مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (تَوْجِيهَاتٌ نَبَوِيَّةٌ لِلسَّفَرِ)
سفر کے لیے نبوی ہدایات
حدیث نمبر: 3897
3897 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الْإِبِلَ حَقَّهَا مِنَ الْأَرْضِ ، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَأَسْرِعُوا عَلَيْهَا السَّيْرَ، وَإِذَا عَرَّسْتُمْ بِاللَّيْلِ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ فَإِنَّهَا طُرُقُ الدَّوَابِّ ، وَمَأْوَى الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ". وَفِي رِوَايَةٍ:"إِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَبَادِرُوا بِهَا نِقْيَهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سرسبز و شاداب علاقے میں چلو تو اونٹ کو زمین سے اس کا حق دو، (انہیں چرنے دو)، اور جب تم قحط سالی میں چلو تو پھر تیزی سے چلو، جب تم رات کے وقت پڑاؤ ڈالو تو راستے سے اجتناب کرو کیونکہ رات کے وقت وہ چوپاؤں کی راہیں اور زہریلی چیزوں کا ٹھکانا ہیں۔“ اور ایک دوسری روایت میں ہے: ”جب تم قحط سالی میں سفر کرو تو پھر جب تک ان (اونٹوں) کا گودا باقی ہے جلدی سے سفر کرو۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3897]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1926/178)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (إِعْطَاءُ الْأَمْتِعَةِ الزَّائِدَةِ لِلْمُحْتَاجِينَ)
اضافی سامان ضرورت مندوں کو دے دیا جائے
حدیث نمبر: 3898
3898 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَةٍ فَجَعَلَ يَضْرِبُ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:". مَنْ كَانَ مَعَهُ فَضْلُ ظَهْرٌ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ وَمَنْ كَانَ لَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ"قَالَ: فَذَكَرَ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، اسی دوران اچانک ایک آدمی سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ دائیں بائیں دیکھنے لگا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس زائد سواری ہو وہ اسے اس شخص کو عنایت کر دے جس کے پاس کوئی سواری نہیں، اور جس شخص کے پاس زادِ سفر زیادہ ہو تو وہ اسے اس شخص کو عنایت کر دے جس کے پاس زادِ راہ نہیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال کی بہت سی اصناف کا ذکر فرمایا، یہاں تک کہ ہم نے سمجھا کہ ہم میں سے کسی شخص کا زائد چیز پر کوئی حق نہیں۔ [رواہ مسلم] [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3898]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1728/18)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (يَجِبُ الْعَوْدَةُ مِنَ السَّفَرِ بِسُرْعَةٍ)
سفر سے جلد واپسی کرنی چاہیے
حدیث نمبر: 3899
3899 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ ، يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ، فَإِذَا قَضَى نَهْمَتَهُ مِنْ وَجْهِهِ فَلْيَعْجَلْ إِلَى أَهْلِهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سفر عذاب کی ایک قسم ہے، وہ آپ میں سے ہر ایک کو اس کی نیند اور اس کے کھانے پینے سے باز رکھتا ہے، لہذا جب وہ سفر کا مقصد حاصل کر لے تو اسے اپنے اہل خانہ کے پاس جلد آ جانا چاہیے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3899]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5429) و مسلم (1927/179)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (تَرْكِيبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَطْفَالِ مَعَهُ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچوں کو اپنے ساتھ سوار کرنا
حدیث نمبر: 3900
3900 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا قَدِمَ مَنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِصِبْيَانِ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَإِنَّهُ قَدِمَ مَنْ سَفَرٍ فَسُبِقَ بِي إِلَيْهِ، فَحَمَلَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ جِيءَ بِأَحَدِ ابْنَيْ فَاطِمَةَ، فَأَرْدَفَهُ خَلْفَهُ، قَالَ: فَأُدْخِلْنَا الْمَدِينَةَ ثَلَاثَةً عَلَى دَابَّةٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے تشریف لاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل خانہ کے بچوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استقبال کیا جاتا، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر سے واپس تشریف لائے تو مجھے آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے آگے سوار کر لیا، پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے کسی لخت جگر (حسن یا حسین رضی اللہ عنہما) کو لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے پیچھے سوار کر لیا، راوی بیان کرتے ہیں، ہم مدینہ میں ایک سواری پر تین سوار ہو کر داخل کیے گئے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3900]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (66/ 2428)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (وَضْعُ الْمَرْأَةِ عَلَى الْجُزْءِ الْخَلْفِيِّ مِنَ الدَّابَّةِ)
عورت کو سواری کے پچھلے حصے پر بٹھایا جائے
حدیث نمبر: 3901
3901 - وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ أَقْبَلَ هُوَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: وَمَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَفِيَّةُ مُرْدِفَهَا عَلَى رَاحِلَتِهِ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں واپس آ رہے تھے جبکہ سیدتنا صفیہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سوار تھیں۔ «رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ» ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3901]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6185)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (مَتَى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ مِنَ السَّفَرِ إِلَى بَيْتِهِ؟)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے گھر کس وقت لوٹتے تھے
حدیث نمبر: 3902
3902 - وَعَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ لَيْلًا، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ إِلَّا غُدْوَةً ، أَوْ عَشِيَّةً. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جب سفر سے واپس آتے تو) وہ رات کے وقت اپنے اہل خانہ کے ہاں تشریف نہیں لاتے تھے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دن کے پہلے پہر یا پچھلے پہر تشریف لایا کرتے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3902]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1800) و مسلم (1928/180)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (إِعْلَامُ أَهْلِ الْبَيْتِ قَبْلَ الْعَوْدَةِ مِنَ السَّفَرِ)
سفر سے واپسی پر اہل خانہ کو اطلاع دے کر آنا
حدیث نمبر: 3903
3903 - وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا أَطَالَ أَحَدُكُمُ الْغَيْبَةَ فَلَا يَطْرُقْ أَهْلَهُ لَيْلًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی طویل مدت تک (گھر سے) غائب رہے تو وہ رات کے وقت اپنے اہل خانہ کے پاس نہ آئے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3903]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5244) و مسلم (1928/183)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مَتَى يَدْخُلُ الْبَيْتَ بَعْدَ غِيَابٍ طَوِيلٍ؟)
لمبے عرصہ کے بعد گھر میں کب داخل ہو
حدیث نمبر: 3904
3904 - وَعَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"إِذَا دَخَلْتَ لَيْلًا فَلَا تَدَخُلْ عَلَى أَهْلِكَ حَتَّى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم رات کے وقت (شہر میں) داخل ہو تو اپنی اہلیہ کے پاس نہ جاؤ حتی کہ جس کا خاوند غائب رہا ہے وہ غیر ضروری بالوں کی صفائی کر لے اور پراگندہ بالوں والی کنگھی کر لے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3904]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5246) و مسلم (182/ 1928)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (إِقَامَةُ دَعْوَةٍ عِنْدَ الْعَوْدَةِ بِسَلَامَةٍ)
بسلامت واپسی پر دعوت کرنا
حدیث نمبر: 3905
3905 - وَعَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ نَحَرَ جَزُورًا، أَوْ بَقَرَةً . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ یا گائے ذبح کی۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3905]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3089)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (الْقُدُومُ إِلَى الْمَسْجِدِ عِنْدَ الْعَوْدَةِ مِنَ السَّفَرِ)
سفر سے واپسی پر مسجد میں آنا
حدیث نمبر: 3906
3906 - وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ إِلَّا نَهَارًا فِي الضُّحَى، فَإِذَا قَدِمَ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ جَلَسَ فِيهِ لِلنَّاسِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر سے واپس آتے تو دن کو چاشت کے وقت مدینہ منورہ میں داخل ہوتے تھے، جب آپ داخل ہوتے تو پہلے مسجد میں تشریف لاتے اور وہاں دو رکعتیں پڑھتے، پھر لوگوں کی خاطر وہاں تشریف رکھتے۔ (متفق علیہ) [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3906]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3088) مسلم (716/74)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه