مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (النَّهْيُ عَنِ الحَرَكَاتِ غَيْرِ المُفِيدَةِ)
بےمقصد حرکا ت سے ممانعت
حدیث نمبر: 3516
3516 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَخْذِفُ، فَقَالَ: لَا تَخْذِفْ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْخَذْفِ ، وَقَالَ: (إِنَّهُ لَا يُصَادُ بِهِ صَيْدٌ، وَلَا يُنْكَأُ بِهِ عَدُوٌّ، وَلَكِنَّهَا قَدْ تَكْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ) مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو کنکریاں پھینکتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا: کنکریاں مت پھینکو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنکریاں پھینکنے سے منع فرمایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے نہ تو شکار کیا جا سکتا ہے اور نہ دشمن کو زخمی کیا جا سکتا ہے لیکن یہ (پھینکنا) دانت توڑ سکتا ہے اور آنکھ پھوڑ سکتا ہے۔ “ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3516]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5479) و مسلم (1954/54)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (يَنْبَغِي الحَذَرُ عِنْدَ المُرُورِ فِي الأَسْوَاقِ بِالسِّلَاحِ)
اسلحہ کے ساتھ بازاروں میں گزرتے وقت احتیاط کی جائے
حدیث نمبر: 3517
3517 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدِنَا وَفِي سُوقِنَا وَمَعَهُ نَبْلٌ فَلْيُمْسِكْ عَلَى نِصَالِهَا أَنْ يُصِيبَ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْهَا بِشَيْءٍ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص ہماری مسجد اور ہمارے بازار میں سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہو تو وہ اس کے پیکان پر ہاتھ رکھے تاکہ اس سے کوئی مسلمان زخمی نہ ہو جائے۔ “ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3517]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7075) و مسلم (2615/134)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (لَا يُشَارُ بِالسِّلَاحِ إِلَى مُسْلِمٍ)
ہتھیار کے ساتھ کسی مسلمان کی طرف اشارہ نہ کیا جائے
حدیث نمبر: 3518
3518 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (لَا يُشِيرُ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ بِالسِّلَاحِ ; فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ) مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اسلحہ کے ذریعے اپنے بھائی کی طرف اشارہ نہ کرے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ ہو سکتا ہے شیطان اس کے ہاتھ سے جھپٹ کر (اس کے بھائی پر وار کرے) اسی طرح یہ جہنم میں جا گرے۔ “ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3518]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7072) و مسلم (136/ 2617)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (اللَّعْنَةُ عَلَى مَنْ أَشَارَ بِالسِّلَاحِ إِلَى أَخِيهِ المُسْلِمِ)
اپنے بھائی یعنی مسلمان کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرنے پر لعنت
حدیث نمبر: 3519
3519 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (مَنْ أَشَارَ إِلَى أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَلْعَنُهُ حَتَّى يَضَعَهَا وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ) . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نیزے سے اپنے بھائی کی طرف اشارہ کرے، فرشتے اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں، حتی کہ وہ اسے رکھ دے۔ خواہ وہ اس کا حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو۔ “ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3519]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (لم أجده) [و مسلم (2616/125) ] »
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (لَا يَجُوزُ رَفْعُ السِّلَاحِ عَلَى مُسْلِمٍ وَلَوْ مِزَاحًا)
مذاق میں بھی مسلمان پر ہتھیار اٹھانا جائز نہیں
حدیث نمبر: 3520
3520 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: (مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا ) . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَزَادَ: (وَمَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا) .
ابن عمر رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہمارے خلاف اسلحہ اٹھائے تو وہ ہم میں سے نہیں۔ “ اور امام مسلم ؒ نے یہ اضافہ نقل کیا ہے: ”جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔ “ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3520]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (707) و مسلم (164 /101)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مَنْ رَفَعَ السَّيْفَ مِزَاحًا فَلَيْسَ مِنَّا)
مذاق میں بھی تلوار اٹھانے والا ہم میں سے نہیں
حدیث نمبر: 3521
3521 - وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (مَنْ سَلَّ عَلَيْنَا السَّيْفَ فَلَيْسَ مِنَّا ) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمارے خلاف تلوار اٹھائی وہ ہم میں سے نہیں۔ “ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3521]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (99/162)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (النَّهْيُ عَنِ العُقُوبَةِ بِغَيْرِ سَبَبٍ)
بلاوجہ سزا نہ دی جائے
حدیث نمبر: 3522
3522 - وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرَّ بِالشَّامِ عَلَى أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْبَاطِ وَقَدْ أُقِيمُوا فِي الشَّمْسِ وَصُبَّ عَلَى رُءُوسِهِمُ الزَّيْتُ فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قِيلَ: يُعَذَّبُونَ فِي الْخَرَاجِ. قَالَ هِشَامٌ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: (إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا ) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہشام بن حکیم شام میں قوم انباط کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جنہیں دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا اور ان کے سروں پر زیتون کا تیل ڈالا جا رہا تھا، انہوں نے پوچھا: یہ کیا معاملہ ہے؟ بتایا گیا کہ انہیں ٹیکس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے سزا دی جا رہی ہے، ہشام نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”وہ بے شک اللہ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو لوگوں کو دنیا میں (ناحق) عذاب و سزا دیتے ہیں۔ “ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3522]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (118/ 2613)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (المَلَاعِينُ)
ملعون لوگ
حدیث نمبر: 3523
3523 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (يُوشِكُ إِنْ طَالَتْ بِكَ مُدَّةٌ أَنْ تَرَى قَوْمًا فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ، يَغْدُونَ فِي غَضَبِ اللَّهِ، وَيَرُوحُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ ) وَفِي رِوَايَةٍ: (وَيَرُوحُونَ فِي لَعْنَةِ اللَّهِ) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہاری عمر دراز ہوئی تو قریب ہے کہ تم کچھ ایسے لوگ دیکھو گے جن کے ہاتھوں میں گائے کی دم جیسے (کوڑے) ہوں گے، وہ صبح و شام (ہمیشہ) اللہ کے غضب اور ناراضی میں رہیں گے۔ “ اور ایک روایت میں ہے: ”وہ اللہ کی لعنت میں شام کرتے ہیں۔ “ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3523]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (54، 53 / 2857)»
قال الشيخ زبير على زئي:رواه مسلم (54، 53 / 2857)
--. (نَوْعَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ)
جہنمیوں کی دو قسمیں
حدیث نمبر: 3524
3524 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا : قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ، وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ، رُءُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ، لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا، وَإِنَّ رِيحَهَا لَتُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جہنمیوں کے دو گروہ ایسے ہیں، جنہیں میں نے نہیں دیکھا، ایک وہ لوگ جن کے پاس گائے کی دموں جیسے کوڑے ہوں گے جن کے ساتھ وہ لوگوں کو مارتے ہوں گے، اور وہ عورتیں جو لباس پہن کر بھی عریاں ہوں گی، مائل کرنے والی، مٹک مٹک کر چلنے والی ہوں گی، ان کے سر بختی اونٹوں کی جھکی ہوئی کوہانوں کی طرح اٹھے ہوئے ہوں گے، یہ دونوں گروہ نہ تو جنت میں جائیں گے اور نہ اس کی خوشبو پائیں گے، حالانکہ اس کی خوشبو دوردراز تک پھیلی ہو گی۔ “ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3524]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2128/52)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (النَّهْيُ عَنِ الضَّرْبِ عَلَى الوَجْهِ)
چہرے پر نہ مارا جائے
حدیث نمبر: 3525
3525 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی (کسی کو) مارے تو وہ چہرے سے اجتناب کرے، کیونکہ اللہ نے آدم ؑ کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا ہے۔ “ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3525]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2559) و مسلم (2612/115)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه