحْصَانٍ لِأَنَّهُ يُرْجَمُ وَرَجُلٌ خَرَجَ مُحَارِبًا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَإِنَّهُ يُقْتَلُ أَوْ يُصْلَبُ أَوْ يُنْفَى مِنَ الْأَرْضِ أَوْ يَقْتُلُ نَفْسًا فَيُقْتَلُ بِهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) اللہ کے رسول ہیں، اسے صرف تین وجوہات میں سے کسی ایک وجہ سے قتل کرنا جائز ہے: شادی کے بعد زنا والے کو رجم کیا جائے گا، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرے (یعنی ڈاکو) ہو، اسے قتل کیا جائے گا یا سولی پر چڑھایا جائے گا یا جلا وطن کیا جائے گا۔ یا کوئی شخص کسی جان کو قتل کر دے تو اس کے بدلے میں اسے قتل کیا جائے گا۔ اسنادہ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3544]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (4353)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (النَّهْيُ عَنْ تَخْوِيفِ أَحَدٍ وَلَوْ مِزَاحًا)
ہنسی مذاق میں بھی کسی کو نہ ڈرایا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3545
3545 - وَعَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَسِيرُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَانْطَلَقَ بَعْضُهُمْ إِلَى حَبْلٍ مَعَهُ لِأَخْذِهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا  . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابن ابی لیلی بیان کرتے ہیں، محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ وہ رات کے وقت رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، ان میں سے ایک آدمی سو گیا تو کسی شخص نے اپنی رسی لی اور اس کی طرف گیا اور اسے رسی کے ساتھ باندھ دیا تو وہ (سونے والا شخص) گھبرا گیا، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو خوف زدہ کرے۔ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3545]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (5004)»
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں